صنعت وتجارت
ارشاد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ہماری جماعت میں خواہش ترقی ہے خواہ دینی ترقی ہو یا دنیاوی۔ مگر اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ صحیح طریق پر عمل ہو۔ بعض حالات کی وجہ سے یہاں سودے سلف پر بعض روکیں عائد کی گئی ہیں۔ کیونکہ ان حالات نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم ایسا کریں۔ اگر وہ حالات دور ہو جائیں تو یہ روکیں نہیں رہ سکتیں۔ گویا یہ روکیں عارضی ہیں۔ ان کی وجہ سے اگر کوئی فائدہ آتا ہے تو وہ حقیقی فائدہ نہیں۔اصل میں فائدہ وہ ہے جو اپنی لیاقت اور قابلیت سے حاصل کیا جائے۔ مگر لوگ اس اصل کو نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اس بات کو خلاف دیانت نہیں سمجھتے کہ بازار میں ایک چیز جو سستی بکتی ہو، اس سے ایک شخص اس دلیل کی بنا پر مہنگا بیچے کہ یہ میری چیز ہے ،میں جس قیمت پر چاہوں، بیچوں۔ اور اس طرح زیادہ قیمت لینا، اپنا حق سمجھتے ہیں۔ مگر ان کا یہ کہنا اس وقت تک غلط ہے ،جب تک کہ خریداروں پر روکیں لگائی گئی ہیں اور اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو یہ اس کی بددیانتی ہے۔ اگر زید کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ بکر سے سودانہ لے بلکہ خالد سے لے اور خالد بکر کی نسبت مال کی قیمت بڑھاتا ہے اور زید اس سے لینے پر مجبور ہے تو اس کی مجبوری سے اس کو ناجائز فائدہ اُٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔اور وہ نہیں کہہ سکتا کہ میری چیز ہے جس طرح چاہوں بیچوں۔ اس کا ایسا کہنا غلط ہے۔ اس کو منڈی کے نرخ کا خیال رکھنا چاہیے۔‘‘(خطبات محمود جلد ۷صفحہ ۳۰۷-۳۰۸)
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)



