اُدْعُونِيْٓ أَسْتَجِبْ لَكُمْ سے مراد وہ عبادت ہے جو انسان پر فرض کی گئی ہے
سیّد صاحب کا یہ قول ہے کہ گویا قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے حالانکہ تمام دُعائیں قبول نہیں ہوتیں یہ ان کی سخت غلط فہمی ہے۔ اور یہ آیت اُدْعُونِيْٓ أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن :۶۱) اُن کے مدعا کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی کیونکہ یہ دُعا جو آیت اُدْعُونِيْٓ أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن :۶۱) میں بطور امر کے بجالانے کے لئے فرمائی گئی ہے۔اس سے مراد معمولی دُعائیں نہیں ہیں بلکہ وہ عبادت ہے جو انسان پر فرض کی گئی ہے کیونکہ امر کا صیغہ یہاں فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کُل دُعا ئیں فرض میں داخل نہیں ہیں بلکہ بعض جگہ اللہ جَلّ شانہ نے صابرین کی تعریف کی ہے جو اِنّا لِلّٰہ پر ہی کفایت کرتے ہیں۔اور اس دُعا کی فرضیت پر بڑا قرینہ یہ ہے کہ صرف امر پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ اس کو عبادت کے لفظ سے یاد کر کے بحالت نافرمانی عذاب جہنم کی وعید اس کے ساتھ لگا دی گئی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دوسری دعاؤں میں یہ وعید نہیں بلکہ بعض اوقات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دُعا مانگنے پر زجر و توبیخ کی گئی ہے چنانچہ اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ (ھود:۴۷) اس پر شاہد ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہر دُعا عبادت ہوتی تو حضرت نوح علیہ السلام کو لَا تَسْئَلْنِ(ھود:۴۷) کا تازیانہ کیوں لگایا جاتا! اور بعض اوقات اولیا اور انبیا دُعا کرنے کوسوء ادب سمجھتے رہے ہیں اور صلحاء نے ایسی دُعاؤں میں استفتاء قلب پر عمل کیا ہے یعنی اگر مصیبت کے وقت دل نے دُعا کرنے کا فتویٰ دیا تو دعا کی طرف متوجہ ہوئے اور اگر صبر کے لئے فتویٰ دیا تو پھر صبر کیا اور دُعا سے منہ پھیر لیا۔ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے دوسری دُعاؤں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ صاف فرما دیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو ردّ کروں۔
(بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲، ۱۳)



