حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اصل دعا دین کی ہی دعا ہے

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’یہ بھی یاد رکھو کہ اگر تم مداہنہ سے دوسری قوموں کو ملو‘‘ یعنی کمزوری دکھاتے ہوئے اپنے مذہب چھپاتے ہوئے کسی قسم کے احساسِ کمتری کی وجہ سے اگر تم ملو تو فرمایا کہ ’’تو کامیاب نہیں ہو سکتے‘‘۔ یعنی کبھی کمزوری نہیں دکھانی چاہئے نہ اپنا دین چھپانا چاہئے نہ اپنی دینی تعلیم پر کسی قسم کی شرمساری ہونی چاہئے۔ بلکہ تبلیغ کے میدانوں میں تبلیغ بھی کھل کر کرنی چاہئے۔ کیونکہ اسی سے کامیابی ملنی ہے۔ فرمایا ’’خدا ہی ہے جو کامیاب کرتاہے۔ اگر وہ راضی ہے تو ساری دنیا ناراض ہو تو پرواہ نہ کرو۔ ہر ایک جو اس وقت سُنتا ہے یاد رکھے کہ تمہارا ہتھیار دُعا ہے اس لئے چاہئے کہ دعا میں لگے رہو۔

یہ یاد رکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اَور حیلہ‘‘۔ گناہ اور برائیاں جو ہیں، بدعملیاں جو ہیں ان کو نصیحتیں دور نہیں کر سکتیں۔ خود انسان کے اندر ایک احساس پیدا ہو اور پھر دعا ہو تو اس سے دور ہو جاتی ہیں۔ اور اپنی نسلوں کے لئے بھی آپ دعا کر رہے ہوں گے تو اس سے بھی ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ ’’اس کے لئے ایک ہی راہ ہے اور وہ دُعا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے۔ اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑنا چھوٹی سی بات نہیں ہے۔ یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور یہ دُعاؤں سے ہو گا۔

ہماری جماعت کو چاہئے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں۔ اس کا وعدہ ہے اُدْعُوْنِِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ(المؤمن: 61)۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دُعا ہے۔ وہ دنیا کے کیڑے ہیں۔ اس لئے اس سے پرے نہیں جا سکتے۔ اصل دُعا دین ہی کی دُعا ہے‘‘۔ اور ایک دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ اور اصل دین دعا میں ہے۔ فرمایا’’لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گناہگار ہیں یہ دُعا کیا ہو گی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی۔ یہ غلطی ہے‘‘۔ اس بارے میں ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ گناہ اس میل کی طرح ہے جو کپڑوں پر ہوتی ہے اور دھونے سے دور کی جاتی ہے۔ پس گناہ کوئی مستقل چیز نہیں ہے۔ گناہ کو دھویا جا سکتا ہے۔ اگر ارادہ ہو اور دعاؤں کی طرف توجہ ہو توصاف کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا ’’بعض وقت انسان خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتاہے‘‘۔ گناہوں پر انسان غالب آ جاتا ہے اس لئے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ’’دیکھو پانی خواہ کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہر حال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لئے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے‘‘۔ ٹھنڈے کرنے کی جو اس کی خصوصیت ہے وہ اس پانی کی ہے۔ ‘‘ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔ وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی۔ اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دُعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ دور کر دے گا۔ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 132-133)

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سربلندی کے لئے دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیتے ہوئے اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اسلام کے پیغام کو ہم جرأت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے نیک نتائج بھی پیدا فرمائے۔

(خطبہ جمعہ یکم اکتوبر ۲۰۱۰ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۲؍اکتوبر ۲۰۱۰ء)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button