متفرق مضامین

مباحثہ کوئمبتورتامل ناڈو(جنوبی ہند) کی روداد(قسط دوم۔ آخری)

یہ منفرد و تاریخی مناظرہ اپنی ذات میں ہر لحاظ سے کامیاب اور بابرکت رہا۔جس میں بالخصوص لمحہ بہ لمحہ حضور ؒکی راہنمائی اور دعائیں حاصل ر ہیں اور بالآخر یہ علمی فتح نصیب ہوئی

مناظرےکا آٹھواں دن: ۲۶؍نومبربروز اتوار

مناظرے کے آٹھویں روز صداقت مسیح موعود کےموضوع کےدوسرے روز نہایت عمدہ بحث کا آغازہوا۔ احمد ی مناظر مکرم مولانا محمد عمر صاحب نےدوسری دلیل صداقت آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (الحاقة:۴۵۔۴۷) سے بیان کی اور بتایا کہ جھوٹا مدعی نبوت ہلاک اور ناکام ونامراد ہوتا ہے جبکہ سچے دعویدارکو اللہ تعالیٰ کم ازکم سنت نبویؐ کے مطابق مہلت عطا فرماتا ہے۔جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں بزرگ مفسرینِ قرآن نےبھی لکھاہے اورتاریخ اسلام اس پر شاہدناطق ہےکہ خودنبی کریم ﷺ نے دعویٰ الہام کےبعد ۲۳؍سال عمر پائی۔اس معیار کے مطابق حضرت بانئ جماعت احمدیہ ؑکو ۲۳؍ سال سے بھی زیادہ زندہ رہنے کا عرصہ اللہ تعالیٰ نےآپ کےدعویٰ کےبعد عطا فرمایا۔

دن بھر کی بحث میں اس دلیل کا جواب مخالف مناظر سےطلب کیا جاتا رہا مگروہ لاجواب رہے۔ البتہ انہوں نے شرمندگی سے بچنے کےلیے حسب معمول کچھ نئے اعتراضات کی بھرمار کر دی۔ احمدی مناظر کی طرف سے جملہ اعتراضات کے مدلّل جواب دیتے ہوئے مخالف کے دجل و فریب اور مکرو تلبیس کو خوب ظاہر کیا گیا۔جس کا یہاں نہایت اختصار سے ذکر کیاجاتا ہے۔

(۱) ایک اعتراض تھا کہ مرزا صاحبؑ نے انگریزوں کی خوشامد کی ؟ جواب میں بتایا گیا کہ مرزا صاحب نے سکھوں کےبعد انگریزی حکومت کے امن قائم کرکے مذہب میں ان کی عدم مداخلت اور آزادی کی پالیسی کے حق میں جو کچھ لکھا وہ مبنی بر حقیقت تھا۔سکھوں کے خلاف سید احمد بریلوی آف بالاکوٹ نے بھی جہاد کیا مگر اس کےبعد انگریز وں کے امن اور مذہبی آزادی دینے کی وجہ سےان سے جہاد علمائے ہندوستان نے جائز نہیں سمجھا۔ان میں خاص طور پر مولوی نذیر احمد دہلوی، مولوی محمد حسین بٹالوی،مولوی ظفر علی خان وغیرہ قابل ذکر ہیں اس لیے یہ قابل اعتراض بات نہیں۔

(۲)مرزا صاحب کی مسلمانوں کی تکفیر کرنے کے اعتراض کےجواب میں بتا یا گیاکہ حضرت مسیح موعودؑ نے کسی کلمہ گو کو کافر قرار نہیں دیا بلکہ آنحضورﷺ نے کلمہ گو مسلمان کو کافر کہنے والے کو کافر قرار دیا ہے۔ تکفیر میں ابتدا حضرت مسیح موعود ؑکے مخالفین مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی نذیرحسین دہلوی نے ۱۸۹۱ء میں کی تھی جس کی وجہ سے و ہ خود حدیث نبوی کے فیصلہ کے تحت کافر ہوئے۔ حضرت بانئ جماعت احمدیہ نےہمیشہ یہی فرمایا کہ “ہم کسی کلمہ گو کو اسلا م سے خارج نہیں کہتے جب تک کہ وہ ہمیں کافر کہہ کر خود کافر نہ بن جائے۔…جو ہمیں کافر نہیں کہتا ہم اسے کافر ہر گز نہیں کہتے لیکن جو ہمیں کافر کہتا ہے اسے کافر نہ سمجھیں تو اس میں حدیث اور متفق علیہ مسئلہ کی مخالفت لازم آتی ہے اور یہ ہم سے نہیں ہوسکتا۔” (ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۳۷۶ تا ۳۷۷)

(۳)مرزا صاحب کے خدائی کے دعویٰ کےاعتراض کے جواب میں بتایا گیا کہ حضرت مرزا صاحب کی کتاب آئینہ کمالات اسلام کی جس رؤیا پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں دیکھا کہ میں خدا ہوں، وہ ایک کشفی واقعہ تھا جس کی وضاحت خود حضر ت بانئ جماعت احمدیہ نےحدیث بخاری سے کی ہے کہ نوافل کے ذریعہ انسان خد ا کے اتنا قریب ہوجاتاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پاؤں بن جاتا ہے یعنی وہ اولیاء ،ابدال اور اقطاب بن کر خداتعالیٰ کی ذات میں فنا ہوتےہیں۔

(۴)ایک اعتراض مرزا صاحب کے الہام یَتِمُّ اِسْمُکَ وَلَا یَتِمُّ اِسْمِیْپرتھاکہ تیرا نام پورا ہوگا اورمیرا نام پورا نہ ہوگا اس کےجواب میں خود حضر ت مرز اصاحب کے یہ بیان فرمودہ کا فی تھے کہ ’’اس الہام کا مطلب یہ ہے کہ اے احمد ! تُو فوت ہوجائے گا اور تیرے کمالات اور محامد ختم ہوجائیں گے۔مگر خدا کے محامد ختم نہیں ہوں گے کیونکہ وہ لاتعداد اور بے شمار ہیں۔‘‘( براہین احمدیہ حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد۱ صفحہ۲۶۷حاشیہ در حاشیہ نمبر۱)

(۵)ایک اعتراض یہ تھاکہ مرزا صاحب کاسرخ چھینٹوں والا واقعہ خلافِ عقل ہے؟اس کےجواب میں بتایا کہ یہ کشفی نظارہ خلاف عقل تو تب ہو جب خداکو قادرمطلق نہ مانیں مگر ہمارے عقیدے کےمطابق وہ خالق ومالک اگر کسی مادہ سے تخلیق کرنے پر قادر ہے توبغیر مادہ کے بھی پیدا کرسکتاہے یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اولیاء کی کرامات ظاہر کرنے کے لیے کشفی امور کے وجود کو خارج میں بھی ظاہر کردیتاہے جس کی مثالیں تذکرۃ الاولیاء میں بھی موجود ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ کے والد مرحوم نے رؤیا میں اپنی ریش مُبارک پر ہاتھ پھیر کر دو موئے مبارک ان کےہاتھ میں تھما دیےاور اسی لمحے انہیں بیماری سے افاقہ ہوا اور چراغ منگوا کر دیکھا تو دونوں بالوں کو تکیہ کے نیچے پایا۔(انفاس العارفين مترجم صفحہ۳۵ مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور)

(۶)چھٹا اعتراض تھا کہ بقول مرزا صاحب ان کوبطور استعارہ ’’مریم کی طرح حمل ہوا‘‘ اس کی کیا حقیقت ہے؟ اس کے جواب میں سورہ تحریم کی آیت ۱۲ پیش کی گئی جس میں مومن مردوں کو حضرت مریم اور فرعون کی بیوی سے تشبیہ دی گئی ہےکہ جس طرح حضرت مریم صدیقہؑ اپنی پاکیزگی وعصمت کے انتہائی مقام پر خدائی قدرت کہ بغیر کسی مرد کےملاپ کے حاملہ ہوئیں اور خدا کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے۔اسی طرح ایک مومن مرد بھی پہلے مریمی حالت میں ہوتا ہے اور پھر ایک روحانی اور مجازی حمل سے گذرتا ہوا ابن مریم کی طرح خدا کا کلام سنتا ہے وہ مومن مرد مجاز اور استعارے کے رنگ میں مریم ہوتا ہے اور مجاز اور استعارہ ہی کے رنگ میں حمل کی طرح مشکلات ومصائب سے گزرتا ہے۔ اور مجاز اور استعارہ ہی کے رنگ میں ہی ابن مریم کی ولادت کا باعث ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے تمام کافروں اور مومنوں کو چار عورتوں ہی سے تشبیہ دی ہے۔جس طرح وہ مرد عورتیں نہیں ہوسکتے ہاں استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ان کو عورتیں قرار دیا گیا ہے۔

(۷) ساتواں اعتراض کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب نورالحق حصہ اوّ ل میں مولویوں پر ہزار بار لعنت کیوں ڈالی؟ اس کے جواب میں وضاحت کی گئی کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے غیرت دینی میں سر شار ہو کر یہ لعنت صرف ان مرتد مولویوں پر ڈالی جو اسلام چھوڑ کر عیسائی ہوئے اور قرآنِ کریم کی تکذیب اور سیّد المرسلین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر سبّ وشتم کرتے ہوئے اسلام کےخلاف کتابیں لکھنے لگے۔ایسے لوگ جو روشن دلائل دیکھ کر اور رسول کےسچا ہونے کی گواہی دینے کےبعد کافر ہوئے قرآن میں تو ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت، تمام فرشتوں کی لعنت اور سب لوگوں کی لعنت ڈالی گئی۔ (آل عمران:۸۷-۸۸) جو ان گنت اور بےشمار بن جاتی ہےمرزا صاحب نےتو خدا خوفی سے صرف ایک ہزار لعنت پہ اکتفا کیا ہے۔

اعتراضات کےجوابات دیتے ہوئے احمدی مناظر کااصرار یہ رہا کہ معیار صداقت والی آیت میں’’مِنْ قَبْلِہٖ‘‘ کی شرط کےمطابق دعوے سے’’بعدکی زندگی کی بجائے پہلے زندگی ‘‘ پراعتراض ثابت کرکے ہماری پیش کردہ دلیل کو توڑ کر دکھائیں۔موصوف آخر تک اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔البتہ مخالف مناظر نے دوسرے قرآنی معیار وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ (الحاقة: ۴۵) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ صرف آنحضرت ﷺ کی صداقت کی دلیل ہے کسی اَور کےلیے معیار نہیں نیز پہلے کئی نبی قتل بھی ہوئے اس لیے یہ معیار صداقت نبوت نہیں۔ اس کا مدلّل جواب دے کر یہ چیلنج بھی دہرایا گیا کہ کسی ایک کاذب مدّعی کی مثال دو جس نے سنت رسول ؐکے مطابق دعویٰ الہام کےبعد۲۳؍سال عمر پائی ہو مگر وہ لاجواب رہے مخالف مناظر نے آیت وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوْحِيَ إِلَيَّ (الانعام :۹۴) سے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ جھوٹے مدعی کو اللہ اس دنیا میں نہیں بلکہ آئندہ پکڑے گا۔ حالانکہ اسی آیت کے آخر میں مفتری کی اِسی جہان میں گرفت شروع ہوجانے کا بھی ذکر موجود ہے۔ احمدی مناظر نے اپنے اس موقف کی تائید میں کئی آیات پیش کیں کہ مفتری پر اس دنیا میں گرفت ہوتی ہے جیسے فرمایا: وَإِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ (غافر :۲۹)یعنی اگر یہ مدّعی جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اس پر پڑےگا۔اوراسی طرح فرمایا: قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى۔(طٰہٰ:۶۲) یعنی (موسىٰؑ)نے ان سے کہا وائے افسوس تم پر! اللہ پر جھوٹ نہ گھڑو ورنہ وہ تمہىں عذاب سے تہس نہس کر دے گا اور ىقىناً وہ نامراد ہو جاتا ہے جو افترا کرتا ہے۔

احمدی مناظر نے اپنے دلائل آخر میں دوبارہ مختصراً دہرا کر حضرت مسیح موعود ؑکی یہ فارسی منظوم دعا مع ترجمہ پڑھ کر سنائی کہ ’’اے قدیر و خالق و ارض و سما ‘‘جس میں آپؑ نے خدا کےحضور جھوٹا ہونے کی صورت میں اپنے خلاف یہ بددعا کی کہ مولیٰ !اگر میں بد ذا ت ہوں تو مجھ بد کا ر کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈال اور میرے دشمنوں کے اس گر وہ کو خوش کردے۔

مولانا محمد عمر صاحب کے ساتھ بعض باریوں میں مکرم مولوی محمد ایوب صاحب نے غیر معمولی تائید الٰہی سے بھر پور جواب دیے اور مخالف کو لاجواب کیا۔بعض جواب مکرم مزمل صاحب مربی سلسلہ ( جو بہت اچھی تامل زبان بولتے ہیں) نے بھی نہایت موثر انداز میں دیے۔جبکہ احمدی مناظرین کے بالمقابل مخالف مناظر کا لہجہ نہ صرف کافی دھیما رہابلکہ وہ دوران مناظرہ کرسی سے اٹھ کر اپنی کتابوں کے انبار کے پیچھے جا کر آرام بھی کرتے رہے۔الغرض صداقت مسیح موعودؑ کی بحث دوسرے روزبھی بہت کامیاب اور مؤثررہی۔

مناظرے کا آخری دن:

۲۷؍نومبر۱۹۹۴ء بروز سوموار

مناظرہ کوئمبتور کے آخری دن صداقت حضرت مسیح موعودؑ کے موضوع پر گفتگو کا آغاز احمدی مناظر مولانا عمر صاحب نے کیا انہوں نے گذشتہ روز کی بیان کردہ آیات کا خلاصہ بیان کرکے صداقت کی نئی دلیل کےلیے آیت كَتَبَ اللّٰهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي(المجادلہ:۲۲) پیش کی کہ اللہ تعالیٰ نے لکھ چھوڑا ہے کہ میں اورمیرے رسول ہی غالب آئیں گے،اورپھر اس اصول کے مطابق حضرت بانیٔ جماعت احمدیہؑ کی صداقت ثابت کی کہ آپؑ کی جماعت مسلسل ترقی پذیر ہے جماعت کی ترقیات کا مضمون مختلف پہلو سے وہ بتدریج مسلسل آگے بڑھا تے رہے۔ قبل ازیں پیش کردہ تین آیات میں بالترتیب یہ دلائل دیے گئے(۱)دعویٰ الہام سے قبل مدعی کی زندگی کابےعیب ہونا(۲) جھوٹے دعویٰ کی صورت میں مفتری کا ناکام ونامراداور ہلاک ہونا بطور معیار صداقت نبوت بیان کرکے اس کے خلاف ثبوت کا مطالبہ کیا۔(۳) مامورین کا مخالفین پر غالب آنااور حضرت بانی جماعت احمدیہؑ کےعلمی غلبہ کے ثبوت میں ترجمہ قرآن از مولوی اشرف علی تھانوی کے دیباچہ سے مولوی نورمحمد نقشبندی کا یہ حوالہ پیش کیا کہ ’’حضرت مرزا صاحب نےہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔‘‘(معجزہ نما عکسی صفحہ ۳۰ مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی )

مخالف مناظر کےلیے یہ اردو حوالہ نیا تھا انہوں نےبغرض تسلّی اس حوالے کی فوٹو کاپی کےمطا لبے کے بعدا سے تسلیم کیا اور اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔البتہ یہ اعتراض کیا کہ مرزا صاحب کے نزدیک عقیدہ حیات مسیح شرک ہے اور خود وہ براہین احمدیہ میں عقیدہ حیات مسیح کا ذکر کرکے شرک کےمرتکب ہوئے لہٰذا وہ نبی نہیں ہوسکتے۔ انہیں جواب میں بتایا گیا کہ یہ عقیدہ اگرچہ شرک کی طرف لےجانے والا ہوسکتا ہے لیکن اپنی ذات میں شرک نہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضر ت مرزا صاحب کو اس پر قائم بھی نہیں رکھا بلکہ اپنےالہام سےدرست عقیدہ وفات مسیح کی طرف راہنمائی کر دی۔ جیساکہ آنحضرتؐ کو بیت المقدس کے قبلہ پر قائم نہیں رکھا اور بذریعہ وحی خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا۔ مخالف مناظر نےمزیداعتراض یہ کیے کہ مرزا صاحب نے آنے والے مسیح کےزرد رنگ کے کپڑوں سے مراد دو بیماریاں لیں،جواب میں بطور ثبوت تعبیر الرؤیا کی کتاب سے حوالہ پیش کر دیا گیاکہ ابن سیرین ؒ نے فرمایاہے کہ زرد رنگ کے کپڑے دیکھنا بیماری ہے۔ (تعبیر الرؤیا مترجم صفحہ۳۲۹ مطبوعہ مشتاق بک کارنرلاہور)

مخالف مناظر نے پیشگوئی محمدی بیگم جیسے اعتراض بھی آخری حربے کے طور پر کیے جن کےتسلّی بخش جواب دیے گئے۔

دوسری نشست میں فریقین کے صدر صاحبان کے باہم مشورے سے آخری روز مناظرہ کاوقت دو گھنٹے کم کرنے کی مشاورت ہوئی ،مخالف مناظر بہت تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے وہ بھی جلد ہی مان گئے اور آخری نشست میں چار چار کی بجائے صرف دو دو تقاریر ہوئیں مکرم مولوی ایوب صاحب نے اپنی آخری تقریر میں صداقت مسیح موعودؑ کےسابقہ دلائل دہراکرمخالف مناظر پر اتمام حجت کرتے ہوئے یہ آیت پیش کی کہ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْۤا (الانعام:۱۱۲) کہ اگر ہم (منکرین )پر فرشتے بھی اتارتے اورمردے بھی ان سے کلام کرتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھى کر دىتے توپھربھی یہ ایمان نہ لاتے۔دوسری آیت انہوں نےیہ پیش کی وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ(الفرقان:۳۲) کہ ہرنبی کے دشمن مجرموں میں سےہوتے ہیں۔اور یہ ان کی صداقت کی ایک نشانی ہوتی ہے کہ اس کی لازماًمخالفت ہوتی اور لوگ دشمن بن جاتے ہیں۔ احمدی معاون مناظر مزمل احمد صاحب نے ایک باری میں پیشگوئی محمدی بیگم کا مکمل تحقیقی جواب پیش کیا۔اور خصوصیت سے اس پیشگوئی کے آخری الفاظ ’’یَبْقٰی کِلَابٌ مُتَعَدِّدَہَ‘‘پر زور دیا کہ آخر میں متعدد کتے( بھونکنے والے) باقی رہ جائیں گے کہ مخالف مناظر کےاعتراضات سے آج پیشگوئی کا یہ حصہ بھی پورا ہوگیا ہے۔ ان کے بعد مولانا عمر صاحب نے اپنی آخری تقریر میں اپنے سابقہ دلائل دہرا ئے اور نبیوں کے غلبہ والی دلیل پرمخالف کے اعتراض کی روشنی میں جماعت کی کامیابیوں اور ترقیات پر روشنی ڈالی اور نہایت مؤثر پیر ائے میں ایم ٹی اے سمیت جماعت کی تبلیغی وتعلیمی میدان میں خدمات کی مساعی پیش کی۔

شرائط مناظرہ کے مطابق کوئی چیلنج دینے کی ممانعت تھی مگر احمد ی مناظرحضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا خردجال والا چیلنج دینے کے لیے بے قرار اور بے چین تھے جو حضورؒ کےایک مکتوب میں لکھا تھا کہ اگر مخالفین دجال کے گدھے کا نمونہ پیش کر دیں تو ہرمولوی کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔ اسے حسن اتفاق کہیے کہ اچانک احمدی مناظر کی آخری باری سے قبل مخالف مناظر حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات کے حوالے سے خود ہی خرِدجّال کے بارے میں اعتراض کر بیٹھےجس پراحمدی مناظر کواس موضوع پر بات کرنے کا جائز موقع میسر آگیا۔چنانچہ اپنی آخری جوابی تقریر میں نہایت برمحل طور پر احمدی مناظر نے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آپ لوگ عیسٰیؑ یا دجال کے گدھے کو آسمان سےاتار کر دکھا دیں تو اس کے عوض ایک کروڑ روپے کا تحفہ آپ کو پیش کیا جائے گا۔اس انعامی اعلان کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ یہ مخالفین بےچارے مسیح کو کیسے اتار سکتے ہیں مسیح تو پاک وجود ہےاگر یہ دجال کے گدھے کوہی پیدا کردکھائیں جس کےآئے بغیر مسیح نے نہیں آنا توبھی ایک کروڑ روپے ہر مولوی کو دیا جائے گا۔ خرِدجّال کے بارے میں اس چیلنج کا جواب مخالف مناظر کے پاس سوائےکھسیانی ہنسی یا خاموشی کے کچھ نہ تھا۔مخالف مناظر نے آخری تقریر میں اپنےسارے اعتراضات پھر دہرادیے لیکن تصرف الٰہی کے نتیجے میں کسی ممکنہ بدمزگی کے بجائے اختتام مناظرہ انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا۔

ہوا یوں کہ مخالف مناظر احمدی علماءاور ان کےمرکز قادیان سے آنے والے وفد کا تعارف حاصل کرنے کےلیے بے چین و بے قرار تھے۔جن کی کارکردگی وہ دوران مناظرہ دیکھتے رہے۔چنانچہ باہمی اتفاق رائے سے طےپایا کہ اختتام مناظرہ پر فریقین کے جملہ مقررین اور معاونین اپنا اپنا تعارف کروائیں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب اورمکرم حافظ مظفر احمد صاحب نےطےشدہ حکمت عملی کےمطابق صرف اپنے نام لے دیے۔اس دوران ماحول کافی مانوس سا ہو چکا تھا جس میں فریقین کے صدران مناظرہ اور منتظمین کا بھی باہم تعارف ہوا پھر مقررین نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ مخالف مناظر نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہمارا کوئی آدمی پہلےباہر نہ جائے ہم احمدیوں کو پورے احترام سے رخصت کر کے جائیں گے۔ بلکہ انہوں نے اپنی اختتامی تقریر میں یہ بھی کہا کہ ہمارا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھااور مناظرہ ایک علمی بحث کی حد تک محدود تھا۔ اس دوران اگر ہم سے کوئی زیادتی ہوئی ہوتو ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔جواباًاسی قسم کے جذبات کا اظہار احمدی مناظر نے بھی کیا جس کے نتیجے میں مناظرےکا اختتام نہایت خوشگوارماحول میں ہوا۔مناظرے کے ہال میں موجود لوگ پُرامن مناظرےپرخوشی سے مسکرا رہے تھے اس دوران احمدی احباب نے بھی مخالف مناظرزین العابدین صاحب سے ہاتھ ملایا۔اورموجود لوگوں کو سلام کرتے ہوئے ہال سےباہر گئے۔اس عمدہ اخلاقی معیار کا نمونہ دکھانے میں جنوبی ہند کی مٹی اور اس علاقے کےلوگوں کی نرمیٔ طبع کوبھی یقیناً دخل تھا۔جو اہل پنجاب اوراہل پاکستان کے معاندانہ طرزعمل سے ہٹ کر طبعاً و مزاجاً دوستانہ رویّہ رکھتے ہیں۔

ثاثرات مناظرہ

مناظرے کےبعداحمدی احباب کو خوشگوار حیرت تھی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے خصوصاً صداقت مسیح موعود کے مضمون میں مخالفین کی زبانوں کو حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ کے خلاف زہر اگلنے سے روک دیا۔ مخالف مناظربھی احترام سے ’’مرزا صاحب‘‘ کہہ کر حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر کرتے رہے۔ایک دفعہ ان کے کسی معاون نے’’ مرزا ‘‘کہہ دیا تو انہوں نے اسے منع کیا اور یوں اپنے ساتھیوں کو بھی دوران گفتگو دائرہ تہذیب میں رہنے کا سبق دیا۔اسی بنا پر اپنوں اور غیروں کے تأثرات بھی بہت خوشکن تھے۔مکرم ڈاکٹر منصور احمد صاحب نائب امیرکیرالہ جو کالی کٹ سے تشریف لاتے رہے انہوں نےمناظرے کے بارے میں اپنے بےساختہ تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’Very Nice‘‘بہت خوب ! پھر کہنے لگے کہ باقی جہا ں تک فریقین کا ایک دوسرے پر الزام ہے کہ ہماری دلیل یا اعتراض کا جواب نہیں دیا گیا۔اس کا فیصلہ لوگ خود ویڈیو ریکارڈنگ سن کر کرلیں گے اور چونکہ سارےاعتراضوں کے تسلی بخش جواب احمد ی مناظرنے دیے ہیں اس لیے دشمن کی اس الزام تراشی کا بھی کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔ مخالف مناظر کی جماعت جمعیت اہل القران والحدیث میں سے دو احمدی نومبائع نوجوان بھی اس مناظرہ سے بہت مطمئن اور خوش تھے۔ احمدی مناظرین کو بعض اعتراضات کےسخت جواب بھی دینےپڑے تاہم مخالف مناظر نے بھی نہ صرف شرائط مناظرہ کی پابندی کی بلکہ عام رسمی مناظروں کی طرح کوئی اشتعال پیداکرنے کی کوشش نہیں کی جو بہت خوشگوار حیرت کی بات تھی۔ ایک اور اعتراض یہ تھا۔شہادۃ القرآن میں حضرت مسیح موعو دؑ نےمندرج حدیث خَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَہْدِیِّ کا حوالہ بخاری کا دیا ہے جو اس میں موجود نہیں۔احمدی مناظرنےاسے سہو قرار دیتے ہوئے سنن ترمذی سے خطبۂ نکاح میں موجود آیات قرآنی میں سہو کے نمونے پر مشتمل وہ حوالہ پیش کیا،جس میں قرآنی الفاظ میں واضح تفاوت ہے۔ اس پرمخالف مناظر نے بظاہر حاضرجوابی اور ہوشیاری سے یہ جواب دیا کہ اس حدیث کی سندتو درست ہے مگر احمدی مسلک کے مطابق خلافِ قرآن ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں۔ اس پر احمدی مناظر نے خوب گرفت کی کہ اہلحدیث ہونے کےباوجودہم سے لاجواب ہوکر آخراحمدی مسلک ہی تسلیم کرنا پڑا ورنہ آپ کے اصول کےمطابق تودرست سند والی حدیث میں درج اضافہ شدہ آیت کو من وعن تسلیم کرنا چاہیے، اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپ کی درست سند بھی مشکوک ہوتی ہے لہٰذاآئندہ بحث میں آپ کسی حدیث کی سند پر بات نہ کریں اس پر مخالف مناظر سخت مبہوت اور لاجواب ہوئے۔ اس طرح اس نو روزہ مناظرے میں مجموعی طور پر خدا کے فضل سے احمدی علم الکلام کی فتح پوری شان سے ظاہر ہوئی۔ فالحمدللہ۔

جماعت کوئمبتور کا اخلاص وتعاون: مناظرے کے نو دنوں کےدوران کوئمبتور کی چھوٹی سی جماعت کےچند افراد نے مہمان نوازی اور مرکزی مہمانوں کی سیکیورٹی کا بھی خوب حق ادا کیا۔ خدام نے کتابیں وغیرہ مقام مناظرہ پر لے جانے اور لانے کی ڈیوٹی کےعلاوہ حفاظت کی ڈیوٹیاں بھی جس ہمت و محنت اور مستعدی سے دیں وہ بہت قابل تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزا عطا فرمائے۔ مکرم نور الامین صاحب صدر کوئمبتور کی اہلیہ کے ساتھ دیگر لجنہ روزانہ ۳۵ /۴۰؍افراد کا کھاناگھرمیں تیار کرتیں۔اور یوں تین وقت مہمانان ِمسیح موعودؑ کی مہمان نوازی کا حق ادا کیا اور نہایت اخلاص ا ورمحبت سے ان کی خدمت کی توفیق پائی جس کے لیےان کےگھر کی خواتین بھی بہت حوصلہ افزائی اور دعا کی مستحق ہیں۔ بالاتفاق یہ منفرد و تاریخی مناظرہ اپنی ذات میں ہر لحاظ سے کامیاب اور بابرکت رہا۔جس میں بالخصوص لمحہ بہ لمحہ حضور ؒکی راہنمائی اور دعائیں حاصل ر ہیں اور بالآخر یہ علمی فتح نصیب ہوئی۔جبکہ مناظرہ کوئمبتور سے قبل مدراس میں جمعیۃالقرآن والحدیث کی طرف سے یہ اعلان کیا جاتا رہا تھا کہ اس مناظرہ کے بعدکوئمبتور میں احمدیت ختم ہو جائے گی مگر خدا کے فضل سے دشمن روسیاہ ہوئے اورمسیح کےغلام سرخرواور فتح مند ٹھہرے۔فالحمدللّٰہ

تائیداتِ الٰہی: امر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح بدر کی جنگ رسول اللہ ﷺ کی جھونپڑی میں جیتی گئی تھی جہاں آپؐ محوِ دعا تھے۔ اسی طرح مناظرہ کوئمبتور کی فتح بھی حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خاص دعاؤں اور ذاتی توجہ نیز لمحہ بہ لمحہ کی جانے والی راہنمائی اور حضور ؒکی تجویز فرمودہ حکمت عملی کا نتیجہ تھی ورنہ ظاہری تیاری اورکتب وغیرہ کےلحاظ سے احمدیوں کی حالت بعینہٖ بدر والی ہی تھی۔بعض شرائط مناظرہ کی وجہ سے احمدیوں کےہاتھ بندھےہوئے تھے۔مثلاً شرائط مناظرہ کےمطابق آخری تقریر ہر صورت مخالف مناظر کی ہونی تھی۔ دوسری نامناسب شرط یہ تھی کہ بحث میں بزرگان ومفسرین امت کےحوالے پیش نہیں کیے جاسکتےتھے البتہ قرآن وحدیث اور لغت عرب کا حوالہ پیش کرنے کی اجازت تھی مگر لغت کی کوئی کتاب ہمارے پاس موجود نہ تھی ماسوا ’’المنجد‘‘ کے، جس پر مخالف مناظر نے یہ اعتراض کر دیا کہ یہ توایک عیسائی کی تصنیف ہے۔دعاؤں کی برکت کا نتیجہ دیکھیے کہ ہمارے میزبان نورالامین صاحب صدر کوئمبتور کے گھر میں موجود کتب دیکھتے ہوئے اتفاق سے لغت کی کتاب ’’مختارالصحاح‘‘ مل گئی جو وفات مسیح ناصری کے موضوع میں توفّی اورخلا کے معنی موت کی وضاحت کےلیے اور صداقت مسیح موعودکی بحث میں، قمر کےمعنے تیرھویں سے پندرہ تاریخ کے چاند کے بیان کرنے میں بہت ممد ثابت ہوئی۔

مخالف مناظر کا رویّہ: بحث کے آغاز پر مخالف مناظر کے تیور بظاہراچھے نہ تھے، مثلاً پہلے ہی دن انہوں نے محض ڈائس رکھنے پر ہی اعتراض کردیا کہ یہ شرائط کے خلاف ہے۔دوران بحث ’’توفّی‘‘کا یہ لغوی قاعدہ کہ باب تفعل سے لفظ توفی ہواور اللہ فاعل اوربندہ مفعول ہوتومعنی وفات کے ہی ہوتے ہیں پیش کرنے پر کہا کہ ایسا چیلنج پیش کرنا بھی خلافِ شرط ہے۔ پھر جب آیات قرآنی کی تفسیرالقرآن بالقرآن پیش کرکے اس پر زور دیا تو اس پرنیااعتراض کر دیاکہ لغت پیش نہ کرنا خلاف شرط ہے۔ ان کا خیال تھا کہ مناظرے کےلیے نہایت ہوشیاری سے ان کی عائد کردہ شرائط ان کی فتح کی ضامن ہوں گی جس سے وہ مدمقابل کومحصورکرکے رکھ دیں گے مگر ان کی یہ امید بر نہ آئی اور مناظرے کےدوسرے ہی دن احمدی مناظر کےدلائل اور اپنے اعتراضوں کےمعقول مدلّل اور تسلی بخش جواب پاکر مخالف مناظر لاجواب اور مرعوب ہو کر رہ گئے۔ اگرچہ مولویانہ عادت کےمطابق زبانی تو مناظرے میں یہی اصرار کرتے رہے ابھی جواب نہیں ملا،مگر صاف لگتا تھا کہ مرعوب اور لاجواب ہیں کیونکہ مخالف مناظرکی مکاری اور تیزی وطراری علاقے میں بہت مشہور تھی مگر وہ احمدی علماء کے سامنے بےکار ہوکر رہ گئی۔ احمدی مناظر نےصداقت مسیح موعودؑ کے مضمون میں جب جماعت کی کامیابیوں اور ترقیات کا ذکر کیا تو مخالف مناظر نے اس پر بھی اعتراض کر دیا کہ ترقی جماعت کی یہ باتیں دعوے اور چیلنج ہیں پیش نہ کریں۔حالانکہ مفتری کی ناکامی اور سچے کی کامیابی کے اظہار کےلیے ترقی کی باتیں بیان کرنا ضروری تھا مگر چونکہ سچ کڑوا ہوتاہے اس لیے مخالف مناظر کو یہ گوارا نہ تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ مولانا محمد عمر صاحب نے آخری تقریر میں پوری تحدّی و شان سے جماعت احمدیہ کے شاندار مستقبل کےمتعلق حضرت مسیح موعودؑ کے یہ حوالہ بھی پیش کیا کہ’’وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیاجائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا۔ اور ہرایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتاہے نامراد رکھے گا۔ اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔…وہ تمام مریں گے اور کوئی اُن میں سے عیسیٰ ؑبن مریم کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گا۔ ‘‘(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۶۶ ،۶۷)

مناظرے کے آخری سیشن میں باہمی تعاون اوراعتماد کی فضا بڑھ جانے سے آخری تقریر میں ۲۵،۲۵؍افراد کی قید بھی باقی نہ رہی تھی۔ ایک ہال کا دروازہ کھول دیا گیا اور ۵۰/ ۶۰ غیر احمدی آگئے تھے۔

مناظرے میں دلچسپی اس مناظرےکا آنکھوں دیکھا حال ملاحظہ کرنے کےلیے کیرالہ سے احمدیوں سے مباہلہ کرنے والا ایک غیر از جماعت گروہ بھی آیا وہ بھی صداقت احمدیت کے دلائل سنتے رہے۔ کیرالہ کے احمدی احباب خود بھی کثرت سے آتے تھے اور اختتام مناظرہ پرتو شام کےوقت کوئمبتور نہ پہنچ سکنے والوں کے فون کیرالہ کے مختلف مقامات سے آنا شروع ہو جاتے تھے کہ آج کی بحث کیسی رہی ؟ اس مناظرہ سے کیرالہ کی بڑی جماعتوں کا بھی حوصلہ بہت بڑھا اور احمدی نوجوانوں کاتو اس مناظرے سے ایک ریفریشرکورس ہو گیا۔ انہوں نےخود نہ صرف سب اعتراضوں کےجواب اور جماعتی عقائد کے بارے میں دلائل سنے بلکہ یہ آئندہ کےلیے ویڈیو ریکارڈ بھی ہوگئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے تازہ ارشادات کی روشنی میں کوئمبتورسے واپسی پر جانے والے احباب کو دعوت الی اللہ کے لیے تیار کر کے بھیجا گیا کہ اصل کام اب شروع ہوا ہے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خوشنودی اس مناظرے کی عظیم الشان کامیابی پر ہندوستان کے مقامی احمدی احباب اورمرکز سلسلہ قادیان کےدوست تو خوش تھےہی حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ بھی بہت مسرور ہوئےاور مناظرے میں شریک پانچ افراد(۱) مکرم مولانا محمد عمر صاحب (۲) مکرم مولوی ایوب صاحب (۳) مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب (۴) مکرم حافظ مظفراحمدصاحب (۵) مکرم مزمل احمد صاحب مربی سلسلہ کو دس ہزار روپے گراں قدرانعام عطا کرنے کا ارشاد فرمایا۔جو درج بالا افراد میں تقسیم ہوا۔بعد میں محترم صوبائی امیر صاحب کی خواہش پر چھٹے معاون مناظر مولوی محمود صاحب کو بھی مزید دو ہزار روپےانعام دیا گیا۔

مناظرہ کوئمبتور کے نتائج و اثرات

مولوی پی جےزین العابدین نےمناظرے کے بعد اپنے ترجمہ قرآن کے آٹھویں ایڈیشن میں لکھا : ’’ان (قادیانی)کے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ کوئمبتور میں مورخہ ۱۹؍نومبر ۱۹۹۴ء تا ۲۷ نومبر ۱۹۹۴ء ۹ دن تک مناظرہ ہوا۔ جس میں قادیانیوں کے مرکز سے ان کے مذہب کے گوروؤں نے شرکت کی۔‘‘

مکرم اے پی وائی عبدالقادر صاحب سابق امیر جماعت احمد یہ صوبہ تامل ناڈونے اس مناظرے کےبارے میں اپنے مضمون میں لکھا: احمدیہ مسلم جماعت کی طرف سے خاکسار (اے پی وائے عبدالقادر)بطور Judge (منصف تھا) اور میری مدد کے لیے چنئی جماعت کے دوست مکرم ایم بشارت احمدصاحب ساتھ تھے۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے بطور سپیکرز (تقریر کرنے والے) ۶ افراد اور مرکزی نمائندوں کو شامل کرکے کل ۸ افراد تھے۔ہم سب کے سب آج کی تاریخ تک (یعنی سال ۲۰۱۳ء تک) جماعت احمدیہ پر قائم ہیں اور جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔

ہمارے ساتھ جنہوں نے مناظرہ کیا تھا یعنی JAQH (جمعیۃ اہل القرآن و الحدیث) کے آٹھوں افرادآٹھ مختلف فرقوں اور دھڑوں میں بٹ چکے ہیں۔۔مثلاً سال ۲۰۱۲ء میں ایک مشہور علاقہ Kadayanallur سے صرف تین مولویوں کو پی جے نے تامل ناڈو توحید جماعت ( جس کے بانی اور صدر خود پی جے زین العابدین تھے) اپنی تنظیم سے نکال باہر کردیا۔ ان کے نام درج ذیل ہیں:

۱۔ مولوی یوسف فیضی، ۲۔ مولوی سیف اللہ فیضی، ۳۔ مولوی محب اللہ عمری۔

مولوی پی جے نے اسی ترجمۃ القرآن میں لکھا: ’’اس مناظرہ میں مرزا غلام احمد صاحب کی کتب کے حوالوں سے ہم نے ثابت کیا کہ وہ(معاذاللہ ) کذّاب ہیں۔ آخر وقت تک قادیانیوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔ مناظرہ کا Video اور Audio ریکارڈنگ موجود ہے۔ www.onlinePJ.com کے ذریعے آپ دیکھ سکتے ہیں۔

مکرم اے پی وائی عبد القادر صاحب کاجواب: پہلا جواب لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ہے۔میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ یہ صریح جھوٹ ہے۔ کیا پی جے (زین العابدین) بھی خداتعالیٰ کی قسم کھا کر اپنا بیان دینے کے لیے تیار ہے؟ فریقین میں طے شدہ شرائط مناظرہ پر جماعت احمدیہ کوئمبتور کے اس وقت کے صدر مکرم نور الامین صاحب، مکرم مولوی محمد ایوب صاحب اور خاکسار عبدالقادر نےدستخط کیے۔

مناظرے کی شرط کے مطابق تیسرےعنوان کو احمدیہ مسلم نے قرآن مجید سے ایک سچے نبی کا معیار کو پیش کرکے یہ ثابت کرنا تھا کہ مرزا غلام احمد صاحب اس معیار کے مطابق سچے ہیں۔

پی جے صاحب اور ان کے ساتھیوں نےجھوٹے نبی کا معیارقرآن مجید سے پیش کر کے یہ ثابت کرنا تھا کہ مرزا صاحب اس معیار کے لحاظ سے جھوٹے ہیں۔

اس کے مطابق تینوں دن ہم نے قرآن مجید کی رو سے مرزا صاحب کو سچا نبی ثابت کیا۔ لیکن تینوں دن پی جے نے اس شرط کے مطابق کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ مرزا صاحب کذّاب ہیں۔ اس کے بعد جماعت احمدیہ Melapalayamکی طرف سے علاقہ میں خاص جگہوں پر اور بازار میں سرعام Digital Boardکے ذریعہ یہ اعلان کیا گیاکہ جو بھی جھوٹے نبی کا معیار قرآن مجید سے پیش کرکے یہ ثابت کرےگا کہ اس معیار کے مطابق مرزا صاحب جھوٹے ہیں ان کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔ لیکن آج تک پی جے اور ان کے فرقہ سے تعلق رکھنے والے باوجود آنکھ ہونے کے اندھے اور باوجود کان ہونے کےبہرے اور باوجود زبان ہونے کے گونگے پھر رہے ہیں۔

جہاں تک یہ اعتراض ہے کہ ہمارے سوالوں کا قادیانیوں نے جواب نہیں دیا اس کے متعلق بھی عرض ہے کہ جھوٹوں پر خدا کی لعنت، خدا کے ملائک کی لعنت اور لوگوں کی لعنت برستی ہے۔ ایک ذرہ بھر بھی اس شخص کے اندر خدا کا خوف نہیں ہے۔ جو لوگ خود انٹر نیٹ کے ذریعےآڈیو اور ویڈیو کو دیکھیں گے ان پر حقیقت واضح ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ

پی جے نے اپنے ترجمۃ القرآن میں تیرہ (۱۳) سوال کیے ہیں۔ لیکن ان کا جواب دینے سے پہلے ہم یہ کہتے ہیں کہ جب تک پی جے قرآن مجید سے ایک جھوٹے نبی کا معیار پیش کرکے ثابت نہیں کرتا کہ مرزا صاحب اس پر پورے اترتے ہیں۔ اس وقت تک ان کو یہ سوالات کرنےکا حق ہی نہیں ہے۔ یہ عدل کے خلاف ہے۔ شرائط مناظرہ کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے وہ خود جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں۔

قرآن مجید میں ایک سچے نبی کی علامتوں میں تین یہ ہیں:

(۱)اللہ جسے نبی یا رسول کے نام سے پکارے۔ (۲) اس نبی کے دشمن ان کو مجنون، شاعر، جادوگر، ساحر اور کذاب ، ذلیل شخص کے ناموں سے یاد کرکےان کا استہزا اور ان پر ہنسی کرتے ہیں۔ (۳) ایک بشر رسول ہونے کے ناطے سب نبیوں میں بعض بشری تقاضے ہیں جن کو انہوں نے پورا کرنا ہے۔

ان تین علامتوں کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد صاحب سچے ٹھہرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول ، امام مہدی، مسیح موعودؑ کرکے پکارا ہے۔مناظرہ میں بھی ہم نے ایک سچے نبی کا معیار پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ مرزا صاحب اس پر پورے اترتے ہیں۔ لیکن پی جے زین العابدین ایک جھوٹے نبی کا معیار قرآن مجید سے پیش کرکے مرزا صاحب کو کذاب ثابت نہیں کرسکے۔

علاوہ ازیں ایک سچے نبی کا انکار کرنے والے اس نبی کے متعلق جو نازیبا الفاظ مثلاً مجنون، کذّاب وغیرہ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔یہی الفاظ پی جے نے خود استعمال کر کے یہ ثابت کردیا کہ مرزا غلام احمد صاحب سچے نبی ہیں۔

ایک TV Channel میں مولوی پی جے نے ماہ رمضان میں اس موضوع پر تقریر کی کہ ۷۲ فرقوں کے لوگ کون ہیں؟ اور کہا کہ آنحضرتﷺ نے جن ۳۰ جھوٹے نبیوں کا ذکر اپنی احادیث میں کیاہے۔ان سب کےنام و نشان مٹ گئے ہیں۔ وہ سب برباد ہوچکے ہیں۔ ان میں سے جن کا نام احادیث میں ذکر ہے ان کے علاوہ باقی کذّابوں کے متعلق کسی کو کسی بھی بات کا علم نہیں۔ یہی ایک جھوٹے نبی کا معیار ہے۔ لیکن حضرت مرزا غلام احمد کی یہ جماعت ۱۲۰ سال سے اوپر حضرت مرزا صاحب کے خلیفہ اور جانشین ایک امام کی قیادت میں قائم ہے۔ دوسو سے زائد ملکوں میں یہ جماعت پھیل چکی ہے اور بیس کروڑ احمدی اس جماعت کے ممبر ہیں۔یہ ثابت کررہا ہے کہ مرزا غلام احمد ؑسچے نبی ہیں تو اس طرح مولوی پی جے نے یہ تسلیم کر لیا کہ حضرت مرزا غلام احمد ؑسچے نبی ہیں۔ لہٰذا ہم پی جے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔(احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ۵۲تا۶۲ ازاے پی وائے عبد القادر ترجمہ از تامل)

دو غیر احمدی مولویوں کے دلچسپ تبصرے:مناظرے کے بعد دو غیر احمدی مولویوں کا تبصرہ بھی نہایت اہم اور قابل توجہ ہے۔ایک عالم دین فیصل صاحب جمعیت اہل القرآن و الحدیث کی طرف سے کوئمبتور علاقے کے نگران کےطور پر مقرر تھے۔ مناظرے کے بعدانہوں نے بیان کیا: ’’قادیانیوں کے ساتھ جو مناظرہ ہوا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی ان کو چھوبھی نہیں سکتا۔میں مولوی زین العابدین صاحب سےپوچھتا ہو ں کہ مناظرہ کے دوران JAQHکی طرف سے جو جج شیخ مختار مقرر کیا گیا۔ وہ اب کہاں روپوش ہے ؟ کوئی جواب نہیں دے سکتا۔

کوئمبتور میں مناظرہ کے وقت قادیانیوں کی تعداد صرف پانچ (۵) یادس (۱۰) افراد پر مشتمل تھی۔آج میں دیکھ کر آیا ہوں۔ کوئمبتور میں قادیانیوں کی تعداد ۵۰۰ ہوچکی ہے۔ جو بھی ان کے بارہ میں تحقیق کے لیے جاتے ہیں ان کو وہ مناظرہ کیDVD دیتے ہیں۔ میں بھی جب ان کے پاس گیا تو مجھے بھی انہوں نے پی جے کی DVD دی تھی۔ اس طرح وہ اپنے مذہب کو پھیلا رہے ہیں۔‘‘

دوسرے تبصرہ نگار کیرالہ کے ایک مولوی اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔جن کے ساتھ مولوی پی جے کا مناظرہ جماعت احمدیہ کےبعد ہوا تھا۔انہوں نے کہا: ’’مولوی پی جے کہتے ہیں کہ قادیانیوں کے ساتھ ہمارا مناظرہ ہوا ہے۔لیکن میں آپ کو سچ بات بتاتا ہوں جب یہ مناظرہ کوئمبتور میں ہوا تھااس وقت وہاں پر ایک قادیانی بھی نہیں تھا۔ اب وہاں پر ۴۰۰ قادیانی ہیں۔ مناظرہ جب ہوا تھا اس وقت قادیانیوں کے لیے اپنی مسجد نہیں تھی۔ اب قادیانیوں کی اپنی مسجد موجود ہے۔

مناظرے کی ویڈیو کیسٹس کے ذریعہ بھی قادیانی اب اپنے مذہب کو پھیلا رہے ہیں۔ بطور گواہ میں فیصل صاحب کو پیش کرتا ہوں جس نے ویڈیو دیکھی ہے اور یہ فیصل صاحب کوئمبتورمیں ایک زمانہ میں JAQH کے نگران رہے ہیں۔‘‘

خودفیصل صاحب نے مزید کہا: ’’میں نے ویڈیو دیکھی۔ مناظرہ کے وقت چند قادیانی کوئمبتور میں تھے اور انہوں نے مناظرہ کرنے کے لیے صوبہ کیرالہ سے مولویوں کو بلایا اور اب اس ویڈیو کے ذریعہ سے اپنی مذہب کو پھیلا رہے ہیں۔‘‘

مکذّب مناظر پی جےکا بد انجام (انی مھین من اراد اھانتک): یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب شان اور قدرت کا اظہار تھا کہ مولوی پی جے زین العابدین احمدیوں سےمناظرہ کے بعد بےحد ذلیل ہوئے۔وہ تامل ناڈو توحید جماعت کے صدر تھے۔ ۲۰۱۷ء میں ان کےاعلیٰ عہدیداران پر مشتمل کمیٹی نے بعض سخت، غیر شائستہ، نامناسب الزامات کی بنا پر ان کو اس تنظیم سے نکال باہر کیا اور بر سرعام اعلان کیا کہ مولوی پی جے کو آئندہ دین اسلام کے متعلق بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔

تامل ناڈو میں توحید جماعت کے نائب صدر اور جنرل سیکرٹری دونوں نے یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ جنرل سیکرٹری مکرم رحمت اللہ صاحب نے مولوی پی جے کو اس سلسلہ میں بحث کی دعوت بھی دی اور بعض آڈیو اور ویڈیو کلپس کے ذریعہ ثابت کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات حقیقت ہیں انہوں نے اپنی Official Statement میں بھی اس کا ذکر کیا۔

مولوی پی جے پرمع ثبوت پیش کیے گئے الزامات یہ تھے: مولوی پی جے نے ایک شادی شدہ عورت سے اس کے خاوند سے مخفی فون پر رابطہ کرکے اپنے ساتھ تعلق کےلیےبلایا۔جس کا ثبوت پی جے کے موبائل سے آڈیو ریکارڈنگ تھی جوخود عورت کے گھر والوں نے مہیا کی۔

پی جے نے بعض عورتوں کو اپنے ساتھ غیر شرعی تعلقات کے لیے بلایا اور نعوذباللہ حضرت یوسف ؑکے متعلق یہ بیان دیا کہ وہ بھی اس طریق کو پسند کرتے تھے۔

اپنے غلط فعل اور نازیبا حرکات کو تسلیم کرتے ہوئے پی جے نے کہا بعض صحابۂ رسولؐ قبول اسلام سےپہلےزنا کرتے تھے پھر توبہ کرلی۔

پی جے بددیانت شخص ہے اور قومی اموال ہڑپ کر چکا ہے۔

پی جے نےبعض مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردی میں ملوث کرکے ان کی زندگی بربادکی۔

پی جے نے بعض نوجوانوں کو بعض لوگوں کے قتل کرنےکے لیے بھیجا۔

پی جے اپنے گناہ اور غلطی کے اقرار کی بجائےاسےچھپانے اور دینی فعل ثابت کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ اور صحابہ رسول ﷺ کی زندگی کو غلط رنگ میں پیش کرکے منکر رسولؐ اور منکر صحابہؓ بنااور شریعت کو اپنی مرضی کے مطابق بنالیا۔

ایک عورت سے ناجائز تعلق کی خاطر بعض دوسری عورتوں کوفون پر اپنے پاس لانے کےلیے کہا جس کی ریکارڈنگ موجود ہے۔

مکرم رحمت اللہ صاحب جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ ہم کسی شخص کو محض ذلیل کرنے کے لیے ان پر بلا ثبوت الزامات نہیں لگا رہے ہیں بلکہ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کےثبوت موجود ہیں۔ پی جے قومی دشمن ہے۔شریعت کے ساتھ کھیلنے والا ہے۔دوسروں کوخراب کرنے والا بدترین مخلوق ہے۔

آخرمیں ۲۰۱۷ءمیں ایک Debate میں پبلک کے سامنے یہ تمام الزامات ثابت ہونے پر پی جے کو اس کی تنظیم سے باہر کردیا۔جس کےبعد مولوی پی جے ایک سپر مارکیٹ چلا نے لگا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل کر کے رکھ دیا۔

یہ معلومات JAQH (جمعیۃ اہل القرآن و الحدیث) کےجنرل سیکرٹری نے اپنے ویڈیو پروگرام میں بتائیں جو اس وقت تامل زبان میں یوٹیوب پر موجود ہے اور اس کا لنک یہ ہے۔

اس ویڈیو میں ۴۵:۰۰ سے۴۷:۰۰ میں موصوف کہہ رہے ہیں کہ جب پی جے ان بداخلاقیوں میں مصروف تھا ہم نے اس میں یہ تضادات دیکھے تو کیا اسی دن اس کو اس کےعہدے سے ہٹا دیا گیا ؟وہ یہ غلطیاں ایک لمبے عرصے سے کر رہاتھا اور اس نے بہت کتابیں بھی شائع کیں اور تم سب کو اس کی ان غلطیوں کو جانتے ہوئے بھی اس کے خلاف کوئی کارروائی لینے کی ہمت نہ ہوئی ۔

مناظرہ کوئمبتورکے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی طرف سے موصول ہونے والے خطوط

پہلاخط

مناظرے کے چھٹے روز کی بحث کا خلاصہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒکوبھجوایاجس کےجواب میں حضورؒ نے مولوی محمد عمر صاحب کو تحریر فرمایا: ’’مکرم حافظ صاحب کی طرف سے چھٹے روز کی بحث کی رپورٹ محررہ ۲۴.۱۱.۹۴ ملاحظہ کرنے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

الحمد للہ ۔ بہت خوشی ہوئی ہے۔ اب پتہ چلا ہے کہ جیسے مجھے احمدی مناظروں کی توقع تھی وہ پوری ہو رہی ہے۔ اچھا ہوا شروع میں پریشانی ہوگئی اور اس سے جس طرح دعا کے لیے دل کھلا ہے ۔ ویسی کیفیت شاید پیدا نہ ہوتی ۔ الحمد للہ ۔ کان اللّٰہ معکم ۔ آخری جو Sensitive Issue ہے۔ صداقت مسیح موعود علیہ السلام والا اور جس میں امکان ہے کہ یہ گند بکیں گے اور بکواس کریں گے۔

اس کے لیے پہلے ہی انبیاء پر ہونے والے اعتراضات ذہن میں رکھیں اور فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا… کے قلعہ میں پناہ گزیں ہوں ۔ ان سے کہیں کہ پہلوں نے اپنے انبیاء پر جو اعتراضات کئے تھے وہ دکھاؤ اور جو اعتراض تم مرزا صاحب پر کرتے ہو ان میں سے کوئی ان سے مختلف نہیں تو خود ہی فیصلہ کر لو کہ تم کس کی راہ پر چل رہے ہو اور کن کے ساتھ ملا رہے ہو۔ پھر تمہارے بڑوں ثناء اللہ اور محمد حسین بٹالوی وغیرہ کی جب گواہیاں پیش ہوئی تھیں تو تم میں سے کس نے ان کی مخالفت کی تھی۔ تم میں جب تک (عین السخط) پیدا نہیں ہوئی یہ گند تم سے نہیں نکلا اور قرآن کریم نے اس کو ردّ فرمایا ہے دعویٰ سے پہلے ہر نبی کا کردار ہر قسم کے طعن سے پاک ہوتا ہے اور دعویٰ کے بعد اس کے کردار پر ہر طرح سے حملے کئے جاتے اور اس پر ہر گندا چھالا جاتا ہے۔ پس تمہارا یہ انداز توفی ذاتہٖ حضرت مسیح موعود ؑ کی صداقت پر مزید گواہی بن گیا ہے۔ اس قسم کی باتوں کے لیے بھی ذہنی طور پر تیار رہیں ۔ اللہ آپ کے ساتھ ہو۔

دوسرا خط

مولانا محمد عمر صاحب اور حافظ مظفر صاحب کے جواب میں مکتوب مورخہ ۲۴؍نومبر۱۹۹۴ء میں فرمایاؒ’’آپ کی طرف سے اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کی طرف سے فیکس، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں موصول ہوئی ہیں۔ بعد ملاحظہ فرمایا ہے :۔

جزاکم اللہ تعالیٰ۔ بات کھل گئی ہے۔ الحمدللہ ، خدا نے اس طرح غیر معمولی طور پر فکر سے دعاؤں کی توفیق عطا فرمائی اور وہاں معاملہ دن بدن کھلتا جا رہا ہے۔‘‘ مجھے پتہ لگا ہے کہ اس نے ایک یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’منک‘‘ کا عہد عیسٰی علیہ السلام کے لیے لیا گیا۔ یہ اعتراض تو اس آیت پر بھی ہے جو میثاق والی آیت ہے زور دیکر یہ بات بار بار پیش کریں کہ ایسی بات کر کے اوّل تو یہ قرآن کی آیت کی تنسیخ بیان کر رہا ہے کیونکہ اس کا یہ اعتراض آیت کی تنسیخ پر منتج ہوتا ہے اور نعوذ باللہ وہ قرآن کریم کی آیات کی حکمت اور معقولیت سے ہی منکر ہے۔ ایسے موقعہ پر زور سے پکڑنا چاہئے کہ تم گستاخ قرآن ہو اور ہتک قرآن کے مرتکب ہو رہے ہو۔ ’’منک‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جب امت کے سامنے خدا کا کوئی ایسا رسول آئے تو اس کا عہد امت پورا کرے گویا نبی کے عہد میں اس کی امت مراد ہوتی ہے۔ غالباً یہ وضاحت کردی گئی ہوگی لیکن چونکہ رپورٹ میں کہیں ذکر نہیں اس لیے لکھ رہا ہوں۔عیسیٰ علیہ السلام کی بات پر اس کو پکڑنے کا اچھا موقعہ پیدا ہو گیا ہے۔ آیت خاتم النبیین سے غالباً آپ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی قطعی وفات ثابت نہیں کی۔ اب ختم نبوت کی بحث میں موقعہ ہے جہاں ایک تیر سے دو شکار ہوتے ہیں اور تیر نشانے پر پہنچتا ہے۔ مضاف اور مضاف الیہ دو الگ الگ وجود ہیں اور ان کا عمل ایسا ہے جیسے فاعل اور مفعول دو الگ الگ وجود ہوتے ہیں۔ خاتم محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور ’’النبیین‘‘ میں تمام معروف انبیاء شامل ہیں جو اس وقت گزر چکے تھے۔ یہ بحث اٹھائیں کہ ’’ النبیین‘‘میں عیسیٰ علیہ السلام داخل ہیں کہ نہیں اور خاتم کا معنی ختم کرنے والا جائز ہے کریں۔ اگر لفظ خاتم میں’’ختم کرنے والا‘‘کے معنی ہی نہیں تو خاتمیت کی بحث ہی ختم ہوگئی اور اگر ہیں تو ’’النبیین‘‘میں عیسیٰؑ داخل ہیں کہ نہیں ؟یہ سوال اٹھائیں اور کہیں کہ جماعت احمد یہ پورے یقین کے ساتھ خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ اعلان کرتی ہے کہ اس پہلو سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰؑ کو جسمانی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی ختم کر دیا ہے۔ جسمانی لحاظ سے تو اس طور پر کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق لفظ خاتم کے معنی ختم کرنے والا ہے عیسیٰؑ ختم کر دیا ہے لیکن اگر وہ آپ کے اس عقیدہ کے باوجود بھی زندہ رہیں اور النبیین میں بھی داخل رہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کو کس طرح جسمانی طور پرختم کرسکے۔ ظاہر ہے کہ نہیں کر سکے بلکہ وہ انہیں ختم کر گیا اور یہ تو آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے۔ اس سے آپ کا مقام بلند نہیں ہوتا بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کا مقام بڑھ جاتا ہے اور آپ کا فیض یہ تو جاری نہ ہوا بلکہ اس کا فیض جاری ہو گیا۔ یہ تو غیرت رسول ؐکے خلاف ہے۔ اگر روحانی معنی ہی لینا ہے تب بھی جماعت احمد یہ صد فیصد یقین سے یہ اعلان کرتی ہے کہ عیسیٰؑ کا یا کسی اور نبی کا روحانی فیض رسول اللہؐ کے زمانہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ پس آیت میثاق میں رسول الله ؐ سے جو عہد لیا گیا ہے وہ کسی ایسے نبی کے لیے لیا گیا ہے جس کو آیت خاتم النبیین بیان کر رہی ہے کیونکہ اگر عیسیٰ ؑ کا فیض آئندہ بھی جاری ہونا تھا تو آیت خاتم النبیین ہی باطل ہو جاتی ہے۔‘‘

اختتامِ مناظرہ پر مکرم مولوی محمد عمر صاحب کے نام تیسرا خط

’’مناظرہ کو ئمبتورکی کامیابی بے حد مبارک ہو۔ اس مناظرہ کے دوران آپ نے اور آپ کے تمام ساتھیوں نے جس محنت اور ہمت سے کام کیا ہے اس کی رپورٹیں پڑھ کر مجھے بڑی خوشی پہنچتی رہی ہے اور آپ سب کے لیے دل سے دعا ئیں نکلتی رہی ہیں ۔ اللہ آپ کے علم وعمل میں برکت دے اور فصاحت و بلاغت میں ایسی شان عطا فرمائے جو اعجازی رنگ رکھتی ہو۔‘‘

(ابو احمد)

مزید پڑھیں: مباحثہ کوئمبتورتامل ناڈو(جنوبی ہند) کی روداد(قسط اوّل)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button