وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا

بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا
جو ہو گا ایک دن محبوب میرا
کروں گا دور اُس مہ سے اندھیرا
دکھاؤں گا کہ اِک عالَم کو پھیرا
بشارت کیا ہے اِک دل کی غذا دی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ
فروری کا مہینہ جماعت احمدیہ کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس ماہ خدا تعالیٰ کی ایک پیشگوئی بہت شان سے پوری ہوئی۔
جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہیَنْزِلُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اِلَی الْأَرْضِ، فَیَتَزَوَّجُ وَ یُوْلَدُ لَہٗ۔(مشکوٰۃالمصابیح کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ علیہ السلام الفصل الثالث)یعنی جب عیسیٰ بن مریم زمین پر نازل ہوں گے تو وہ شادی کریں گے اور اُن کی اولاد بھی ہوگی۔
اس خدائی بشارت کی تکمیل کی خوشی میں اس ماہ مبارک میں جلسہ مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں تلاوت و حدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئی حضرت مصلح موعودؓ پڑھی جاتی ہے اس میں ایک الہام کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا اور ساتھ ہی بریکٹ میں لکھا ہوتا ہے کہ اس کا مطلب سمجھ نہیں آیا۔ اسی پیشگوئی کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ الہام حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارک و مطہر حیات میں کس شان سے پورا ہوا ہے اور کس کس جگہ پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔جماعت کے علماء نے اس کی کئی ممکنہ توجیہات کی ہیں۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں :”میں اس کے متعلق اِس وقت تفصیل سے کچھ نہیں کہہ سکتا مگر یہ جو آتا ہے کہ ’’وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا‘‘(اشتہار۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء تذکرہ صفحہ ۱۳۹ طبع چہارم) اس کےمتعلق ہمیشہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں؟ اسی طرح ’’دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ‘‘ (اشتہار۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء تذکرہ صفحہ ۱۳۹ طبع چہارم) کے متعلق سوال کیا جاتا ہے۔ سو یہ جو الہام ہے کہ وہ ’’تین کو چار کرنے والا ہوگا‘‘۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ذہن اس طرف گیا ہے کہ وہ تین بیٹوں کو چار کرنے والا ہوگا۔ یعنی وہ چوتھا بیٹا ہوگا۔ اگر یہ مفہوم لے لیا جائے تو چوتھے بیٹے کے لحاظ سے بھی بات بالکل صاف ہے۔ مجھ سے پہلے مرزا سلطان احمد صاحب، مرزا فضل احمد صاحب اور مرزا بشیر احمد (اول) پیدا ہوئے اور چوتھا مَیں ہوا…اسی طرح میرے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین بیٹے ہوئے۔ اس لحاظ سے بھی مَیں تین کو چار کرنے والا ہوا۔ پھر میری خلافت کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے مرزا سلطان احمد صاحب کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق دی۔ اِس طرح بھی مَیں تین کو چار کرنے والا ہوا۔ گویا تین کو چار کرنے والا مَیں تین طرح ہوں۔ اول و دوم اس طرح،۱۔مرزا سلطان احمد۔۲۔مرزا فضل احمد۔۳۔بشیر اول۔۴۔مرزا محمود احمد۔۳۔ مرزا بشیر احمد۔۲۔ مرزا شریف احمد۔۱۔ مرزا مبارک احمد
سوم اس طرح،۱۔مرزاسلطان احمد۔۲۔مرزا بشیر احمد ۳۔مرزا شریف احمد۔ ۴۔مرزا محموداحمد۔ اس طرح میں نے تین کو چار کردیا۔ لیکن میرا ذہن خدا تعالیٰ نے اس طرف بھی منتقل کیا ہے کہ الہامی طور پر یہ نہیں کہا گیا تھا کہ وہ تین بیٹوں کو چار کرنے والا ہوگا۔ الہام میں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔پس میرے نزدیک یہ اس کی پیدائش کی تاریخ بتائی گئی ہے۔ یہ پیشگوئی ابتداءً۱۸۸۶ء میں کی گئی تھی۔پس ۱۸۸۶ء۔ ۱۸۸۷ء۔ ۱۸۸۸ء تین سال ہوئے۔ اِن تین سالوں کو چار کونسا سال کرتا ہے؟ ۱۸۸۹ء کرتا ہے اور یہی میری پیدائش کا سال ہے۔ پس تین کو چار کرنے والی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ اس کی پیدائش چوتھے سال میں ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(خطبہ جمعہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرمودہ۲۸ ؍ جنوری ۱۹۴۴ءالفضل یکم فروری ۱۹۴۴ءصفحہ ۶-۷)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپؑ کے تین صاحبزادے جماعت احمدیہ میں شامل تھے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حضرت مرزا فضل احمد صاحب تو آپ علیہ السلام کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے لیکن آپؑ کی حیات تک حضرت مرزا سلطان احمد صاحب جماعت احمدیہ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کا جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیارکرنابھی اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتا ہے اکتوبر ۱۹۲۸ء میں آپ نے جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اردو کلاس نمبر ۳۳۶ میں حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:’’یہ حضرت مسیح موعودؑ کے سب سے بڑے بچے تھے۔ میرے ابا جان سے بڑے تھے لیکن یہ پہلی بیگم میں سے تھے ان کا قصہ بڑ اعجیب ہے۔ … حضرت مسیح موعود ؑ کی دعائیہ نظموں میں ان کا نام نہیں آتا اس کی کیا وجہ ہے … اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام الہام میں چھپا دیا تھا۔ مصلح موعودؓ کے متعلق الہام یہ ہوا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔ تین بھائی تھے اور یہ چوتھے ہو گئے۔ پیشگوئی اس میں یہ تھی کہ جب تک حضرت مصلح موعودؓ خلیفہ نہیں ہوں گے اس وقت تک یہ بیعت نہیں کریں گے۔ حضرت مصلح موعودؓ تین کو چار کرنے والے بنے۔ مرزا سلطان احمد صاحب بیعت نہیں کرتے تھے مگر حضرت مسیح موعودؑ کا ان کے دل میں بہت احترام تھا۔ سچا کہتے تھے مگر بیعت نہیں کرتے تھے۔ لوگوں کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بیعت کیوں نہیں کرتے اور ان کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بیعت کیوں نہیں کر رہا۔ یہ کہا کرتے تھے کہ میرے اعمال اتنے اچھے نہیں ہیں کہ میں اس باپ کی طرف منسوب ہوں۔ اس لیے ان کی طبیعت میں ایک انکسار تھا ہمیشہ اپنے آپ کو چھوٹا کہتے تھے‘‘(روزنامہ الفضل ۱۳؍مارچ ۱۹۹۹ء صفحہ ۲)( اردوکلاس کی باتیں، کلاس نمبر۳۳۶)
ایک اور بات جو اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ جماعت کے ایک بزرگ شاعر حضرت مولانا ظفر محمد صاحب ظفر نے بھی کی ہے۔جسے آپ نے اپنی ایک نظم میں بیان فرمایا ہے۔یہ نظم ۱۹۳۹ء کوسلور جوبلی کے موقع پر قادیان میں پڑھی گئی۔آپ فرماتے ہیں۔
حضرت احمد سے پہلے تین تھے ایسے بشر
حق تعالیٰ کی بشارت سے ملے جن کو پسر
حضرت ابراہیم اول، دوم یحییٰ کے پدر
سوم مریم محصنہ جس پر تھی مولیٰ کی نظر
تیری پیدائش نے احمد کو کھڑا ان میں کیا
ہیں یہی وہ تین جن کو چار تُو نے کردیا
آپؑ سے پہلے تین وجود ایسے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ کی بشارت سے فرزند عطا ہوئے تھے۔
۱۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام
۲۔حضرت زکریا علیہ الصلوٰۃ والسلام
۳۔حضرت مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام
حضرت مصلح موعودؓ بھی بشارت خداوندی سے پیدا ہوئے۔اور آپؓ کے ذریعہ وہ تین، چار ہوگئے اور اس طرح ایک رنگ میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی کہ ’’وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔ ‘‘الحمدللہ
اس کے علاوہ ایک اور واقعہ ربوہ کا قیام بھی ہے اس سے قبل اہلِ اسلام کے دو بڑے روحانی مراکز مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہیں سارے عالم میں ان کی عفت،پاکیزگی، حرمت وعظمت، احترام وتقدس میں کوئی نظیر نہیں، یہ دونوں شہر دو جلیل القدر انبیاء حبیب اللہ اور خلیل اللہ علیہما السلام کی دعاؤں کی وجہ سے حرمین شریفین ہو گئے۔
پھر وقت کے امام اور بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے مقدس وجود کی برکت سے قادیان کو بھی اس وقت کے مومنین کے لیے روحانی مرکز بنا دیاگیا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں قادیان سے ہجرت اور پھر ربوہ کا ایک نیا مرکز کے طور پر قیام بھی تین کو چار کرنے والا ہو گا کے مصداق ثابت ہوئے۔(الفضل انٹرنیشل مورخہ ۲۷؍ فروری۲۰۲۴ء)
غرض کہ پیشگوئی حضرت مصلح موعودؓ کا ایک ایک حرف سچ ثابت ہوا ایک ایک پیشگوئی اپنی شان سے پوری ہوئی اور تمام دنیا رشک اورحیرت سے ان پیشگوئیوں کو دیکھتی ہے کہ کیسے خدا تعالیٰ نے اس مبارک و موعود وجود کے لیے ان کی پیدائش سے بھی قبل آپؓ کی زندگی میں پوری ہونے والی ایک ایک بات کو بیان فرمایا اور اسے کس رنگ میں پورا کیا۔ غرض کہ پیشگوئی مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی اگر کوئی نیک دل ہو تو اسے جماعت احمدیہ کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے اس پاک وجود پربےشمار رحمتیں نازل فرمائے جس کی زندگی کا ایک ایک دن اسلام کی تبلیغ و ترویج اور اشاعت میں گزرا اور دنیا کو اپنی بے شمار خوبیوں، صلاحیتوں سے آگاہ کیا۔اے خدا کے برگزیدہ مسیح اور مہدی! تجھ پر ہزاروں رحمتیں اور ہزاروں سلام کہ ہم نے تیری بتائی ہوئی علامات کے مطابق اُس مصلح موعودؓ کو پہچانا اور اُس کی ذات بابرکات سے بہت سا فائدہ اٹھایا اور نجات اور فلاح کی راہوں پر اطلاع پائی۔
اللہ تعالی ٰہمیں ان نیک ہستیوں کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے اور ہماری نسل در نسل جماعت احمدیہ کی دل سے اطاعت گزار اور وفادار رہے۔ آمین اللھم آمین۔



