توحیدِ الٰہی کے تناظر میں سیرت نبویﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۷؍مارچ ۲۰۲۶ء
٭… حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کو منبر پریہ کہتے ہوئے سنا کہ مَیں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسے نصاریٰ نے مسیح کی تعریف میں مبالغہ کیا تھا۔ مَیں تو صرف خدا کا بندہ ہوں۔ پس تم کہو کہ خدا کا بندہ اور اس کا رسول
٭… آپؐ کو یہ برداشت نہیں تھا کہ خدا کی توحید کے سامنے کسی بھی چیز کو ہلکا سا بھی رکھا جائے
٭… آپؐ نے فرمایا کہ جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کا شریک کسی کو نہیں ٹھہراتا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص فوت ہوا جبکہ وہ اللہ کا شریک بناتا تھا وہ آگ میں داخل ہوگا
٭… حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعے سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارےنبیﷺنے عرب کے دہریوں اور بدمذہبوں کو ہزارہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کرلیا
٭… قوم کو آخری نصیحت اور آخری پیغام جو آپؐ نے دیا وہ یہی تھا کہ مجھے مشرکانہ مقام نہ دینا
٭… خدا کرے کہ مسلمان دنیا کو اب بھی سمجھ آجائے کہ کس طرف یہ لوگ جارہے ہیں اور ان کا ایک ہونا بہت ضروری ہے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۷؍مارچ ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۷؍امان ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۲۷؍مارچ ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
آنحضرت ﷺ کی سیرت کے حوالےسے توحید کا ذکر
ہورہا تھا، فتح مکہ کے وقت بتوں کوگرانے کی تفصیل گذشتہ خطبات میں بیان ہوچکی ہے۔ یہ سب کچھ آپؐ نے توحیدکے اعلان کے طور پر کیا تھا، یعنی جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو، اُن کا تو یہ حال ہے۔ اہلِ طائف کے بُت لات کے متعلق ایک روایت یوں ملتی ہے کہ یہ درخواست کی تھی کہ لات بُت کو تین سال تک نہ توڑا جائے۔آپؐ کی غیرتِ توحید نے یہ مداہنت قبول نہ فرمائی۔ اہلِ طائف نے ایک سال اور پھر ایک ماہ تک اس بُت کو منہدم نہ کیے جانے کی سفارش کی مگر آپؐ نے اس درخواست کو بھی قبول نہ کیا اور اس بت کو گروا دیا۔
نبی پاکﷺنے توحید کے قیام کےلیے مشرکینِ مکّہ جیسی طاقتور قوم کا مقابلہ کیا اور آخرکارخانہ کعبہ کو تین سَو ساٹھ بتوں سے پاک کردیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپؐ نے اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں بھی توحید قائم کرنے کے لیے ایک عظیم بابرکت جہاد فرمایا اور اپنی قوتِ قدسیہ کے طفیل توحید سے پیار کرنے والی ایک جماعت قائم فرمادی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کی اتنے لطیف اور عمدہ انداز میں تربیت فرمائی کہ شرک کا شائبہ بھی کسی کی سوچ میں پیدا نہ ہونے پائے۔
حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کو منبر پریہ کہتے ہوئے سنا کہ مَیں نے
نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسے نصاریٰ نے مسیح کی تعریف میں مبالغہ کیا تھا۔ مَیں تو صرف خدا کا بندہ ہوں۔ پس تم کہو کہ خدا کا بندہ اور اس کا رسول۔
ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمہیں منع فرماتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسمیں کھاؤ۔ جس نے بھی قَسم کھانی ہو تو وہ اللہ کی قَسم کھائے یا خاموش رہے۔
آپؐ کو یہ برداشت نہیں تھا کہ خدا کی توحید کے سامنے کسی بھی چیز کو ہلکا سا بھی رکھا جائے۔
نبیﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ! جنّت اور جہنم واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں۔
آپؐ نے فرمایا کہ جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کا شریک کسی کو نہیں ٹھہراتا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص فوت ہوا جبکہ وہ اللہ کا شریک بناتا تھا وہ آگ میں داخل ہوگا۔
پھر
آنحضورﷺنے فرمایا کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے یعنی ریاکاری (دکھاوا)۔
قیامت کے دن جب لوگوں کو اُن کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اُن (ریاکاروں) سے فرمائے گا کہ ان کے پاس جاؤ جن لوگوں کے لیے تم دنیا میں دکھاوا کرتے تھے۔ انہی کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا تمہیں اُن کے پاس کوئی بدلہ ملتا ہے۔
آنحضورﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابنِ آدم نے مجھے جھٹلایا اور اُس کے لیے مناسب نہیں تھا اور اس نے مجھے گالی دی اور یہ اس کے لیے مناسب نہیں تھا۔ جو اُس کا جھٹلانا ہے وہ اس کا یہ کہنا ہے کہ مَیں اسے ہرگز دوبارہ پیدا نہیں کروں گا جس طرح اسے میں نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور جو اُس کا گالی دینا ہے وہ اُس کا یہ کہنا ہے کہ مَیں نے بیٹا بنالیا ہے حالانکہ مَیں بےنیاز ہوں۔
سورہ اخلاص کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعودؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ‘اللّٰہ الصمد’ اللہ وہ ہستی ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہیے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر ایک قسم کی شراکت سے وجودِ حضرتِ باری کا منزہ ہونا بیان فرمایا ہے۔
آنحضورﷺنے سورہ اخلاص کو ثلث القرآن قرار دیا ہے
یعنی قرآن کا تیسرا حصّہ۔ حضرت مصلح موعودؓ اس حوالےسے فرماتے ہیں کہ
اس سے مراد یہ ہے کہ اس (سورہ اخلاص) کا مضمون خاص اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری دَور میں دو بڑے فتنے پیدا ہونے تھے ایک دجالی فتنہ اور دوسرا یاجوج ماجوج۔
ان دونوں فتنوں نے یکے بعد دیگرے اسلام سے ٹکر لینی تھی۔ ایک فتنہ خدائے واحد کی بجائےتین خداؤں کا عقیدہ لیے ہوئے ہے یعنی خدا باپ، خدا بیٹا اور خدا روح القدس۔ دوسرا فتنہ دہریت کا ہے یعنی وہ سرے سے خدا کا منکر ہے۔ قرآن کریم نے ان ہردو فتنوں کے عقائد کی تردید کی ہے۔ قرآن کریم نے صرف خدا باپ (یعنی خدائے واحد) کی خدائی کو قائم کیا ہے اور خدا بیٹے اور روح القدس کی سختی سے نفی اور تردید کی ہے۔ گویاقرآن کریم نے تین خداؤں میں سے صرف ایک خدا یعنی خدائے واحد و یگانہ کی حقیقی خدائی کا قیام فرما یا ہے اور یہ صاف بات ہے کہ چونکہ خدا باپ کی تائید قرآن کریم کا تیسرا حصہ ہے اس لیے یہ سورہ اخلاص قرآن کریم کا تیسرا حصّہ بنتی ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعے سے ہی مل سکتی ہے۔ جیسا کہ ہمارےنبیﷺنے عرب کے دہریوں اور بدمذہبوں کو ہزارہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کرلیا۔
آج اس زمانے میں یاجوج ماجوج اور دجال تو ایک طرف خود مسلمانوں کے اندر بھی اصل حقیقی توحید کا ادراک نہیں رہا۔ پس اس زمانے میں آنحضورﷺ کے غلام نےمسیح موعود اور مہدی موعود نے آنا تھا اور وہ آیا اور اُس نے توحید کے خلاف ہرحملے کا مقابلہ کیا۔ پس حقیقی بیعت کا حق ہم تب ہی ادا کرسکتے ہیں جب ہم حقیقی توحید کو ماننے والے ہوں۔
توحید کے اعلیٰ مقام کے متعلق ایک دفعہ آپؐ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ نے خدا سے عرض کیا کہ اے خدا! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دے جس سے مَیں تیرا ذکر بھی کروں اور تجھ سے دعا بھی کروں۔ خدا نے کہا کہ اے موسیٰ! کہو لا الہ الا اللّٰہ۔ حضرت موسیٰ نے کہا کہ اے خدا تیرے سب بندے یہی کہتے ہیں۔ خدا نے یہی کلمہ کہنے کا دوبارہ ارشاد فرمایا۔ حضرت موسیٰ کے اصرار پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ! اگرمیرے سوا دنیا کی سب چیزیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور دوسرے پلڑے میں لا الہ الا اللّٰہکو رکھا جائے تو لا الہ الا اللّٰہ سب چیزوں پر بھاری ہوجائے گا۔
حضرت مسیح موعودؑ ایک جگہ فرماتے ہیں حضرت مقدس نبوی ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ کلمہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کہنے سے گناہ دُور ہوجاتے ہیں۔ یہ بالکل سچ ہےاور یہی واقعی حقیقت ہے کہ جو محض خدا کو واحد لاشریک جانتا ہے اور ایمان لاتا ہے کہ محمد مصطفیٰﷺ کو اسی قادر و یکتا نے بھیجا ہے تو بے شک اگر اسی کلمہ پر اُس کا خاتمہ ہو تو وہ نجات پا جائے گا۔
ایک موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا جس نے کہا کہ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسِوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ اس کا بندہ اور اس کی بندی کا بیٹا ہے اور اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی طرف سے ایک روح ہے اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے ۔ اللہ اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا داخل کرے گا۔
حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ رسول کریمﷺ کی شان خواہ کتنی ہی بلند ہو اور آپؐ سے ہمیں کتنی ہی محبت ہو۔ اللہ تعالیٰ کی شان بہرحال آپؐ کی شان سے بہت بالا ہے۔ خدا تعالیٰ ازلی ابدی ہے اور محمدرسول اللہﷺاس کے فیضانوں میں سے ایک بہت بڑا فیضان ہیں اور یہ آپؐ کی ذات سے دشمنی ہوگی کہ ہم آپؐ کو کوئی ایسا مقام دے دیں جس کے دینے سے خدا تعالیٰ کا مقام چھنتا ہو۔
آنحضورﷺ کو توحیدکے قیام کا اس قدر خیال تھا کہ جان کنی کی حالت میں بھی باربار آپؐ کے منہ سے یہ کلمات نکلتے تھے کہ خدا یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ آپؐ باربار یہی فرماتے تھے۔ گویا
قوم کو آخری نصیحت اور آخری پیغام جو آپؐ نے دیا وہ یہی تھا کہ مجھے مشرکانہ مقام نہ دینا۔
حضورِانور نے فرمایا کہ اس بات کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ ہم توحید کی حقیقت کا ادراک پیدا کرکے آنحضرتﷺ کے توحید کے قیام کے لیے درد کو سمجھ کر اس کے لیے پوری کوشش کرکے حقیقی موحد بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خطبے کے اختتام پر حضورِانور نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کےخلاف جاری جنگ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنگ کے حالات بدترین سے بدترین ہوتےجارہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل اس کوشش میں ہیں کہ ان کی اجارہ داری ساری دنیا اور بالخصوص مسلمان دنیا پرقائم ہوجائے۔ یہ دنیا کا نقشہ بدلنے کی کوششیں ہیں۔
خدا کرے کہ مسلمان دنیا کو اب بھی سمجھ آجائے کہ کس طرف یہ لوگ جارہے ہیں اور ان کا ایک ہونا بہت ضروری ہے۔
سنا ہے پاکستان، ایران اور ان ملکوں امریکہ وغیرہ کی صلح کی کوششیں کر رہا ہے۔ نقصان تو بیچ میں عرب ملکوں کا بھی ہورہا ہے۔ پاکستان اس لحاظ سے کوشش کر رہا ہے۔ اس پر بھی ایران کے بعض حلقوں کو بدظنّی ہوگئی ہے کہ یہ بھی غلط ہے اور ایران کے تجزیہ نگاروں میں یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ پاکستان ایران کی سرحد کے ساتھ اپنے علاقے میں امریکی فوجوں کی مدد کر رہا ہے، ان کی یا ایسی قوتوں کی تربیت کر رہا ہے جو ایران کے خلاف جنگ کریں۔ حضورِانور نےفرمایا کہ یہ بالکل غلط بات ہے۔ پاکستان نے اس کی نفی کی ہے ۔ دشمن ان حالات سے فائدہ اٹھا کر بےچینی پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ مسلمان ممالک کبھی ایک دوسرے کے مددگار نہ بن سکیں۔ اس لیے
بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس لحاظ سے بھی دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلامی ملکوں کو وحدت کی لڑی میں پروئے جانے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭




