خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۸؍نومبر ۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق مالی قربانیوں میں بہت بڑھ چڑھ کر اپنے آپ کو پیش کرنے والی ہے۔ جماعت کے مختلف چندے ہیں۔چندہ عام، چندہ وصیت وغیرہ لازمی چندہ جات ہیں۔ پھر تحریکِ جدید اور وقفِ جدید کی تحریکات ہیں۔ ہر جگہ جہاں بھی ضرورت پڑے۔جماعت احمدیہ کے افراد اخلاص و وفا کے ساتھ بڑھ چڑھ کرمالی قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں۔۔۔ آج کے دن جیسا کہ ہمیں پتہ ہے تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان ہوتا ہے۔آج میں اعلان کروں گا اور پہلے ہفتہ میں ہوتا ہے کیونکہ پہلا جمعہ یکم کو تھا اس لیے آج دوسرے جمعہ کر رہا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ آج بحیثیت جماعت دنیا میں صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جس کے افراد یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّھَارِ کے حقیقی مصداق بن رہے ہیں۔ عملی طور پر دن اور رات قربانی کر رہے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہاچوبیس گھنٹے یہ قربانی کا سلسلہ جاری ہے۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت احمدیہ میں مالی قربانی کرنے والوں اور ان کے قربانی کے طریق کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: یہ زمانہ جبکہ دنیا، دنیا کی لذتیں تلاش کرنے میں ڈوبی ہوئی ہے اور مال جمع کرنے میں ڈوبی ہوئی ہے احمدی ہیں جو مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو چھپ کر قربانیاں کرتے ہیں اور یہ اظہار کرتے ہیں کہ ان کی قربانیاں پتہ نہ لگیں۔ جماعت احمدیہ میں اکثریت تو کم آمدنی والوں کی ہے اور اوسط درجےکے کمانے والوں پر مشتمل ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا غیرمعمولی قربانیاں دینے والے بھی لوگ ہیں اور کبھی اس بات کا اظہار نہیں کرتے کہ جماعت نے اتنی تحریکات شروع کی ہوئی ہیں، ہماری آمدنی محدود ہےکہاں سے دیں بلکہ ایک دلی جوش اور جذبہ سے یہ قربانیاں دیتے ہیں۔ مجھے پتہ ہے بعض لوگ ایسے ہیں جو بہت بڑی قربانی کرکے بھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنا پیٹ کاٹ کر، اپنی خوراک کم کر کے، اپنے بچوں کے اخراجات کم کر کے یہ قربانیاں دیتے ہیں اور ان کو کبھی خیال نہیں آیا یا انہوں نے کبھی یہ اظہار نہیں کیا کہ ہماری یہ قربانیاں ہیں اور ہم پر کیوں اتنا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ہمیں بھی فلاں مقصد کے لیے ضرورت ہے۔ تو اب جبکہ ہمیں ضرورت ہے تو جماعت ہماری مدد کرے۔ کبھی کسی قسم کا احسان نہیں ہوتا۔ ضرورت بھی ہو تو انتہائی جھجک اور عاجزی کے ساتھ اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور وہ بھی قرضہ کی صورت میں۔پھر بعض لوگوں نے قربانیاں کرنے کے لیے یہ طریق بھی اختیار کیا ہوا ہے کہ مالی قربانیوں کے لیے ایک ڈبہ بنا لیتے ہیں جس میں ہر سال یا ہر وقت جو بھی آمد ہو جب بھی جہاں سے کوئی پیسے آتے ہیں اس میں ڈالتے رہتے ہیں اور اس طرح سال کے آخر میں جمع کر لیتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود ؓنے جب تحریکِ جدید کی تحریک جاری فرمائی تو آپؓ نے سادہ زندگی کا مطالبہ کیا تھا اور آپؓ نے فرمایا تھا کہ سادہ زندگی کر کے اپنے پیسے جوڑو اور اس کے حساب سے خرچ کرو اور اس کے نتیجہ میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود سادہ سے سادہ زندگی گزارتے ہیں اور بڑی بڑی رقمیں دیتے ہیں۔ بظاہر ان کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اتنی بڑی رقم نہیں دے سکتے لیکن ہزاروں ڈالروں یا ہزاروں پاؤنڈوں میں یا ہزاروں یورو میں قربانیاں دے رہے ہوتے ہیں۔ اس مادی دنیا میں ان ملکوں میں رہ کر اتنی قربانی کرنا بہت بڑی بات ہے اور جو غریب ممالک ہیں، پاکستان ہے، ہندوستان ہے یا افریقہ کے ممالک ہیں وہاں تو احمدیوں کے ذرائع بہت کم ہیں اور بڑی مشکل سے لوگوں کے گزارے ہوتے ہیں پھر بھی قربانیاں دیتے چلے جا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے چھپ کر بھی اور ظاہری طور پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے اور ہر وقت اسی فکر میں رہتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا ایک جگہ کہ
’’اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب
کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب ‘‘
پس یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقی مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہیں جب کوئی بھی تحریک کی جائے یا جب تحریکِ جدید اور وقفِ جدید کا اعلان ہوتا ہے تو قرض لے کر بھی رقم ادا کر دیتے ہیں حالانکہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ قرض لے کر ادا کریں۔ اور کوئی خوف نہیں ان کو ہوتا۔ ان کو پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہی پورا بھی کر دے گا۔پس جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نےبہت بڑے بڑے قربانی کرنے والے عطا فرمائے ہوئے ہیں۔ غیروں کی طرح یہ نہیں ہے کہ پانچ دس روپے دے کر پھر سو دفعہ مسجد میں اعلان کروائیں۔ ایسے بہت سے واقعات میرے سامنے آتے ہیں جہاں لوگ بڑھ چڑھ کر قربانیاں دینے کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ اس میں افریقہ کے ممالک بھی شامل ہیں۔ یورپ کے ممالک بھی شامل ہیں۔ ایشیا کے ممالک بھی شامل ہیں۔غریب لوگ تو بہت بڑی قربانی کر کے چندے دیتے ہیں۔ گو ان کی قربانیاں بظاہر مالی لحاظ سے، رقم کے لحاظ سے بہت چھوٹی ہوتی ہیں لیکن وزن کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت بڑی قربانیاں ہیں۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قازاقستان کے ایک دوست زادانوف صاحب کی مالی قربانی کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: قازاقستان سے ایک صاحب ہیں زادانوف صاحب ہمیشہ بڑے جوش و خروش سے چندہ میں حصہ لیتے ہیں۔ سابق فوجی ہیں۔ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ پنشن ملتی ہے لیکن جب بھی پنشن ملتی ہے فوراً مرکز میں آ کر چندے ادا کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے چندوں سے اتنی برکت دی ہے کہ میرے کام جو رُکے ہوتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کروا دیتا ہے۔ یہ ان کی ایمان کی حالت ہے۔ کہتے ہیں میں نے ایک تجارتی عمارت کی تعمیر شروع کی جو تجارتی مرکز کے لیے تھی۔ میرے پاس جو جمع پونجی تھی سب اس میں لگا دی۔ پیسے ختم ہو گئے، وہ کام مکمل نہیں ہوا۔ میرا ایک اپارٹمنٹ تھا میں نے سوچا کہ اس کو بیچ کریہ پیسے یہاں لگا دیتا ہوں او ریہ کام پورا کر لوں۔ اب اپارٹمنٹ خریدنے کے لیے کوئی گاہک نہیں مل رہا تھا۔ بڑی ناامیدی کی صورتحال تھی۔ جو کچھ رقم آخری تھی وہ بھی ختم ہو رہی تھی۔ کہتے ہیں میں دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی طرح برکت ڈالے اور میری یہ رقم مل جائے، پوری ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا گاہک بھیجا جس نے میرا اپارٹمنٹ خرید لیا اور اس سے جو مجھے آمد ہوئی وہ پھرمیں نے اس تعمیر میں لگا دی۔ کہتے ہیں اب اپارٹمنٹ میں نے بیچ دیا، اب مسئلہ یہ تھا کہ میں نے رہنے کے لیے نیا گھر تلاش کرنا تھا وہ کس طرح کروں۔ لیکن وہی فرشتہ جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اس نے کہا آپ فکر نہ کریں مجھے اتنی جلدی گھر کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ایک سال تک بیشک اس گھر میں رہیں۔ اس طرح کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری رہائش کی ضرورت بھی پوری کر دی اور میری تعمیر کا کام بھی پورا ہو گیا اور یہ سب کچھ میں سمجھتا ہوں کہ چندوں کی برکات اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کا نتیجہ ہے۔
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جارجیا کے ایک طالب علم کی مالی قربانی کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: جارجیا یورپ کا ایک ملک ہے۔ میڈیکل کے ایک طالبعلم ہیں۔ کہتے ہیں ہماری جماعت کی میٹنگ ہوئی۔ صدر جماعت نے ایک سٹوڈنٹ کا ذکر کیا جس نے تحریکِ جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کہتے ہیں مجھے احساس ہوا کہ میں پیدائشی احمدی ہوں اور یہ سٹوڈنٹ جس کا ذکر کیا جا رہا ہے اس نے چار سال پہلے بیعت کی ہے اور مالی قربانی میں اتنا آگے نکل گیا ہے۔ مجھے بھی اپنا وعدہ بڑھانا چاہیے، مجھے شرم آئی۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ میں نے وعدہ بڑھا دینے کا ارادہ کیا اور پھرکہتے ہیں کہ وہاں عاملہ میں یہ بھی ذکر ہوا تھا جب صدر صاحب مالی قربانیوں کی تلقین کر رہے تھے کہ حضرت ابوبکر ؓنے کس طرح اپنی قربانی پیش کی تھی۔ سب کچھ پیش کر دیا تھا۔ کہتے ہیں اس مثال کو دیکھ کر میرے دل میں اَور جوش پیدا ہوا اور مجھے خیال آیا کہ مجھے بہرحال وعدہ بڑھانا چاہیے۔ چاہے میری حیثیت ہے کہ نہیں ہے میں قربانی کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ میں نے اتنا وعدہ کردیا کہ مجھے فکر تھی کہ اب ادا کیسے کروں گا؟ اس کے لیے کہتے ہیں میں نے پارٹ ٹائم ٹیکسی شروع کر دی۔ میں سٹوڈنٹ کے ساتھ ساتھ ٹیکسی بھی چلاؤں گا اور اپنا وعدہ پورا کر دوں گا۔ کہتے ہیں اس کے بعد مجھے اس کام میں لطف آنے لگا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے، اس کی خاطر قربانی کرنے کے لیے میں یہ کام کر رہا ہوں۔ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے نہیں کر رہا۔ کہتے ہیں بعض حالات ایسے مجھ پہ آتے تھے کہ پٹرول ڈلوانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے تو میں اپنے والد سے قرض لیتا تھا اور پھر کام کرتا تھا۔ پھر قرض بھی لوٹا دیتا تھا، چندہ بھی ادا کر دیتا تھا اس طرح میں اپنا وعدہ پورا کرتا جا رہا تھا اور کہتے ہیں کہ میں نے آخر وہ وعدہ پورا کر دیا جس کی کوئی امید نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ادائیگی کے سامان پیدا کر دیے۔
سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے کیرالہ ’انڈیا‘ کے ایک دوست کی مالی قربانی کی بابت کیا بیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: قادیان کے وکیل المال لکھتے ہیں کہ کیرالہ کے ایک صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرے بڑے بُرے حالات تھے۔ کوئی کام نہیں مل رہا تھا۔ آخر میں نے سوچا کہ اَور تو کچھ نہیں، کپڑے کا کام شروع کرتا ہوں اور فٹ پاتھ پر ہی ایک میز لگا کر کام شروع کر دیا اور چندے کی ادائیگی باقاعدہ شروع کر دی۔ باقاعدہ حساب کر کے چندہ دیتے تھے۔ جو بھی آمد ہوتی تھی اس میں اللہ کے فضل سے بڑی برکت پڑی اور کہتے ہیں اب میں بڑی بڑی رقمیں چندے میں دیتا ہوں۔ کاروبار بھی دو تین سال میں وسیع ہو گیا۔ جہاں دوسرے لوگوں کے کاروبار متاثر ہو جاتے ہیں حالات کی وجہ سے لیکن ان کے کام میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا رہا اور متاثر نہیں ہوئے۔ یہ ہیں چندہ دینے کی برکات۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بھی کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کام میں برکت ڈال دیتا ہے اور ہم کام کرتے ہیں ہماری برکت اتنی نہیں پڑتی۔ اگر نیک نیت ہو تو اللہ تعالیٰ فائدہ پہنچاتا چلا جاتا ہے۔ پس احمدی کو یہی فائدہ ہے کہ قربانی اللہ تعالیٰ قبول کرتاہے اور ساتھ پھر جو دعائیں ہیں وہ قبول کرتا ہے اور اس کی برکات پھر ظاہر ہوتی ہیں۔تو ان کی بھی یہ قربانی ہے۔ یہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر جو میں نے قربانی کی، چندہ باقاعدگی سے دیتا تھا اس کا نتیجہ ہےکہ میرے کاروبار میں برکت پڑی۔ دوسرے لوگوں کے معاشی حالات بگڑ رہے تھے حالات کی وجہ سے لیکن کہتے ہیں مجھے تو فائدہ ہی ہوتا چلا گیا۔ اب ان کی اپنی بڑی بڑی دکانیں ہیں۔ کہاں فٹ پاتھ پر ایک ٹھیلہ لگایا ہوتا تھا، میز رکھی ہوتی تھی، اَب دکانیں ہیں بڑی بڑی اور شوروم بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب وہ لاکھوں میں چندہ ادا کرتے ہیں۔ اسی سال انہوں نے تحریک جدید میں بھی دس لاکھ روپیہ ادا کیا۔
سوال نمبر۶:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے گنی کناکری کےصدر جماعت کی مالی قربانی کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: گنی کناکریہے وہاں کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ وہاں ایک جگہ کے صدر جماعت عبداللہ کمارا صاحب کہتے ہیں کہ مَیں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد باقاعدگی سے چندہ ادا کرنا شروع کر دیا اور اس سال کہتے ہیں کُل جو ہمارا وعدہ تھا اس میں چالیس ہزار فرانک کی کمی تھی۔ تو جب مقامی معلم وصولی کے بعد واپس جانے لگے تو اس نوٹ کے ساتھ جانے لگے کہ اتنی کمی ہے تو کہتے ہیں مجھے بڑی شرمندگی ہوئی۔ میں اپنے گھر آیا تو میں نے جو اپنے اخراجات کے لیے رقم رکھی ہوئی تھی وہ ادا کر دی۔ کہتے ہیں کہ اگلے دن ہی مجھے اللہ تعالیٰ نے اس طرح return کیا کہ ایک شخص کا مجھے فون آیا۔ اس نے بتایا کہ فلاں وقت میں نے تم سے کام کروایا تھا اور میں اجرت دیے بغیر چلا گیا تھااور میں بڑی معذرت چاہتا ہوں اس کے لیے۔ اب مجھے بتاؤ کہ تم کیا چاہتے ہو؟ کیا لینا ہے؟ کہتے ہیں میں نے اس سے کہا کہ اس وقت تم نے جواجرت نہیں دی تھی اتنے سالوں کے بعد تو پھر اب یہ ہے کہ میں نے ایک موٹر سائیکل خریدنی ہے اور گھر کی تعمیر کروا رہا ہوں اس کو مکمل کروانا ہے اس کے لیے مجھے رقم چاہیے۔ اس نے مجھے فوری طور پر ادا کر دیے کہ یہ تمہاری اجرت ہے حالانکہ کہتے ہیں مجھے پتہ ہے یہ میری اجرت سے بہت بڑھ کر تھا۔ کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس طرح کئی گنا بڑھ کر مجھے اپنے فضل سےنوازا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ چندے کی برکت ہے۔
مزید پڑھیں: وقفِ عارضی کی اہمیت و برکات




