ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۱)
آثارِ قدیمہ
ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ
’’اگر آپ نے قلعہ نہیں دیکھا تو دیکھ لیں؎
آثار پدید است صنادید عجم را‘‘
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۱۷۰ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی مصرع فارسی کےایک شاعر عُرفی شیرازی کے ایک طویل قصیدہ (جو کہ شاعر نے آنحضرت ﷺ کی مدح میں کہا ہے) کےایک شعر کا دوسرا مصرع ہے مکمل شعر مع اعراب واردو ترجمہ کچھ یوں ہے۔
اَزْ نَقْش و نِگَارِ دَرْ و دِیْوَارِشِکَسْتِہْ
آثَارْ پَدِیْد اَسْت صَنَادِیْدِ عَجَمْ رَا
ترجمہ : شکستہ در و دیوار کےنقش ونگار سے رؤسائے عجم کے آثار نمایاں ہیں ۔(اسی کو دیکھ کر کسی شاعر نے خوب مصرع باندھا ہے۔؎کھنڈر بتا رہے ہیں عمارت عظیم تھی)
لغوی بحث: آثَارْ(آثار) پَدِیْد(نمایاں) اَسْت (ہے؍ہیں) صَنَادِیْدِعَجَمْ (رؤسائے عجم) رَا(کو؍کے)
مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۱۰)




