ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۱)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

آثارِ قدیمہ

ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ

’’اگر آپ نے قلعہ نہیں دیکھا تو دیکھ لیں؎

آثار پدید است صنادید عجم را‘‘

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۱۷۰ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)

تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی مصرع فارسی کےایک شاعر عُرفی شیرازی کے ایک طویل قصیدہ (جو کہ شاعر نے آنحضرت ﷺ کی مدح میں کہا ہے) کےایک شعر کا دوسرا مصرع ہے مکمل شعر مع اعراب واردو ترجمہ کچھ یوں ہے۔

اَزْ نَقْش و نِگَارِ دَرْ و دِیْوَارِشِکَسْتِہْ

آثَارْ پَدِیْد اَسْت صَنَادِیْدِ عَجَمْ رَا

ترجمہ : شکستہ در و دیوار کےنقش ونگار سے رؤسائے عجم کے آثار نمایاں ہیں ۔(اسی کو دیکھ کر کسی شاعر نے خوب مصرع باندھا ہے۔؎کھنڈر بتا رہے ہیں عمارت عظیم تھی)

لغوی بحث: آثَارْ(آثار) پَدِیْد(نمایاں) اَسْت (ہے؍ہیں) صَنَادِیْدِعَجَمْ (رؤسائے عجم) رَا(کو؍کے)

مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۱۰)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button