امریکہ (رپورٹس)عالمی خبریں

سرینام میں اسلام احمدیت قسط 3

(لئیق احمد مشاق۔ نمائندہ الفضل انٹر نیشنل سرینام)

 مختصر تاریخ، مبلغین سلسلہ کی مساعی، ملکی اخبارات میں جماعتی خبریں ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا  دورۂ سرینام

 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مورخہ 29 مئی بروز بدھشام تقریباً ساڑھے چار بجے KLM کی فلائٹ سے ہالینڈ سے سرینام پہنچے. یہ وہ یادگار لمحہ تھا جب سرینام کی سر زمین نے پہلی دفعہ خلیفہ وقت کے قدم چومے۔ ائیر پورٹ کے وی آئی پی رُوم میں حضور نے کچھ دیر قیام فرمایا اور پریس کے نمائندوں سے بات کی۔ 30کے قریب افراد جماعت حضور کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ ائیرپورٹ سے حضور سیدھا ہوٹل Torarica تشریف لے گئے جہاں حضور کی رہائش کا انتظام تھا۔ شام ساڑھے سات بجے حضور مرکزی مسجد ناصر میں تشریف لائے اورمغرب وعشاء کی نمازیں پڑھائیں ۔ احباب جماعت کو مصا فحہ کا شرف بخشا اور گفتگو فرمائی، بعدازاں حضور مع قافلہ کھانا تناول فرمانے تشریف لے گئے۔

 حضور رحمہ اللہ کے سرینام قیام کے تمام عرصہ میں حضور کا کھانا تیار کرنے کا شرف محترمہ زینت روشن علی صاحبہ اور ان کی ٹیم کو حاصل ہوا۔

 30 مئی بروز جمعرات 9 بجے دن حضور ایک غیرسرکاری تنظیم کا قائم کردہ سماعت سے محروم بچوں کا Kennedy Stichting نامی سکول دیکھنے تشریف لے گئے۔ حضور نے سکول کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی، تمام کلاس رومز میں تشریف لے گئے اور سکول کے بچوں نے آپ کی شفقت سے حصہ پایا۔حضور نے بچوں کو تحائف دیئے۔ اُس وقت اِس کے ڈائریکٹر Mr. Guillaume Cauberg تھے۔ حضور رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مئی 1991ء میں اس سکو ل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:

’’ہم یہاں ایک سکول دیکھنے گئے تھے جو ایک ڈچ نیک دل انسان نے قائم کیا تھا اور اب بڑ ھتے بڑھتے کا فی ترقی کرگیا ہے۔اس میں معذوربچے ہیں جن کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، جن کو اس قابل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ زندگی میں ایک عزت والا مقام حاصل کر سکیں اور کسی کی محتاجی کے بغیر اپنا گزارا کر سکیں ۔یہ بہت نیکی کا کام ہے۔ جو احمدی ہے اس کے اوپر تو ہر دوسرے سے بڑھ کر یہ فرض ہے کہ وہ خدا کا شکر کرنے کے لئے ایسے لوگوں پر احسان کرے گا۔‘‘

(روزنامہ الفضل ربوہ 23 ستمبر1991ء)

 دن کے وقت حضور نے اپنی قیام گاہ پر پریس کے نمائندوں کو ملاقات کا شرف بخشا اور ان کے سوالات کے جواب دیئے۔ حضور نے پہلے اپنا اور جماعت کا تعارف کروایا۔ خلیفہ وقت کی ذمہ داریوں کا ذکر فرمایا اور پھر ان کے سوالات کے جواب عنائیت فرمائے۔خلیج کی جنگ کے بارے میں سوال کے جواب میں حضور نے صلیبی جنگوں کا حوالہ دے کر اس کا تجزیہ فرمایا اور صدام کی ایران کے ساتھ طویل جنگ اور اس دوران امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کی صدام کی حمایت کا ذکر فرمایا۔ ایک سوال کے جواب میں حضور نے اسلام میں عورت کے مقام کی وضاحت فرمائی۔ سیاست اور مذہب کے باہمی تعلق کے ضمن میں حضور نے فرمایا سیاست کو مذہب کا استحصال نہیں کر نا چاہیے اور نہ مذہب کو سیاست کا۔ جماعت کے تعارف کے حوالے سے حضور نے جماعت کے عقائد کی وضاحت کی، تراجم قرآن مجید اور سماجی بہبود کے کاموں کا ذکر فرمایا۔ نیز جنوبی امریکہ میں قائم جماعتوں کے نام گنوائے اور ان علاقوں میں تبلیغی مساعی کا ذکر فرمایا۔حضور نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ بین المذاہب روابط اور اتحادکی حامی ہے اور جماعت احمدیہ کا مطمح نظر حقوق اللہ اور حقوق العباد کا قیام ہے کیونکہ یہ دونوں لازم وملزوم ہیں ۔آپ نے فرمایا اتحاد بین المسلمین کے لئے ہماری کوششیں ابھی بار آور نہیں ہورہیں کیونکہ وہ تو ہمیں امّت سے خارج سمجھتے ہیں ۔

1,Group Foto with Mr.President

حضور کی یہ پریس کانفرنس روزنامہDe Ware Tijd (داوار ٹیڈ) میں 31مئی کو تفصیل سے شائع ہوئی۔

31مئی بروز جمعۃ المبارک دن دس بجے حضورانور سرینام کے صدر Johannes Kraag سے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔ حضور نے ان سے مختلف امور پر گفتگو فرمائی۔ انہیں ڈچ ترجمہ والا قرآن مجید، ’ایک مرد خدا‘، ’مذہب کے نام پر خون‘ اور چند دیگر کتب دیں ۔

3,Discussion with the Minister Johannes Breeveld

A Man of Godکتاب پر حضور نے دستخط فرماکرصدرمملکت کو عطا فرمائی۔

اس کے بعد حضور وزیر داخلہ Johannes Breeveld سے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے اور انہیں بھی مندرجہ بالا کتب عطا فرمائیں اور "A Man of God” پر اپنے دستخط بھی کئے۔

 نماز جمعہ پڑھانے کیلئے حضور انور مسجد ناصر تشریف لائے۔ حضور نے خطبہ میں سورہ النمل کی آیت 60کی تشریح فرمائی اور شکر نعمت کے طریق سمجھائے۔ مقامی جماعت کو مخا طب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:’’ آپ کے ہاں سرینام میں مجھے تربیت کے لحاظ سے بہت سے خطرات دکھائی دئے ہیں ۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں افریقن مزاج جو ناچ گا نے اور کھلے معاشقے اور شراب نوشی کا مزاج ہے، کثرت کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ اور یہ معاشرہ غالب آرہا ہے۔یہاں بے پردگی صرف بے پردگی نہیں بلکہ اس سے زیادہ بے حیائی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہاں فیشن ایسے ہیں جو کھلم کھلا عورت کی ایسی نمائش کرنے والے ہیں جن سے انسان کی طبیعت پر بوجھ پڑتا ہے۔ ایسی جگہ پر رہتے ہوئے احمدی ماں باپ کو اپنی بچیوں کی فکر کرنی چاہیے۔ اپنی نوجوان نسلوں کی فکر کرنی چاہیے۔اور ایسے آزاد معاشرے میں جب تک شروع سے ان کی صحیح تربیت نہیں کریں گے اس وقت تک ان کے اخلاق کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ کچھ دیر تک یہ آپ کے بچے رہیں گے پھر یہ معاشرے کے بچے بن جائیں گے۔ پھر یہ اس قوم کے بچے بن جائیں گے … سرینام کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ خداتعالیٰ کے بھیجے ہوئے کسی بندے کا خلیفہ براہ راست آج آپ سے جمعہ کے دن مخاطب ہے اور یہ جوتاریخی واقعہ ہے یہ ایک ہی دفعہ ہوناتھا اور ایک ہی دفعہ ہوچکا۔ اب یہ دہرایانہیں جاسکتا۔ خلفاء انشااللہ آئندہ بھی آئیں گے، تقریریں بھی کریں گے، خطبے بھی دیں گے،مگر پہلی دفعہ پہلی دفعہ ہی رہتی ہے۔ دہرانے سے وہ دوسری پہلی مرتبہ تو نہیں ہوسکتی۔

میں نے یہاں آکر دیکھا ہے کہ سرینام کی جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص کا مادہ ہے۔یہاں اخلاص کی کان ہے،لیکن اگر کانوں کو کھودا نہ جائے، ان سے قیمتی جواہر نکالے نہ جائیں تو کیا فائدہ ؟وہ مٹی میں ملی رہتی ہیں ۔ آپ لوگوں کے اندر خدا نے اخلاص کا وہ مادہ عطا کیا ہے کہ اگر مبلغ یا مربی اور آپ کے عہدیداراس اخلاص کی کان سے فائدہ اٹھائیں اور ان جواہر کو باہر نکالیں تو آپ کے فیض سے سارا علاقہ اللہ کے فضل کے ساتھ اسلام اور احمدیت کے نور سے بھر سکتا ہے۔اللہ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘

 (روزنامہ الفضل ربوہ 23 ستمبر1991ء)

یکم جون بروز ہفتہ پروگرام کا آغار معذور بچوں کے ایک مرکزکے دورے سے ہوا۔ اس سنٹر کا نام Betheljada ہے اور اُس وقت اس کی ڈائریکٹر Mrs Annie Bisschop تھیں ۔ انہوں نے اپنے دفتر میں حضور انور کا استقبال کیا اور ملاقات کا شرف حاصل کیا اور اپنے سنٹر کا دورہ کروایا اور بچوں کو مہیا کی جانے والی سہولتوں کے بارے میں بتایا۔

آج کے دن کا دوسرا پروگرام لاہوری جماعت کے زیر انتظام چلنے والے یتیم خانہ S.I.V.Kinder Huis کے دورے کا تھا۔نیز ان کی مجلس عاملہ کو بھی ملاقات کی دعوت دی گئی تھی جس سے انہوں نے تحریری طور پر معذرت کر لی تھی۔ حضور ان کے یتیم خانہ میں تشریف لے گئے جہاں ان کی جماعت کے صدر مسٹر رشید پیر خان صاحب اور اِس مرکز کے نگران ڈاکٹر خلیل غفور خانصاحب نے حضورانور کا استقبال کیا اور حضور انور نے ان سے مختلف امور پر گفتگو فرمائی۔ حضور نے بچوں کے کمروں کا دورہ کیا اور ان کو دی جانے والی سہولتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں ۔ حضور نے اس مرکز کے لئے کھانا پکانے کے کچھ برتن اور اشیاء خورو نوش تحفۃً دیں ۔حضور کی عظیم شخصیت سے متأثر ہو کر لاہوری جماعت کے صدر نے حضور سے نہائت ادب سے بات کی اور حضور کو اپنی مسجد دیکھنے کی دعوت بھی دی جسے حضور نے از راہ شفقت قبول فرمایا۔اور مورخہ 3جون کو ان کی مسجد دیکھنے تشریف لے گئے۔

6,Meeting with Secretary Inter Religious Council,Mr. Nico Waagmeester,1-6-91

 سہ پہر کے وقت حضور انور نے اپنی رہائشگاہ پر ملک کے نامور صحافی، بین المذاہب کونسل سرینام کے سیکرٹری اور صدر جماعت کے دیرینہ دوست مسٹر نیکو واخ میسٹر (Mr.Nico Waagmeester) کو تفصیلی انٹر ویو کا موقع عنایت فرمایا جس میں انہوں نے اسلام، عیسائیت، مسیح کی آمد ثانی اور جہاد کے بارے میں حضور سے سوالات کئے۔حضور انورنے ان کے تفصیلی اور مدلّل جواب عطا فرمائے۔

نماز مغرب اور عشاء کے بعد مسجد ناصر میں ایک جلسہ کا اہتمام کیا گیا تھا جس سے حضور نے انگریزی میں خطاب فرمایا، اور متذکرہ بالا غیر از جماعت صحافی نیکو واخ میسٹر (Mr.Nico Waagmeester) کو اس خطاب کا ڈچ ترجمہ کرنے کی سعادت ملی۔ اپنے پرمعارف خطاب میں حضور نے فرمایا: ’’مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں نے آپس میں ایک دوسرے پر شدید مظالم کئے ہیں ۔ عیسائیوں نے عیسائیوں پر اور ہندوئوں نے ہندوئوں پر۔ انڈیا میں نیچ ذات کے ہندو کا اگر کوئی تبلیغ کے ذریعہ مذہب بدلنے کی کوشش کرے تو اونچی ذات کے ہندو بہت سخت ردّ عمل دکھاتے ہیں کیونکہ وہ ان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور برداشت نہیں کرسکتے کہ کوئی باہر سے آکر ان کی عوام پر قبضہ کرے۔لیکن انسان آزاد ہے اپنی سوچ میں ، اپنے دین کے اختیار کرنے میں ۔ انسان مذہب کو یہ سوچ کر اختیار کرتا ہے کہ اسے خدا تک لے جائے گا… میرا آپ کو یہ پیغام ہے کہ انسانی شرف کو زندہ کرنے اور انسانیت کی آزادی کے لئے کام کریں اور دوسری نصیحت یہ ہے کہ روزمرہ زندگی میں اخلاقی اقدار کو زندہ کریں ۔ یہ معاشرے میں سکون قائم کرنے کے لئے بہت ضروری ہے اس کے بغیر امن کی کوئی ضمانت نہیں ‘‘۔ اس جلسہ میں تقریبا دو سو افراد شامل ہوئے۔ جن میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی تھے۔

2جون بروز اتوار صبح حضور انور ایک ریڈیو سٹیشن پر تقریر کرنے کے لئے تشریف لے گئے جس کا نام ’’ریڈیو راپار ‘‘ہے اور یہ لاہوری جماعت کے صدر رشید پیر خان صاحب کی ملکیت ہے۔اس خطاب کے لئے 30منٹ کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔حضور نے نہایت اچھوتے انداز میں اسلام اور احمدیت کا تعارف پیش فرمایا اور قادیا نی اور لاہوری گروپ کے فرق کو واضح فرمایا۔ تقریر ابھی جاری تھی کہ مقررہ وقت ختم ہونے کے قریب آ گیا تو انتظامیہ نے 10منٹ مزید بڑھا دیئے اور حضو ر نے مسلسل 40 منٹ تک لائیو خطاب فرما کر سرینام کے لوگوں تک حق کا پیغام پہنچایا۔

آج کے دن کا دوسرا پروگرام جماعت کے حلقہ فوروبوئیتی میں تھا۔اس پروگرام کے لئے حضور اس جگہ تشریف لے گئے۔ یہاں لاہوری جماعت کے افراد کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی موجود تھے۔ حضورانور نے لوگوں کے سوالات کے تسلی بخش جواب دیئے۔ سوالات کا تعلق ختم نبوّ ت، فیضان ختم نبوّت اور قدرت ثانیہ سے تھا۔اس تقریب میں ایک سو کے قریب افراد شامل ہوئے۔

اس کے بعد حضور لجنہ کے پروگرام میں رونق افروز ہونے کے لئے مسجد ناصر تشریف لے آئے۔حضور نے لجنہ کی تجنیداور دیگر امور کا جائزہ لیا۔ لجنہ سے خطاب فرماتے ہوئے حضور نے فرمایا: ’’اسلام عورت کو وقار عطا کرتا ہے اور عورت کا کام قوم کی تعمیر ہے، ناچ گانا نہیں ۔ بے پردگی اور بے حیائی سے گھروں کا سکون ختم ہوتا ہے۔ اور مردوں کے دل اپنے گھروں سے ہٹ کر دوسروں کے گھروں کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ اس لئے بازاروں میں سمٹ کر اور حیا کے ساتھ جایا کریں‘‘۔

لجنہ کو ان کی ذمّہ داریوں کی طرف توجّہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا :’’لجنہ کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ محبت سے بچوں کی تربیت کریں ۔ تلاوت قرآن مجید کی طرف توجہ دیں اور ترنّم سے قرآن مجید پڑھنے کی کوشش کریں ۔ نماز اور اس کا ترجمہ سیکھنے کی کوشش کریں ‘‘۔ آخرمیں حضور نے خواتین کے چند سوالوں کے جواب بھی عنایت فرمائے۔

 سہ پہر کا وقت فیملی ملاقاتوں کے لئے مخصوص تھا۔ اس دوران 19 فیملیز کے تقریباً90افراد نے حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔

رات کے کھانے پہ گورنمنٹ کے چیف پروٹوکول آفیسر Missier) (Mr. Ramdath، قرآن مجید کی منتخب آیات کا سرانان ٹونگو زبا ن میں ترجمہ کرنے والے سرینامی دوست Mr.Edgar Van Der Hillst اور پولیس کے ایک اعلیٰ آفیسر نے حضور سے ملاقات کی اور حضور کے ساتھ عشائیہ میں شامل ہوئے۔

 3 جون بروز پیر صبح حضور انور ایک مقامی ٹی وی چینل (Surinaamse Televisie Stichting) STVS پرپروگرام ریکارڈ کروانے کیلئے تشریف لے گئے اور 30 منٹ کا پروگرام اردو میں ریکارڈ کروایا۔ یہ ریکارڈنگ مورخہ چار جون کی شام کو ٹی وی پر نشر ہوئی۔

دن 10بجے کے قریب حضور مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت فرمانے کے لئے تشریف لائے۔ اُس وقت مجلس عاملہ کے صرف پانچ ممبران تھے۔ حضور نے فرمایا اگر جماعت چھوٹی ہو تو ایک شخص ایک سے زائد عہدے رکھ سکتا ہے۔ حضور نے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا اور کام کاطریقہ سمجھایا۔

7,Kindness to the Children of Jamaat

3 جون کو حضور حسب وعدہ لاہوری جماعت کی مرکزی مسجد دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے۔ ان کی جماعت کے صدر اور امام نے حضور کا استقبال کیا اور مسجد کے مختلف حصے دکھائے۔ اس موقعہ پر حضور نے فرمایا یہ ساری دنیا میں اہل پیغام کی سب سے بڑی مسجد ہے جبکہ خدا کے فضل سے ہماری جماعت کے پاس ایسی اور اس سے بڑی بیسیوں مساجد ہیں ۔

 اس روز حضور انور سرینام کی بین المذاہب کونسل (Inter Religieus Counsil Suriname) سے خطاب کے لئے تشریف لے گئے۔ کونسل کے صدر ڈاکٹر اسحق جمال الدین صاحب نے حضور کو خوش آمدید کہا اور خطاب کی دعوت دی۔ حضور نے سیاست اور شریعت کے باہمی تعلق کے حوالے سے نہایت پُر مغز اور مدلّل خطاب فرمایا۔ حضورنے فرمایا کہ:’’ عام اور عملی زندگی میں جو شخص مذہب کی تعلیم پر سچّے طور پر عمل نہیں کر رہا اس پر شرعی قانون لاگو ہو ہی نہیں سکتا۔ شریعت،اسلام اور مسلمانوں کا قانون ہے لیکن سیاسی حکومت کیسے اسے نافذکرسکتی ہے۔ اگرمسلمانوں کا حق ہے نافذ کرنے کا توپھر ہر مذہب کو اس کے اکثریتی علاقہ میں اپنا شرعی قانون نافذ کرنے کا حق دیا جائے۔ مگر اس سے بڑے فساد کا خطرہ ہے۔ ہر شہری کو اپنے ملک کا قا نو ن بنانے کا حق ہے،لیکن کسی بھی جگہ ہر ایک کی خواہشات کو پورا نہیں کیا جاسکتا، لیکن شمولیت کا حق بہر حال قائم رہتا ہے۔آجکل کے علماء قرآن مجید کی تشریح اپنے انداز سے کرنے کا حق مانگتے ہیں ‘‘۔

 حضور نے فرمایاکہ تمام مذاہب کا سر چشمہ ایک ہی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ماننے والوں نے اپنی خواہشات کے حساب سے ان میں تبدیلی کر لی ہے۔ جسٹس منیر انکوئری کمیشن کی رپورٹ میں ذکر ہے کہ اسلام کی کسی نے بھی ایسی تعریف نہیں کی جو دوسرے کے لئے قابل قبول ہو۔

حضور نے مزید فرمایا کہ دین اسلام کی شریعت ایک ہی ہے یعنی قرآن مجید لیکن آج کل مختلف فرقوں کے علماء قرآن مجید کی ایک ہی آیت کی مختلف تشریحات کرتے ہیں ۔ مختلف فرقوں کے نزدیک مختلف جرائم کی بالکل مختلف سزائیں ہیں ۔ ایسی حالت میں اگر کوئی اسلامی شریعت نافذ کرے تو وہ کیسے سب مسلمانوں کے لئے قابلِ قبول ہوگی! اس سے دین اسلام ایک تماشا بن جائے گا۔ مسلمانوں کا طرز زندگی آجکل اسلامی تعلیم سے بالکل مختلف ہے۔ سچائی کے لئے کسی شرعی قانون کی ضرورت نہیں ، منافقت میں سچائی پنپ نہیں سکتی۔ ہر ملک کا ایک ماحول ہے ایک پھل دوسرے ماحول اور آب وہوامیں نہیں اُگ سکتا۔ پہلے ماحول بنائے جاتے ہیں پھرقانون نافذ کئے جاتے ہیں ۔ جب تک اکثریت گندی ہوگی اقلیت ہمیشہ مشکلات برداشت کرے گی۔

 نیز حضور نے فرمایا کہ اسلامی شریعت کسی پر ٹھونسی نہیں جا سکتی۔ یہ بات اپنی ذات میں قرآنی حکم کے خلاف ہے۔ دین میں جبر نہیں ۔ بانی اسلام کو تنہا شریعت ٹھونسنے کا حق تھا کیونکہ آپ کامل نمونہ تھے۔ مگر خدا نے آپ کو یہ حق نہ دیا۔ مذہب ملکی قانون کا حصہ بنے بغیر بھی قابل عمل ہے۔ اکثر انبیاء نے شریعت کو تبدیل نہیں کیا بلکہ شرعی قانون کو نافذ کیا اور لوگوں کو عمل کی طرف توجہ دلائی۔ لفظ دین کا مطلب ہے جوسوچ آپ اپنائیں ،طرز زندگی۔ شریعت کا مطلب ہے، ایساقانون جو دین سے تعلق رکھتا ہو۔ حضور نے فرمایا کہ اسلام سیکو لرازم کا مکمل حامی ہے کیونکہ یہ کامل انصاف کے قیام کاحکم دیتا ہے۔ مدینہ منوّرہ میں اسلامی حکومت کا قیام اور میثاق ِ مدینہ اس کی زندہ مثال ہیں ‘‘۔

حضور نے شرکاء کے مختلف سوالوں کے جواب بھی دیئے۔ یہ ایک بہت کامیاب پروگرام تھا جسے حاضرین نے آخر تک بڑے ذوق و شوق سے سنا۔ اہل پیغا م کے وہ ممبران جو اپنی مجلس عاملہ کے حضور انور سے ملاقات نہ کرنے کے فیصلہ سے بد دل تھے وہ بھی اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ اس پروگرام میں تقریباً 75لوگ شامل ہوئے۔ حضور کا یہ خطاب "Relationship between Religion and Politics in Islam” کے نام سے شائع شدہ ہے۔

اسی روز حضورانور رحمہ اللہ تعالیٰ نے گورنمنٹ کی طرف سے حضور کی سکیورٹی پر معمور افراد سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں ۔

جس وقت حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سرینام تشریف لائے تھے اس وقت جماعت کی مالی حالت اچھی نہ تھی اور مشن کی اپنی گاڑی بھی نہیں تھی۔ حضور کی خدمت کے لئے لا ہوری جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک دوست عبدالمجید جمن بخش صاحب کی بیٹی محترمہ نسیمہ جمن بخش صاحبہ نے اپنی Benzکار پیش کی۔ محترم عبدالمجید جمن بخش صاحب ابتدا میں بیعت کرکے جماعت میں شامل ہوئے تھے لیکن بد قسمتی سے صداقت پر قائم نہ رہ سکے اور دوبارہ اہل پیغام میں شامل ہو گئے۔ حضور کے دورہ کے وقت وہ فالج کی وجہ سے بیمار تھے اور چلنے پھرنے سے قاصر تھے لیکن انہوں نے بار بار شدت سے حضور سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے نیز ان کی گاڑی کا شکریہ ادا کرنے کے لئے حضور ان کے گھر تشریف لے گئے اور کچھ وقت ان کے گھر میں گزارا۔ جتنی دیر حضور اس گھر میں موجود رہے عبدالمجید صاحب فرط جذبات سے آنسو بہاتے رہے۔

4؍جون بروز منگل حضور انور نماز فجر پڑھانے کے لئے ہوٹل سے مسجد ناصر تشریف لائے اور نماز کے بعد افراد جماعت سے الوداعی ملاقات کی اور پھر واپس اپنی رہائشگاہ تشریف لے گئے۔ صبح سات بجے کے قریب حضور انور ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے۔ افراد جماعت کے علاوہ سناتن دھرم سے تعلق رکھنے والے ایک پنڈت بھی حضور کو رخصت کرنے کے لئے ہمراہ تھے۔ متعدد افراد کو جہاز کی سیڑھی تک حضور کی معیت کا شرف حاصل ہوا۔

 نو بجے کے قریب حضور انور کا جہاز گیانا کے لئے روانہ ہوا اور یوں مسیح زماں کے کسی خلیفہ کا یہ پہلا، بابرکت اور یادگار دورہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ کے قیام کے دوران حضور کی گاڑی ڈرائیو کرنے کا شرف محترم فرید جمن بخش صاحب کوحاصل ہوا۔ کچھ وقت کے لئے شیخ عبد الحق جمن بخش اور ہارون جمن بخش صاحب نے بھی یہ سعادت حاصل کی۔

میڈیا میں تذکرہ

 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے اس کامیاب دورے کے دوران چار دفعہ اخبار میں تفصیلی خبریں شائع ہوئیں ۔

 25مئی کو حضور کی بڑی تصویر کے ساتھ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کا مختصر تعارف، آپ کی حیثیت دینی خدمات اور جماعتی عقائد پر مشتمل خبرروز نامہ دا وار ٹیڈ (De Ware Tijd) میں شائع ہوئی، جس کا متن پہلے گزر چکاہے۔

31مئی کو پریس کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ روز نامہ Da Ware Tijd میں شائع ہوئی۔

اسی روز شام کے اخبار De West میں حضور کے دورے اور پریس کانفرنس کی خبر شائع ہوئی۔

یکم جون کو حضور کی بین المذاہب کونسل سے ہونے والی ملاقات کی حوالے سے خبر بھی روزنامہ ’’داوار ٹیڈ‘‘ (De Ware Tijd)میں شائع ہوئی۔

شام کی اخبار (De West)کی خبر کا ترجمہ درج ذیل ہے۔

جماعت احمدیہ کے سپریم لیڈر کا دورہ

جماعت احمدیہ مسلمہ کے امام حضرت خلیفۃ المسیح پانچ روزہ دورے پر بدھ کو سرینام پہنچے۔یہ مذہبی رہنما اپنی جماعت کے ممبران سے ملنے کے علاوہ ملک کے اعلیٰ سرکاری عہدیداران سے بھی ملاقات کریں گے۔آپ سرینامی قوم کے لئے محبت اور امن کا پیغام لے کر آئے ہیں ۔ مرزا طاہر احمد کے بقول مسلمانوں میں اس وقت 73فرقے ہیں ،ہر فرقہ قرآن مجید کی من پسند تشریح کرتا ہے جو کسی بھی طرح درست نہیں ۔اور نہ یہ بات سچائی پر مبنی ہو سکتی ہے۔قرآن مجید سچی کتاب ہے اور اس کی حقیقی تفسیر وہی ہو سکتی ہے جو اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو۔ ہر رسول اور نبی کا کام توحید کا قیام اور اس کا پر چار تھا۔ اللہ تعالیٰ نے وقت کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن کو ترقی دی ہے اور زمانے کی ضرورت کے مطابق شریعت نازل فرمائی۔ ہر نبی کی تعلیم کا خلاصہ ایک ہی ہے۔بعد میں اس کی قوم کے افراد ذاتی مفاد کی وجہ سے فرقوں میں بٹ گئے۔یہ خلیفۃ المسیح جن کا نام مرزا طاہر احمد ہے بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد کے چوتھے جانشین ہیں ۔ انہوں نے 1889ء میں اس جماعت کی بنیاد رکھی تھی اور وہ خدا کے چنیدہ بندوں میں سے ہیں ، ان کی آمد کا مقصد مذا ہب عالم کو یکجا کرنا ہے۔

مرزا طاہر احمد کے بقول مسلمانوں نے لفظ اسلام کو غلط طور پر استعمال کرکے دنیا میں جہاد کے نام پر دہشتگردی شروع کر رکھی ہے۔جہاد کا مطلب ہے اللہ کی مدد سے اس کے حکموں پر عمل کرنااور سچائی کے راستے پر چلنا ہے،جہاد کی تین قسمیں ہیں : 1۔جہاد اکبریعنی اپنے اندر کی برائی کو ختم کرنا۔ 2۔تبلیغ کرنا اور معاشرے کی برائیوں کو دور کرنا۔ 3۔تیسرا حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرنا اور ہتھیار سے جواب دینا۔

مذہب کو سیاست کے ساتھ ملاکراستعمال کرنا مڈل ایسٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔مشرق وسطیٰ میں امن صرف حقیقی انصاف کے قیام سے ہوگا۔اقوام متحدہ کی مڈل ایسٹ میں امن قائم کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں کیونکہ وہ انصاف پسند نہیں ۔ دنیا کے مسائل اور مشکلات انسان خود کو مضبوط کرکے اور مشترکہ مفادات پر اکٹھے ہو کر دُور کر سکتا ہے۔

عصر حاضر کی ایجا دات مذہب کے ساتھ قدم بقدم چل سکتی ہیں کیونکہ خدا کی عطا کردہ صلاحیتوں سے انسان انہیں ایجادکر رہا ہے۔خلیفہ کے مطابق مغربی کلچر انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ اخلاقی حدود قیود کو ختم کرتا ہے اور اگر اسے روکا نہ گیا تو انسانیت کی بقا خطرے میں ہے۔

اسلام وہ واحد مذہب ہے جو عورت کو اس کے پورے حقوق دیتا ہے۔اسلام واحد مذہب ہے جو عالمی امن کا ضامن ہے۔ سرینامی قوم کو میرا پیغام ہے کہ قومی ترقی کے لئے مل جل کر کام کریں انسانی اقدار کو زندہ کریں اور اپنے معاشرے کو جنت نظیر بنائیں ‘‘۔

یکم جون کو بین المذاہب کونسل سرینام سے حضور کی ملاقات کی خبر De Ware Tijdمیں شائع ہوئی۔

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button