تر بیتِ اولا داور انصار اللہ کی ذمہ داریاں
(قرآن و حدیث اورحضرت اقدس مسیح موعود ؑ اورآپ کے خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں)
قیا دت تر بیت انصار اللہ پاکستان نے ’’ تر بیتِ اولا د اور انصار اللہ کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر مگر جامع رسالہ مرتب کیا ہے۔ ہر انسان اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی دلی خواہش رکھتا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کرام کے ارشادات پر کما حقہ عمل نہیں کیا جاتا۔جبکہ ایسا ہر ارشاد اور رہنمائی چمنستانِ تربیت کا ایک سدا بہار پھول ہے۔ تربیت اولاد سے متعلق انہی خوشنما پھولوں کو مختلف جگہوں سے اکٹھا کر کے خصوصاً انصارکے لئے جو سربراہِ خاندان بھی ہوتے ہیںایک گلدستہ کی شکل دی گئی ہے۔ لیکن اس رسالہ سے نہ صرف انصار بلکہ تمام والدین اور ہر احمدی کو فائدہ اٹھانا چاہئے تا کہ ہر احمدی گھرانہ اس کی خوشبو سے معطّر ہو جائے ۔
مجلس انصار اللہ پاکستان کے شکریہ کے ساتھ ہم ذیل میں اس رسالہ سے بعض اقتباسات ہدیہء قارئین کر رہے ہیں۔ امید ہے احباب اس سے استفادہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔
(مدیر)
تر بیتِ اولا د کی اہمیت
اللہ تعالیٰ اور اس کے پیا رے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر عمل کی تو فیق
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا (التحریم آیت 7) کہ اے ایمان لانے والے لوگو! تم اپنے اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔
یعنی مومنوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اپنی بھی اصلاح کرتے رہو اور اپنی اولاد کی بھی فکر رکھو اور ان کی نگرانی کرتے رہو۔ اُن کی تربیت کی طرف بھی توجہ دو کیونکہ کسی قوم کی ترقی اور رفعت کا دارومدار آئندہ نسل کی تربیت اور اعلیٰ اخلاق پر ہوتا ہے۔ اُ ن کی تربیت و اصلاح کی طرف توجہ نہ دی جائے تو اہل و عیال فسق و فجور ، بد اخلاقی اور فحشا ء میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن کے نتیجہ میں غضبِ الہیٰ کی آگ اُن پر بھڑکنا شروع ہو جاتی ہے اور اِسی آگ سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تاکیداً ارشاد فرمایا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین اعلیٰ تحفہ نہیں جوباپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے (حدیقۃ الصالحین صفحہ 415)کہ وہ ساری عمر اس کے کام آئے گا۔
یہی وجہ ہے کہ مامورِ زمانہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’پس خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جائو اور اُس کو متقی اور دین دار بنانے کے لئے سعی اور دُعا کرو۔ جس قدر کوشش تم اُن کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اُسی قدر کو شش اِس امر میں کرو۔‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 144 )
چنانچہ ایسے ارشادات کا علم ہونے کے بعد ہمارا فرض ہے کہ ہم ان پر عمل کر کے اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے والے ہوں ۔لیکن اگر ہم نے ایسا نہ کیا ،اولاد کی تربیت کے سلسلہ میں عائد ان ذمّہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام رہے اور ایک ایسی نسل پیچھے چھوڑی جن کا کردار قابلِ مذمّت ہوا تو ہم اس کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔
دَور ِحاضر کا ایک اہم تقاضا
دَورِ حاضر میں ہر طرف فسق و فجور اور معصیت کا بازار گرم ہے اور معاشرے میں لامذہبیت اوراخلاقی بے راہروی بڑی تیزی سے سرایت کر رہی ہے جبکہ والدین روزگار کے حصول کی تگ و دَو میں باوجود کوشش و خواہش کے بچوں کیلئے بہت کم وقت نکال پاتے ہیں اور عام طور پربچوں کی دینی و اخلا قی تر بیت کی طرف تو جہ نہیں دی جاتی ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے معلومات کا سیلاب برپا کر رکھا ہے جہاں اچھی بُری معلومات ہر چھوٹے بڑے کی دسترس میں ہیں جس سے بچوں کے ناپختہ ذہنوں کیلئے اِردگرد کا ماحول دن بدن مزیدپراگندہ اور خطرناک ہوتا جارہاہے اوردجّالی طاقتوں نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیاکے ذریعہ پوری دُنیا میں برائی کی نمائش و تشہیر کے جوجال پھیلارکھے ہیں ان کے بد اثرات سے بچے محفوظ نہیں ہیں۔اس ماحول میں بڑوں خاص طور پر انصار جو بالعموم سربراہِ خانہ ہوتے ہیں کی ذرا سی غفلت بچوں کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے ۔اس لئے انصار کو نہایت چوکس رہ کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف متوجہ رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بچوں کاذہن ہر غلط نقش قبول کر نے کے لئے مستعدہوتا ہے ۔ اور معا شرے میں چو نکہ بچوں کے خیالات ، مزاج، دلچسپیوں اور اخلاق پر نہا یت برے اثرات ڈالنے کی بے پناہ صلا حیت مو جود ہے ۔اگر پیار اور محبت کے ساتھ اچھی اور نیک باتیں اُن کے کانوں میں نہیں پڑیں گی تو ماحول کی بُری باتیں سن کر اور دیکھ کر وہ برائیوں کا شکار ہو جائیں گے۔
چنانچہ موجودہ دَور میں معا شرے کے بد اثرات سے بچا ؤ کے لئے بھی اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنا اس وقت ہماری بہت ہی اہم ذمّہ داری ہے۔ اسی لئے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ نے ایک موقع پر فرمایا:
‘‘یہ زمانہ ایسا نہیں جس میں ہم ذرا بھی غفلت برتیں اور سُستی سے کام لیں ۔اس لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سنبھال لیں ،اُن کی بہترین رنگ میں تربیت کریں’’۔ (مشعلِ راہ جلد دوم صفحہ 405 )
………………………
تر بیتِ اولاد کے فلسفے کو اگر اسلامی نقطہ نظر سے پورے طور پر سمجھ لیا جائے اور اپنی اولادوں کو اس کے مطابق ڈھالا جائے تویہ قیمتی نسخہ ایسے شخص کی زندگی میں خوشیاں اور مسرتیںبکھیر دیتا ہے جبکہ اس بارے میں غفلت اور لاپرواہی اولاد کے علاوہ انسان کی اپنی زندگی کو ابتلاء، دکھوں اور غموں کا ایسا شکار بنادیتی ہے کہ پھر اس سے نکلنا محال ہوجاتا ہے۔
آجکل بہت سے والدین مقامی مشکلات اوربیرونی دنیا میں بہترمواقع دیکھتے ہوئے اپنے بچوں کو باہر بھجوانے کی تگ و دَو میں لگے دکھا ئی دیتے ہیں۔یہ کوشش اپنی جگہ پر بجا ، لیکن اس انتظار میں بچے کی تعلیم و تربیت سے غفلت اور لا پرواہی بسا اوقات خوشی ومسرت کی بجائے دکھوں، غموں اور حسرتوں کا باعث بن سکتی ہے ۔
ایک ماں کی دکھ بھری داستان
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی زبانی ایک ماں کی دکھ بھری داستان کچھ یوں ہے۔حضورؒ فرماتے ہیں:
’’میرا دل حیران بھی ہوتا تھا اس نظارے سے اور خوش بھی ہوتا تھا کہ خدا کے ایسے مومن بندے، باوقار بندے، آزاد بندے جماعت احمدیہ کے افراد کی حیثیت سے، یورپ میں بس رہے ہیں جن پر اس سوسائٹی کا ادنیٰ سا بھی اثر نہیں ہے۔ ایک ماں روتی ہوئی آئی اور مجھے کہا کہ میرے بعض بچے دین میں کم دلچسپی لے رہے ہیں اور میں سوچ رہی ہوں کہ میری زندگی کی ساری کمائی ضائع ہو گئی۔آخر میںنے یہا ں آ کر محنت کی تھی، ان بچوں کو بنایا تھا۔ ان کو اس لئے بنایا تھا کہ یہ کچھ حاصل کر جائیں۔ مگر دنیا حاصل کر لیں اور دین کھو جائیں، یہ تو میرا مقصد نہیں تھا۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ میں ایک ویرانے میں پہنچ گئی ہوں۔ ساری زندگی کی کمائی آخر پر حسرت کے سوا کچھ نہیں رہی۔ فَتَرٰہ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا کا کیسا اچھا نظارہ انہوں نے کھینچا۔ لیکن ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سوکھی کھیتی کو پھر ہرابھرا کر دے۔ چنانچہ اس کفّارہ کے طور پر انہوں نے اپنے ہاتھ کا سارا زیور اتار کے دین کے رستے میں پیش کردیا کہ اگر میری گریہ وزاری قبول نہیں ہوتی تو خدا اس بات پر رحم کرے اور دیکھ لے کہ مجھے دنیا کے مال سے کو ئی محبت نہیں، مجھے میری اولاد چاہئے، اس لیے میری دعا ہے کہ اللہ مجھے میری اولاد واپس کر دے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ22اکتوبر 1982ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ بحوالہ خطبات طا ہر جلد اول صفحہ 229)
…………………………
کسی قوم کی بہتری کا دارومدار ہی در اصل اولاد کی اچھی تربیت پر ہوتا ہے۔ اگر نئی نسل کی اچھی تربیت کی جائے تو قوم ترقی کے میدان میں کہیں کی کہیں نکل جاتی ہے۔جو قومیں تباہ ہوئیں اسی وجہ سے ہوئیں کہ پہلے لوگ مرگئے اور پچھلے ان کے قا ئمقام نہ بن سکے۔اس اہم نکتہ کوبیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک موقع پر فرمایا:
’’قوموں کی تباہی کا باعث ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ ترقی کے لئے تو کوشش کرتی ہیں…۔ اپنے تقویٰ کا خیال رکھتی ہیں مگر اولاد کے اخلاق کی طرف پوری توجہ نہیں کرتیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا نیکی کا معیار گرنے لگتا ہے …۔ اور آخر قوم تباہی کے گڑھے میں گِر جاتی ہے …۔ اگر مسلمان اس (بے مثل) نکتہ کا خیال رکھتے توآج اُن کا یہ حال نہ ہوتا۔اُنہوں نے ایک وقت اپنی اولاد کی تربیت کے فرض سے کوتاہی کی اور ان کی نا جائز محبت ان پر غالب آگئی یا اُنہوں نے شادیوں میں احتیاط سے کام نہ لیا۔۔تم میں سے ہر ایک شخص علاوہ اپنی ذات کی ذمہ داری کے بعض دوسرے وجودوں کا بھی ذمّہ دار ہے۔۔پس خالی اپنے نفس کی طہارت انسان کے کام نہیں آسکتی۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد3صفحہ42)
…………………………
آئندہ نسل کی صحیح تربیت کرنا قوم کو زندہ رکھنے کا ایک حتمی اور یقینی ذریعہ ہوتا ہے۔ اپنی قوم اور نسل کی بقا سے متعلق ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ یاد رکھنا چاہئے:
’’جماعتی ترقی ہمارے اپنے بچوں کی تربیت سے وابستہ نہیں بلکہ ہماری اور ہماری نسلوں کی بقا ہر حالت میں جماعت سے جڑے رہنے سے وابستہ ہے۔ جماعت اور اسلام کا غلبہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے … اگر ہماری تربیت کا حق ادا کرنے میں کمی ہماری اولادوں کو دین سے دُور لے جاتی ہے … تو اس سے دین کے غلبے کے فیصلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا، ہاں جو کمزوری دکھاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں ۔۔پس اس اہم بات کو اور یہ بہت ہی اہم بات ہے ہمیں ہمیشہ ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی نسلوں کی تربیت کی فکر کی ضرورت ہے۔ ‘‘
(خطباتِ مسرورجلد ہشتم صفحہ (507
پس اگر ہم چاہتے ہیں اور یقینا چاہتے ہیں کہ غلبہ ء دین کا کام ہمارے اور ہماری نسلوں کے ذریعہ ہو تو یہ کام بچوں کی اچھی تربیت ہی سے ممکن ہے۔
………………………
تر بیت۔ ذیلی تنظیموں کا ایک اہم کام
جماعت میں ذیلی تنظیموں کا قیام فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ ان مجالس کا قیام میں نے تربیت کی غرض سے کیا ہے اور ان مجالس پر دراصل تربیتی ذمّہ داری ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ـؒنے فرمایا:
’’انصار کو میں دو باتیں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں کہ عاجزانہ دعاؤ ں سے اپنے رب کو راضی کرو اور تمہارا اصل کام تربیت کاہے اس کی طرف پوری توجہ دو تا کہ آنے والی نسلیںآنے والی ذمّہ داریوں کو سمجھنے اور نبھانے والی ہوں۔‘‘ (سبیل الر شاد جلد دوم صفحہ 533)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ ان بچوں کی ایسی تر بیت کر و کہ دین کو دنیا پر مقدم کر نے کا اِدراک انہیں بچپن سے حاصل ہوجائے ۔
( بحوالہ الفضل 7نو مبر 2014ء)
مجلس انصاراللہ کے عہد کی پاسداری کے لئے بھی یہ امر نہایت ضروری ہے کیونکہ وہ عہد جو اکثر اجتماعی پروگراموں میں ہم دوہراتے ہیں اس میں اولاد کی تربیت کی غرض سے ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے رہنے کا عہد بھی شامل ہے۔
………………………
بچوں کے بڑے درجات حاصل کر نے پر
ماں باپ اور دیگر رشتہ دار بھی
ثواب کے مستحق ہوجاتے ہیں
قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کوئی انسان کسی بڑے درجے کو پہنچے گا تو اس کے ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں کو اُس کے ساتھ رکھا جائے گااور وہ بھی اُس کے ثواب کے مستحق ہوں گے۔
(الازہار لذوات الخمار صفحہ322)
اسی لئے خاص طور پر ماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک موقع پر فرمایا:
’’پس تم اسلام کی ایک عظیم الشان خدمت کر سکتی ہو۔ اگر تم اپنے بیٹوں کو ابوبکر یا عمر بنا دو گی تو یقیناً جو مقام تمہارے بیٹے کو ملے گا وہی تمہیں ملے گا۔‘‘
(الازہار لذوات الخمار صفحہ325)
انصار کو خود بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور گھر کی خواتین کو بھی اسے ذہن نشین کرواتے رہنا چاہئے۔
……………………
تربیت اولاد سے لا متناہی سلسلہ صدقات کا شروع ہو جاتاہے
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
‘‘آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کا اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنا صدقہ دینے سے زیادہ بہتر ہے ۔صدقہ دینا تو بہت اچھا ہے ، مگر اولاد کی تربیت سے لا متناہی سلسلہ صدقات کا شروع ہو جاتا ہے۔اچھی تربیت والی اولاد جو آئندہ کے لئے نیکی کا موجب بنتی ہے وہ صدقہ دیتی ہے اور اس کی اولاد آگے اولاد۔ اوریہ محبت کا سلسلہ نسلاً بعد نسلِِ چلتا ہے۔پس یہ معنی ہیں کہ ایک صدقہ تم دے د و وہ تو وہیں رُک جائے گا مگر اولاد کی تربیت اچھی کرو گے تو اولاد تمہارے لئے صدقہ جاریہ ثابت ہو گی۔ ’’
(مشعل راہ جلد 3صفحہ 697)
………………………
تربیتِ اولاد آخرت میں
کام آنے والی متاع ہے
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے ۔ گویا ہر جان کو خدا تعالیٰ متنبہ کر رہا ہے کہ تم نے کل کے لئے کیا تیاری کی ہے، کن اولادوں کو آگے بھیجو گے اور کیا وہ خدا کی عبادتگزار نسلیں ہوں گی یا عبادت سے غافل نسلیں ہوں گی۔
اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’جو تربیت کا زمانہ ہوتا ہے اس وقت غفلت برتی جاتی ہے اور جب ہاتھ سے نکلنے لگتی ہے تو اس وقت بے بسی کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔مومن تو آسائش کے وقت بھی خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کی نعمتوں کے شکر سے غافل نہیں ہوتے۔ اس لئے اپنی اولاد کی تربیت کی فکر کریں اور ان پر معاشرے کے غلط رنگ کبھی نہ چڑھنے دیں۔انہیں تقویٰ کے رنگوں سے مزین کریں۔ انہیں نمازوں کا عادی بنائیں۔ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی طرف توجہ دلاتے رہیں ۔ان کی نیکیوں اور دین کی خدمت کی باتیں آپ کے لئے فخر کا باعث ہونی چاہئیں۔ اگر آپ متقی اور دیندا راولاد چھوڑ جائیں تو یہی وہ متاع ہے جو آخرت میں بھی آپ کے کام آئے گی… اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور اپنی اصلاح اور اولاد کی نیک تربیت پر دھیان دیں۔ اﷲ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے…آمین‘‘۔
(سالانہ اجتماع انصار اﷲ جرمنی2011ء کے موقع پرحضور انور کا پیغام بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ نومبر 2011ء)
………………………
نیک اولاد جنت میں ماں باپ کےدرجات کی بلندی کا باعث بنتی ہے
حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ تربیت یافتہ نیک اولاد کے بارے میں فرماتے ہیںکہ یقیناً آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جاتا ہے(اس کی وفات کے بعد)۔وہ کہتا ہے میرا درجہ کیسے بلند ہو گیا ؟ اسے جواب دیا جاتا ہے کہ تیرے لئے تیرے بچے کی دعا کے سبب سے(یعنی تیرے لئے تیری اولادنے دعا کی) اس وجہ سے تیرا درجہ بلند ہوا۔
(ابنِ ماجہ کتاب الادب باب برالوالدین)
……………………
تربیتِ اولاد سے غفلت قتلِ اولاد کے مترادف ہے
تربیتِ اولاد، در حقیقت ایک عظیم جہاد ہے جس میں غفلت ا ور سُستی سنگین غلطی ہے جو بچوں کو اخلاقی اور رُوحانی طور پرقتل کرنے کے مترادف ہے۔عدم تربیت یافتہ بچے معاشرہ کیلئے بوجھ بھی بن سکتے ہیں اور اپنے والدین کے لئے وبالِ جان بننے کے علاوہ دیگر شہریوں کے لئے بھی مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ اِسی لئے ہمارا دین اِسے قتلِ اولادکے مترادف قرار دیتاہے۔ (بنی اسرائیل :23)
(باقی آئندہ)




