متفرق مضامین

رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف اور لیلة القدر کی فضیلت و اہمیت(حصہ دوم۔ آخری)

(تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۴؍مارچ ۲۰۲۶ء)

ماہ صیام کا آخری عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا عشرہ ہے۔ اس عشرہ کی اہم فضیلت اور خصوصیت اس بنا پر ہے کہ اس میں ایک ایسی رات پائی جاتی ہے جو ہزاروں مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورت نازل فرمائی یعنی سورة القدر:بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ۔ وَمَاۤ اَدۡرٰٮکَ مَا لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۔ لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ۔ تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ۔ سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ۔(سورۃ القدر)ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ یقیناً ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا ہے۔ اور تجھے کیا سمجھائے کہ قدر کی رات کیا ہے۔ قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ بکثرت نازل ہوتے ہیں اُس میں فرشتے اور روح القدس اپنے ربّ کے حکم سے۔ ہر معاملہ میں۔ سلام ہے۔ یہ (سلسلہ) طلوعِ فجر تک جاری رہتا ہے۔

قدر کے معنی تعظیم اور مرتبے کے ہیں۔ کیونکہ یہ رات باقی راتوں کے مقابلے میں شرف ومرتبے کے لحاظ سے بلند ہے اس لیے اسے لیلة القدر کہا جاتا ہے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سورت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’احادیث میں مذکورہ لیلۃالقدر بھی ایک جہت سے اسی لیلۃ القدر سے تعلق رکھتی ہے جس میں قرآن کریم نازل ہواتھااور یہ کہ ان معنوں کے رُو سے اصل لیلۃ القدر وہی رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہواتھا اور صرف اس کی یاد تازہ رکھنے کے لئے اور اس عہد کو تازہ کرنے کے لئے جو نزول قرآن کریم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے باندھا تھا۔ اس نے لیلۃ القدر مقرر کی ہے اور اس فائدہ کو مدنظررکھ کر کہ اُمّت کے کمزور لوگ بھی کم سے کم دس راتیں تو خوب عبادت کرلیں۔ اس نے رمضان کی آخری دس راتوں میں اسے چھپا دیاہے اور معین رات مقرر نہیں کی تاکہ اس کا قیام صرف ایک رسم ہو کرنہ رہ جائے جسے اسلام بہت ناپسند کرتاہے۔ اب جو چاہے رمضان کی آخری راتوں میں اسے تلاش کرسکتاہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو دس راتوں میں تلاش کرے گااُسے دین کے ساتھ پہلے سے زیادہ لگاؤ ہو جائے گااور اُس کے دل میں دین کی محبت پیدا ہو جائے گی اور اُس سے یہ اُمید کی جاسکے گی کہ پہلی غلطیوں کوچھوڑ کرپورے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائے اور کسی وقت اس کی ہر رات ہی لیلۃ القدر ہوجائے گی۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد ۱۳ صفحہ۴۸۱۔۴۸۲)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’سورۃ القدر میں اس طرف اشارہ فرمایاہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لوگوں سے وعدہ فرمایاہے کہ وہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا بلکہ جب وہ گمراہ ہوجائیں گے اور اندھیروں میں گرجائیں گے تو ان پر لیلۃالقدر کا زمانہ آئے گا اور روح زمین پر نازل ہوگا۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے گا اسے اتارے گا اور اسے مجدد بنا کر مبعوث فرمائے گا اور روح کے ساتھ ملائکہ بھی نازل ہوں گے جو لوگوں کے دلوں کوحق اور ہدایت کی طرف کھینچ کر لائیں گے او ر یہ سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا ۔‘‘(حمامۃ البشریٰ صفحہ۹۳، بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد۸ صفحہ ۳۱۵)

شب قدر کی جستجو کا مطلب عبادت اور نیک اعمال میں محنت کرناہے۔ آپؐ اور صحابہ کرامؓ کے ہاں آخری عشرے کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ آپ سب ان دنوں میں عبادت نماز ذکر اور دیگر اعمال کی ادائیگی میں بے حد حریص ہوتے جاتے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث ۱۸۸۰)

حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا: قیام لیل مت چھوڑنا اس لیے کہ رسول اللہ ؐنہیں چھوڑتے تھے اورجب آپؐ بیمار ہوتے یا جسم میں سستی محسوس کرتے تھے توبیٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے۔(ابوداؤد)دیکھیں آنحضرت ؐکا عمل کیا تھا۔یہ عمل ہم اختیار کریں تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کو سمیٹنے کی امید کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

آخری دس راتوں میں لیلۃالقدر تلاش کرنے کے بارے میں… بخاری اور مسلم نے ابوسعید خدریؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم ؐنے بھی اور ہم نے بھی رمضان کی پہلی دس تاریخوں میں اعتکاف کیا۔اس کے خاتمے پر حضرت جبرئیل آئے اور رسول کریم ؐکو خبر دی کہ جس چیز (لیلۃ القدر)کی آپ کو تلاش ہے وہ آگے ہے۔اس پر آپؐ نے اور ہم سب نے درمیانی دس دنوں کا اعتکاف کیا۔ اس کے خاتمے پر پھر حضرت جبرئیل نے ظاہر ہو کر آنحضرت ؐسے کہا کہ جس چیز کی آپ کو تلاش ہے وہ آگے ہے۔ اس پر رسول کریم ؐ نے بیسویں رمضان کی صبح کو تقریر فرمائی اور فرمایاکہ مجھے لیلۃالقدر کی خبردی گئی تھی مگر مَیں اُسے بھول گیا ہوں اس لیے اب تم آخری دس راتوں میں سے وتر راتوں میں اس کی تلاش کرو۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ لیلۃ القدر آئی ہے اور مَیں مٹی اور پانی میں سجدہ کررہاہوں۔اس وقت مسجد نبویؐ کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی اور جس دن آ پؐ نے یہ تقریر فرمائی بادل کانشان تک نہ تھا۔پھر یہ روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ اچانک بادل کاایک ٹکڑا آسمان پر ظاہر ہوا اور بارش شروع ہو گئی۔پھر جب نبی کریم ؐنے ہمیں نماز پڑھائی تو مَیں نے دیکھا کہ آپ کی پیشانی پر مٹی اور پانی کے نشانات ہیں،ایسا خواب کی تصدیق کے لیے ہوا۔صحیح بخاری اور مسلم نے اس کو درج کیا ہے۔حضر ت مصلح موعودؓ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ ابوسعید کی ایک اورروایت میں یہ واقعہ ۲۱؍رمضان کو ہوا تھا۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ امام شافعی کہتے ہیں کہ اس بارہ میں یہ سب سے پختہ روایت ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر رمضان کی ستائیسویں رات جمعہ کی رات ہو تووہ خداکے فضل سے بالعموم لیلۃ القدر ہوتی ہے۔ (روزنامہ الفضل لاہور ۸؍جولائی ۱۹۵۰ء)(ماخوذ از خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۴؍نومبر۲۰۰۳ء)

شبِ قدر کی اہمیت ایک اور جگہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص شب قدر کو ایمان اوراجروثواب کی نیت سے عبادت کرے ، اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری، حدیث: ۱۷۶۸)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ (رمضان کا) تم کو ملا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا گویا وہ تمام خیر سے محروم رہا، اور اس کی خیر و برکت سے کوئی محروم ہی بے بہرہ رہ سکتا ہے۔(سنن ابن ماجہ، حدیث : ۱۶۳۴، معجم الکبیر للطبرانی، حدیث: ۱۵۰۰)

آپؐ رمضان کےآخری عشرےمیں پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے۔اور اسی رات کی تلاش میں اعتکاف فرماتے آپؐ کی ذات مبارکہ اللہ کے نزدیک مقبول تھی آپؐ اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب بخشے بخشائے تھے۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں آپؐ اس قدر جستجو فرماتے تھے، آپؐ کی ذات ہمارے لیے سراسر ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے ہمیں غورو فکر کرنی چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے کس قدر محتاج ہیں۔ آخری عشرے کی راتوں کو ذکر و عبادت میں گزارنا چاہیے اورہمیں اس بابرکت رات کی تلاش اور جستجو کرنی چاہیے۔

حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ سے عرض کی کہ یارسول اللہؐ! اگرمجھے علم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو مَیں اس میں کیا دعاکروں۔ فرمایا کہ تو یہ دعا کرکہ اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ۔ اے اللہ !تُوبہت معاف کرنے والا اور معاف کرنے کو پسند فرماتاہے پس تُو مجھے بھی بخش دے اور معاف فرما دے۔ (ابن ماجہ کتاب الدعا باب الدعا بالعفو…)

لیلة القدر کوآخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ اللہ نے اپنی بےپایاں مصلحت و حکمت سے شب قدر کو مخفی رکھا ہے۔شاید اسے ہماری طلب ذوق اور جستجو کا امتحان مقصود ہے۔ اگر کوئی صدق دل سے خلوص نیت کے ساتھ اس کو پانے کی سعی کرے گا تو ان شاءاللہ وہ محروم نہیں رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب احمدیوں کو حقیقی رنگ میں عبادت کاحق ادا کرتے ہوئے اس عشرے سے بھر پور فائدہ اٹھا نے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف اور لیلة القدر کی فضیلت و اہمیت(حصہ اول)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button