نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازجنازہ حاضر وغائب

*مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ 2؍فروری 2016ء بروز منگل قبل از نماز ظہر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فضل لندن کے باہر تشریف لاکر عزیزم حامدالدین صاحب (آف کرائیڈن) کی نماز جنازہ حاضر اور کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

عزیزم حامد الدین۔آف کرائیڈن(ابن مکرم صلاح الدین صاحب )

آپ 30جنوری 2016ء کو بعارضہ کینسر 25سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے دادا مکرم ماسٹر لال دین صاحب کا تعلق قادیان سے تھا۔آپ وقف نو کی مبارک تحریک میں شامل تھے۔بہت ملنسار ، دینداراور نیک نوجوان تھے۔پسماندگان میں والدین کے علاوہ دو بھائی یادگار چھوڑے ہیں۔

اس موقع پر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ غائب بھی ادا کی گئی:

(1)مکرم ماسٹر مقصود احمد صاحب (سابق صدر انصاراللہ۔ جرمنی)

4 جنوری2016 ء کو وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ آپ نے مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کرنے کی توفیق پائی۔ آپ1970 کی دہائی میں جرمنی آئے تھے اس سے قبل ربوہ میں مختلف سکولوں کے انچارج اور ہیڈ ماسٹر رہے۔ آپ کا شمار جماعت جرمنی کے ابتدائی ممبران میں ہوتا ہے۔ آپ کو جرمنی کے پہلے افسر جلسہ سالانہ ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ لمبا عرصہ فرینکفرٹ سٹی کے صدر اور بعد میں امیر رہے۔ آپ کوچند سال صدر مجلس انصار اللہ جرمنی کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔ مالی قربانی میں دل کھول کر حصہ لیتے تھے۔1/9 حصہ کے موصی تھے۔آپ لمبا عرصہ بیمار رہے لیکن تمام عرصہ بڑے صبر و تحمل سے گزارا۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند، بہت مشفق، ہر ایک کی مدد کرنے والے، سچے اور صاف دل کے مالک ، ایماندار، خاموش طبع، نیک اور مخلص انسان تھے۔ نظام جماعت کے وفا دار اور خلافت سے عشق کی حد تک پیار کرنے والے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔

(2)مکرم ناصر احمد ناصر صاحب( ابن مکرم فتح محمد صاحب۔ لاٹھیانوالہ فیصل آباد)

17 جنوری2016 کو72 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نماز با جماعت کے پابند، تہجد گزار، مہمان نواز اور مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے، خلافت اور نظام جماعت کے اطاعت گزار،نیک اور مخلص انسان تھے ۔ آپ نے اپنی جماعت میں سیکرٹری مال کے علاوہ سیکرٹری تحریک جدید، سیکرٹری وقف جدیداور سیکرٹری ضیافت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بہن اور تین بھائی یادگار چھوڑے ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

………………………

٭مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ 9؍فروری 2016ء بروز منگل قبل از نماز ظہر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فضل لندن کے باہر تشریف لاکر Mrs Zifa Mukhametz Yanova w/o Mr Mirat Muhammad Zyanove۔آف قازان۔ تاتارستان۔حال یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

Mrs Zifa Mukhametz Yanova w/o Mr Mirat Muhammad Zyanove۔آف قازان۔ تاتارستان۔حال یوکے)

آپ 8؍فروری 2016ء کو65سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ روس کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھیں۔وہاں آپ کو اور آپ کے خاندان کو ابتداء سے ہی احمدیت کی تبلیغ کرنے کی توفیق ملتی رہی۔ بہت نیک، مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ آپ کے شوہر قازان کے پہلے صدر جماعت تھے۔

اس موقع پر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ غائب بھی ادا کی گئی:

(1)مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ( اہلیہ مکرم چوہدری منیر احمد صاحب۔ ربوہ)

 21جنوری2016کو 83سال کی عمرمیں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والدحضرت احمد دین صاحب اور دادا حضرت ولی محمد صاحب دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند،تہجد گزار،قرآنِ کریم کی کثرت کے ساتھ تلاوت کرنے والی،ہمدرد، دوسروں کا خیال رکھنے والی، مہمان نواز ، بہت سی خوبیوں کی مالک نیک خاتون تھیں۔ خلافت اور نظام جماعت کے ساتھ بہت محبت کرنے والی فدائی خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں 6بیٹیاں اور 4بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔ آپ مکرم اقبال احمد منیر صاحب (مربی سلسلہ کراچی) کی والدہ اور مکرم فریداحمدنوید صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ گھانا کی چچی تھیں۔

(2)مکرمہ امتہ الروؤف صاحبہ (اہلیہ مکرم ریاض احمد باجوہ صاحب ۔ربوہ)

16جنوری 2016کو 69سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت علی محمدؓ کی پوتی تھیں۔آپ کو لمبا عرصہ بحیثیت صدر لجنہ اماء اللہ میر پور خاص سندھ خدمت کی توفیق ملی۔ بڑی محنت اور خاموشی کے ساتھ جماعتی خدما ت سرانجام دیتی رہیں۔آپ کامیاب داعی الی اللہ بھی تھیں۔ آپ صوم وصلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار ، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے والہانہ عقیدت اور عشق و وفا کا تعلق تھا۔آپ نے ایم اے ایم ایڈ کیا تھا اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کے عہدہ تک کام کرتی رہیں۔بہت ایماندار، خوش اخلاق ، محنتی افسر تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ تین بیٹیاں اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم عطاء الوحید باجوہ صاحب ربوہ میں استاد جامعہ احمدیہ کے طور پرخدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔

(3)مکرمہ امتہ الرفیق صاحبہ ا(ہلیہ مکرم رشید احمد چٹھہ صاحب مرحوم ۔اسلام آباد)

یکم جنوری 2016کو 78سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار ،نرم مزاج، مہمان نواز، بے لوث خدمت کرنے والی،صابرہ و شاکرہ، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ نے ساری زندگی دین کو دنیاپر مقدم رکھا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک لے پالک بیٹا یادگار چھوڑاہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

…………………………

٭مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ 10؍فروری 2016ء بروز بدھ قبل از نماز ظہر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فضل لندن کے باہر تشریف لاکر مکرمہ عزیز بیگم صاحبہ (اہلیہ مکرم عبد اللطیف بھٹی صاحب ۔سربٹن۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور بعض مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

مکرمہ عزیز بیگم صاحبہ(اہلیہ مکرم عبد اللطیف بھٹی صاحب ۔سربٹن۔یوکے)

آپ 5؍فروری 2016ء کو90سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت ڈاکٹر ظفر حسن صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی اور حضرت نظام الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی بہو تھیں۔ آپ نے کینیا اور یوکے میں جماعتی کاموں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔نمازوں کی پابند، ضرورتمندوں کا خیال رکھنے والی مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے کیا کرتی تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔

اس موقع پر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ غائب بھی ادا کی گئی:

(1)مکرمہ ہاجرہ بی بی صاحبہ( اہلیہ مکرم ٹھیکدار عبد المجید صاحب موحوم ۔ربوہ)

3فروری 2016ء کو 97سال کی عمرمیں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے 1953میں بیعت کی توفیق پائی۔ آپ کے میاں نے جماعت کی متعدد عمارات بنانے میں حصہ لیا جن میں سرفہرست قصر خلافت، دفتر پرائیویٹ سیکرٹری، خلافت لائبریری اوروقفِ جدید گیسٹ ہاؤس شامل ہیں۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند، خلافت سے بے انتہاء محبت اور اطاعت کا جذبہ رکھنے والی، نیک دل، ملنسار ، خوش اخلاق، مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔

(2)مکرم صوفی محمد شریف صاحب (ابن مکرم محمد دین صاحب۔ ھیلاں تتہ پانی ضلع کوٹلی ۔ آزاد کشمیر)

 19نومبر 2015ء کو 78کی عمرمیں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ لمبا عرصہ صدر جماعت آرام باڑی اور ناظم انصار اللہ ضلع کوٹلی کے طور پر خدمت بجا لاتے رہے۔ بہت مہمان نواز، غریب پرور اور عہدیداران اور واقفین زندگی کا احترام کرنے والے ، خلافت کے شیدائی، نیک اورمخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔

(3)مکرمہ مسرت بشیر صاحبہ( اہلیہ مکرم بشیر احمدبھٹی صاحب۔ربوہ)

23؍اکتوبر2015ء کو 60کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند ، قرآن پاک کی باقاعدہ تلاوت کرنے والی، ملنسار، مہمان نواز، خوش اخلاق اور بہت سادہ طبیعت کی مالک نیک خاتون تھیں۔ اپنے محلہ میں 5سال بطور سائقہ خدمت کی توفیق پائی۔ خاوند کی قلیل تنخواہ کے باوجود چندہ جات اور صدقات کی باقاعدگی سے ادائیگی کیا کرتی تھیں۔ آپ نے ساری زندگی صبر و شکر کے ساتھ خدا کی رضا پر راضی رہتے ہوئے گزاری۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button