حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ

پھر فرمایا وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا۔ وَا تَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلًا(النساء: آیت۱۲۶) اور دین میں اس سے بہتر کون ہو سکتا ہے جو اپنی تمام تر توجہ اللہ کی خاطر وقف کردے اور وہ احسان کرنے والا ہو اور اس نے ابراہیمِ حنیف کی ملّت کی پیروی کی ہو اور اللہ نے ابراہیم کو دوست بنا لیا تھا۔

اس آیت میں اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بیان کر دیا گیاہے۔یعنی مکمل فرمانبرداری اور اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے، اس کے دین کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے اور احسان کرنے والاہو۔پس چونکہ وہ اللہ کی خاطر احسان کرنے والا ہوگا اس لئے کسی کو یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ اگر ہر وقت وہ دین کی طرف اور دین کی خدمت کی طرف رہا تو اس کا مال یا اولاد ضائع ہوجائے گی۔ نہیں ،بلکہ اللہ تعالیٰ جو سب سے بڑھ کر بدلہ دینے والا ہے ، اجردینے والاہے ، اس کے اس فعل کا خود اجر دے گا۔ جیساکہ پہلے بھی بیان کیاگیاہے کہ خود اس کے جان، مال، آبروکی حفاظت کرے گا۔ایسے لوگوں کو ، ان کی نسلوں کو بھی اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(البقرۃ:۱۱۳)۔ یعنی جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو سو وہ سرچشمۂ قربِ الٰہی سے اپنا اجر پائے گا۔ اور اُن لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔ یعنی جو شخص اپنے تمام قویٰ کو خدا کی راہ میں لگادے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے اور حقیقی نیکی بجا لانے میں سرگرم رہے سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور حُزن سے نجات بخشے گا۔‘‘(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ۳۴۴)

ایک حدیث میں آتاہے۔معاویہ بن حَیدہ قُشیری رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مَیں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔ مَیں نے پوچھا ’’آپ کو ہمارے ربّ نے کیا پیغام دے کر بھیجا ہے اور کیا دین لائے ہیں؟‘‘آپؐ نے فرمایا:’’خدا نے مجھے دین اسلام دے کر بھیجا ہے‘‘۔مَیں نے پوچھا ’’دین اسلا م کیا ہے‘‘۔ حضورﷺ نے جواب دیا: ’’اسلام یہ ہے کہ تم اپنی پوری ذات کو اللہ کے حوالے کردو اور دوسرے معبودوں سے دست کش ہو جائو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔‘‘

(۱۔ کنزالعمّال لعلاء الدّین المتّقی الھندی۔ کتاب الایمان والاسلام من قسم الافعال۔ وفیہ اربعۃُ ابواب۔ الباب الاوّل۔ الفصل الثانی فی حقیقۃ الاسلام

۲۔ شُعَب الایمان للبیھقی۔ السادس والسّتّون من شعب الایمان۔ وھو باب فی مُبَاعدۃِ الکفّار والمفسدین والغلظۃ علیھم)

پھر ایک روایت یہ ہے۔حضرت سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول!مجھے اسلام کی کوئی ایسی بات بتائیے جس کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے یعنی میری پوری تسلی ہو جائے۔ حضورﷺنے جواب دیا :تم یہ کہو کہ مَیں اللہ تعالیٰ پرایمان لایا ، پھراس پر پکے ہو جائو اور استقلال کے ساتھ قائم رہو۔(صحیح مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب جامع اوصاف الاسلام)

صحابہ کا کیا فعل تھا۔ایک حدیث میں یہ واقعہ ہے۔ ابتداء میں جب شراب اسلام میں حرام نہیں تھی۔صحابہ بھی شراب پی لیا کرتے تھے اوراکثر نشہ بھی ہوجایا کرتا تھا۔ لیکن اس حالت میں بھی ان پردین اوردین کی عزت کا غلبہ رہتا تھا۔ یہ فکر تھی کہ سب چیزوں پر دین سب سے زیادہ مقدم ہے۔ چنانچہ جب شراب کی حرمت کا بھی حکم آیاہے تو جو لوگ مجلس میں بیٹھے شراب پی رہے تھے بعض ان میں سے نشہ میں بھی تھے۔ جب انہوں نے اس کی حرمت کا حکم سنا تو فوراً تعمیل کی۔ اس بارے میں حدیث ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں ابوطلحہ انصاری، ابوعبیدہ بن جراح اور ابی بن کعب کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ کسی آنے والے نے بتایا کہ شراب حرام ہوگئی ہے۔ یہ سُن کر ابوطلحہ نے کہا کہ انس اُٹھو اور شراب کے مٹکوں کو توڑ ڈالو۔ انس کہتے ہیں کہ مَیں اٹھا اور پتھر کی کونڈی کا نچلا حصہ مٹکوں پر دے مارا اور وہ ٹوٹ گئے۔

(صحیح بخاری۔ کتاب اخبارالاَحَادِ۔ باب ماجاء فی اجازۃ خَبَرِ الواحد الصُّدوق)

اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔ وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔ یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی ، مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دو سرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔ اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اب چاہتا ہے اور ضرور تھا کہ وہ اس مہم عظیم کے روبراہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کارخانہ جوہر ایک پہلو سے مؤثر ہو اپنی طرف سے قائم کرتا۔ سو اس حکیم و قدیر نے اس عاجز کو اصلاح خلائق کے لئے بھیج کر ایسا ہی کیا۔(فتح اسلام۔ روحانی خزائن۔ جلد ۳۔صفحہ۱۰تا ۱۲)

پھر آپؑ فرماتے ہیں: ’’جب تک انسان صدق و صفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کا بندہ نہ ہوگا تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔ جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰی(النجم:آیت۳۸) کہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا۔ تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت الٰہی سے بھرنا خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو، کوئی فرق نہ ہو۔ یہ سب باتیں دعا سے حاصل ہوتی ہیں۔ نماز اصل میں دعا کے لئے ہے کہ ہر ایک مقام پر دعا کرے لیکن جو شخص سویا ہو ا نماز ادا کرتا ہے کہ اسے اس کی خبر ہی نہیں ہوتی تو وہ اصل میں نماز نہیں۔ … پس چاہئے کہ ادائیگی نماز میں انسان سست نہ ہو اور نہ غافل ہو۔ ہماری جماعت اگر جماعت بننا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ ایک موت اختیار کرے۔ نفسانی امور اور نفسانی اغراض سے بچے اور اللہ تعالیٰ کو سب شئے پر مقدم رکھے‘‘۔

(ملفوظات۔ جدید ایڈیشن۔ جلد سوم۔ صفحہ۴۵۷۔۴۵۸)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۱۴۱تا۱۴۴)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button