ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہیں خدّام ختم المرسلیں
[انتخاب از کتاب ’’احمدیت‘‘ مصنفہ مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل (مرحوم)]
جماعت احمدیہ کے معاندین عقیدہ ختم نبوت کی خود ساختہ تشریحات کرتے ہوئے جماعت احمدیہ پر سراسر جھوٹا الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے اور یہ کہ بانیٔ جماعت احمدیہ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کر کے نعوذ باللہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ احمدیت کے مخالف مُلّاں اس قسم کی افتراپردازی پر مشتمل اشتعال انگیز زبان استعمال کر کے عوام الناس کو دھوکہ دیتے اور احمدیوں کے خلاف بھڑکاتے اور نفرت پھیلاتے ہیں۔
مسئلہ ختم نبوت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کرام اور علماء سلسلہ نے بار ہا تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور معاندین کے الزامات و اعتراضات کے کافی و شافی جوابات دیئے ہیں لیکن مُلّاؤں کی اشتعال انگیزی اور تلبیس کا سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آتا۔ اس موضوع پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ کا فرمودہ ایک تازہ خطاب اس شمارہ کی زینت ہے۔
بعض معاند مولویوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے اور اس مسئلہ کو الجھانے کے لئے کتب بھی لکھی ہیں۔ ان کے بھی جوابات جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع شدہ ہیں۔
ذیل میں ہم ایک مخالف احمدیت مولوی ابو الحسن ندوی صاحب کی کتاب ’قادیانیت‘ کے جواب میں مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل (مرحوم) کی کتاب ’احمدیت‘ سے ایک حصّہ شائع کر رہے ہیں جس میں ختم نبوت کے حوالہ سے ان کے اعتراضات کا مدلّل جواب دیا گیا ہے۔
امید ہے کہ احمدی داعیان الی اللہ ان دلائل سے اچھی طرح آگاہ ہو کر ان سے اپنی تبلیغ میں استفادہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سعید فطرت لوگوں کو حق کو پہچاننے اور قبول کرنے کی توفیق بخشے۔ (مدیر)
مولوی ابو الحسن صاحب ندوی نے احمدیت کے خلاف تنابز بالالقاب سے کام لیتے ہوئے عرصہ ہوا ایک کتاب ’’قادیانیت‘‘ کے نام سے شائع کی ہے۔ اس کے متفرق اہم سوالوں کے جوابات گاہے گاہے احمدیہ لٹریچر میں شائع ہو تے رہے ہیں۔
نظارت (اشاعت۔ناقل) کے سامنے بعض احباب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کتاب کا جواب یکجائی طور پر شائع ہونا ضروری ہے۔گو اِس کتاب کی زبان دوسرے معاندینِ احمدیت کی طرح خلافِ تہذیب نہیں لیکن یہ کتاب اپنی سپرٹ کے لحاظ سے ان کتابوں سے مختلف نہیں جو گالیاں دینے والے معاندینِ احمدیت نے شائع کی ہیں۔ کیونکہ حقیقت میں یہ کتاب بھی متعصبانہ رنگ میں احمدیت کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانے کی نیت سے لکھی گئی ہے۔ گو اس کی طرزِنگارش مستشرقین کی طرح ہے۔ اسلام کے خلاف جن مستشرقین نے کتابیں شائع کی ہیں ان کا طریق نگارش یہ رہا ہے کہ اسلام اور بانیٔ اسلام کی تعریف کرتے کرتے دودھ میں زہر ملا کر پیش کرتے ہیں اور کوئی ایسی چوٹ کر جاتے ہیں کہ جس سے پڑھنے والے کی ذہنیت اسلام اور بانیٔ اسلام کے خلاف مسموم ہو جائے۔ مگر یہ اثر بھی قائم ہو کہ لکھنے والا بڑا دیانت دار ہے کیونکہ اس نے شستہ زبان استعمال کی اور بظاہر تعصب ظاہر نہیں کیا بلکہ محققانہ رنگ اختیار کیا ہے۔ حالانکہ جو اعتراض وہ سچ کے ساتھ جھوٹ ملا کر کر جاتے ہیں وہ سراسر ان کی کسی غلط فہمی یا دانستہ مغالطہ دہی پر مشتمل ہوتا ہے۔
محترم مولوی ابو الحسن صاحب ندوی کی تصنیف ہذا بھی مستشرقین کی طرز پر ہی لکھی گئی ہے۔وہ اپنی کتاب میں حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ کی تعریف بھی کرجاتے ہیں لیکن تعریف میں زہر بھی ملا دیتے ہیں اور ایسی باتیں تحریکِ احمدیت کی طرف منسوب کر جاتے ہیں جنہیں احمدی ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ کسی کی دیانت کے خلاف رائے قائم کرنا ایک مشکل کام ہے لیکن واقعات کو نظر انداز کرنا بھی اس سے زیادہ مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احمدیت اسلام کے اندر ایک تحریک ہے نہ کہ اسلام کے علاوہ کوئی نیا دین یا ملّت۔ مگر ندوی صاحب کی اپنی کتاب میں یہ کوشش رہی ہے کہ احمدیت کو قادیانیت کا نام دے کر جو تنابز بالالقاب ہے، اسلام کے بالمقابل ایک متوازی دین ثابت کیا جائے اور اس کی بنیاد ایک نئی تشریعی نبوّت پر قرار دی جائے۔ یہ نتیجہ جو وہ نکالنا چاہتے ہیں اس میں انہوں نے سراسر حق و انصاف کا خون کیا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ کا دین نہ تو اسلام کے علاوہ کوئی دین ہے اور نہ آپ کو جدید شریعت لانے والے نبی ہونے کا دعویٰ ہے۔ البتہ ایسا الزام آپؑ کے معاندین آپؑ کے خلاف غلط فہمی اور بدگمانی پھیلانے کے لئے ضرور لگاتے آئے ہیں جس کے جواب میں حضرت مرزا غلام احمد بانیٔ سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے ہمیشہ ایسے دعویٰ سے انکار کیا ہے اور زوردار الفاظ میں واشگاف طور پر ایسے الزام کی تردید فرمائی ہے۔
ہمارے عقائد
چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں۔
٭’’ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لُبّ لُباب یہ ہے کہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہ ہمارااعتقادجو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گزران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیّین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اوروہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شُعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتااور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتاجو احکا م فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور مُلحد اور کافرہے اور ہمار ااس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہِ راست کے اعلیٰ مدارج بجُز اقتدا اُس امام الرّسل کے حاصل ہوسکیںکوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد3 صفحہ169-170)
٭’’جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنا رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جس خدا کی کلام یعنی قرآن کو پنجہ مارنا حکم ہے ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں اور فاروق رضی اﷲ عنہ کی طرح ہماری زبان پر حَسْبُنَا کِتَابَ اللّٰہ ہے اور حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی طرح اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو قرآن کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔ بالخصوص قصوں میں جو بالاتفاق نسخ کے لائق بھی نہیں ہیں۔ اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خداتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیّدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روزِحساب حق اور جنّت حق اور جہنّم حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اﷲ جلّ شانہٗ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعتِ اسلام میں سے ایک ذرّہ کم کرے یا ایک ذرّہ زیادہ کرے یا ترکِ فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔ اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبّہ پر ایمان رکھیں کہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ اور اسی پر مریں اور تمام انبیاء اور تمام کتابیںجن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے اُن سب پر ایمان لاویں اور صوم اور صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کاربند ہوں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنّت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں اُن سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے ۔‘‘
(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 323)
٭’’ہم مسلمان ہیں۔ خدائے واحد لا شریک پر ایمان لاتے ہیں اور کلمہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ کے قائل ہیں۔ اور خدا کی کتاب قرآن اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو جو خاتم الانبیاء ہے مانتے ہیں اور فرشتوں اور یوم البعث اور بہشت اور دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں۔ اور اہل قبلہ ہیں اور جو کچھ خدا اور رسول ؐ نے حرام کیا اس کو حرام سمجھتے اور جو کچھ حلال کیا اس کو حلال قرار دیتے ہیں اور نہ ہم شریعت میں کچھ بڑھاتے اور نہ کم کرتے ہیں اور ایک ذرہ کی کمی بیشی نہیں کرتے اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ہمیں پہنچا اس کو قبول کرتے ہیں چاہے ہم اس کو سمجھیں یا اس کے بھید کو سمجھ نہ سکیں اور اس کی حقیقت تک پہنچ نہ سکیں اور ہم اللہ کے فضل سے مومن موحد مسلم ہیں۔ ‘‘
(نور الحق جزء اول روحانی خزائن جلد8 صفحہ7)
٭‘‘مَیں سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں اور میری جماعت مسلمان ہے۔ اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر اُسی طرح ایمان لاتی ہے جس طرح پر ایک سچے مسلمان کو لانا چاہئے۔ مَیں ایک ذرّہ بھی اسلام سے باہر قدم رکھنا ہلاکت کا موجب یقین کرتا ہوں اور میرا یہی مذہب ہے کہ جس قدر فیوض اور برکات کوئی شخص حاصل کر سکتا ہے اور جس قدر تقرب الی اللہ پا سکتا ہے وہ صرف اورصرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اطاعت اور کامل محبت سے پا سکتا ہے ورنہ نہیں۔ آپ کے سوا اب کوئی راہ نیکی کی نہیں۔‘‘
(لیکچر لدھیانہ ، روحانی خزائن جلد20صفحہ260)
٭’’ اے تمام وہ لوگو جو زمین پر رہتے ہو! اور اے تمام وہ انسانی روحو جو مشرق اور مغرب میں آباد ہو! میں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتا ہوں کہ اب زمین پر سچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچا خدا بھی وہی خدا ہے جو قرآن نے بیان کیاہے۔ اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والا نبی اورجلال اور تقدّس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔‘‘
(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 141)
٭’’اے دوستو! یقیناً یادرکھو کہ دنیا میں سچا مذہب جو ہر ایک غلطی سے پاک اور ہر ایک عیب سے منزّہ ہے، صرف اسلام ہے۔ یہی مذہب ہے جو انسان کو خدا تک پہنچاتا اور خدا کی عظمت دلوں میں بٹھاتا ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت جلد6 صفحہ 154۔ مجموعہ اشتہارات جلد1 صفحہ158)
٭’’یہ اسلام ہی کا خاصّہ ہے کہ وہ صرف قصّوں کی ناقص اور ناتمام تسلی کو پیش نہیں کرتا بلکہ وہ ڈھونڈنے والوں کو زندہ نشانوں سے اطمینان بخشتا ہے…زندہ مذہب وہ ہے جس کے ذریعہ سے زندہ خدا ملے۔ زندہ خدا وہ ہے جو ہمیں بلا واسطہ ملہم کر سکے اور کم سے کم یہ کہ ہم بلا واسطہ ملہم کو دیکھ سکیں۔ سو میں تمام دنیا کو خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ زندہ خدا اسلام کا خدا ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت جلد6 صفحہ 14-15۔ مجموعہ اشتہارات جلد2 صفحہ12)
٭’’ہمیں بڑا فخر ہے کہ جس نبی علیہ السلام کا ہم نے دامن پکڑا ہے خدا کا اس پر بڑا ہی فضل ہے۔وہ خدا تو نہیں مگر اس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو دیکھ لیا ہے۔ اُس کا مذہب جو ہمیں ملا ہے خدا کی طاقتوں کا آئینہ ہے…ہم کیا چیز ہیں جو اِس شکر کو ادا کر سکیں کہ وہ خدا جو دوسروں پر مخفی ہے اور وہ پوشیدہ طاقت جو دوسروں سے نہاں در نہاں ہے۔ وہ ذوالجلال خدا محض اس نبی کریم کے ذریعہ سے ہم پر ظاہر ہوگیا۔‘‘
(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 381)
٭’’میرا مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے ذرا اِدھر اُدھر جانا بے ایمانی میں پڑنا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد4صفحہ519)
٭’’مَیں کھول کر کہتا ہوں اور یہی میرا عقیدہ اور مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع اور نقش قدم پر چلنے کے بغیر کوئی انسان کوئی روحانی فیض اور فضل حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ523-524)
٭’’آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم خاتم النبیّین ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب۔ اب کوئی اور کلمہ یا کوئی اور نماز نہیں ہو سکتی۔جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یا کر کے دکھایا اور جو کچھ قرآن شریف میں ہے اس کو چھوڑ کر نجات نہیں مل سکتی۔ جو اس کو چھوڑے گا وہ جہنم میں جاوے گا۔ یہ ہمارا مذہب اور عقیدہ ہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ 558)
٭’’ عقیدہ کے رُو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اُس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے۔‘‘
(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15-16)
٭’’مَیں بار بار کہتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سچی محبت رکھنا اور سچی تابعداری اختیار کرنا انسان کو صاحبِ کرامات بنا دیتا…… چنانچہ میں اس میں صاحبِ تجربہ ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ بجز اسلام تمام مذہب مردے، ان کے خدا مردے اور خود وہ تمام پَیرو مردے ہیں اور خداتعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق ہو جانا بجز اسلام قبول کرنے کے ہرگز ممکن نہیں۔ ہرگز ممکن نہیں۔‘‘
(تبلیغِ رسالت جلد6 صفحہ18۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 15-16)
٭’’مَیں مسلمان ہوں ۔ قرآن کریم کو خاتم الکتب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم الانبیاء مانتا ہوں اور اسلام کو ایک زندہ مذہب اور حقیقی نجات کا ذریعہ قرار دیتا ہوں۔ خداتعالیٰ کی مقادیر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتا ہوں۔ اسی قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہوں۔ اتنی ہی نمازیں پڑھتا ہوں۔ رمضان کے پورے روزے رکھتا ہوں۔‘‘
(ملفوظات جلد1 صفحہ375)
’ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں
دل سے ہیں خدّام ختم المرسَلیںؐ
شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں
خاکِ راہِ احمدِؐ مختار ہیں
سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے
جان و دل اس راہ پر قربان ہے‘
(ازالۂ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد3 صفحہ514)
’’ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دیں دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے
کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے
یہ ثمر باغِ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے
ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا
نور ہے نور! اٹھو! دیکھو! سنایا ہم نے
اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا
کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد5صفحہ 224)
٭اپنی نبوّت کے متعلق آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میری مراد نبوّت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوّت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوّت سے کثرتِ مکالمات و مخاطبتِ الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع سے حاصل ہے ۔ سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوّت رکھتا ہوں۔ وَلِکُلٍّ اَنْ یَّصْطَلِحَ۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22صفحہ503)
نیز اپنے آخری خط مندرجہ اخبار عام میں تحریر فرماتے ہیں:۔
’’یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوّت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعتِ اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں۔ یہ الزام صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ایسا دعویٰ نبوّت کا میرے نزدیک کفر ہے اور نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوّت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں۔‘‘
(اخبار عام لاہور 23ـ مئی 1908ء)
نزول المسیح میں تحریر فرماتے ہیں:۔
’’اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں نبی اور رسول نہیں ہوں باعتبار نئی شریعت اور نئے دعویٰ اور نئے نام کے۔ اور میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیّتِ کاملہ کے۔ وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوّت کا کامل انعکاس ہے۔‘‘
(نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد18 حاشیہ صفحہ 381)
ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے اسلام کے بالمقابل کسی متوازی دین یا شریعتِ جدیدہ کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ آپ کا دعویٰ ظِلّی اور انعکاسی نبوّت کا ہے اور یہ مقام آپ کو باتباعِ نبویؐ حاصل کرنے کا دعویٰ ہے۔ نہ مستقل طور پر براہِ راست نبوّت پانے کا دعویٰ۔ آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ آپ ایک پہلو سے نبی ہیں اور ایک پہلو سے اُمّتی۔ کیونکہ احادیث نبویہ میں آنے والے مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے نواس بن سمعانؓ کی روایت میں چار دفعہ نبی اللہ قرار دیا ہے۔ (صحیح مسلم باب خروج الدجال) اور بخاری اور مسلم کی روایات میں اس مسیح موعود کو اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور فَاَمَّکُمْ مِنْکُمْ کے الفاظ میں اُمّتی فرد ہونے کی حیثیت میں اُمّت کا امام بھی قرار دیا ہے۔(باب نزول عیسیٰ) اور مسند احمد بن حنبل کی روایت کے مطابق موعود عیسیٰ کو ہی یُوْشکُ مَنْ عَاشَ مِنْکُمْ اَنْ یَّلْقٰی عِیْسیَ ابْنَ مَرْیَمَ اِمَامًا مَّھْدِیًّا کے الفاظ میں امام مہدی قرار دیا گیا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد6، صفحہ 411مطبوعہ بیروت) انہی پیشگوئیوں کے مطابق آپ کو اُمّتی نبوّت کا دعویٰ ہے نہ کہ مستقلہ نبوّت کا۔
جب سرے سے آپ کا مستقلہ نبوّت کا دعویٰ ہی نہیں تو کسی مستقل شریعت کا دعویٰ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسے دعاوی سے آپ نے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ چنانچہ آپؑ تحریر فرماتے ہیں:۔
’’جس جس جگہ مَیں نے نبوّت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔‘‘
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210-211)
چونکہ اس قسم کا دعویٰ مولوی ابو الحسن ندوی کے نزدیک ختم نبوّت کے منافی نہ تھا۔ اس لئے حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ کے خلاف غلط فہمی پھیلانے اور آپ سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لئے انہوں نے آپ پر ہی اپنی اس کتاب میں یہ الزام دے دیا ہے کہ آپ کا دعویٰ جدید شریعت لانے اور مستقل نبی ہونے کا ہے۔
خاتم النبیّین کے کن معنوں پر اجماع ہے؟
ندوی صاحب اس بات کو خوب جانتے تھے کہ آیت خاتم النبیّین کی رُو سے اُمّت کا اجماع صرف اس بات پر ہوا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا یا مستقل نبی نہیں آسکتا۔ جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے فرمایا ہے لَا یَأْتِی بَعْدَہٗ نَبِیٌّ مُسْتَقِلٌّ بِالتَّلَقِّیْ (الخیر الکثیر صفحہ 80) اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اُمّت محمدیہ کے اندر نبی کا ہونا ختم نبوّت کے منافی نہیں کیونکہ حضرت ملا علی القاری علیہ الرحمۃ نے خاتم النبیّین کے معنی یہ کئے تھے اَلْمَعْنٰی اَنَّہٗ لَا یَاْتِیْ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ یَنْسِخُ مِلَّتَہٗ وَ لَمْ یَکُنْ مِنْ اُمَّتِہٖ(موضوعاتِ کبیر صفحہ 59) کہ آیت خاتم النبیّین کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپؐ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمّت میں سے نہ ہو گویا ایسے نبی کی آمد جو شریعت کو منسوخ نہ کرے اور اُمّت میں سے ہو آیت خاتم النبیّین کے منافی نہیں۔
پھر مولوی صاحب موصوف یہ بھی جانتے تھے کہ حدیث لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کی تشریح علماء نے یہ بھی کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں آسکتا جیسا کہ حضرت امام علی القاری نے لکھا ہے:
’’حَدِیْثٌ لَا وَحْیَ بَعْدِیْ بَاطِلٌ لَا اَصْلَ لَہٗنَعَمْ وَرَدَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ مَعْنَاہُ عِنْدَ الْعُلَمَآءِ لَا یَحْدِثُ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ بِشَرْعٍ یَنْسِخُ شَرْعَہٗ۔‘‘
(الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ صفحہ 226 اور المشرب الوردی فی مذھب المہدی)
کہ یہ حدیث کہ میرے بعد وحی نہیں ہو گی باطل ہے البتہ حدیث لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وارد ہے جس کے معنی علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آئندہ ایسا کوئی نبی نہیں پیدا ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت کو منسوخ کرے۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے یہ بھی لکھا ہے:۔
’’ان النبوۃ تتجزی و جزع منہا باق بعد خاتم الانبیاء‘‘۔
(المسوی شرح المؤطا جلد2 صفحہ 216، مطبوعہ دہلی)
کہ ’’نبوّت قابل انقسام ہے اور اس کا ایک حصہ خاتم الانبیاء کے بعد باقی ہے۔‘‘
آپ کا یہ قول صحیح بخاری کے قول لَمْ یَبْقَ مِنَ النَّبُوَّۃِ اِلَّا الْمُبَشِّرَات کے مطابق ہے کہ نبوّت میں سے مبشرات کا حصہ باقی ہے۔
مولوی صاحب جانتے تھے کہ مسیح موعود جس کی آمد اُمّت میں متوقع چلی آتی ہےحدیث نبوی کے مطابق تشریعی اور مستقل نبی کی حیثیت میں نہیں آئیں گے کیونکہ تشریعی اورمستقل نبوّت تو بموجب حدیث نبوی باقی نہیں رہی اور وہ صرف مبشرات پانے کی وجہ سے نبی کہلائیں گے اور اُمّت محمدیہ کے لئے حکم و عدل ہوں گے۔ اسی منصب کے پانے کا حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ ہے۔
مسئلہ ختم نبوّت میں ہمارے اور مولوی ابوالحسن صاحب ندوی کے خیال میں اصولی طور پر کوئی اختلاف نہیں، نہ مسیح موعود کے اس منصب کے بارہ میں کوئی اختلاف ہے کہ وہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمّتی ہو گا۔ اگر اختلاف ہے تو وہ صرف مسیح موعود کی شخصیت میں ہے۔
ہمارے نزدیک مولوی ابو الحسن صاحب اس خیال میں غلطی پر ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور وہی اِصَالتًا دوبارہ نازل ہوں گے۔ ہمارے نزدیک قرآن و حدیث کی رُو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دیگر انبیاء کی طرح وفات پا چکے ہوئے ہیں اور جس مسیح کے نزول کی پیشگوئی تھی اس کا مصداق اُمّت محمدیہ کا ہی ایک فرد تھا۔ ہمارے نزدیک یہ پیشگوئی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے وجود میں پوری ہو گئی ہے اور آپ ہی اس اُمّت کے لئے مہدی معہود اور مسیح موعود ہیں۔
مولوی ابو الحسن صاحب ندوی حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ کے اس دعویٰ کو کہ آپ ایک پہلو سے نبی ہیں اور ایک پہلو سے اُمّتی آیت خاتم النبیّین اور حدیث لَا نَبِیَّ بَعْدِی کے مخالف تو نہیں پاتے تھے مگر چونکہ آپ کو قبول کرنے کے لئے بھی آپ کا دل مائل نہیں تھا اس لئے انہوں نے یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کی ڈیوٹی اپنے ذمہ لے کے آپ کی طرف یہ دعویٰ منسوب کر دیا ہے کہ آپ نئی شریعت لانے والے مستقل نبی ہونے کے دعویدار ہیں۔
مولوی ابو الحسن ندوی کا افتراء
ندوی صاحب نے مستقل نبوّت کے عنوان کے تحت لکھا ہے:۔
’’مرزا صاحب کی تصنیفات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی مستقل صاحبِ شریعت ہونے کے قائل تھے۔‘‘ (قادیانیت صفحہ 94)
مولوی ابو الحسن صاحب کا حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ پر نبی مستقل ہونے کا الزام بہتانِ عظیم اور افتراء ہے۔ مگر اس امرکو ثابت کرنے کے لئے وہ لکھتے ہیں:۔
’’انہوں نے ’اربعین‘ میں تشریعی یا صاحبِ شریعت کی تعریف کی ہے کہ جس کی وحی میں امر و نہی ہو اور وہ کوئی قانون مقرر کرے اگرچہ یہ امر ونہی کسی سابق نبی کی کتاب میں پہلے آچکے ہوں۔ ان کے نزدیک صاحبِ شریعت نبی کے لئے اس کی شرط نہیں کہ وہ بالکل جدید احکام لائے۔ پھر وہ صاف صاف دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس تعریف کے مطابق صاحبِ شریعت اور مستقل نبی ہیں۔‘‘
(قادیانیت صفحہ95)
اس کے بعد انہوں نے ’اربعین‘ کی عبارت پیش کی ہے مگر اس عبارت میں مستقل نبی کے الفاظ موجود نہیں۔ وہ عبارت یہ ہے:۔
‘‘ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی اُمّت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رُو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذَالِکَ اَزْکٰی لَھُمْ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی……
اگر کہوکہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُوْلٰى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسیٰ (الأَعلىٰ 19-20)یعنی قرآنی تعلیم توریت میں موجودہے۔‘‘
(اربعین، روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 435-436)
اس عبارت کے منطوق سے ظاہر ہے کہ یہ عبارت بطور الزامِ خصم کے لکھی گئی ہے اور اس میں الزامی رنگ میں مخالفین پر حجت قائم کی گئی ہے۔ مگر اس میں آپ نے مستقل صاحبِ شریعت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ مستقل نبی ہونے کا دعویٰ ایک سراسر جھوٹا الزام ہے۔ اربعین 1900ء میں شائع ہوئی۔ اس میں حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے اصطلاحی نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ اس سے انکار کیا ہے۔
اس کے بعد 1901ء میں اشتہار ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں لکھتے ہیں:۔
’’جس جس جگہ میں نے نبوّت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر شریعت لانے والا نبی نہیں ہوں اور نہ مستقل طور پر نبی ہوں۔‘‘
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210)
پس ایسی واضح عبارت کی موجودگی میں جو اربعین سے بعد کی ہے۔ ایک محقق عالم کا فرض ادا کرتے ہوئے ندوی صاحب کا فرض تھا کہ وہ حضرت بانی ٔسلسلہ احمدیہ پر مستقل صاحبِ شریعت نبی ہونے کا الزام نہ لگاتے کیونکہ آپ صاف لفظوں میں ایسے دعویٰ سے انکار کر رہے ہیں۔
مولوی صاحب موصوف نے ’اربعین‘ کی عبارت بھی ادھوری پیش کی ہے۔ اور اس کے بعد کی اس عبارت کو لوگوں کی نگاہ سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں:
٭’’ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن ربّانی کتابوں کا خاتم ہے۔ تاہم خداتعالیٰ نے اپنے نفس پر حرام نہیں کیا کہ تجدید دین کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو، جھوٹی گواہی نہ دو، زنا نہ کرو، خون نہ کرو اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔ ‘‘
(اربعین نمبر4 ، روحانی خزائن جلد 17، حاشیہ صفحہ435)
نیز فرماتے ہیں:۔
٭’’میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔‘‘
(اربعین نمبر4 ، روحانی خزائن جلد 17، حاشیہ صفحہ435)
ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ آپؑ پر جو اوامرو نواہی نازل ہوئے وہ بیانِ شریعت اور تجدیدِ دین کے طور پر ہیں۔ نہ شریعت محمدیہ سے کسی الگ شریعت کے طور پر۔ لہٰذا آپ کو جدید شریعت ،مستقل نبی، یا تشریعی نبی، یا مستقلہ شریعت رکھنے والا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ اربعین میں نہ مستقل نبی یا مستقلہ شریعت رکھنے کا کوئی دعویٰ موجود ہے۔ نہ اس کے بعد کی تحریروں میں ایسا کوئی دعویٰ موجود ہے۔
ایک تحریر ہم ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کی پیش کر چکے ہیں جس میں صاف لکھا ہے کہ آپ کو مستقل نبی ہونے یا مستقل شریعت لانے کا دعویٰ نہیں۔ یہ 1901ء کی کتاب ہے۔
پھر 1905ء کی کتاب ’’الوصیت‘‘ میں لکھتے ہیں:
٭’’خوب یاد رکھنا چاہئے کہ نبوّت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطّل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔‘‘
(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20، حاشیہ صفحہ311)
پھر اس کے بعد ’’تجلّیاتِ الٰہیہ‘‘ کے صفحہ9 پر تحریر فرماتے ہیں:۔
٭’’نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرفِ مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ حاصل کرے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو۔ یہ نہیں کہ وہ کوئی دوسری شریعت لائے کیونکہ شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر ختم ہے……اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی پر نبی کے لفظ کا اطلاق بھی جائز نہیں جب تک کہ اس کو اُمّتی بھی نہ کہا جائے ۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی سے پایا نہ براہِ راست۔‘‘
(تجلّیاتِ الٰہیہ، روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 401 حاشیہ)
پھر اپنی آخری کتاب ’’چشمۂ معرفت‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:۔
٭’’ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوّت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلا شبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔‘‘
(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 حاشیہ صفحہ 340)
ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک اپنے آپ کو اُمّتی نبی قرار دیتے رہے۔ نہ کوئی شریعتِ جدیدہ لانے والے نبی یا مستقل نبی۔
اربعین کی عبارت جیسا کہ قبل ازیں بیان کیا گیا ہے بطور الزامِ خصم کے ہے۔
حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ کو مخالفین کے سامنے اس طرح اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کیا تھا کہ یہ آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت کی روشن دلیل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہم پر کوئی جھوٹا قول باندھ لیتے تو ہم انہیں دائیں ہاتھ سے پکڑ کر ان کی رگِ گردن کاٹ دیتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی مفتری اور متقوّل علی اللہ اپنے وحی و الہام کے دعویٰ کے بعد 23 سال کی لمبی عمر نہیں پا سکتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے پائی۔ حضر ت بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے بتایا کہ میرے وحی و الہام کے دعویٰ پر بھی اتنا عرصہ گزرچکا ہے لہٰذا یہ آیت میری صداقت پر بھی روشن دلیل ہے۔
اس پر بعض مخالفین نے کہا کہ یہ آیت تو صرف صاحبِ شریعت مدّعی کے لئے معیار ہو سکتی ہے۔ اس کے جواب میں حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے فرمایا کہ تمہارا یہ دعویٰ باطل ہے۔ خدا تعالیٰ نے افتراء کے ساتھ شریعت کی قید نہیں لگائی۔ پھر الزامی رنگ میں فرمایا کہ جس امر کو تم شریعت کہتے ہو وہ اوامر و نواہی ہوتے ہیں اور یہ چیز میرے الہامات میں موجود ہے لہذا تم لوگوں پر میرا ماننا تمہارے مسلّمہ معیار کی رُو سے حجت ہوا۔
پھر اس خیال سے کہ کوئی آپ کو مستقل صاحبِ شریعت نبی ہونے کا مدّعی نہ قرار دے آپ نے اس عبارت کے ساتھ ہی تحریر فرمایا کہ آپ کے اوامر و نواہی بطور تجدید دین اور بیان شریعت کے ہیں۔
تعجب کا مقام ہے کہ اس وضاحت کے باوجود مولوی ابوالحسن ندوی حضرت بانی ٔسلسلہ احمدیہ پر اوامر و نواہی کے نزول سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ آپ کو مستقل صاحبِ شریعت نبی ہونے کا دعویٰ تھا۔ حالانکہ آپ کی تصنیفات شروع سے آخر تک اس بات پر روشن دلیل ہیں کہ آپ نے باتباع نبوی صلی اللہ علیہ و سلم وحی و الہام پانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نہ بالاستقلال۔ آپ کے لٹریچر میں سے ایک فقرہ بھی اس مفہوم کا دکھایا نہیں جا سکتا کہ آپؑ مستقل نبی ہیں یا مستقل صاحبِ شریعت نبی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اپنے آپ کو یا ظِلّی اور بروزی نبی قرار دیا ہے یا ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمّتی۔ تا یہ امر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے افاضہ ٔروحانیہ پر گواہ ہو۔
پس مولوی ابو الحسن صاحب ندوی کا حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ پر سراسر افتراء ہے کہ انہوں نے مستقل صاحبِ شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
شریعت کے احکام پر مشتمل الہامات بزرگان دین کو بھی ہوئے
شریعت کے اوامر و نواہی پر مشتمل الہامات تو اُمّت کے بزرگوں پر بھی نازل ہوتے رہے مگر انہیں کبھی نہ کسی نے مستقل صاحبِ شریعت ہونے کا مدعی قرار دیا ہے اور نہ خود انہوں نے مستقل صاحبِ شریعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے کیونکہ اوامر و نواہی پر مشتمل الہامات ان بزرگوں پر بواسطہ اتباع نبوی نازل ہوئے ہیں۔ پس بالواسطہ صاحبِ شریعت ہونے اور مستقل صاحبِ شریعت ہونے میں بُعد المشرقین ہے۔ دیکھئے فتوحات مکیّہ جلد2 صفحہ 258 پر لکھا ہے:۔
’’تنزل القرآن علی قلوب الاولیاء ما انقطع مع کونہ محفوظالھم ولٰکنَّ لھم ذوق الانزال وھٰذا لبعضھم‘‘
(فتوحات مکیہ الباب التاسع و خمسون و مائۃ فی مقام الرسالۃ البشریۃ)
ترجمہ: قرآن کریم کا نزول اولیاء کے قلوب پر منقطع نہیں باوجودیکہ وہ ان کے پاس اپنی اصلی صورت میں محفوظ ہے۔ لیکن اولیاء اللہ پر نزول قرآنی کے ذوق کی خاطر قرآن ان پر نازل ہوتا ہے۔ اور یہ شان صرف بعض اولیاء کو ہی عطا کی جاتی ہے۔
مزید دیکھئے:۔
1 ۔ حضرت محی الدین ابن عربیؒتحریر فرماتے ہیں مجھ پر ذیل کی آیات نازل ہوئیں:
قُلْ آَمَنَّا بِاللہِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عَلَی إِبْرَاہِيمَ وَ إِسْمَاعِيلَ وَ إِسْحَاقَ وَ يَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسیٰ وَعِيسیٰ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّہِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْہُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ۔
(اٰل عمران85:)
یہ ساری کی ساری آیت آپ پر الہاماً نازل ہوئی۔
(فتوحات مکیہ،باب فی معرفۃ منزل التوکل الخامس الذی ما کشفہ احد من المحققین جلد3 صفحہ 341)
(مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت الطبعۃ الاولیٰ 1998م)
ب۔ حضرت خواجہ میر درد علیہ الرحمۃ پر مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں جو امر و نہی پر مشتمل ہیں:۔
1۔ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْن۔
2۔ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَ لَا تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ۔
3۔ وَمَا اَنْتَ بِھَادِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلَالَتِھِمْ۔
(علم الکتاب، صفحہ 64)
ج۔ حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی پر مندرجہ ذیل آیات امرونواہی نازل ہوئیں:۔
1۔ فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ۔
2۔ وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَوٰۃِ وَالْعَشِیِّ۔
3۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔
4۔ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَاوَاتَّبَعَ ھَوٰہُ۔
(رسالہ اثبات الالہام والبیعۃ مؤلفہ مولوی محمد حسن رئیس لدھیانہ و سوانح عمری مولوی عبد اللہ غزنوی ازمولوی عبد الجبار غزنوی صفحہ 25 مطبوعہ مطبع القرآن امرتسر)
د۔ امام عبد الوہاب شعرانی مسیح موعود کے متعلق لکھتے ہیں:
فَیُرْسِلُ وَلیًّا ذَا نُبُوَّۃٍ مُطْلِقَۃٍ وَیُلْھَمُ بِشَرْعِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَیَفْہَمُہٗ عَلٰی وَجْھِہٖ۔
(الیواقیت والجواہر جلد 2 صفحہ 89 بحث نمبر 471)
ترجمہ: مسیح موعود نبوّت مطلقہ رکھنے والے ولی کی صورت میں بھیجا جائے گا۔ اس پر شریعت محمدیہ الہاماً نازل ہو گی اور وہ اسے ٹھیک ٹھیک سمجھے گا۔
پس مسیح موعود پر الہاماً شرع محمدیہ کے بعض اوامر و نواہی کا نزول اس کو مستقل صاحبِ شریعت نبی نہیں بناتا۔ کیونکہ اسے نبی الاولیاء ہی قرار دیا گیا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ غیر تشریعی نبی ہی ہو گا۔ پس قرآن کریم کا مسیح موعود پر الہاماً نزول جب پہلے بزرگوں کے نزدیک بھی اُسے مستقل صاحبِ شریعت نبی نہیں بناتا تو مولوی ابوالحسن صاحب ندوی کا اربعین کی زیرِ بحث عبارت سے حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ پر یہ الزام دینا کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ مستقل نبی اور مستقل صاحبِ شریعت ہونے کے دعویدار تھے۔
افسوس ہے کہ مخالفین بانیٔ سلسلہ احمدیہ کے خلاف لکھتے ہوئے خوف خدا کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور لوگوں کو آپ سے بدظَن کرنے کے لئے آپ پر افتراء کرنے سے بھی نہیں چُوکتے۔
