کہا حضور نے ہمیں کہ زندگی نماز ہے
ہمارے تین حلقوں کی مجلس عاملہ نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مورخہ 28جنوری 2018ء کو ملاقات کا شرف پایا۔ حضور انور نے نماز باجماعت کی از حد تاکید فرمائی۔ اسی روز یہ نظم لکھی گئی۔
ہو جس کی تم تلاش میں وہ دِلکشی نماز ہے
کہا حضور نے ہمیں کہ زندگی نماز ہے
………٭٭٭………
ہزار کام ہوں تمہیں، یہ اوّلین کام ہو
نماز کا ، نماز کا ، نماز کا قیام ہو
اگرچہ پانچ وقت کا ضرور التزام ہو
نماز فجر اور عشاء کا خاص اہتمام ہو
یہ زندگی ہے بندی تو بندگی نماز ہے
کہا حضور نے ہمیں کہ زندگی نماز ہے
………٭٭٭………
نماز، مسجدوں میں جا کے سب ادا کیا کرو
یہ بندگی قبول ہو، خدا سے یہ دعا کرو
جو غفلتوں میں ہیں پڑے، انہیں بھی یہ کہا کرو
جو اوّلین فرض ہے وہ فرض تو ادا کرو
یہ جسم و جاں کی تازگی یہ دلکشی نماز ہے
کہا حضور نے ہمیں کہ زندگی نماز ہے
………٭٭٭………
جو عاملہ کے لوگ ہیں وہ خود بھی اک مثال ہوں
خدا کرے کہ اس طرح یہ لوگ باکمال ہوں
گزر رہے ہیں جو یہ ماہ و سال لازوال ہوں
رہے خیال، بعد میں نہ باعث ملال ہوں
کہ روح سوزو ساز کی یہ نغمگی نماز ہے
کہا حضور نے ہمیں یہ زندگی نماز ہے
………٭٭٭………
سوال یہ تھا خدمتوں کو کس طرح ادا کریں؟
یہ مانتے ہیں آپ نے کہا ہے کہ دعا کریں
کوئی سنے ہی نہ اگر تو پھر وہاں یہ کیا کریں؟
سوال یہ تھا کس طرح سے اپنے حق ادا کریں؟
جواب یہ تھا الجھنوں کا حل یہی نماز ہے
حضور نے کہا ہمیں کہ زندگی نماز ہے
………٭٭٭………
وصال یار کا وہ دن عجب تھا خواب خواب سا
کہ رُوبرو وہ شخص تھا حسین ماہتاب سا
حلیم سا وہ با سُخن شفیق سا گلاب سا
زمانے بھر کی ظلمتوں میں نور آفتاب سا
وہ کہہ رہا تھا چاند سا کہ روشنی نماز ہے
کہا حضور نے ہمیں کہ زندگی نماز ہے
………٭٭٭………
وہ بزمِ وصلِ یار تھی، میں نُور میں نہا گیا
وہ آفتاب شخص تھا چراغ سَو جلا گیا
وہ کر کے درگزر ہمیں ، سبق یہی سکھا گیا
وہ راستہ بہشت کا بتا گیا ، دکھا گیا
کہ اصل میں قرار جاں، خوشی خوشی نماز ہے
کہا حضور نے ہمیں کہ زندگی نماز ہے
٭…٭…٭
(مبارک صدیقی)
