جماعت احمدیہ ہیٹی کے دوسرے جلسہ سالانہ کا کامیاب اور بابرکت انعقاد
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا جلسہ کے لئے خصوصی پیغام۔مختلف موضوعات پر تقاریر۔ صدر مملکت ہیٹی کے نمائندہ اور ویسٹ ڈپارٹمنٹ کے نمائندہ کی شرکت اور جماعت احمدیہ کے رفاہی کاموں پر خراج تحسین
(رپورٹ قیصر محمود طاہر۔ صدر و مبلغ انچارج ہیٹی)

جماعت احمدیہ ہیٹی کو 28اور29اپریل 2018ء بروز ہفتہ و اتوار اپنا دوسرا جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔
جلسہ کی تیاری تقریبًا چار ماہ بل شروع کر دی گئی تھی۔تمام جماعتوں کے دورے کر کے احباب جماعت کو جن کی اکثریت نو احمدیوں پر مشتمل ہے جلسہ سالانہ کی تاریخی حیثیت، اس کی غرض و غایت اور اہمیت کے بارہ میں بتایا گیا۔ جلسہ گاہ اور رہائش گاہ کے طورپر ایک ہال مناسب کرایہ پر حاصل کیا گیا۔ جلسہ سے ایک ماہ قبل افراد جماعت کی ایک تربیتی کلاس نیشنل ہیڈ کوارٹر پورٹ آف پرنس میں منعقد کی گئی جس میں 32 شاملین کو جلسہ کے جملہ انتظامات کے حوالہ سے تربیت دی گئی۔ مختلف ملکوں کے جلسوں کی ایم ٹی اے سے ویڈیوز دکھائی گئیں۔ جلسہ میں نعروں کی روایت کے بارہ میں بتایا گیا اور انہیں بعض عمومی نعرے بھی سکھائے گئے۔
جلسہ سے پانچ دن قبل سات افراد کی ٹیم کو جلسہ کے انتظامات کے لئے ہیڈ کوارٹر بلا لیا گیا جنہوں نے رہائش گاہوں ، طعام گاہ اور جلسہ گاہ کی تزئین و آرائش کے لئے بھر پور معاونت کی۔
حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہماری درخواست پر ازراہ شفقت جلسہ کے لئے اپنا خصوصی پیغام عنایت فرمایا۔
جلسہ میںشمولیت کے لئے سابق نگران ہیٹی و حال پرنسپل جامعہ احمدیہ کینیڈا مکرم مولانا داؤد احمد حنیف صاحب مبلغ سلسلہ کو مہمان خصوصی کے طور پر دعوت دی گئی۔
جلسہ کا پروگرام اور دعوت نامے چھپوا کر دیگر مہمان و زیر تبلیغ احباب و خواتین اور تمام جماعتوں میں بھجوا دیئے گئے۔اسی طرح جلسہ گاہ کی تزئین و آرائش کے لئے خوبصورت بینرز تیار کر وا ئے گئے۔
چونکہ یہاں جماعت نو احمدیوں پر مشتمل ہے اور علمی اور تربیتی لحاظ سے ابتدائی مراحل میں ہے اس لئے خاکسار نے خود لوکل مقررین کو فرنچ زبان میں تقاریر تیار کر کے دیں او ر جلسہ سے قبل ان کی تیاری کروائی۔
جلسہ کے جملہ انتظامات کو بخیر و خوبی انجام دینے کے لئے جلسہ کمیٹی بنائی گئی جس کے ذمہ مختلف شعبہ جات کی نگرانی کا کام تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے مکرم سلیمان احمد صاحب نے افسر جلسہ سالانہ کے طور پر فرائض سر انجام دیئے۔
جلسہ کے مہمانوں کی آمد پانچ دن قبل شروع ہو چکی تھی۔ مکرم مولانا داؤد احمد حنیف صاحب جلسہ سے دو روز قبل 26اپریل کو تشریف لائے۔ ان کی آمداحباب جماعت کے لئے حوصلہ افزائی کا موجب بنی۔ اسی طرح خاکسار کو ان کی راہنمائی اور دعاؤں سے مستفید ہونے کی توفیق ملی۔
جلسہ میں ملک کے طول و عرض سے حال ہی میں قائم ہونے والی جماعتوں سے احباب نے بڑے جوش و خروش سے شرکت کی۔ ملک کے انتہائی شمالی ریجن کے گاؤں بوشاں سے 51افراد 50کلومیٹر کا پیدل اور موٹر سائیکلوں پر سفر طے کر کے قریبی شہر ہورٹ دے پے پہنچے جہاں انہوں نے رات بس سٹینڈ پر گزاری۔مزید 46افراد کا قافلہ اسی شہر سے ان کے ساتھ شامل ہوا۔ اس طرح 100 افراد پر مشتمل یہ جلسہ کا قافلہ دن اور رات کا طویل اور دشوار گزار سفر طے کر کے جلسہ میں شامل ہوا۔ہیٹی چونکہ پہاڑی ملک ہے اس لئے یہاں سفر بہت کٹھن اور مہنگا ہے اور بعض علاقوں میں چند کلو میٹر سفر کے لئے کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
اللہ کے فضل سے 28 اپریل کی دوپہر تک تمام قافلے پہنچ چکے تھے۔ جلسہ کا افتتاح دو بجے تھا۔

جلسہ کا پہلا دن
پروگرام کے مطابق جلسے کا باقاعدہ افتتاح دو بجے دوپہر مکرم مولانا داؤد احمد حنیف صاحب نے لوائے احمدیت اور خاکسار (قیصر محمود طاہر) نے لوائے ہیٹی لہراکر کیا۔ پر چم کشائی کے بعد دعا سے جلسہ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
مولاناداؤد احمد حنیف صاحب نے نماز ظہر و عصر پڑھائیں۔پہلے سیشن کی کاروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے پونے تین بجے ہوا۔ اس سیشن کی صدارت خاکسار (قیصر محمود طاہر صاحب صدر و مبلغ انچارج جماعت ہیٹی) نے کی۔ تلاوت قرآن کریم اور قصیدہ اور ان کے فرنچ ترجمہ کے بعد حضور انور ایدہ للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا پیغام مولانا داؤد احمد حنیف صاحب نے انگریزی زبان میں اور خاکسار نے اس کا فرنچ ترجمہ اور مکرم نور جنیل صاحب نے کریول (لوکل) زبان میں ترجمہ پیش کیا۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کا اردو مفہوم ذیل میں پیش ہے۔
خصوصی پیغام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
حضور انور نے اپنے پیغام میں افراد جماعت احمدیہ ہیٹی کے نام محبت بھرے سلام کے بعد فرمایا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جماعت احمدیہ ہیٹی اپنا دوسرا جلسہ سالانہ 29اپریل کو منعقد کر رہی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو عظیم کامیابی سے نوازے اور تمام شاملین جلسہ اس مقدس موقع پر اس کی روحانی برکات سے مستفیض ہوں۔
حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ نے مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے۔ آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح موعود کی بعثت کے دو بڑے مقاصد تھے۔ پہلا یہ کہ مومنین کی ایک ایسی جماعت تشکیل دی جائے جو اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق قائم کرنے کے لئے کوشش کرے اور اس کی عبادت کو زندگی کا مقصد بنالے۔ دوسرے یہ کہ وہ انسانیت کی خدمت کریں اور اسلام کی خوبیوں کو دنیا میں پھیلائیں۔
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس پیغام میں فرمایا کہ اس کے لئے آپ کو بہترین احمدی مسلمان بننے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے کہ آپ ان تمام شرائط بیعت پر پورا اتریں جو آپ نے عہد بیعت میں کی ہیں۔ آپ کو ہمیشہ اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے اور اپنی حالتوں کو بہتر بنانا چاہئے تا کہ آپ نیکی اور تقویٰ میں مسلسل آگے بڑھتے رہیں۔ ہر کام اور ہر عمل میں وقار کا خیال رکھیں اور مخلوق خدا کی اور با لخصوص بنی نوع انسان کی ہمدردی کا خیال رکھیں اور اس طرح مثالی احمدی مسلمان بنیں ۔ یاد رکھیں کہ اگر آپ اپنی روحانی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کرتے تو مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے اور جماعت کا ممبر بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ کو پنچوقتہ نماز با جماعت ادا کرنی چاہئے۔ دلی خلوص کے ساتھ ذکر الٰہی کرنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ سے ذاتی اور قربت کا تعلق قائم ہو۔ اسی طرح ملک کے مثالی شہری بنیں اور اپنے وطن سے محبت کا اظہار کریں کیونکہ آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کا ایک بنیای جزو ہے کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
حضور نے اپنے پیغام میں فرمایا کہ آپ کثرت سے ایم ٹی اے دیکھیں اور میرے خطبہ جمعہ اور مختلف مواقع پر خطابات کو باقاعدہ سنیں۔ اس سے آپ کا خلافت کے ساتھ اخلاص کا تعلق بڑھے گا اور برکات خلافت سے حصہ پائیں گے۔اپنی نسلوں کو بھی خلافت کی برکات سے آگاہ کریں اور انہیں خلافت سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی نصیحت کریں۔ آج اسلام کے احیاء کا کام نظام خلافت سے جڑ کر ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔اس لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں کہ آپ اور آپ کی آئندہ نسلیں ہمیشہ خلافت کی با برکت رہنمائی اور پناہ میں رہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ تبلیغ ہر احمدی کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے اس لئے تبلیغ کے لئے راستے تلاش کریں اور نہ صرف ہیٹی بلکہ دوسرے علاقہ کے لوگوں تک اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچائیں۔
حضور انور نے پیغام کے آخر پر دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم کامیابیوں سے نوازے اور آپ سب کو تقویٰ اور روحانیت میں بڑھتے چلے جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور آپ کو تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق اور خدمت انسانیت کے لئے حقیقی تبدیلیاں اپنی زندگیوں میں پیدا کرنے کی توفیق بخشے۔
… … … … … … … …
تمام احباب نے حضور انور کے پیغام کو بڑی محبت اور توجہ سے سنا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور کی نصائح پر عمل کرنے کی اور حضور کی دعاؤں سے حصہ پانے کی توفیق عطا فرمائے۔
… … … … … … … …
اس کے بعد بعض تقاریر ہوئیں۔ سیرۃ و سوانح حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ (مقرر سلیمان احمد صاحب)، آنحضور ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں (مقرر نور جنیل صاحب)، آنحضور ﷺ کے بارے میں غیروں کی آراء (مقرر عبد السلام صاحب)، آنحضور ﷺ کے اعلیٰ اخلاق معافی اور در گزر (مقرر قیصر محمود طاہر مبلغ انچارج ہیٹی)۔تقاریر کے بعد اجلاس کے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کے فرنچ ترجمہ کی ریکارڈنگ ٹی وی پر دکھائی گئی۔مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کی گئیں اور اس طرح بھر پور پروگرام کے بعد جلسے کے پہلے دن کا اختتام ہوا۔
دوسرا دن
دوسرے دن 29اپریل کا آغاز نماز تہجد ، فجر اور اس کے بعد درس القرآن سے ہوا۔ ناشتہ کے بعد تیسرے اور آخری سیشن کا آغاز کیا گیا۔ اس سیشن کی صدارت مکرم مولانا داؤد حنیف صاحب نے کی اور حسب پروگرام اس کا آغاز بھی تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا، تلاوت مع ترجمہ اور نظم مع فرنچ ترجمہ کے بعد درج ذیل عناوین پر تقاریر ہوئیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کا عشق رسول ﷺ (مقرر محمد الیاس صاحب)، اسلام میں عورتوں کا مقام (مقرر نور جنیل صاحب) انوارِ محمد ﷺ(مقررعبد المالک صاحب) آنحضور ﷺ کا توکل علیٰ اللہ(مقرر عبد الوکیل صاحب)۔
اس اجلاس میں صدر مملکت ہیٹی کے نمائندہ خصوصی کے سیکرٹری جناب جوزف سلیمان صاحب اور جناب اوینس سفراں صاحب ڈائریکٹر جنرل آف وزارت مذہبی امور ہیٹی نے جلسہ میں شرکت کی اور مختصر خطاب کئے۔
اس کے بعد مکرم مولانا داؤد احمد حنیف صاحب نے اختتامی خطاب کیا۔ ڈیڑھ بجے اختتامی دعا کے بعد نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں۔ اور دوپہر کے کھانے کے بعد احباب کی واپسی ہوئی۔
اس جلسہ میں اللہ کے فضل سے 188 احمدی، 48غیر احمدی و غیر مسلم احباب شامل ہوئے جن میں 185 مرد، 37خواتین، 14بچگان اور2اخباری نمائندگان تھے۔ اس طرح جلسہ کی کل حاضری 236 رہی ۔
تاثرات شاملین جلسہ
ہیٹی کی تاریخ میں جماعت احمدیہ کے علاوہ کوئی بھی مسلمان تنظیم مذہبی جلسوں کا انعقاد نہیں کرتی اور یہ اعزاز اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف جماعت احمدیہ کو ہی حاصل ہے۔ نو احمدی بہت خوش اور مطمئن تھے۔ سب نے قیام و طعا م کے انتظامات کو سراہا۔ جلسہ گاہ کی تزئین ان کی خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ جلسہ کے شاملین نے کہا کہ اس جلسہ میں شمولیت سے ہمیں علم ہوا ہے کہ جماعت کیا ہوتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ کسے کہتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم امام مہدی علیہ السلام کی سچی جماعت کے ممبر ان میںشامل ہیں۔ یہ جلسہ ان کے لئے تقویت ایمان کا موجب بنا ہے۔
غیر از جماعت مہمانوں نے بھی جلسہ کے انتظامات کو سراہا اور جماعت کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں ایسے روحانی اور علمی پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی۔انہوں نے جلسہ کے کامیاب انعقاد کی مبارکباد دی۔ مسٹر اوینس سفراں نے اپنی تقریر میں کہا ’’مجھے آپ کے جلسہ کا دعوت نامہ ملنے اور شامل ہوکر گورنمنٹ ہیٹی کے لئے اس کی نمائندگی کر کے خوشی ہو رہی ہے۔جماعت احمدیہ کے ساتھ ہمارے بہت دیر ینہ تعلقات ہیں اور ہم نہ صرف اس کی موجودگی بلکہ اس کی اہمیت سے بھی بخوبی واقف ہیں جو اس جماعت نے اپنے رفاہی کاموں کی وجہ سے پوری دنیا میں قائم کی ہے۔انہوں نے جماعت کی رجسٹریشن کے سلسلہ میں بھی تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مَیں لندن جلسہ سالانہ میں شریک ہوا جہاں مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے ذاتی میں ملاقات کا موقع ملا جہاں انہوں نے ہیٹی میں پرائمری ، سیکنڈری اور پروفیشنل سکولز نیز ہسپتال وغیرہ کے قیام کا وعدہ کیا۔ گورنمنٹ ہیٹی ایسے ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کو ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت احمدیہ اس وقت پوری دنیا میں جو کام انسانیت کی فلاح و بہود ، معاشرتی اقدار قائم کرنے اور باہمی محبت و بھائی چارہ کے ماحول کو پروان چڑھانے کے لئے کر رہی ہے وہ ہمارے لئے پُر کشش اور متاثر کُن ہیں۔جماعت احمدیہ کا نعرہ’ ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘‘ احمدیت کی ہی بدولت دنیا کو ایک لائحہ عمل کے طور پر ملا ہے۔ آخر پر میں آپ سب نوجوانوں کو جو اس جلسہ میں شامل ہیں کہنا چاہتا ہوں کہ آپسی محبت و بھائی چارہ کو فروغ دینے کی کوشش کریں اور ایسی باتوں کو ترک کر دیں جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہیں ایسی باتیں پھر پورے معاشرے کے بگاڑ پر منتج ہوتی ہیں۔ آپ سب ہیٹی کے باشندہ ہونے کے ناطے اپنے ملک کی ترقی کے لئے کام کریں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ حضورانور کو لمبی عمر سے نوازے اور جماعت احمدیہ اپنے خواب شرمندۂ تعبیر کر سکے اجازت چاہتا ہوں۔شکریہ ‘‘۔
مسٹر جوزف سلیمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں آپ سب کے سامنے اکیلا ایک غیر مانوس آدمی موں۔ مَیں یہاں صدر مملکت کے ویسٹ ڈیپارٹمنٹ اور دار الحکومت کے نمائندہ مسٹر پییر ریشا ڈپلاں کی نمائندگی کرنے آیا ہوں جو خود اس وقت شہر سے باہر ہیں اور جو جماعت کے ایک گہرے دوست ہیں۔ مجھے اس جلسہ میں شامل ہو کر بہت خوشی اور سکون محسوس ہو رہا ہے۔ یہاں پر کی جانے والی تقاریر اور ان میں دی جانے والی تعلیمات بہت دلچسپ ہیں اور مزید اچھی بات یہ کہ آپ نوجوان ان تعلیمات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آپ کا نعرہ ’’محبت سب کےلئے نفرت کسی سے نہیں‘‘ ایک رہنما اصول ہے۔آخر پر میں آپ سب کو یہی کہتا ہوں کہ خوب ترقی کریں۔ آگے بڑھیں کہ خوش قسمتی آپ کا مقدر بنے۔ ‘‘
الحمدللہ یہ جلسہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں ، برکتوں اور فضلوں کو سمیٹتا ہوا اختتام پذیر ہوا۔
قارئین سے درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلسہ کے تمام کارکنان ، شاملین اور مہمانوں کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح کی دعاؤں کاوارث بنائے اور انہیں بہترین جزا عطا فرمائے اور یہ جلسہ ان کی استقامت اور ازدیاد ایمان کا باعث بنائے۔ آمین۔
٭…٭…٭
