متفرق شعراء

واقفینِ زندگی

چاند کے ہیں گرد تارے واقفینِ زندگی
دین احمد کے دلارے واقفینِ زندگی

ترکِ دنیا کر کے پائی ہے فقیری کی ادا
عاجزی کے ہیں منارے واقفینِ زندگی

وقت کی ہر آزمائش میں رہے ثابت قدم
صبر کے پیکر ہیں سارے واقفینِ زندگی

راہ مولیٰ میں لٹایا چین بھی آرام بھی
غم بھی ہنس کر ہیں گزارے واقفینِ زندگی

ان کی قربانی سے مہکا ہے ہمارا گلستاں
حسن ایماں کے نظارے واقفینِ زندگی

ظلمتوں میں بانٹتے پھرتے ہیں نور آگہی
علم و عرفاں کے ستارے واقفینِ زندگی

لے کے پیغام محبت چل پڑے ہیں باخدا
ساری دنیا میں ہمارے واقفینِ زندگی

شب کی تنہائی میں کرتے ہیں مناجاتِ حضور
اپنے اشکوں سے یہ سارے واقفینِ زندگی

ہے دعا زاہد ہماری یہ سدا کھلتے رہیں
پھول گلشن میں ہمارے واقفینِ زندگی

(سید طاہر احمد زاہد)

مزید پڑھیں: سورہ اخلاص (منظوم ترجمہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button