جمعہ ایک عظیم الشان اسلامی اورتربیتی تہوارہےجس کی فضیلت اوراہمیت پراسلام نےبہت زوردیاہے۔ دین ِ اسلام میں جمعہ کی نمازکا بڑا تاکیدی حکم ہے۔جمعہ کےدن کوعیدکی طرح منانےکاحکم ہے۔جمعہ کےتقدس کوقائم ہی اسی صورت میں رکھاجاسکتاہے کہ اس دن ہم اہتمام سےتیارہوکریعنی نہادھوکر،صاف ستھرےکپڑےپہن کراورخوشبولگاکرنمازجمعہ اداکرنےجائیں۔
اللہ تعالیٰ ایمان داروں کو نمازجمعہ کی تاکیدکرتےہوئےفرما تاہے :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی
ذِکۡرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (الجمعہ:۱۰)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لیے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
جمعہ کی نمازاکیلے نہیں بلکہ باجماعت اداکی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےاس آیت میں یہ حکم دیاہےکہ جمعہ کےوقت اپنے کاروبارچھوڑدیاکرو اوریہی تمہارےلیےبہترہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: سب سے بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہےجس میں آدم کی پیدائش ہوئی اسی دن اسے جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن اسے جنت سے نکالا گیا اور قیامت بھی جمعہ کے روز ہی قائم ہو گی۔ (صحیح مسلم کتاب الجمعۃ بَاب فَضْل يَوْمِ الْجُمُعَةِ)
نمازجمعہ کی ادائیگی میں بغیرکسی عذرکےغفلت برتنےوالوں کونبی کریم ﷺ کی یہ حدیث یادرکھنی چاہیے۔حضرت جابربن عبد اللہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس نے بغیر کسی عذر کے تین جمعے چھوڑے اللہ تعالیٰ اس کے دل پرمہر ثبت کر دیتا ہے۔
(سنن ابن ماجہ كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَابَاب مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِعُذْرٍ)
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام جمعہ کی اہمیت کاذکران الفاظ میں بیان فرماتےہیں:”جمعہ ایک اسلامی عظیم الشان تہوار ہے اور قرآن شریف نے خاص کرکے اس دن کوتعطیل کا دِن ٹھہرایا ہے اوراس بارے میں خاص ایک سورۃ قرآن شریف میں موجود ہے جس کا نام سورۃ الجمعۃ ہے اوراس میں حکم ہے کہ جب جمعہ کی بانگ دی جائے تو تم دنیا کاہر ایک کام بند کردواورمسجدوں میں جمع ہوجاؤ اورنماز جمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرواور جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ سخت گنہ گار ہے اور قریب ہے کہ اسلام سے خارج ہواور جس قدر جمعہ کی نماز اور خطبہ سننے کی قرآن شریف میں تاکید ہے اس قدر عید کی نماز کی بھی تاکید نہیں۔“
(ماخوذاز-مجموعہ اشتہارات جلد۳صفحہ۴۸۷-۴۸۸-ایڈیشن۲۰۱۹ء)
چونکہ جمعہ کادن مومنوں کےلیےتربیت کادن ہے یہی وجہ ہے کہ نمازجمعہ سےقبل امام خطبہ جمعہ دیتاہے۔ خطبہ جمعہ کودین اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خاکسارجتنی شدت سےجمعہ کےمبارک دن کاانتظارکرتاہے اتنی ہی محبت اورشدت سےاپنےدل وجان سےپیارےآقاکےخطبہ جمعہ کاانتظاررہتاہے۔پیارےآقاکےخطبات اورراہنماکلمات میری روح کی غذاہیں۔جس سےمجھےایک واقفِ زندگی کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کےاحکامات کوسمجھنےمیں بہت آ سانی ہوتی ہے۔تاریخ اسلام اورتاریخ احمد یت کےبارےمیں میراعلم بڑھتاہے۔نبی کریم رسولِ عظیم ﷺاورخلفائے راشدین کےواقعات پیارےحضورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی زبانی سننےسےایمان تازہ ہوتاہے۔میرےبہت سارےسوالات کےجوابات مجھےحضورانورکےخطبہ جمعہ سےمل جاتے ہیں۔
میرے دل کوایک عجیب سکون اورقرارملتاہے جب پیارےآقاقرب الہٰی میں بڑھنےکےطریق بیان فرماتےہیں،نمازوں میں دوام اختیارکرنےکےسنہری اصول بتاتےہیں اوراعلیٰ اسلامی اخلاق پرعمل کرتےہوئےحسین وپُرامن معاشرےکےقیام کی تلقین فرماتےہیں۔ خطبہ جمعہ میں حضورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاللہ تعالیٰ کےکلام کوسمجھ کرپڑھنےکی اہمیت وافادیت اورپھراس کےہماری خوشگوارعائلی زندگی پرخوشکن اثرات پراہم نکات بیان فرماتےہیں۔ جن پرعمل کرکےہم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرسکتےہیں۔ حضورکےخطبات نہ صرف قرآنِ کریم کی تفسیرہیں بلکہ خلیفۃ المسیح کےخطبات جمعہ تمام دنیامیں بسنےوالےاحمدیوں کےلیےراہنمائی کاذریعہ ہیں جوخاص طورپرافرادِجماعت کی تربیت کومدنظررکھ کرتیارکیےجاتےہیں۔ ساری دنیاکےاحمدیوں کواحمدیہ مسلم ٹیلی ویژن کےتوسط سےایک وقت میں ایک ہی پیغام پہنچ رہاہوتاہے۔اس لیےہمیں وقت نکال کرہرجمعہ کوبڑےاہتمام سےخطبہ جمعہ سننا چاہیےاورساتھ ساتھ نوٹس بھی لینےچاہئیں۔والدین کوخودبھی باقاعدگی سے خطبہ سننےکی عادت ڈالنی چاہیےخطبہ سننےسےپہلےہی بچوں کوبتادیں کہ خطبہ کےدوران پوائنٹس لکھتےجائیں اوراختتام پربچوں کومشکل الفاظ کےمعنی بتائیں اورپھرخاندان کاہرفردخطبہ میں بیان ایک ایک واقعہ یاپوائنٹ آپس میں ڈسکس کرے،ایساکرنےسےبچوں بڑوں سب میں خطبہ سننے کی نہ صرف عادت پیداہوگی بلکہ دلچسپی بھی بڑھےگی۔ یہ بات ہمیشہ مدنظررہنی چاہیےکہ جیسےجسمانی غذاکےبغیرہم اورہمارےبچےصحت مند نہیں رہ سکتےبالکل ویسےہی ہماری روح کوروحانی غذاکی ضرورت ہےاورتربیت، روحانی غذاکےبغیرناممکن ہے۔ہم کتنےخوش قسمت ہیں کہ اس روحانی مائدہ کاانتظام اللہ تعالیٰ نےہمارےلیےہرجمعہ کوخلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکےخطبہ جمعہ کی بدولت کیاہے۔اس لیے ہمارایہ اولین فرض ہےاورخلافت جیسی عظیم نعمت کاشکربھی تبھی اداہوسکتا ہےکہ ہم پیارےآقاکاخطبہ پوری توجہ اورانہماک سےسنیں اورآپ کےمنہ سےنکلی ہرہدایت پرعمل کرنے میں پہل کریں۔ ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزہماری اس طرف توجہ دلاتےہوئے فرماتے ہیں:
’’ہر خطبہ کا مخاطب ہر احمدی ہوتا ہے۔ چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں رہتا ہو…نئے ہونے والے احمدیوں میں عربوں میں سے بھی لکھتے ہیں یا جو نومبائعین ہیں ملاقاتوں میں بتاتے ہیں کہ بعض خطبات میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے حالات کے متعلق آپ کہہ رہے ہیں …روس کے مختلف ممالک سے احمدیوں کے،جو وہاں کے مقامی احمدی ہیں،خطوط بڑی کثرت سے آنے لگ گئے ہیں کہ خطبات نے ہم پر مثبت اثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اور بعض اوقات تربیتی خطبات پریوں لگتا ہے کہ جیسے خاص طور پر ہمارے حالات دیکھ کر ہمارے لیے دئیے جار ہے ہیں بلکہ شادی بیاہ کی رسوم پر جب میں نے خطبہ دیا تھا تو اس وقت بھی خط آئے کہ ان رسوم نے ہمیں بھی جکڑ اہوا ہے اور خطبہ نے ہمارے لیے بہت سا تربیتی سامان مہیا فرمایا ہے۔ تو جو احمدی اس جستجو میں ہوتے ہیں کہ ہم نےخلیفہ وقت کی آواز کو سننا ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی ہے۔ وہ نہ صرف شوق سے خطبات سنتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو ہی ان کا مخاطب سمجھتے ہیں۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ۲۳؍اپریل ۲۰۱۰ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۱۴؍مئی۲۰۱۰ءصفحہ۵)
مزید پڑھیں: نماز جمعہ کی فرضیت و فضیلت، آداب و مسائل – حضورِ انور کا ایک تازہ ارشاد