متفرق شعراء
دیے لہو کے جلاتے چلے گئے عشّاق

وفا کے پتلے تھے معصوم اور عدو چالاک
دیے لہو کے جلاتے چلے گئے عشّاق
خوشی بھی چند دنوں کی ہے ظالموں کے لیے
حساب ان کا بھی ہوگا تو ایک دن بےباق
جو جان دیتے ہیں زندہ ہمیشہ رہتے ہیں
خدا کرے کہ کبھی ان کو، یہ بھی ہو ادراک
شہید ہو کے سکھایا ہے زیست کا رستہ
عمل سے زندگی پانے کے دے گئے اسباق
زمین جن کے لہو سے نہا کے ہے رنگیں
گواہ ان کی شہادت پہ ہو گئے افلاک
ہے مرنے والا تو رب کی رضا کی جنّت میں
پڑے گی مارنے والو ! تمہارے منہ میں خاک
جو دل کے پاک ہیں، سچے خدا کے ہیں بندے
وہ جانتے ہیں ارادے تمہارے ہیں ناپاک
ہمیں یقین ہے طارقؔ، کبھی نہ چھوڑے گا
خدا کرے گا گریبان، دشمنان کے چاک
(ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ۔ لندن)
مزید پڑھیں: وہ میرا آقا وہ میرا مرشد




