صحیح طریق سے کوشش کرنے پر کامیابی حاصل ہوتی ہے
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ یکم فروری ۱۹۱۸ء)
تمام انسان خواہ وہ کہیں کے رہنے والے ہوں، کوئی زبان بولنے والے ہوں، کسی مذہب کے پابند ہوں ان میں ایمان اور ایقان حاصل کرنے کی قوت رکھی گئی ہے کیونکہ اسی لئے خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ پس اگر خواہش اور کوشش کے باوجود نتیجہ نہیں نکلتا تو یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ اس کے لئے وہ ذرائع استعمال نہیں کئے گئے جو صحیح ہیں اور جن کا یہ حال ہو ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی کوششیں ضائع اور محنتیں اکارت گئیں کیونکہ انہوں نے ان طریق پر عمل نہیں کیا جو خدا نے مقرر کئے ہیں۔
حضورؓ نےتشہدوتعوّذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:
اور فرمایا: مَیں آج بوجہ بیماری اور علالت کے کچھ زیادہ نہیں بیان کر سکوں گا مگر مختصر الفاظ میں ایک نہایت اہم اور ضروری امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔
دُنیا میں اکثر ناکامیاں اور بہت سی نامرادیاں اس وجہ سے نہیں ہوتیں کہ لوگ اپنے مقصد اور مدعا کے حاصل کرنے کی کوشش اور سعی نہیں کرتے بلکہ اس لئے ہوتی ہیں کہ اکثر لوگ ان طریقوں اور سامانوں سے واقف نہیں ہوتے جن کے ذریعہ اس کام میں کہ جس کے پیچھے وہ لگتے ہیں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ پس چونکہ وہ ان قواعد سے واقف نہیں ہوتے جن کے نتیجہ میں کامیابی ہوتی ہے اور ان سامانوں سے آگاہ نہیں ہوتے جن کے مہیا کرنے کے بعد مراد کا منہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے اس لئے ان کی کوشش اور سعی بے سود رہتی ہے کیونکہ
جب تک انسان اُن ذرائع کو استعمال نہ کرے جو کامیابی کے لئے مقرر ہیں اس وقت تک وہ خواہ کتنی ہی کوشش کرے مراد حاصل نہیں کر سکتا۔
مثلاً ایک شخص پیاسا ہے اور اُسے پانی کی ضرورت ہے۔ اب یہ نہیں ہو گا کہ ایک خاص حد تک کوشش کرنے سے اسے پانی مل جائے گا۔ گو پانی اس کے پاس ہی موجود ہو اور اس تک اس کا ہاتھ بھی پہنچ سکتا ہو لیکن اگر وہ اس طریق سے پانی کے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے گا جس سے وہ حاصل ہو سکتا ہے تو خواہ اس کوشش سے ہزار درجہ بھی زیادہ محنت اور مشقت اپنے اوپر ڈال لے پانی حاصل نہیں کر سکے گا۔ مثلاً ایک شخص کے پاس ہی پانی کا بھرا ہوا گھڑا موجود ہو اس کے لئے پانی حاصل کرنے کا صحیح طریق تو یہ ہے کہ گھڑے کے پاس جاکر اسے اُلٹائے اور خواہ برتن میں خواہ چُلّو میں پانی لے لیکن اگر وہ اس گھڑے کے پاس نہیں جاتا اور اس سے ایک گز دُور بیٹھ کر ہاتھ جوڑتا اور بڑی عاجزی اور فروتنی سے کہتا ہے اے پانی! میرے منہ میں آجا اور اس کے لئے روتا چِلّاتا اور بڑی آہ و زاری کرتا ہے اور وہ بھی ایک دن نہیں، دو دن نہیں بلکہ متواتر کئی دن۔ اس طرح اُسے اس شخص کی نسبت جس نے گھڑا اُلٹاکر پانی لے لیا ہو تکلیف تو بہت اُٹھانی پڑے گی لیکن کیا اس کو پانی حاصل ہو جائے گا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ اس نے پانی حاصل کرنے کے لئے وہ طریق اختیار کیا ہے جو غلط ہے اور اس کے زیادہ تکلیف اور مشقّت اُٹھانے اور زیادہ وقت خرچ کرنے سے پانی نہیں مل جائے گا۔ پانی اس کو ملے گا جس نے گھڑے کو اُلٹا کر اس سے پانی نکالا ہو گا۔ اُس کی پیاس بُجھ جائے گی مگر اس کی اور زیادہ ہو گی کیونکہ ہر ایک وہ کام جس سے انسان کے جسم سے رطوبت خارج ہوتی ہے پیاس بڑھانے والا ہوتا ہے اور چونکہ رونے سے بھی رطوبت خارج ہوتی ہے اس لئے پیاس بڑھتی ہے۔ تو
کامیابی ایک حد تک مصیبت اور مُشکل اُٹھانے کا نام نہیں بلکہ ان ذرائع کے استعمال کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے جو خدا نے کسی کام کے لئے مقرر کئے ہوتے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر خواہ کوئی کتنی محنت اور مشقت اپنے اُوپر رکھ لے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
یہی وجہ ہے کہ مختلف مذاہب یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک ہی مذہب ایسا ہو سکتا ہے جس پر چل کر اصل مقصد اور مدعا حاصل ہو سکتا ہے۔ اِسی لئے ہر ایک مذہب والے کہتے ہیں کہ ہمارا ہی مذہب سچّا ہے اور باقی سب جھوٹے ۔ گو بعض مذہب والوں نے اس کو وسیع کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اور مذاہب کے ذریعہ بھی خدا تک انسان پہنچ سکتا ہے لیکن جب ان سے گفتگو کی جائے تو وہ بھی یہی ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ دراصل ایک ہی مذہب ایسا ہو سکتا ہے جس پر چل کر انسان کو کامیابی نصیب ہو سکتی ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہر ایک مذہب والا جو اپنے مذہب کے احکام کے مطابق کام کر رہا ہے کیا وجہ ہے کہ اسے نجات نہ ملے؟ ان کے اس خیال کا اگر ازالہ ہو سکتا ہے تو اسی بات سے کہ کسی کام میں کامیابی محض محنت اور مشقّت برداشت کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے صحیح اور درست طریق کو اختیار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ دیکھو ایک شخص مدرسہ میں جاتا ہے اور علم حاصل کر لیتا ہے اور ایک دوسرا شخص جنگل میں جاکر لکڑیاں کاٹتا ہے تو کیا وہ اس وجہ سے کہ مدرسہ جانے والے سے زیادہ محنت اور تکلیف برداشت کرتا ہے علم حاصل کر لے گا؟ نہیں بلکہ علم وہی حاصل کرے گا جو اس طریق پر عمل کرے گا جو علم کے حاصل کرنے کے لئے مقرر ہے۔ تو اس طرح ہر ایک مذہب والے کو یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ تمام مذاہب میں سے ایک ہی مذہب سچّا ہوسکتا ہے، سارے کے سارے نہیں۔ کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مختلف طریق پر محنت مشقت کرنے والوں کو ایک ہی نتیجہ حاصل ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو قانونِ قدرت میں بھی اس کی کوئی مثال پائی جاتی کہ ایک شخص جو لکڑیاں کاٹتا رہتا ہے وہ صرف علم کی خواہش رکھنے کی وجہ سے عالم بن جاتا ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ
خدا کا قانون یہ نہیں ہے کہ ہر محنت و مشقت ایک ہی نتیجہ پیدا کرے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ کسی مقصد اور مدعا میں اُسی وقت کامیابی ہوسکتی ہے جبکہ صحیح اور دُرست طریق پر عمل کیا جائے۔
پس
ہر ایک کام جس میں کامیابی حاصل کرنی ہو اس کے لئے یہی ضروری نہیں کہ اس کے لئے محنت کریں، راتوں کو جاگیں، جسموں کو تھکادیں، ارادوں کو قُربان کر دیں، مالوں کو خرچ کر دیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان صحیح ذرائع کو استعمال کریں جو خدا نے اس کے لئے مقرر کئے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔
جب سے دُنیا کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس وقت سے مذہب بدلے اور بدلتے چلے آرہے ہیں اور اسلام سب سے آخری مذہب ہے مگر جس طرح کسی وقت یہ نہیں بدلا کہ خدا ایک ہے اِسی طرح شروع سے یہ بات چلی آئی ہے اور کبھی نہیں بدلی کہ کسی کام میں انہیں ذرائع سے کامیابی ہو سکتی ہے جو اس کے لئے خدا نے مقرر کئے ہوں اِن کے علاوہ کبھی نہیں۔ خواہ کتنی ہی محنت و مشقت کیوں نہ برداشت کر لی جائے۔
صحیح ذرائع سے تھوڑی سی محنت کر کے انسان کامیاب ہو سکتا ہے مگر غلط طریق سے اس سے ہزار گُنا محنت کر کے بھی کچھ نہیں حاصل کر سکتا۔
مثلاً علم حاصل کرنے کے جو طریق ہیں ان پر عمل کرے تو علم حاصل کر لے گا لیکن اس کی بجائے اگر وہ اپنے تمام عزیزوں اور رشتہ داروں کو قتل کر دے، چھت سے اُلٹا لٹکا رہے، بھُوکا پیاسا بیٹھا رہے اور پھر کہے اﷲ منصف نہیں کیونکہ فلاں تو صرف مدرسے جاتا اور کتابیں پڑھتا رہتا ہے اسے علم دے دیا ہے اور مَیں جس نے اتنی قربانیاں کیں، اتنی تکلیفیں اُٹھائیں مجھے تو ایک لفظ بھی حاصل نہیں ہوا۔ کیا اس کی یہ بات درست ہو گی۔ ہر گز نہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ ظالم نہیں لیکن چونکہ اس نے ان ذرائع پر عمل نہیں کیا جو خدا نے اس کام کے لئے مقرر کئے ہیں اس لئے کامیاب نہیں ہو سکا۔
بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صحیح طریق پر تو عمل نہیں کرتے۔ ہاں بڑی محنت اور مشقّت کو کامیابی کا ذریعہ سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح باوجود بہت زیادہ محنت اور مشقّت برداشت کرنے کے ناکام اور نامراد رہتے ہیں۔
اس وقت میرا اس لمبی تمہید کے بیان کرنے سے ایک خاص منشاء ہے اور وہ یہ کہ
ہم لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ اسلام ہے جو رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم لائے اور ہم خواہش رکھتے ہیں کہ اس ایمان کو حاصل کریں جو حقیقی ایمان ہے۔
یہ ہم میں سے ہرایک کی خواہش ہے اور ہر ایک اس کے لئے مقدور بھر محنت اور کوشش بھی کرتا ہے۔ مگر مَیں نے بتایا ہے کہ کوئی کام صرف محنت اور کوشش سے نہیں ہوا کرتا بلکہ اس کا نتیجہ حسبِ منشاء اُسی وقت نکل سکتا ہے جبکہ اس کے لئے صحیح ذرائع سے محنت کی جائے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو محنت و مشقّت خواہ کتنی برداشت کر لی جائے کچھ فائدہ اور نفع نہیں ہو سکتا۔ پس آپ لوگوں کا جہاں یہ خیال ہے کہ اسلام اور ایمان کے لئے خواہ کوئی قُربانی کرنی پڑے اس سے دریغ نہیں ہے اور خدا کے لئے ہر ایک محبوب اور مرغوب چیز کے چھوڑنے کے لئے تیار ہو وہاں اس چھوڑنے کا عمل ان ذرائع سے ہونا چاہئے جو خدا نے مقرر کئے ہیں۔
بہت لوگوں کو دیکھا گیا ہے وہ چاہتے ہیں کہ خدا سے انہیں ایسا مضبوط تعلق ہو جائے کہ جسے کوئی چیز نہ کاٹ سکے اور ان کے جسم کے ذرّے ذرّے میں خدا کی محبت اور اُلفت بھری ہوئی ہو لیکن باوجود اس خواہش کے کہ بہت ہیں جو بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں مگر وہ مُدعا حاصل نہیں کرسکتے۔ ایسے لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کی کوشش اور سعی اس طریق پر نہیں ہو رہی کہ کامیابی حاصل ہو سکے کیونکہ اﷲتعالیٰ ظالم نہیں۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک انسان کو اس سے تعلق پیدا کرنے کی سچی خواہش بھی ہو اور وہ صحیح ذرائع سے اس کے لئے کوشش بھی کرتا ہو مگر کامیاب نہ ہو۔
بعض باتوں میں ایسا ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کام کے لئے خدا نے سب کو پیدا نہیں کیا ہوتا مثلاً ایک شخص پہلوان ہے اُس کا جسم خوب مضبوط اور طاقتور ہے اور ایک اَور ہے جس کے جسم کی بناوٹ کمزور ہے۔ اب یہ خواہ کتنی ورزشیں کرے، خوراکیں کھائے، جسم کے فربہ ہونے کے قواعد کی پابندی کرے، اس سے کچھ تو اس کا جسم مضبوط ہو جائے گا مگر یہ نہیں ہو گا کہ پہلوان ہو جائے کیونکہ سب انسان پہلوان بننے کے لئے نہیں پیدا کئے گئے۔ ہاں سب انسان ایماندار بننے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کو ایماندار بننے کی خواہش بھی ہو اور وہ اس کے لئے کوشش بھی کرتا ہو اور وہ کوشش صحیح طور پر بھی ہو مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اگر ایسا ہو تو پھر خدا ظالم ٹھہرتا ہے کیونکہ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانوں میں عرفان حاصل کرنے کا مادہ ہی نہیں ہے لیکن ایمان کے متعلق یہ بات نہیں کہی جاسکتی۔
تمام انسان خواہ وہ کہیں کے رہنے والے ہوں، کوئی زبان بولنے والے ہوں، کسی مذہب کے پابند ہوں ان میں ایمان اور ایقان حاصل کرنے کی قوت رکھی گئی ہے کیونکہ اسی لئے خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔
پس اگر خواہش اور کوشش کے باوجود نتیجہ نہیں نکلتا تو یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ اس کے لئے وہ ذرائع استعمال نہیں کئے گئے جو صحیح ہیں اور جن کا یہ حال ہو ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی کوششیں ضائع اور محنتیں اکارت گئیں کیونکہ انہوں نے ان طریق پر عمل نہیں کیا جو خدا نے مقرر کئے ہیں۔
ایمان اور ایقان کے حاصل کرنے کے طریق دو قسم کے ہوتے ہیں مثلاً علم پڑھنے میں ظاہری سامان تو یہ ہیں کہ انسان مدرسہ جاتا رہے، کتابیں اس کے پاس ہوں، یہ تو اس کے اختیار میں ہے لیکن یہ اختیار میں نہیں کہ ہر ایک وہ بات جو اُسے بتائی جائے وہ اس کی سمجھ میں بھی آجائے۔ یہ مدرسہ جانے کا نتیجہ تو ہے لیکن اس کے اختیار کی بات نہیں ہے۔ اسی طرح
حصولِ ایمان کے لئے دو قسم کی باتیں ہیں۔ ایک وہ جن پر انسان کو اختیار ہے اور جن کے لئے وہ اپنے نفس کو مجبور کر سکتا ہے اور دوسری وہ جن پر اسے کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی نفس کو ان کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔
ہاں وہ پہلی قسم کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں تو گویا یوں کہنا چاہئے کہ
حصول ایمان کے لئے وہ ذرائع ہیں جن میں سے ایک کے لئے تو انسان بِلا واسطہ مجبور ہے اور دوسرے کے لئے بِالواسطہ۔
پس
ایمان کے لئے عرفان کی ضرورت ہے
مگر
یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص بِلاواسطہ نفس پر زور دے کر پیدا کر لے بلکہ یہ ان ظاہری اسباب پر عمل کرنے کا نتیجہ ہو گا جو انسان کے اختیار میں ہیں
یعنی وہ کام جن کے کرنے کا اُسے حکم دیا گیا ہے ان کو عمل میں لائے اور جن سے روکا گیا ہے ان سے باز رہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس صورت میں لازمی نتیجہ عرفان پیدا ہو گا اور اگر ایسا نہیں کرے گا تو اِس کے بغیر ایمان نصیب نہیں ہوسکے گا۔ تو
عرفان پیدا کرنے کا انسان کو حکم ہے مگر اس کے لئے وہ اپنے نفس کو مجبور نہیں کر سکتا۔ ہاں جن اسباب سے وہ پیدا ہوتا ہے ان کے لئے مجبور کرسکتا ہے۔
کئی لوگ ان اسباب کو کام میں لائے بغیر عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ناکام رہتے ہیں۔
بعض صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں خدا سے محبت ہے اِس لئے عرفان حاصل ہو جانا چاہئے حالانکہ محض محبت کا اقرار کرنے سے عرفان حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ محبت کے ظہور کی بھی ضرورت ہے۔
تو بعض لوگ اس لئے کامیاب نہیں ہوتے کہ غلط طریق اختیار کرتے ہیں اور صحیح کو چھوڑ دیتے ہیں اور بعض اس لئے کہ تمام طریقوں پر عمل نہیں کرتے بعض پر کرتے ہیں اس لئے ان کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک شخص مکان تعمیر کرنے کے لئے دو دیواروں کو تو پچاس پچاس فٹ بلند کر دے اور باقی دو کو بالکل چھوڑ دے۔ اس کا مکان کبھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔ ہاں وہ شخص جو چاروں دیواروں کو دس دس فٹ بلند کر لیتا ہے اس کا مکان مکمل ہو جائے گا۔ تو بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں اور صحیح ذرائع ہوتے ہیں مگر چونکہ سارے نہیں ہوتے اس لئے جس طرح بعض دیواروں کے بلند کر لینے سے مکان مکمل نہیں ہو سکتا اِسی طرح ایمان بھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے نہایت ضروری ہے کہ سارے ذرائع پر عمل کیا جائے۔ یہ نہیں کہ دن رات نمازیں ہی پڑھتا رہے مگر روزے چھوڑ دے یا سارا سال روزے رکھا کرے مگر نمازیں ترک کر دے۔ بے شک یہ ذرائع ہیں اور درست ذرائع ہیں مگر ایک کو چھوڑ کر دوسرے پر زیادہ زور دینے سے کامیابی نہیں ہو سکتی۔ پس
ایمان کو جو دیواریں مکمل کرتی ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی پورا نہیں کیا جاتا تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔
مَیں نے جو آیت اس وقت پڑھی تھی اس سے ایمان کو قائم کرنے والی ایک دیوار بتانا چاہتا تھا مگر وقت نہیں رہا اِس لئے پھر جب اﷲ تعالیٰ توفیق دے گا بیان کروں گا۔
(الفضل ۱۶؍فروری ۱۹۱۸ء)
مزید پڑھیں: محض اپنے خیالات اور آرزو کے مطابق مذہب پر عمل کرنا اطاعت نہیں




