امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے شعبہ اشاعت اور آئی ٹی ٹیم کے ایک وفدکی ملاقات
خود اپنے جائزے لو، کام کرنے والی قومیں تاریخ سے سبق سیکھتی ہیں، تاریخ پڑھو اورا س سے سبق سیکھو۔ اب مَیں صحابہؓ کی تاریخ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کر رہا ہوں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ آپؐ ہمارے لیے اُسوۂ حسنہ ہیں تو آپؐ کے جو عمل ہیں، بہت ساری باتیں، وہ اس لیےہیں کہ ان کودیکھو، غور کرو اور ان پر عمل کرو
مورخہ۱۰؍مئی ۲۰۲۵ء بروز ہفتہ امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے شعبہ اشاعت اور آئی ٹی ٹیم کےتیس(۳۰) رکنی وفدکو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں قائم ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےجرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِانور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم فرمایا۔ دورانِ ملاقات تمام شاملینِ مجلس کو حضورِانور سے مختلف نوعیت کے متفرق سوالات کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
ایک خادم نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ کل خطبہ جمعہ میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ سوشل میڈیا پر تبصروں کے اظہار کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے، احمدیوں کو اس میں شامل نہیں ہونا چاہیے، سوائے اس کے کہ وہ امن اور صلح کا پیغام دیں، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی اپنی کتاب میں فرمایا ہے۔ شعبہ اشاعت اس حوالے سے اپنا کردار کس طرح سے ادا کر سکتا ہے؟
اس کے جواب میں حضورِانور نے واضح فرمایا کہ مطلب یہی ہے کہ ایسے انٹرنیشنل مسائل جوcontroversial ہیں، ان پر رائے دینے کی بجائے، جو تمہارے دینی کام ہیں، ان کے اوپر توجہ دو۔ شعبہ اشاعت کا کام دین کی اشاعت ہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا مقصد بھی اشاعتِ اسلام تھا۔ یہ مقصد نہیں تھا کہ ہم نے دنیا کو سیاست پڑھانی ہے۔ ہاں! بعض دفعہ زائد چیزیں آ جاتی ہیں اور وہ بھی ان چیزوں کو لوجو خلیفۂ وقت نے دی ہیں یا کسی وقت میں پہلے خلیفہ نے دی ہوں اَور وقت کے خلیفہ نے اس کی توثیق کی ہو۔ ان کو بیان کر سکتے ہو کہ یہ یہ باتیں ہیں۔
حضورِانور نے اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں عالمی امن کا پیغام عام کرنے کے حوالے سے توجہ دلائی کہ باقی اشاعت کی جو باتیں ہیں،اسلام کی تعلیم کی جو باتیں ہیں، امن کی باتیں ہیں، محبّت کی باتیں ہیں، پیار کی باتیں ہیں، قرآن شریف میں آیات ہیں، مثلاً سورة الحجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب دو قومیں لڑیں، یہ مسلمانوں کی بات ہے، لیکن internationally اس کو لاگو کیا جا سکتا ہے تو ان کے لیےصلح کراؤ اور جب صلح ہو جائے تو پھر ان کے اوپرزیادتی نہ کرو، پابندیاں نہ لگاؤ تا کہ دنیا میں امن قائم ہو۔ تو اس قسم کی باتیں رکھو تا کہ تمہاری awarenessہو کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔اس پر مَیں بہت دفعہ بہت سارے ایڈریسز میں،پیس کانفرنس میں یا دوسری جگہوں پر ان کے جواب دے چکا ہوں۔ وہاں سےتم لوگوں کو کافی مواد مل سکتا ہے۔ اس میں سے چھوٹے چھوٹے passagesلے کے تم سوشل میڈیا پر ڈال سکتے ہو کہ اس طرح دنیا میں امن قائم ہونا چاہیے۔
حضورِانور نے اس بات کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا کہ مقصد یہ ہے کہ ہم نے دنیا کو لڑانا نہیں ہے، ہم نے دنیا میں امن کی فضا پیدا کرنی ہے اور اس کے لیے جو کوشش ہو سکتی ہے وہ کرنی چاہیے۔ باقی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو پیغامِ صلح لکھی تھی، وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی لڑائیوں پر ہی لکھی تھی کہ تم لوگ مسلمانوں کو یہ یہ سمجھتے ہو، اور وہ یہ یہ سمجھتے ہیں، اس لیےلڑائیاں ہوتی ہیں، اس طرح ہم دونوں کو اپنے رویوں کو بدلنا چاہیے۔ اپنے attitudeبدلیں، طریقے بدلیں اور آپس میں اصلاح کی کوشش کریں تا کہ محبّت اور پیار کی فضا قائم ہو۔
حضورِانور نے جواب کے آخر میں نصیحت فرمائی کہ تو یہ چیزیں نکالو اور بےشمار کام کرنے والے ہیں، اگرنکالنا چاہو،تو نکال سکتے ہو۔ اتنی بڑی چالیس آدمیوں کی کمیٹی بنائی ہے،بڑےfertile ذہن ہیں،کرنا ہو تو بہت کچھ ہو سکتا ہے، ماشاء اللہ! نوجوان ذہن ہیں ان سے کام لو۔
ایک خادم نے عرض کیا کہ کیا حضورِانور اپنے خدام الاحمدیہ کے دَور میں سے ہمیں کچھ نصائح سے نواز سکتے ہیں یا پھر کوئی واقعہ سنا سکتے ہیں؟
حضورِانور نے اس پر فرمایا کہ ہر ایک دَور کی اپنی اپنی باتیں ہوتی ہیں، تمہارے دَور کے اپنے مسائل ہیں، ہمارے دَور کے اپنے مسائل تھے۔ تمہارے پاس بھی رپورٹیں آتی ہیں، ان کا جائزہ لو، جماعتوں میں یہ تاثر پیدا کرو کہ تم لوگوں نے ایمانداری سے ان کا جائزہ لینا ہے اور جو ایمانداری سے تم ان کو سکھا سکتے ہو سکھاؤ۔ یہی چیزیں ہیں۔
حضورِانور نے واضح فرمایا کہ نصائح کیا فرمانی ہیں، نصائح تو لائحہ ٔعمل میں بھی لکھی ہوئی ہیں، خطبات میں بھی آ گئی ہیں، پہلے خلفاء بھی نصائح فرماتے رہے ہیں۔ جسےمشعلِ راہ کہتے ہیں، مثلاً جِلد اوّل میں حضرت مصلح موعود ؓنے سب سے پہلے باتیں کی ہیں، اس کے بعد دوسرے حوالے بھی ہیں، اس کے بعد میرے ایڈریسس جو شائع کر رہے ہو، ترجمہ کر رہے ہو، ان میں ساری باتیں آ گئی ہیں۔
حضورِانور نے ایک عمومی رویے کی نشاندہی فرماتے ہوئے اس امر کی جانب توجہ مبذول کروائی کہ اگر نہ کرنا ہو تو کہہ دیا کہ اچھا !کوئی نئی بات بتائیں۔نئی بات کیا بتائیں؟پرانی باتوں پر پہلے عمل کر لیا ہے؟پہلے دیکھو کہ ہم نے پرانی باتوں پر سو فیصد عمل کر لیا توپھر کوئی نئی بات بتاؤں۔ان پر عمل کر لو، اس میں بہت کچھ لکھا ہوا ہے۔وہی کچھ ہم نے خدام الاحمدیہ سے سیکھا تھا، وہی کچھ خدام الاحمدیہ میں کیا تھا، جس کو بیان کردیتے ہیں کیونکہ بچپن سے ہی اطفال، خدام کا کام کیا ہوا ہے۔ تو وہی باتیں ذہن میں ہوتی ہیں اور پھر خلفاء کی ہدایات ہوتی ہیں، جن کو آگے پھر انسان عمل میں لاتا ہے، تو وہی تم لوگوں کو آگے conveyکی ہوئی ہیں۔کچھ اپنے تجربے بھی دے دیے ہیں تو ان پر عمل کرو۔ نئی بات تمہیں کیا بتاؤں؟ وہی بات مَیں نے کہا ہے کہ کام نہ کرنا ہو تو پھر کہتے ہیں کہ نئی بات بتاؤ۔پہلے بتاؤ کہ پرانی باتوں پر کتنا عمل ہو گیا ہے، سوفیصد عمل کر لیا ہے؟
واقفينِ نَو کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے حضورِانور نے اس بات پر زور دیا کہ کچھ واقفِ نَو یہاں بھی ہیں۔ مَیں نے وقف نو پر کینیڈا میں خطبہ دیا تھا۔ایک یہاں وقف نو کو تقریر کی ہے، اس میں بہت ساری ہدایات ہیں۔ خدام الاحمدیہ کی مختلف تقریروں میں مَیں ہدایات دیتا ہوں، وہ ساری ہدایات ہیں۔ تو خدام الاحمدیہ کو پچھلے اجتماعوں کی ہدایت ہے، ان میں سے پوائنٹس نکالو اور عمل کرو۔ جب سو فیصد عمل کر لو گے تو کہو کہ یہ ہم نے کر لیا ہے، یہ کام تو ختم ہو گیا، ہم نے اس میں ڈاکٹریٹ کر لیا اور اس میں پی ایچ ڈی ہو گئے اور اس کے نتیجے میں ہمارے اندریہ تبدیلی ہوئی ہے، یہ ہم نے فائدہ اُٹھایا ہے یا نہیں اُٹھایا تو بتاؤ کہ یہ فائدہ ہم نہیں اُٹھا سکے، اب کیا کریں؟
خود اپنے جائزے لو، کام کرنے والی قومیں تاریخ سے سبق سیکھتی ہیں، تاریخ پڑھو اورا س سے سبق سیکھو۔ اب مَیں صحابہؓ کی تاریخ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کررہا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ آپؐ ہمارے لیے اُسوۂ حسنہ ہیں تو آپؐ کے جو عمل ہیں، بہت ساری باتیں، وہ اس لیےہیں کہ ان کودیکھو، غور کرو اور ان پر عمل کرو۔
ایک سائل نے عرض کیا کہ اسلام کی خدمت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی ترقیات سے بہترین انداز میں کس طرح فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے؟
حضورِانور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہمارا مقصد کیا ہے؟ دو باتیں ہمیشہ یاد رکھو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میرے آنے کےدو مقصد ہیں، ایک بندے کو خدا کے قریب لانا یعنی کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا احساس دلانا، اس کی وجہ سے اس کی عبادت بھی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے گا۔ دوسرا بندے کو بندے کا حق ادا کرنے والا بنانا۔ انسانیت کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کے قریب لانا۔ان دو باتوں پر اگر خدام الاحمدیہ کام کر لے اور جرمنی میں پیغام پہنچا دے تو نہ آپ کی AfDپارٹی کو اعتراض رہے گا، نہ فلاں پارٹی کو۔جو بھی پارٹیاں ہیں، رائٹ ونگ ہیں یا لیفٹ ونگ ہیں اور یا نیوٹرل لوگ ہیں، سب کو پتا ہو گا کہ جماعت احمدیہ کا بڑا مثبت پیغام ہے اور اس کو ہمیں سننا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ جب یہ دو چیزیں ہوں گی تو جنگوں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا اور پیار محبت کی فضا بھی قائم ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا ہونا بھی شروع ہو جائے گا۔ ان چیزوں کو لے کے یہی دو چیزیں ٹارگٹ کرو اور اس پر کام کرو۔
ایک شریکِ مجلس نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ مَیں نمازوں کی پابندی کرنے اور قرآنِ کریم کی تلاوت کی کوشش کرتا ہوں، لیکن بعض اوقات باقاعدگی برقرار رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، ایسی صورت میں میری راہنمائی فرمائیں کہ مَیں ہمت نہ ہارنے اور اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیےکیا کر سکتا ہوں؟
حضورِانور نے اس پر مسکراتے ہوئےاستفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ کھانا کھانے میں مشکل تو نہیں پڑتی؟ سکول جانے میں مشکل تو نہیں پڑتی؟ صبح اُٹھ کے سات بجے تیار ہوتے ہو کہ جانا ہے، آٹھ بجے سکول پہنچنا ہوتا ہے، اور اگر فاصلہ ہے، travelکر کے جانا ہے، بس پریاکسی چیز پر جانا ہے تو چھ بجے اُٹھ جاتے ہو ناں؟ سردیوں میں تو چھ بجے اُٹھ کے آدمی آرام سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں۔
حضورِانور نے مزید استفسار فرمایا کہ یہ یقین اور ایمان ہے کہ اللہ ہے؟ سائل کے اثبات میں جواب عرض کرنے پر حضورِانور نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے توپھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تمہیں مجھ پر یقین ہے تو یہ یہ میری باتیں ہیں، ان کو مانو، اس میں اس کا حق ادا کرنا ہے۔
حضور انورنے اُن اعتراضات کا ازالہ کرتےہوئے، جو بعض افراد اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حوالے سے کرتے ہیں، واضح فرمایا کہ بعض لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ خدا کو عبادت کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ خود قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ مَیں نے جنّ و انس کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔تو اللہ کو عبادت کرانے کا شوق تھا ؟ اللہ تعالیٰ نے آگے جواب دے دیا کہ مجھے اپنی عبادت کرانے کا شوق نہیں ہے اور نہ مجھے پروا ہے کہ تم میری عبادت کرو یا نہ کرو۔ یہ تو مَیں تمہاری بہتری کے لیے کر رہا ہوں کہ تم عبادت کرو گے تو مَیں reward دوں گا، کیونکہ مَیں نے جنّت اور دوزخ بنائی ہوئی ہیں۔اگر اچھے کام کرو گے توتمہیں ریوارڈ ملے گا، جنّت میں جاؤ گے، بُرے کام کرو گے تو سزا ملے گی۔
اگر یہ خوف دل میں ہو کہ اللہ ہے اور ہم نے اس کی خاطر ہر کام کرنا ہے تو پھر انسان نمازیں بھی پڑھے گا، اگر یہ خواہش ہو کہ مَیں نے پتا کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کیا ہے اور اس کے حکم کیا ہیں تو پھر قرآنِ کریم بھی پڑھو گے اور قرآنِ کریم پڑھ کے تمہیں عربی میں سمجھ نہیں آتی تو اس لیے تم اس کیtranslation پڑھو گے، ٹرانسلیشن پڑھ کے بھی بعض معنوں کی سمجھ نہیں آئے گی تو پھر اس کی کمنٹری پڑھو گے۔تو جب تم یہ پڑھو گے تو اللہ تعالیٰ کے حکموں کا بھی پتا لگ جائے گا۔ یہ تب ہو گا، جب یہ شوق پ
یدا ہو گا کہ جس طرح پڑھائی میں شوق پیدا ہوتا ہے۔
حضورِانور کے دریافت فرمانے پر سائل نے عرض کیا کہ ان کی دلچسپی آئی ٹی میں ہے۔ یہ سماعت فرما کر حضورِانور نے سمجھایا کہ اب آئی ٹی میں تم کہتے ہو کہ آئی ٹی ہو تو کمپیوٹر پر بیٹھ کے مَیں کام کرتا رہوں، اس پر تم بیٹھے رہتے ہو گے، تمہیں انٹرسٹ ہے ناں۔تو وہی انٹرسٹ قرآنِ کریم کی تعلیم کے لیے بھی develop کرو۔ کم از کم ایک گھنٹہ تو پڑھو تاکہ پتا لگے۔
بعض چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں، وہ بڑے بڑے سوال کرتے ہیں، مَیں نے دیکھا ہے کہ دس دس سال کے بچے گیارہ سال کے ابھی نہیں ہوئے، بائبل اور قرآن پڑھ کے compareکرنے لگ گئے ہیں۔ بعض بچے اب خود پڑھ کرمجھ سے ایسے سوال کرتے ہیں اور یہ نہیں ہے کسی نے بتایا ہوا ہوتا ہے، مَیں نے ان کو دیکھا ہے کہ خود پڑھتے ہیں، بائبل بھی پڑھی، قرآن بھی پڑھا، پھر کہتے ہیں کہ بائبل میں یہ چیز تو اس کی ان باتوں سے contradictکر رہی ہے۔ قرآنِ کریم یہ کہتا ہے، یہ صحیح کہتا ہے۔
حضورِانور نے میسر وقت کی بہترین تقسیم اور دینی و دنیاوی زندگی میں توازن قائم کرنے کی بابت توجہ دلائی کہ یہ تو انٹرسٹ developکرنے کی بات ہے۔ جو خواہشات ہیں، جو preferences ہیں، ان کو دیکھنے کی بات ہے کہ ہماری preference کیا ہے؟ اگر یہی ہے کہ مَیں نے آئی ٹی کرنا ہے تو مَیں آئی ٹی پر سارا دن بیٹھا رہوں اور نماز بھول جاؤں تو فائدہ کوئی نہیں۔ وقت دو کہ یہ میرا پڑھائی کا وقت ہے، یہ میری عبادت اور نمازوں کا وقت ہے،مَیں نے یہ نماز پڑھنی ہے۔ اتنا وقت مَیں نے قرآنِ کریم پڑھنے کو دینا ہے یا لٹریچر پڑھنا ہے، جس سے مجھے قرآنِ شریف سمجھ آئے۔اور یہ میرا پڑھائی کا وقت ہے، اتنا وقت مَیں نے دینا ہے۔ اب چوبیس گھنٹے میں سے چھ سات گھنٹے سوتے ہو،چار پانچ گھنٹے سکول میں جاتے ہو، دو تین گھنٹے travelling وغیرہ میں چلا جاتا ہے، ایک دو گھنٹے اگر کوئی گیم بھی کھیلتے ہو گے تو یہ چودہ سےسولہ گھنٹے بنتے ہیں، اٹھارہ گھنٹے بھی بن جائیں تو کچھ گھنٹے باقی بچتے ہیں، تو ان میں دیکھو کہ تمہاری نمازوں کا وقت بھی ہے اور دینی علم حاصل کرنے کا بھی وقت ہے۔اس کو یعنی اپنے وقت کو divideکرنا ہو گا۔ شوق پیدا کرو اور جب وہ شوق پیدا ہو گا، جب اللہ تعالیٰ پر یقین کامل ہو جائے گا، اس کا خوف بھی ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال پوچھے گا کہ دنیا تو تم نے بہت کما لی، آئی ٹی میں تو بڑی perfectionحاصل کر لی، الله تعالیٰ کہے گا کہ پھر میرے بارے میں بھی کوئی کچھ سوچا کبھی؟ تو جب یہ سوچو گے، اس سوچ سے کام کرو گے، تو پھر آپ ہی پتہ لگ جائے گا کہ ہم نے ان مشکلات پر کس طرح قابو پانا ہے۔
حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا جانے والا ایک سوال یہ تھا کہ جہاں آجکل کے زمانے میں بچوں کی تربیت مشکل ہے، وہاں تین بیٹیوں کے والد کی حیثیت سے کیا کیا جائے کہ بچے ماں کے ساتھ ساتھ باپ کے ساتھ بھیattach ہوں اور وہ تربیت کر سکیں؟
حضورِانور نے اس کا جواب دیتے ہوئے تلقین فرمائی کہ ماں باپ دونوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کا خیال رکھیں، ان سے سوال پوچھیں اور آجکل کے بچے ذہین ہوتے ہیں، پڑھتے ہیں۔
مَیں نے ابھی بتایا ہے کہ دس گیارہ سال کی عمر کے بچے بھی بعض سوال کر لیتے ہیں۔ ہماری جب دس گیارہ سال کی عمر تھی تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہم اس طرح بائبل پڑھیں گے یا قرآنِ کریم کو اس طرح گہرائی سے پڑھیں کہ جس طرح آجکل کے بعض بچے پڑھ لیتے ہیں۔ تو ان میں شوق پیدا کرو۔ اپنا عمل سامنے دکھاؤ گے، اپنا نمونہ دکھاؤ گے، تو بچے وہ دیکھیں گے۔پھر وہ پڑھیں گے اور سوال بھی کریں گے اور جب وہ سوال کریں تو ان کے جواب دو۔ اور جواب اسی وقت انسان صحیح دے سکتا ہے جب خود بھی اس پر عمل کر رہا ہو۔تو بچوں کے سامنے اپنے نمونے قائم کرنے ہوں گے۔ اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ بیٹیاں ماؤں کی ذمہ داریاں ہیں۔ٹھیک ہے کہ ماؤں کی ذمہ داریاں ہیں، لیکن باپ سے بھی بیٹیوں کی دوستی ہونی چاہیے اور بیٹوں کی بھی۔
ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ کبھی کبھی زندگی میں ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے، چاہے وہ شادی ہو یا پڑھائی ہو یا کوئی اَور معاملہ ہو جو پہلی نظر میں سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں مجھے کیسے یقین ہو سکتا ہے کہ یہ اللہ کیplanningکا حصہ ہے اور میرے لیےبہتر ہے۔اگرچہ مَیں اس کا بڑا مقصد فوراً پہچان نہیں پاتا، ایسے حالات میں مَیں اللہ پر اپنا اعتماد اور یقین کس طرح بڑھا سکتا ہوں؟
حضور انورنے اس پر استفہامیہ انداز میں استفسار فرمایا کہ بات یہ ہے کہ یہ یقین ہے کہ خدا تعالیٰ ہے، یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی سنتا بھی ہے، کبھی سنی بھی ہے ؟
سائل کے اثبات میں جواب عرض کرنے پرحضور انور نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، تو تجربہ تو ہو گیا ناں کہ اللہ سنتا ہے۔ اس لیے جب ایسے مسائل ہوںتو دعا کرو۔ضروری نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کوئی خوابیں دکھائے۔ آجکل لوگوں کو خوابوں کا بڑا ہو گیا ہے کہ خواب نہیں آئی۔خوابیں نہیں آیا کرتیں، نہ ہر ایک کو الہام ہوتے ہیں۔دل کی ایک کیفیت ہوتی ہے، دل میں تسلّی ہوتی ہے۔ دعا کرو، پانچ سے دس دن نفل پڑھو، اور اگر بہت ہی بڑے مسائل ہیں تو چالیس دن تک نفل پڑھو۔ رات کو عشاء کے بعد دعا کرو، اس کے بعد جو دل میں تسلی ہو تو اس کے بعد فیصلہ کر لواور اللہ تعالیٰ سے کہو کہ اگر تیرے لیے یہ بہتر ہے تو میرے دل کو تسلی دے اور میرے دل میں اعتماد پیدا کر۔ اور اگر بہتر نہیں تو میرے دل سے جو بھی خیالات اور باتیں ہیں، ان کو ٹال دے، دُور کر دے، مجھے واضح طور پر اس سے دُوری کے لیے دل میں ایک احساس پیدا کر دے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے۔یہ تو تعلق کی بات ہے۔
ہم صرف دنیاوی کاموں کے لیےاللہ کے پاس جاتے ہیں،جب ہمارے مسائل نہیں ہوتے، تو ہم اللہ کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے۔ حالانکہ ہفتے میں کم از کم ایک یا دو تین دفعہ ویسے بھی اللہ کے پاس جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تُو ہے، ہم تجھے پانا چاہتے ہیں، اور تجھے پانے کے لیےہم تجھ سے مانگتے ہیں کہ تُو ہمیں رستہ بتا۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ کی دعا مستقل پڑھتے رہا کرو۔ جب ہمیں اللہ کی طرف سے وہ ایک ہدایت ملے گی تو پھر جو کام بھی آپ کریں گے، اس کی طرف بھی اللہ تعالیٰ رُخ پھیرے گا اور اللہ تعالیٰ بتائے گا کہ مَیں ہوں اور اس پر راہنمائی بھی مل جائے گی اور دل کااعتماد بھی قائم ہو جائے گا۔
شکوک و شبہات میں مبتلا رہتے ہوئے واضح احکامات کی تلاش میں سرگرداں پھرتےرہنے کے امر کی نفی فرماتے ہوئے حضورِانور نے پُر حکمت انداز میں سمجھایا کہ اگر انسان شکوک میں ہی پڑا رہے اور یہ کہے کہ حساب کے سوال کی طرح ون پلس ون ٹُو کی طرح میرے لیے کوئی واضح حکم آ جائے، وہ تو نبیوں کو بھی نہیں ہوتا، ان سے بھی اجتہادی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا نبی تو کوئی نہیں۔آپؐ سے بھی بعض اجتہادی غلطیاں ہوئیں۔تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ نہیں تھی بلکہ یہ تھی۔ صلح حدیبیہ کے معاملے میں ہی دیکھ لو کہ وہاں عمرہ کرنے گئے تھے، لیکن نہیں ہوا اور صلح حدیبیہ کر کے واپس آ گئے۔ تو وہاں بھی یہ کیفیت ایک خواب کی بنا پر ہی تھی۔اب خواب کو سمجھنے میں آپؐ سے بھی غلطی ہوئی لیکن آپؐ نے سمجھا کہ شاید یہ پوری ہو جائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر واضح کر دیا اور کہا کہ نہیں یہ آئندہ پوری ہو گی۔تو اس کے باوجود کہ آپؐ کو تو وحی بھی ہوتی تھی، الہام بھی ہوتے تھے، سارا کچھ ہوتا تھا۔ تو ایک عام بندہ اس کے مقابلے میں کیا چیز ہے ؟پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھ سے بھی اجتہادی غلطیاں ہو جاتی ہیں، خلفاء سے بھی جماعتی معاملات میں ہو جاتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اس میں نتائج بد نہیں کرتا،نتائج بہتر کر دیتا ہے۔
استقامتِ ایمان کے لیے دعا کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے حضورِانور نے نصیحت فرمائی کہ اس لیےعام حالات میں بھی اللہ تعالیٰ سے یہ مانگو کہ جلد جو بھی ہو، میرا کبھی اللہ تعالیٰ پر ایمان ڈانواں ڈول نہ ہو، متزلزل نہ ہو، میرا اِیمان کبھی shakeنہ کرے۔ یہ دعا عام حالات میں بھی کرو۔ پھر جب ایسے خاص موقعےآتے ہیں تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ پھر تسلّی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر خدام کو حضورِانور کے ہمراہ ایک گروپ تصویربنوانے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔
٭…٭…٭




