متفرق شعراء

مسرور سبھی تیرے، انداز ہیں شاہانہ

مسرور سبھی تیرے، انداز ہیں شاہانہ
مسکینی طبیعت میں، فطرت ہے مسیحانہ

ہر لفظ ترے لب پر، ہے گوہرِ یک دانہ
کرتا ہے دلوں پر اک تاثیر جداگانہ

صحبت میں تری رہ کر دل پاک ہوں ویسے بھی
ہے تیری نصیحت کا انداز جداگانہ

دل تیری محبّت میں دیوانے ہوئے ایسے
دیکھے ہیں جو آنکھوں سے اخلاق کریمانہ

یہ حسن کا جلوہ ہے یا کوئی کرامت ہے
ہر اک تری چاہت میں کیسا ہوا دیوانہ

ہے سر پہ ترے جب سے دستار خلافت کی
تُو شمع ہے ہر دل کی، ہر دل ترا پروانہ

رہتا ہے کھلا تیرا مے خانہ، پیئیں سب ہی
بھر دے مرا کاسہ بھی، ہے عرض فقیرانہ

اے ساقی! سرِ محفل مَیں کیسے تجھے کہہ دوں
ڈرتا ہوں، نہ رہ جائے خالی مرا پیمانہ

ہم تیری اطاعت میں زینے سبھی طے کر لیں
ایسے نہ چلیں رستہ، منزل سے ہوں بیگانہ

بیعت میں تری آئے، سر آنکھوں پہ رکھتے ہیں
ہم تک جو پہنچتے ہیں ارشاد مسیحانہ

تو نبض شناس ایسا نائب ہے مسیحا کا
پائی ہے شفا اس نے جس نے تجھے پہچانا

ہو عمرِ خضر ایسی فعّال عطا تجھ کو
ہو جائیں سبھی حاصل مقصد ترے تابانہ

آئیں وہ نظر آنکھیں جو اشک بہاتی ہیں
مشکل ہے محبّت کے آثار بتا پانا

مجھ پر بھی نظر کر دے، ہو جائے سپھل جیون
اک تیری محبّت میں طارؔق بھی ہے مستانہ

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ-لندن)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button