سدّباب کا طریق رکھو اور کسی سے جھگڑا مت کرو
وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ مَرُّوۡا کِرَامًا …اور اگر کوئی لغو بات کسی سے سنیں جو جنگ کا مقدمہ اور لڑائی کی ایک تمہید ہوتو بزرگا نہ طور پر طرح دے کر چلے جاتے ہیں اور ادنیٰ ادنیٰ بات پر لڑنا شروع نہیں کر دیتےیعنی جب تک کوئی زیادہ تکلیف نہ پہنچے اس وقت تک ہنگامہ پردازی کو اچھا نہیں سمجھتے اور صلح کاری کے محل شناسی کا یہی اصول ہے کہ ادنیٰ ادنیٰ باتوں کو خیال میں نہ لاویں اور معاف فرماویں اور لغو کا لفظ جو اس آیت میں آیا ہے سو واضح ہو کہ عربی زبان میں لغو اس حرکت کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک شخص شرارت سے ایسی بکواس کرے یابہ نیت ایذا ایسا فعل اس سے صادر ہو کہ دراصل اس سے کچھ ایسا حرج اور نقصان نہیں پہنچتا۔سو صلح کاری کی یہ علامت ہے کہ ایسی بیہودہ ایذا سے چشم پوشی فرماویں اور بزرگانہ سیرت عمل میں لاویں لیکن اگرایذا صرف لغو کی مد میں داخل نہ ہو بلکہ اس سے واقعی طور پر جان یا مال یا عزت کو ضرر پہنچے تو صلح کاری کے خلق کو اس سے کچھ تعلق نہیں بلکہ اگر ایسے گناہ کو بخشا جائے تو اس خلق کا نام عفو ہے۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۹)
مزید پڑھیں: مَیں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے ان کے گھر بھر جائیں




