متفرق شعراء

مکرم سید میر محمود احمد ناصر کی یاد میں

اب ان کے پائے کا عالم نظر نہیں آتا
جو باعمل بھی ہو دائم، نظر نہیں آتا

وہ خانوادۂ ناصر کا ایک بطلِ جلیل
وہ جاں نثار وہ خادم، نظر نہیں آتا

وہ سادہ، سچا، خدا ترس، بے ریا سا وجود
وہ اپنے نفس پہ حاکم، نظر نہیں آتا

سنوارا جامعہ کو اپنا خونِ دل دے کر
حلیم طبع وہ ناظم، نظر نہیں آتا

قلم جہاد کا سرخیل وہ قوی ہمت
کرے جو اتنے تراجم، نظر نہیں آتا

مخالفت کی کڑی دھوپ میں بشاشت سے
بلند رکھے عزائم، نظر نہیں آتا

بہت سے علمی خزائن کتب کے چھوڑے ہیں
جو اتنا شستہ ہو راقم، نظر نہیں آتا

وہ حبِّ مصطفیٰ ؐ میں رس بھرے دروس حدیث
غریق عشق وہ دائم، نظر نہیں آتا

خدا کی گود میں وہ بس گیا ہے جنت میں
وہ پاکباز وہ عاصم، نظر نہیں آتا

(امۃ الباری ناصر۔امریکہ)

مزید پڑھیں: ’’ہو گیا آخر نمایاں فرق نورو نار کا‘‘

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button