متفرق شعراء
ہمیں یقیں ہے کہ فتح ہو گی
رہِ طَلَب میں بچھائے پلکیں
میں سانس روکے کھڑا ہوا ہوں
کبھی تو دِیدارِ یار ہو گا
بہار ہو گی نِکھار ہو گا
ہے جُستجُوئے وِصال مَاہی
کبھی جو لَوٹے تو دِید ہووے
مہِ مبیں کے ہیں منتظر سب
کہ شہرِ یاراں میں عِید ہووے
یہ کون دستِ دُعا اُٹھائے
نصیب میرے جگا رہا ہے
ہوں میں مُسافر رہِ وَفا کا
مجھے وہ رَستہ دِکھا رہا ہے
تِری مَحبت میں درد جھیلے
زمانے بھر سے ہیں سَنگ کھائے
جَبِیں پہ اپنی دِیے سَجا کر
کھڑے ہوئے ہیں عَلَم اُٹھائے
ہمیں یقیں ہے کہ فتح ہو گی
کِھلیں گے چہرے مسرّتوں سے
یہ بام و دَر پھر فروزاں ہوں گے
چَھٹیں گے بادل کُدورتوں کے
(ابوعثمان)
مزید پڑھیں: عزت اسے ملتی ہے جسے میرا خدا دے




