جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی2024ء کے موقع پر اختتامی اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب
’’اے مسلمانوں! اس عاجز کا ظہور ساحرانہ تاریکیوں کے اٹھانے کی لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔
کیا ضرور نہیں تھا کہ سحر کے مقابل پر معجزہ بھی دنیا میں آتا۔ کیا تمہاری نظروں میں یہ بات عجیب اور اَن ہونی ہے کہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ کے مکروں کے مقابلہ پر جو سحر کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں ایک ایسی حقانی چمکار دکھاوے جو معجزہ کا اثر رکھتی ہو۔‘‘(حضرت مسیح موعود علیہ السلام )
اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آنے والے کے بارے میں پیشگوئیاں بھی فرمائی ہیں جو پوری ہو رہی ہیں اور ہوئی ہیں
یہ سعید فطرت لوگوں کی نشانی ہے کہ جب سمجھ آ جائے تو فوراً تصدیق کرتے ہیں لیکن جس نے صرف مخالفت برائے مخالفت کرنی ہے اس کا تو کوئی علاج نہیں
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا علمی لٹریچر جب سعید فطرت لوگوں کو دیا جاتا ہے تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے
جتنے زیادہ کفر کے فتوے لگتے ہیں اتنے ہی زیادہ اللہ تعالیٰ راستے کھولتا ہے
پابندیوں میں جکڑے احمدیوں اور دنیا کے عمومی حالات کے لیے دعا کی تحریک
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ارشادات کی روشنی میں مسیحِ موعود کی بعثت کی بابت
ضرورتِ زمانہ، پیشگوئیوں اور نشانات و تائیدات کا پُراثر بیان
جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی2024ء کے موقع پر اختتامی اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب
(فرمودہ مورخہ 25؍ اگست 2024ء بروز اتوار بمقام ایوانِ مسرور اسلام آباد (ٹلفورڈ) سرے یوکے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
جب سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور اللہ تعالیٰ کے حکم اور وعدے کے مطابق اپنے مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور خاتم الخلفاء ہونے کا اعلان فرمایا اسی وقت سے ہی انہی علماء کی اکثریت جو آپؑ کو اسلام کا سب سے بڑا پہلوان اور اسلام کا دفاع کرنے میں اوّل نمبر پر سمجھتے تھے ان کی اکثریت آپؑ کی مخالف ہو گئی اور آپؑ پر کفر و الحاد کے فتوے لگانے لگ گئی۔ آپؑ نے ان پر واضح فرمایا اور لاکھ سمجھایا کہ
میرا آنا زمانے کی ضرورت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آنا ہے اور اسلام کی نشأة ثانیہ کے لیے آنا ہے
اور اللہ تعالیٰ نے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آنے والے کے زمانے کی نشانیاں بتائی ہیں وہ پوری ہورہی ہیں اور زمانہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں مسیح و مہدی نے آنا تھا لیکن مخالفین کی آنکھوں میں ایسے پردے پڑے ہوئے ہیں کہ باوجود یہ ماننے کے کہ زمانے کی ضرورت ہے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود اور مہدی معہود ماننے کو تیار نہیں۔ وہ بنی اسرائیل کے نبی کو دوبارہ آنے اور مسیح موعود ماننے کو تیار ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آنے والے اور تجدیدِ دین کرنے والے کو ماننے کو تیار نہیں جبکہ آپؑ نے جیسا کہ میں نے کہا لاکھ سمجھایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا تو نشانیاں بھی بتائی تھیں جو پوری ہو گئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ اور آپؑ نے فرمایا کہ میری تائیدات میں اللہ تعالیٰ نشان بھی دکھا رہا ہے۔ زمینی نشان بھی دکھا رہا ہے اور آسمانی نشانات بھی دکھا رہا ہے ان کو دیکھ کر ہی غور کرولیکن ان نام نہاد علماء کے کان یہ سننے سے انکاری ہیں اور اس پر غور کرنے سے انکاری ہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا مسیح موعود ہے اس لیے اللہ تعالیٰ باوجود مخالفت کے جماعت کو ترقی دیتا چلا جا رہا ہے اور اپنے وعدے کو پورا فرما رہا ہے اور ہر سال لاکھوں سعید روحیں آپؑ کے سلسلہ بیعت میں شامل ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی غلامی کا جوا اپنی گردن میں ڈال رہی ہیں۔ اس وقت میں
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے الفاظ میں ہی ضرورتِ زمانہ پیشگوئیاں اور نشانات و تائیدات
کے کچھ اقتباس پیش کروں گا جو آپؑ کے دعویٰ کی روشن دلیل ہیں اور آپؑ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے کی روشن دلیل ہیں اور پھر
بعض واقعات
بھی پیش کر دوں گا اس حوالہ سے کہ
کس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو آپ کے دعویٰ کو ماننے کے لیے کھول رہا ہے اور لاکھوں لوگ ہر سال جماعت میں شامل ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کی صداقت اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے پورا ہونے کی صداقت کا اظہار کرتے ہیں۔
سب سے پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی تحریرات میں سے
ضرورتِ زمانہ کے حوالہ سے ایک اقتباس
پیش کرتا ہوں کاش کہ مسلمان اس کو سنیں اور اس پر غور کریں۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’اے حق کے طالبو اور اسلام کے سچے محبّو! آپ لوگو ں پر واضح ہے کہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کررہے ہیں یہ ایک ایسا تاریک زمانہ ہے کہ کیا ایمانی اور کیا عملی جس قدر امور ہیں سب میں سخت فساد واقع ہو گیا ہے اور ایک تیز آندھی ضلالت اور گمراہی کی ہر طرف سے چل رہی ہے۔ وہ چیز جس کو ایمان کہتے ہیں اس کی جگہ چند لفظوں نے لے لی ہے جن کا محض زبان سے اقرار کیا جاتا ہے اور وہ امور جن کا نام اعمالِ صالحہ ہے ان کا مصداق چند رسوم یا اسراف اور ریا کاری کے کام سمجھے گئے ہیں اور جو حقیقی نیکی ہے اس سے بکلی بے خبری ہے۔ اس زمانہ کا فلسفہ اور طبیعی بھی روحانی صلاحیت کا سخت مخالف پڑا ہے۔ ا س کے جذبات اس کے جاننے والوں پر نہایت بد اثر کرنےوالے اور ظلمت کی طرف کھینچنے والے ثابت ہوتے ہیں۔ وہ زہریلے مواد کو حرکت دیتے اور سوئے ہوئے شیطان کو جگا دیتے ہیں۔ اِن علوم میں دخل رکھنے والے دینی امور میں اکثر ایسی بد عقیدگی پیدا کر لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں اور صوم وصلوٰة وغیرہ کے عبادت کے طریقوں کو تحقیر اور استہزاء کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔‘‘ نیک فطرت لوگ گواہی دیں گے کہ یقیناً ایسی ہی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں: ’’ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے وجود کی بھی کچھ وقعت اور عظمت نہیں بلکہ اکثر ان میں سے الحاد کے رنگ سے رنگین اور دہریت کے رگ وریشہ سے پُر اور مسلمانوں کی اولاد کہلا کر پھر دشمنِ دین ہیں۔‘‘ اور ایسی مثالیں آجکل تو ہمیں سوشل میڈیا پر بےشمار نظر آتی ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’جو لوگ کالجوں میں پڑھتے ہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہنوز وہ اپنے علومِ ضروریہ کی تحصیل سے فارغ نہیں ہوتے کہ دین اور دین کی ہمدردی سے پہلے ہی فارغ اور مستعفی ہو چکتے ہیں۔‘‘ اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی دنیاوی علوم میں ڈوب کر روحانیت سے خالی ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں روحانیت کوئی چیز ہی نہیں ہے۔
فرمایا: ’’یہ مَیں نے صرف ایک شاخ کا ذکر کیا ہے جو حال کے زمانہ میں ضلالت کے پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔‘‘ یہ تو ایک پہلو ہے جس کی یہ انتہا ہے ’’مگر اس کے سوا صدہا اَور شاخیں بھی ہیں جو اس سے کم نہیں! عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ دنیا سے امانت اور دیا نت ایسی اٹھ گئی ہے کہ گویا بکلی مفقود ہو گئی ہے۔ دنیا کمانے کے لیے مکر اور فریب حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ جوشخص سب سے زیادہ شریر ہو وہی سب سے زیادہ لائق سمجھا جاتاہے۔ طرح طرح کی ناراستی، بددیانتی، حرام کاری، دغابازی، دروغ گوئی اور نہایت درجہ کی روبہ بازی’’ یعنی چالاکی اور ہوشیاری ‘‘اور لالچ سے بھرے ہوئے منصوبے اور بدذاتی سے بھری ہوئی خصلتیں پھیلتی جاتی ہیں اور نہایت بے رحمی سے ملے ہوئے کینہ اور جھگڑے ترقی پر ہیں اور جذبات بہیمیّہ اور سبعیّہ کا ایک طوفان اٹھا ہوا ہے۔’’ انسان بالکل جانور بن گئے ہیں۔ ‘‘اور جس قدر لوگ اِ ن علوم اور قوانین مروجہ میں چست و چالاک ہوتے جاتے ہیں اسی قدر نیک گوہری اور نیک کرداری کی طبعی خصلتیں اور حیا اور شرم اور خدا ترسی اور دیانت کی فطرتی خاصیتیں ان میں کم ہوتی جاتی ہیں۔‘‘
فرمایا کہ ’’عیسائیوں کی تعلیم بھی سچائی اور ایمانداری کے اڑانے کے لیے کئی قسم کی سرنگیں طیار کر رہی ہے‘‘ اب اگر عیسائی اس طرح ایکٹو نہیں ہیں، عیسائیت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے تو ترقی کے نام پر ترقی یافتہ لوگ اسلام کے مٹا نے کے درپے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ’’ اور عیسائی لوگ اسلام کے مٹا دینے کے لیے جھوٹ اور بناوٹ کی تمام باریک باتوں کو نہایت درجہ کی جانکاہی سے پیدا کر کے ہر ایک رہزنی کے موقع اور محل پر کام میں لارہے ہیں۔‘‘ اور آجکل سوشل میڈیا پہ یہ چیزیں بھری پڑی ہیں۔ ’’اور بہکانے کے نئے نئے نسخے اور گمراہ کرنے کی جدید جدید صورتیں تراشی جاتی ہیں اور اس اِنسانِ کامل کی سخت توہین کررہے ہیں جو تمام مقدسوں کا فخر اور تمام مقربوں کا سرتاج اور تمام بزرگ رسولوں کا سردار تھا۔ یہاں تک کہ ناٹک کے تماشاؤں میں نہایت شیطنت کے ساتھ اسلام اور ہادی پاک اسلام کی برے برے پیرائیوں میں تصویریں دکھلائی جاتی ہیں۔‘‘ اور آج تو انتہا ہو چکی ہوئی ہے۔ ’’اور سوانگ نکالے جاتے ہیں اور ایسی افترائی تہمتیں تھیئٹر کے ذریعہ سے پھیلائی جاتی ہیں جن میں اسلام اور نبی پاک کی عزت کو خاک میں ملا دینے کے لیے پوری حرم زدگی خرچ کی گئی ہے۔‘‘
اب اگر اس زمانے میں جیسا کہ میں نے کہا عیسائی چرچ اتنا ایکٹو نہیں ہے تو اسلام مخالف قوتیں جو ہیں اپنے بھرپور ایجنڈے کے ساتھ یہ کام کر رہی ہیں۔
آپؑ فرماتے ہیں:’’اب اے مسلمانو سنو! اور غور سے سنو! کہ اسلام کی پاک تاثیروں کے روکنے کے لیے جس قدر پیچیدہ افترا اس عیسائی قوم میں استعمال کئے گئے اور پُر مکر حیلے کام میں لائے گئے اور ان کے پھیلانے میں جان توڑ کر اور مال کو پانی کی طرح بہا کر کوششیں کی گئیں یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے بھی جن کی تصریح سے اس مضمون کو منزہ رکھنا بہتر ہے اِسی راہ میں ختم کئے گئے …یہ وہ ساحرانہ کارروائیاں ہیں کہ جب تک ان کے اِس سحر کے مقابل پر خدا تعالیٰ وہ پر زور ہاتھ نہ دکھاوے جو معجزہ کی قدرت اپنے اندر رکھتا ہو اور اس معجزہ سے اِس طلسمِ سحر کو پاش پاش نہ کرے تب تک اس جادوئے فرنگ سے سادہ لوح دلوں کو مَخلصی حاصل ہونا بالکل قیاس اور گمان سے باہر ہے۔ سو خدا تعالیٰ نے اس جادو کے باطل کرنے کے لیے اِس زمانہ کے سچے مسلمانوں کو یہ معجزہ دیا کہ اپنے اس بندہ کو اپنے الہام اور کلام اور اپنی برکاتِ خاصہ سے مشرف کر کے اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرہ کامل بخش کر’’کامل حصہ بخش کر ‘‘مخالفین کے مقابل پر بھیجا اور بہت سے آسمانی تحائف اور علوی عجائبات’’ آسمانی عجائبات ‘‘اور روحانی معارف و دقائق ساتھ دیئے تا اس آسمانی پتھر کے ذریعہ سے وہ موم کا بت توڑ دیا جائے جو سحر فرنگ نے تیار کیا ہے۔
سو اے مسلمانوں! اس عاجز کا ظہور ساحرانہ تاریکیوں کے اٹھانے کی لیے خداتعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔ کیا ضرور نہیں تھا کہ سحر کے مقابل پر معجزہ بھی دنیا میں آتا۔ کیا تمہاری نظروں میں یہ بات عجیب اور اَن ہونی ہے کہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ کے مکروں کے مقابلہ پر جو سحر کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں ایک ایسی حقانی چمکار دکھاوے جو معجزہ کا اثر رکھتی ہو۔‘‘
(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 4 تا 6)
آپؑ پر
انگریز کا خودکاشتہ پودا ہونے کا الزام
لگایا جاتا ہے۔ آپ نے اس زمانے میں جب ہندوستان میں فرنگی حکومت تھی کھل کر ان کے مکر کے خلاف آواز بلند فرمائی اور بتایا کہ یہی وقت ہے جب اسلام کی حفاظت کے لیے کسی مصلح کا آنا ضروری تھا۔ یہ وقت کی آواز ہے اور میں آ گیا ہوں۔ آپؑ نے اپنے ایک شعری کلام میں فرمایا کہ
’’وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اَور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اَور ہی آیا ہوتا‘‘
لیکن آپؑ کے دل میں جو اسلام کا درد تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہی اس کام کے لیے مبعوث فرمایا۔ آپ نے اپنی کتب میں اور مجالس میں بیشمار مرتبہ زمانے کے حالات کا نقشہ کھینچ کر سمجھایا ہے اور بڑے درد سے سمجھایا ہے۔ یہ تو ایک مختصر اقتباس ہے جو میں نے آپؑ کے درد اور اسلام کے مخالفین کے مکروں کا نقشہ کھینچ کر پیش کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آنے والے کے بارے میں پیشگوئیاں بھی فرمائی ہیں جو پوری ہو رہی ہیں اور ہوئی ہیں۔
چنانچہ
آسمانی پیشگوئی جس کا ذکر شیعوں اور سنیوں کی کتب میں بھی موجود ہے،
ان کو بیان کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’یاد رہے کہ اہلِ سنت کی صحیح مسلم اور دوسری کتابوں اور شیعہ کی کتاب اکمال الدین میں بتصریح لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی بلکہ اکمال الدین جو شیعہ کی بہت معتبر کتاب ہے …اس میں اول چار حدیثیں کسوف خسوف کے بارہ میں لایا ہے اور امام باقر سے روایت کرتا ہے کہ مہدی کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ قبل اس کے کہ وہ قائم ہو یعنی عام طور قبول کیا جاوے رمضان میں کسوف خسوف ہو گا۔ اور پھر بعد اس کے لکھا ہے کہ یہ بھی اس کے ظہور کی ایک نشانی ہے کہ قبل اس کے کہ قائم ہو یعنی عام طورپر قبول کیا جائے دنیا میں سخت طاعون پڑے گی یہاں تک کہ ایک گھر میں جو سات آدمی ہوں گے ان میں سے صرف دو رہ جائیں گے اور پانچ مر جائیں گے۔ پس اس کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں نشان اس وقت ظہور میں آئیں گے جبکہ اس کی دنیا میں تکذیب ہو گی کیونکہ مسیح کے بھی یہ دونوں نشان تھے جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب ہو کر ان کے لیے صلیب تیار کیا گیا تھا تب آفتاب و ماہتاب دونوں تاریک ہو گئے تھے اور طاعون بھی پڑی تھی۔ غرض
اس کتاب میں لکھا ہے کہ رمضان میں خسوف کسوف ہونا اور ملک میں طاعون پھیلنا مہدی معہود کا ایک معجزہ ہو گا۔
پس بلاشبہ یہ امر تواتر کے درجہ پر پہنچ چکا ہے کہ مسیح موعود کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے وقت میں اور اس کی توجہ اور دعا سے ملک میں طاعون پھیلے گی۔ آسمان اس کے لیے چاند اور سورج کو رمضان میں تاریک کرے گا اور زمین اس کے لیے طاعون کی تاریکی اور مصیبت پھیلائے گی کیونکہ وہ ابتدا میں قبول نہیں کیا جائے گا اس لیے انذاری نشان اس کے لیے ظاہر ہوں گے۔‘‘
(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 396-397)
اور یہ نشان ظاہر ہو کر آپؑ کی صداقت پر مہر تصدیق لگا گئے۔ سنہ1894ء اور سنہ 1895ء میں مشرق و مغرب میں رمضان کے مہینے میں بیان کی گئی مقررہ تاریخوں میں چاند اور سورج گرہن لگ کر اور پھر انذاری پیشگوئی کے مطابق طاعون کی وبا پھوٹ کر جو ایک لمبے عرصہ پر پھیلی ہوئی ہے بہت سے لوگوں کے لیے ہدایت کا باعث بنی اور وہ ان نشانات کو دیکھ کر مسیح موعود اور مہدی معہود کی بیعت میں آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے مصداق بن گئے اور یہ صرف اس زمانے کی بات نہیں ہے بلکہ آج بھی جن سعید فطرت لوگوں نے جنہوں نے پیشگوئیوں کی روایات سنی ہوئی ہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا پیغام سنتے اور تاریخ سے ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کی تصدیق دیکھتے ہیں تو آپؑ کی بیعت میں آنے میں دیر نہیں کرتے چنانچہ
ہر سال ہزاروں لوگ ان نشانات کو سن کر ہی بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔
اس سال بھی ایسی بیعت کرنے والے کے واقعات میں سے ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں۔
گھانا
کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ہم نے چھ مہینے قبل ٹیچی مان کے ایک قریبی علاقے کا دورہ کیا۔ امام سے بات کی اس نے جمعہ پڑھانے کی اجازت دی۔ میں نے وفات مسیح پر خطبہ دیا اس کے بعد سوال و جواب ہوئے۔ اب کہتے ہیں دوبارہ ہم وہاں گئے اور جمعہ پڑھایا اور وہاں مہدی کی صداقت کے نشان سورج اور چاند گرہن پر خطبہ دیا۔ جمعہ کے بعد
پندرہ خاندانوں کے لوگوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ اب ہمیں انشراح صدر ہے اور یہ سب افراد بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے۔ امام اور مسجد بھی ہمیں عطا ہو گئی۔
مزید چند خاندان جن کے مرد موجود نہ تھے خواتین موجود تھیں وہ بعد میں کہتے ہیں کہ ہمارے مرد آئیں گے تو ہم شامل ہوں گے ان شاء اللہ۔ اس طرح یہاں ایک نئی جماعت قائم ہو گئی۔
پس
یہ ہے سعید فطرت لوگوں کی نشانی کہ جب سمجھ آ جائے تو فوراً تصدیق کرتے ہیں لیکن جس نے صرف مخالفت برائے مخالفت کرنی ہے اس کا تو کوئی علاج نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ہر بات دلیل سے کرتے ہیں۔ جماعت احمدیہ اپنا مؤقف دلیل سے بیان کرتی ہے لیکن نام نہاد علماء کا صرف ایک ہی نعرہ ہے کہ اِن کو مار دو کیونکہ اُن کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:’’یہ سوال کرنا ان کا حق ہے کہ ہم کیونکر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا قبول کریں ؟ اور اس پر دلیل کیا ہے کہ وہ مسیح موعود تم ہی ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس زمانہ اورجس ملک اور جس قصبہ میں مسیح موعود کا ظاہر ہونا قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے اورجن افعال خاصہ کو مسیح کے وجود کی علت غائی ٹھہرایا گیا ہے اور جن حوادثِ ارضی اور سماوی کو مسیح موعود کے ظاہر ہونے کی علامات بیان فرمایا گیا ہے اور جن علوم اور معارف کو مسیح موعود کا خاصہ ٹھہرایا گیا ہے وہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے مجھ میں اور میرے زمانہ میں اور میرے ملک میں جمع کر دی ہیں اور پھر زیادہ تر اطمینان کے لیے آسمانی تائیدات میرے شامل حال کی ہیں۔‘‘
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 254-255 بقیہ حاشیہ)
خود یہ لوگ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس وقت امت مسلمہ کو کسی مصلح کی ضرورت ہے لیکن جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہے اسے مانتے نہیں بلکہ مخالفت میں انتہا پر بڑھے ہوئے ہیں۔
پھر اپنے
ایک علمی معجزہ اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ایک نشان کا ذکر
کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’ایک دفعہ ایک ہندو صاحب قادیان میں میرے پاس آئے جن کا نام سوامی شوگن چندر تھا۔ اور کہا کہ میں ایک مذہبی جلسہ جس کا نام مہوتسو جلسہ اعظم مذاہب مشہور کیا گیا، کرنا چاہتا ہوں آپ بھی اپنے مذہب کی خوبیوں کے متعلق کچھ مضمون لکھیں تا اس جلسہ میں پڑھا جائے میں نے عذرکیا پر اس نے بہت اصرار سے کہا کہ آپ ضرور لکھیں چونکہ میں جانتاہوں کہ میں اپنی ذاتی طاقت سے کچھ بھی نہیں کر سکتا بلکہ مجھ میں کوئی طاقت نہیں۔ میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا اور بغیر اس کے دکھانے کے کچھ دیکھ نہیں سکتا اس لیے میں نے جنابِ الٰہی میں دعا کی کہ وہ مجھے ایسے مضمون کا القا کرے جو اس مجمع کی تمام تقریروں پر غالب رہے۔ میں نے دعا کے بعد دیکھا کہ ایک قوت میرے اندر پھونک دی گئی ہے میں نے اس آسمانی قوت کی ایک حرکت اپنے اندر محسوس کی اور میرے دوست جو اس وقت حاضر تھے جانتے ہیں کہ میں نے اس مضمون کا کوئی مسودہ نہیں لکھا جو کچھ لکھا صرف قلم برداشتہ لکھا تھا۔‘‘ ساتھ ساتھ فوری طور پر لکھتا گیا۔’’اور ایسی تیزی اور جلدی سے میں لکھتا جاتا تھا کہ نقل کرنے والے کے لیے مشکل ہو گیا کہ اس قدر جلدی اس کی نقل لکھے۔ جب میں مضمون ختم کر چکا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ
مضمون بالا رہا۔
خلاصہ کلام یہ کہ جب وہ مضمون اس مجمع میں پڑھا گیا تو اس کے پڑھنے کے وقت سامعین کے لیے ایک عالم وجد تھا اور ہر ایک طرف سے تحسین کی آواز تھی یہاں تک کہ ایک ہندو صاحب جو صدر نشین اس مجمع کے تھے ان کے منہ سے بھی بے اختیار نکل گیا کہ یہ مضمون تمام مضامین سے بالا رہا۔ اور سول اینڈ ملٹری گزٹ جو لاہور سے انگریزی میں ایک اخبار نکلتا ہے اس نے بھی شہادت کے طور پر شائع کیا کہ یہ مضمون بالا رہا۔ اور شائد بیس کے قریب ایسے اردو اخبار بھی ہوں گے جنہوں نے یہی شہادت دی اور اس مجمع میں بجز بعض متعصب لوگوں کے تمام زبانوں پر یہی تھا کہ یہی مضمون فتح یاب ہوا اور آج تک صدہا آدمی ایسے موجود ہیں جو یہی گواہی دے رہے ہیں۔ غرض
ہر ایک فرقہ کی شہادت اور نیز انگریزی اخباروں کی شہادت سے میری پیشگوئی پوری ہو گئی کہ مضمون بالا رہا۔
یہ مقابلہ اس مقابلہ کی مانند تھا جو موسیٰ نبی کو ساحروں کے ساتھ کرنا پڑا تھا کیونکہ اس مجمع میں مختلف خیالات کے آدمیوں نے اپنے اپنے مذہب کے متعلق تقریریں سنائی تھیں جن میں سے بعض عیسائی تھے اور بعض سناتن دھرم کے ہندو اور بعض آریہ سماج کے ہندو اور بعض برہمو اور بعض سکھ اور بعض ہمارے مخالف مسلمان تھے۔ اور سب نے اپنی اپنی لاٹھیوں کے خیالی سانپ بنائے تھے لیکن جبکہ خدا نے میرے ہاتھ سے اسلامی راستی کا عصا ایک پاک اور پر معارف تقریر کے پیرایہ میں ان کے مقابل پر چھوڑا تو وہ اژدہا بن کر سب کو نگل گیا۔ اور آج تک قوم میں میری اس تقریر کا تعریف کے ساتھ چرچا ہے جو میرے منہ سے نکلی تھی۔ فَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 291-292، مع حاشیہ)
جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آج تک اس لیکچر کی خوبصورتی کا تذکرہ ہے۔ نہ صرف آپ کے زمانے میں بلکہ آج بھی آپؑ کا یہ لیکچر اسلام کی خوبصورت تعلیم دکھا کر لوگوں کو متاثر کرتا ہے ۔ یہ لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے چھپا ہوا ہے۔ ہر سال بیشمار خطوط اور رپورٹس میں اس کا ذکر ہوتا ہے کہ کس طرح اس کتاب نے لوگوں پر اثر ڈالا ہے۔ اس سال کے واقعات میں سے ایک دو واقعات بیان کر دیتا ہوں۔
مالی
شہر میں امیر جماعت نے لکھا۔ بماکو کے فیسٹیول میں ایک دوست ہمارے بک سٹال پر آئے اور ہمارے معلم کو دیکھتے ہی اس کو گلے لگایا اور اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2022ء میں لگنے والے میلے میں انہوں نے ہمارے بک سٹال سے ایک کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی خریدی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے اس کتاب کا مطالعہ کیا تو انہوں نے اپنے آپ کو کہا کہ جس شخص نے یہ کتاب لکھی ہے وہ لازماً ایک عظیم شخص ہے اور ساتھ ہی انہوں نے دعا کرنی شروع کر دی کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحیح راستہ دکھائے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی دوران میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی انہیں کہہ رہا ہے کہ اس کتاب کا مصنف ہی آج کے دور میں اسلام کا صحیح راہنما ہے ۔کیونکہ ان کے پاس جماعت کا کوئی رابطہ نہیں تھا اس لیے وہ مزید تحقیق نہ کر سکے لیکن جب اس سال میلے پر انہوں نے جماعتی سٹال دیکھا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور اس لیے آتے ہی انہوں نے ہمارے معلم صاحب کو خوشی سے گلے لگا لیا اور جماعت کا ایڈریس لیا اور بیعت کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔
اسی طرح
ڈوری
کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ڈوری کے علاقے میں سیکیورٹی کے مخدوش حالات کی وجہ سے گاؤں میں جا کر تبلیغ کرنا ناممکن تھا اس لیے شہر میں تبلیغ کی کوشش کی گئی۔ الحمد للہ کہ جس کے نتیجہ میں اس سال سینتیس نیک فطرت لوگ بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔ ڈوری شہر کے ایک تاجر کو اسلامی اصول کی فلاسفی کتاب پڑھنے کے لیے دی تو کتاب پڑھ کر اس نے کہا کہ یہ کتاب اتنی دلچسپ ہے اور علمی ہے کہ اگر مجھے ایک لاکھ سیفا میں یہ خریدنی پڑے تو ضرور خرید لوں گا۔ ایک لاکھ سیفا بھی گو ان کی کرنسی بہت کم ہے لیکن تقریباً ایک سو تیس پاؤنڈ بنتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ کتاب کی قیمت دینی پڑے تو پھر بھی میں خرید لوں گا ایسی اعلیٰ کتاب ہے۔
اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا دوسرا علمی لٹریچر جب سعید فطرت لوگوں کو دیا جاتا ہے تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔
آج جماعت احمدیہ کے لٹریچر کی بنیاد آپ علیہ السلام کے اس لٹریچر پر ہے جس کو پڑھ کر اور سن کر لاکھوں لوگ ہر سال احمدیت میں شامل ہوتے ہیں۔
تنزانیہ
کے امیر جماعت کہتے ہیں کہ زنزبار کے ممبر آف پارلیمنٹ سیف سالم سیف صاحب تنزانیہ کے دارالحکومت ڈوڈومہ میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد نماز ظہر کی ادائیگی کے لیے ہماری مسجد میں آئے اور معلم سے جماعت کے بارے میں کچھ پوچھنے لگے۔ کہتے ہیں مَیں بھی وہاں دیکھ کر ان کے پاس آیا اور جماعت کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی اور وفاتِ مسیح اور ختمِ نبوت کے بارے میں بھی ان کے شبہات دور کیے اور انہیں کشتی نوح کا سواحیلی ترجمہ اور حضرت اقدس علیہ السلام کی چند کتب پڑھنے کے لیے دی گئیں۔ بعد میں تقریباً دو ماہ تک وقتاً فوقتاً وہ ہمارے پاس آتے رہے اور اپنی اہلیہ کو بھی ساتھ لائے۔ قرآن کریم کا سواحیلی ترجمہ بھی خرید کر لے گئے مگر بیعت کے لیے ابھی شرح صدر نہیں ہوا۔ کہتے ہیں ایک دن میں نے ان کو بیعت فارم دیا تا کہ وہ تفصیل سے اسے پڑھ لیں اور ساتھ ہی مجھے بھی انہوں نے ان کے بارے میں دعا کے لیے لکھا۔ کہتے ہیں اگلے دن شام کو اپنی اہلیہ کے ہمراہ تشریف لائے اور دونوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں بغیر کسی لالچ اور بغیر کسی خوف کے اپنی دلی خواہش کے مطابق بیعت کر رہا ہوں۔
بعض لوگ اپنے دنیاوی مفادات کی وجہ سے مانیں یا نہ مانیں لیکن اس بات کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آپ علیہ السلام یقیناً اللہ تعالیٰ کے فرستادے ہیں۔
انڈیا، آسام
میں بک فیئر گواہاٹی کے دوران وہاں ایک مسلمان ممبر آف پارلیمنٹ، ان کا نام پتہ ہمارے پاس ہے لیکن میں حالات کی وجہ سے نام نہیں بتا رہا، ہمارے سٹال پر آئے اور کچھ ساتھی افسران بھی ان کے ساتھ تھے۔ موصوف نے سوال کیا کہ ہم تو یہ مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ موجود ہیں جبکہ جماعت احمدیہ وفات مسیح کی قائل ہے جس پر مبلغ صاحب نے قرآن مجید کی رو سے وفات مسیح کے دلائل اور آیات پیش کیں اور موصوف کے استفسار پر ان کو بتایا کہ عیسیٰ کے آسمان پر جانے کے بارے میں بھی کوئی آیات موجود نہیں ہیں۔ موصوف نے کہا کہ ہمارے مولوی صرف قرآن کو یاد کرتے ہیں اور اس کے معنی اور تفسیر سے واقف نہیں ہیں جس وجہ سے آج مسلمانوں کا یہ حال ہے۔ احمدی لوگ دراصل ایک امام کے حکم پر چلنے کی وجہ سے قرآن کے صحیح معنے بھی کرتے ہیں اور جماعت ترقی بھی کر رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ آج ہم سب مسلمانوں کو چاہیے کہ احمدیوں سے حسد کرنے کی بجائے کچھ سیکھیں اور اسلام کی اصل تعلیم کا جس طرح سے یہ لوگ پرچار کر رہے ہیں اس میں ہم بھی مدد کریں۔ موصوف نے کھل کر یہ بات بھی کہہ دی کہ میں جانتا ہوں کہ یہ سچائی ہے لیکن سچائی کو جان کے بھی میں آپ لوگوں کا پرچار نہیں کر سکتا نہ میں مان سکتا ہوں کیونکہ میرے اسّی فیصد ووٹ مسلمانوں کے ہیں۔
سیاست نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں حق کو جاننے کے باوجود بھی قبول نہ کروں۔ میرا ایسے کرنے پر مولوی مجھ پر کافر ہونے کا فتویٰ لگا دیں گے اور مجھے ووٹ نہیں دیں گے البتہ آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ جماعت احمدیہ سچائی پر ہے اور ایک دن ان کے ساتھ ہی ہم سب کو آنا ہو گا۔
اللہ کرے کہ ان کا دل اس سلسلہ میں کھل جائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ
’’اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہزاروں ایسے نشانات عطا کیے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لذیذایمان پیدا ہوتا ہے۔ ہماری جماعت کے اس قدر لوگ اس جگہ موجود ہیں۔ کون ہے جس نے کم ازکم دو چار نشان نہیں دیکھے اور اگر آپ چاہیں تو کئی سو آدمی کو باہر سے بلوائیں اور ان سے پوچھیں۔
اس قدر احبار اور اخیار اور متقی اور صالح لوگ جو کہ ہر طرح سے عقل اور فراست رکھتے ہیں اور دنیوی طور پر اپنے معقول روز گاروں پر قائم ہیں۔ کیا ان کو تسلی نہیں ہوئی۔ کیا انھوں نے ایسی باتیں نہیں دیکھیں جن پر انسان کبھی قادر نہیں ہے۔ اگر ان سے سوال کیا جائے تو ہر ایک اپنے آپ کو اوّل درجہ کا گواہ قرار دے گا۔ کیا ممکن ہے کہ ایسے ہر طبقہ کے انسان جن میں عاقل اور فاضل اور طبیب اور ڈاکٹر اورسوداگر اور مشائخ سجادہ نشین اور وکیل اور معزز عہدہ دار ہیں۔ بغیر پوری تسلی پانے کے یہ اقرار کر سکتے ہیں کہ ہم نے اس قدر آسمانی نشان بچشمِ خود دیکھے اور جبکہ وہ لوگ واقعی طور پر ایسا اقرار کرتے ہیں جس کی تصدیق کے لیے ہر وقت شخص مکذب کو اختیار ہے تو پھر سوچنا چاہیے کہ ان مجموعہ اقرارات کا طالب حق کے لیے اگر وہ فی الحقیقت طالب حق ہے کیا نتیجہ ہونا چاہیے۔‘‘ اگر حق کا طالب ہو تو نتیجہ کیا ہونا چاہیے یہی کہ اسے قبول کرے۔ ’’کم سے کم ایک نا واقف اتنا تو ضرور سوچ سکتا ہے کہ اگر اس گروہ میں جو لوگ ہر طرح سے تعلیم یافتہ اور دانا اور آسودہ روز گار اور بفضل الٰہی مالی حالتوں میں دوسروں کے محتاج نہیں ہیں۔ اگر انھوں نے پورے طور پر میرے دعوے پر یقین حاصل نہیں کیا اور پوری تسلی نہیں پائی تو کیوں وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر اور عزیزوں سے علیحدہ ہو کر غربت اور مسافری میں اس جگہ میرے پاس بسر کرتے ہیں اور اپنی اپنی مقدرت کے موافق مالی امدادمیں میرے سلسلہ کے لیے فدااور دلدادہ ہیں۔
ہر ایک بات کا وقت ہے۔ بہار کا بھی وقت ہے اور برسات کا بھی وقت ہے اور کوئی نہیں جو خدا کے ارادے ٹال دے۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 314-315 ایڈیشن 1984ء)
آج عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو اسلام کی حقیقی تصویر کون دکھا رہا ہے؟ احمدی ہی ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں اور عیسائیوں کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لے کر آرہے ہیں اور جو ہمارے مخالف ہیں ان کا کام صرف آپس میں لڑنا اور ذاتی مفادات حاصل کرنا ہے۔ چنانچہ
عیسائیوں کا اسلام کی حقیقی تعلیم سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنا، عیسائیت کو چھوڑ کر مسلمان ہونا
اس کا بھی ایک واقعہ ہے۔
کونگو برازاویل
میں ایک جگہ ہے آنتا ۔کہتے ہیں وہاں مسجد بنا رہے ہیں۔ ایک دن گاؤں کے چرچ کا ایک پادری اپنے کچھ لوگ لے کر ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کی تعلیم ہمارے لیے پرابلم پیدا کر رہی ہے۔ لوگ طرح طرح کے سوالات پوچھتے ہیں کہ یہ مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ کہتے ہیں اور عیسائیت کچھ اَور کہتی ہے۔ آج ہم یہ پوچھنے آئے ہیں کہ آپ ہمارے یسوع کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ پادری صاحب نے پوچھا۔ اس پر معلم نے پادری سے اس کے اپنے ایمان کے مطابق چند سوالات کیے جس پر وہ جواب نہ دے سکا، اس پر ہمارے معلم نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں اسلامی تعلیم کے حوالے سے بتایا کہ وہ کیا ہے جس پر اس کے ساتھ آئے ہوئے چھ افراد نے یہ کہتے ہوئے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی کہ اسلامی تعلیم یسوع کے بارے میں زیادہ واضح اور صحیح اور عقل کے مطابق ہے جبکہ عیسائیت کی تعلیم عقلی اور نقلی دونوں طرح سے ناقابل قبول ہے۔ پادری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی تعلیم زیادہ کامل ہے لیکن میں چرچ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اگر میں نے چرچ کو چھوڑ دیا تو گاؤں میں یسوع کا نام لیوا کوئی نہیں ہو گا۔ اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے اس گاؤں میں کافی تعداد میں بیعتیں ہو چکی ہیں اور ایک مضبوط جماعت بھی قائم ہو گئی ہے۔
جتنے زیادہ کفر کے فتوے لگتے ہیں اتنے ہی زیادہ اللہ تعالیٰ راستے کھولتا ہے۔
گنی کناکری
میں فورے کاریا، ایک ریجن ہے۔ اس سال وہاں ایک نئی مسجد بنائی گئی، وہاں مشن ہاؤس بنایا گیا اس کا افتتاح ہوا۔ اس موقع پر مقامی جماعت کے صدر تورے صاحب نے اپنی تقریر میں شاملین کو بتایا کہ جب احمدیہ مسلم جماعت کے مبلغ پہلی مرتبہ ہمارے علاقے میں جماعت کا پیغام لے کر آئے تو لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کیں۔ کچھ نے کہا یہ کافر ہیں۔ کچھ نے کہا یہ نیا دین لے کر آئے ہیں۔ لیکن
جب ہم نے ان کی تعلیمات کو غور سے دیکھا اور مشاہدہ کیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ آخری زمانے میں جس مصلح کا سب انتظار کر رہے ہیں وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور حقیقی اسلام کو ہم نے جماعت احمدیہ میں ہی پایا ہے جو سکون عبادات کے ذریعہ ہمیں احمدیت قبول کر کے عطا ہوا ہے وہ سکون پہلے کہیں نہیں تھا۔ جماعت احمدیہ نے ہی ہمیں نیکی پر قائم کیا اور آج جماعت کو یہاں خدا کا گھر تعمیر کرنے کی توفیق ملی ہے۔
مخالفت کرنے والے بعض لوگ مخالفت بھی اپنے ایمان کی وجہ سے کرتے ہیں غلط فہمی میں کرتے ہیں اور اپنے آپ کو صحیح سمجھ کے کرتے ہیں کیونکہ ان کو علم نہیں ہے۔ جو کچھ مولوی نے پڑھایا وہ اسی کو صحیح سمجھتے ہیں لیکن ان کی مخالفت کی نیت بھی نیک ہوتی ہے۔ جب ان پر بات کھل جاتی ہے پھر دعا بھی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دل بھی کھول دیتا ہے چنانچہ ایسا ہی ایک واقعہ
فرانس
کے مربی صاحب نے لکھا ہے کہ تقریباً دس سال پہلے احمدی دوست عثمانی مراد صاحب نے اپنے قریبی عزیز آرجنٹ صاحب کو اپنے گھر بلایا، احمدیت کا تعارف کروایا۔ اس وقت اس غیر از جماعت دوست کا تعلق ایک کٹر سلفی فرقے سے تھا۔ آرجنٹ صاحب نے احمدیت کے تعارف پر بہت ناراضگی کا اظہار کیا کہ آپ میرے بڑے ہیں ورنہ میں بہت سختی سے پیش آتا اور قتل کرنے کی بھی دھمکی دی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد اسی مخالف نے سوچا کہ عثمانی صاحب سے قطع تعلق کر لینا چاہیے۔ یہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ مانتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں کافی عرصہ خود ہی اپنی طرف سے تحقیق کرتا رہا اور جوبھی سوال ذہن میں آتا وہ دوسرے فرقوں سے بھی کرتا اور احمدیوں سے بھی پوچھتا۔ جو جواب احمدیوں سے ملتا وہ دل کو تسکین دینے والا ہوتا جبکہ دوسرے فرقے مزید الجھا دینے والے جواب دیتے۔ اس طرح میں نے کافی سال تک تمام ذرائع سے تحقیق کی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر کبیر سے جو جواب مجھے ملتے تھے وہ کہیں اَور مجھے نہیں ملتے تھے اور دوسری تفاسیر جو بھی میں نے پڑھیں ان کی بات مجھے کبھی سمجھ میں نہ آتی تھی۔ آہستہ آہستہ میں دوسرے فرقوں سے دُور ہو گیا اور جماعت کے بہت قریب آ گیا چنانچہ آرجنٹ صاحب کہتے ہیں کہ اب میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔
پھر
ایک غیر از جماعت مولوی کا قبول احمدیت
کا بھی ایک واقعہ ہے۔ اگر طبیعت میں ضد نہ ہو تو اللہ تعالیٰ قبولیت کے لیے شرحِ صدر بھی پیدا کر دیتا ہے۔ ایسا ہی واقعہ
بوسنیا
کا ہے۔ ایک بوسنین نژاد مسلمان ہیں۔ سیریا سے دینی تعلیم کے بعد بوسنیا اور سربیا کی بعض مساجدمیں بطور امام مسجد بھی کام کرتے رہے ہیں۔ موصوف جماعتی ویب سائٹ سے احمدیت کے بارے میں مطالعہ کرتے رہے۔ انہوں نے جماعتی نمبر پر رابطہ کر کے مزید کتب ارسال کرنے کی درخواست کی اور ان سے ایک رابطہ بن گیا۔ ایک دن ان کی دعوت پر ان کے گھر گئے۔ بنیادی گفتگو کے بعد موصوف نے از خود بیعت کے لیے خواہش کا اظہار کیا۔ ان کو کہا گیا کہ مزید غور و فکر کر لیں تو موصوف نے کہا کہ
جب سچائی کھل گئی ہے تو اس پر مزید تاخیر کرنا خدا تعالیٰ کے ساتھ تمسخر کرنے کے مترادف ہے
لہٰذا بلا تاخیر میں بیعت کر کے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل کرنا چاہتا ہوں اور بڑے اخلاص کے ساتھ نظام جماعت اور نظام خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں اور ہر کام میں ایکٹو ہیں۔
اسی طرح ایک اَور امام کا واقعہ ہے۔ لوکل مشنری شریف کبا صاحب ایک دُور دراز کے علاقے طالیبے میں گئے،
گنی کناکری
ملک کی بات ہے۔ نمازِ ظہر کی ادائیگی کے بعد مسجد میں موجود گاؤں کے امام صاحب کی موجودگی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور آپ کا مقام جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں بیان کیا ہے بڑی تفصیل سے پیش کیا۔ کہتے ہیں جب پیغام مکمل کر لیا تو مسجد کے امام الحسین سوما صاحب نے سب کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ صدقِ دل سے اور تمام سچائی کے ساتھ میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں کہ ان احباب کے آنے سے کچھ عرصہ قبل میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ کچھ اجنبی لوگ ہمارے گاؤں میں آئے ہیں او رہم جو مسلمان ہیں ہمیں اسلام کا ہی پیغام دے رہے ہیں اور ان کے پیغام میں اتنی پاکیزگی اور سچائی ہے کہ ہمارا گاؤں تیز روشنی سے منور ہو گیا ہے اور تمام اندھیرے دُور ہو گئے ہیں۔ کہتے ہیں اس پر میری آنکھ کھل گئی اور میں سوچنے لگا کہ شاید اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے کی طرف لانا چاہتا ہے۔ آج جب میں ان کی باتیں سن رہا ہوں میرا دل اس نور سے جو میں نے خواب میں دیکھا تھا حقیقتاً منور ہوتا جا رہا ہے اور یہ کہنے لگے کہ بغیر کسی شک کے میں بیعت کر کے اس حقیقی اسلام میں شامل ہو رہا ہوں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے باوجود مولوی ہونے کے ان کا دل کھولا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:’’مَیں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لیے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔ میں اس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم اللہ مردِخدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیروڈیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ سوجب دوسرا کلیم اللہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سیدالانبیا ہے دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لیے آیا جس کے حق میں ہے۔ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا [المزمل آیت 16] ‘‘ یعنی یقیناً ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ آپؑ فرماتے ہیں ’’تو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اول کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا ایک مثیل المسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مثیل المسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم کی پا کر اسی زمانہ کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اول کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اترا اور وہ اترنا روحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللہ کی اصلاح کے لیے نزول ہوتا ہے اورسب باتوں میں اسی زمانہ کے ہم شکل زمانہ میں اترا جو مسیح ابن مریم کے اترنے کا زمانہ تھا تا سمجھنے والوں کے لیے نشان ہو۔‘‘
(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 8)
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بھی اس اہم نکتہ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’باز آ جاؤ اور اس کے قہر سے ڈرو اور یقیناً سمجھو کہ تم اپنی مفسدانہ حرکات پر مہر لگا چکے۔ اگر خدا تمہارے ساتھ ہوتا تو اس قدر فریبوں کی تمہیں کچھ بھی حاجت نہ ہوتی۔ تم میں سے صرف ایک شخص کی دعا ہی مجھے نابود کر دیتی مگرتم میں سے کسی کی دعا بھی آسمان پر نہ چڑھ سکی۔ بلکہ دعاؤں کا اثریہ ہوا کہ دن بدن تمہارا ہی خاتمہ ہوتا جاتا ہے …
کیا تم دیکھتے نہیں کہ تم گھٹتے جاتے ہو اور ہم بڑھتے جاتے ہیں۔ اگر تمہارا قدم کسی سچائی پر ہوتا تو کیا اس مقابلہ میں تمہارا نجام ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔‘‘
(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 409)
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کا ہونا اور لوگوں کے دل آپ کی قبولیت کے لیے کھولنا، دشمن کو خائب و خاسر کرنا اور ہمیں اس پاک جماعت میں شامل ہونے کی توفیق دینا یہ ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالتا ہے کہ ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت میں شامل ہیں اپنی حالتوں کو ہمیشہ ایسا رکھیں جو خدا تعالیٰ کی نظر میں ہمیں حقیقی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں آنے کا حق دار بنانے والی ہوں اور ہم اس فیض سے فیض اٹھانے والے ہوں جو آپؑ سے حقیقی رنگ میں وابستہ رہنے والوں کو ملنا ہے یا ملتا ہے۔
ہمارے عملی نمونے بھی ایک خاموش تبلیغ ہیں
اور اس کے بھی بہت سے واقعات ہیں۔ لوگوں پر اس کا اثر ہوتا ہے آپ کے جلسے پر آنے والے بھی اس کا اظہار کرتے ہیں۔ پس ہمیشہ ہر احمدی کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اسلام کی تعلیم کا عملی نمونہ ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
دعا کریں اللہ تعالیٰ آپ لوگ جو ماشاء اللہ کافی بڑی تعداد میں یہاں جمع ہیں، تقریباً بیالیس ہزار کی تعداد میں، خیریت سے لوگوں کو گھروں کو لے جائے ہر قسم کی تکلیفوں سے بچائے۔
احمدیوں کے لیے خاص طور پر دعا کریں جو پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی آزادی دے۔
ان دنوں میں ایک فیصلہ جو پاکستان کی عدالت نے کیا اس پر بعض لوگ غلط قسم کے سخت الفاظ والے تبصرے کر دیتے ہیں۔ ہمیں کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہمارا اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق ہے تو ہمیں ان دنیاوی لوگوں کو خدا بنانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اس واحد و یگانہ خدا کے آگے جھکنا چاہیے اور پہلے سے زیادہ جھکنا چاہیے تاکہ وہ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرے اور دشمن کو خائب و خاسر کرے۔ اس لیے کسی کو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ دعاؤں میں مصروف کریں اور دعاؤں کی طرف توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی بھی توفیق دے۔
دنیا کی عمومی حالت کے لیے بھی دعا کریں۔
ایک تباہی کے دہانے پر یہ دنیا کھڑی ہے۔ اپنے پیدا کرنے والے کو نہیں پہچانتی۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی عقل دے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو جنگ کی اور دوسری آفات کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے۔ اب دعا کر لیں۔(دعا)
٭…٭…٭




