متفرق شعراء

میرے مرشد کے اک اشارے پہ

جان مانگے تو جان حاضر ہے
مان مانگے تو مان حاضر ہے

میرے مرشد کے اک اشارے پہ
میرا سارا جہان حاضر ہے

ہر عدو کے مقابلے کے لیے
پیر حاضر جوان حاضر ہے

اس کی ابرو کی ایک جنبش پہ
تیر حاضر کمان حاضر ہے

دل ہمہ وقت حاضرِ خدمت
جسم اور یہ زبان حاضر ہے

عذر کرنا مجھے نہیں آتا
میرا سادہ بیان حاضر ہے

گھر ہے کیا چیز یہ کسے معلوم
ہاں مگر یہ مکان حاضر ہے

(افضل مرزا۔ امریکہ)

مزید پڑھیں: صد شمائل ہوئے ہیں جلسے کے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button