متفرق شعراء

دل کا پرچہ۔ الفضل

بند گر پرچہ ہوا الفضل کا
کم کہاں غلبہ ہوا الفضل کا

جوڑتا ہے یہ خلافت سے ہمیں
پوچھنا کیا مرتبہ الفضل کا

صِدق سے سب اہلِ دل اس کو پڑھیں
ہے یہی بس مدّعا الفضل کا

ہر سطر میں ہے خلافت کی جھلک
ہر ورق ہے جاں فزا الفضل کا

ہیں سبھی مضمون اس کے قیمتی
ہر شمارہ ہے نیا الفضل کا

اور بھی توقیر اس کی بڑھ گئی
نرخ جب سے طے ہوا الفضل کا

مل گیا برقی شماروں میں ہمیں
کھو گیا تھا ڈاکیا الفضل کا

اب تو رہتا ہے بس اِس کا انتظار
دل ہوا ہے مبتلا الفضل کا

(تنویر احمد ناصر۔ قادیان)

مزید پڑھیں: جو صحابہؓ نے تھی دیکھی وہ کرامت دیکھ لی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button