خلاصہ خطبہ جمعہ

غزوۂ  حنین کےتناظر میں سیرت نبوی ﷺ کا بیان نیز جلسہ سالانہ جرمنی کے شاملین کو نصائح اوردنیا کے حالات کے پیش نظر دعاؤں کی تحریک۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۹؍اگست ۲۰۲۵ء

٭… آنحضرتﷺ کی تمام جنگوں میں سب سے قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ان سب جنگوں میں صورتِ حال کیسی بھی رہی ہوآپؐ جیسی جرأت اور بہادری کی مثال نہیں ملتی۔ جس وقت بڑے بڑے بہادروں کے بھی پاؤں اکھڑ جاتے ہیں آپؐ ان مواقع پر چٹان کی طرح ڈٹے نظر آتے ہیں

٭… حنین کے معرکے میں ابتدائی فتح مسلمانوں کو ہوئی، مگر پھر کفار کے اچانک حملے سے مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی اور مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی۔ تاہم اس کے بعد مسلمانوں کو زبردست فتح حاصل ہوئی

٭… آج سے جرمنی کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہوا ہے… اِن دنوں میں خاص طور پر ذکر الٰہی اور دعاؤں میں وقت گزاریں

٭… پاکستان میں آئے دن کوئی نہ کوئی تکلیف دہ واقعہ ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ جلد ان مخالفین کی پکڑ کے سامان فرمائے

٭… دنیا کے عمومی حالات کے نیز فلسطین کے مسلمانوں کےلیے دعاؤں کی تحریک

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۹؍اگست ۲۰۲۵ء بمطابق ۲۹؍ظہور۱۴۰۴؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۹؍اگست۲۰۲۵ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔ تشہد،تعوذاور سورة الفاتحہ کی تلاوت کےبعدحضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایا:

جنگِ حنین کے تعلق میں آج کچھ مزید تفصیل بیان کروں گا۔

آنحضرتﷺنے مکّے سےروانہ ہوتے وقت حضرت عتاب بن اسیدؓ  کو امیرمقررفرمایا، یہ مکّےکےپہلے امیرتھےجومقررکیے گئے۔اُس وقت حضرت عتابؓ کی عمر تقریباً بیس سال تھی۔ حضرت معاذ بن جبل ؓکو اہلِ مکّہ کو دین کی تعلیم سکھانےکی ذمہ داری سونپی گئی۔

حضرت عتابؓ اور ان کے والد قریش خاندان کے سرکردہ فرد تھے اور اسلام کے سخت مخالف تھے۔ آپؓ کی اسلام دشمنی کا یہ عالَم تھا کہ فتح مکہ کےدن جب حضرت بلالؓ نے اذان دی تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ شکر ہے میرا باپ یہ اذان سننے سے پہلے ہی دنیاسے چلا گیا۔ عتابؓ نے اس کے بعد فتح مکہ کے دن اسلام قبول کرلیا تھا۔ آنحضرتﷺ نے حضرت عتابؓ کو مکے کا عامل مقرر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اے عتاب! مَیں نے تمہیں اہل اللہ یعنی اللہ کے گھر والوں پر عامل مقرر کیا ہے، ان سے نرمی سے معاملہ کرنا۔ حضرت عتابؓ آنحضرتﷺ کی وفات تک مکے کے عامل رہے اور ایک روایت کے مطابق آپؓ عہدِ صدیقی میں بھی مکے کے عامل رہے۔

آنحضرتﷺغزوہ حنین کےلیے ۶؍شوّال کو ہفتے کےدن روانہ ہوئے، اور ۱۰؍شوّال کو حنین پہنچے۔ازواجِ مطہرات میں سے اس سفر میں حضرت ام سلمہؓ اور حضرت زینبؓ  آپؐ کے ساتھ تھیں۔ غزوہ حنین میں سپاہیوں اور ہتھیاروں دونوں اعتبار سےمسلمانوں کی تعداد گوکہ مخالف لشکر کےمقابل پر کم تھی، مگر اب تک کےسابقہ تمام غزوات کی نسبت یہ تعداد زیادہ تھی۔ ائمہ مغازی نے لکھا ہے کہ آپؐ بارہ ہزار کے لشکرکے ساتھ روانہ ہوئے تھے، دس ہزار تو وہ جو فتح مکہ کےلیےمدینےسےآئے تھے جبکہ اہلِ مکہ میں سے دو ہزار لوگ آپؐ کے ساتھ اس غزوے کےلیے روانہ ہوئے۔

حضرت سہلؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کےساتھ حنین کے سفر میں چل رہے تھے، انہوں نے بہت لمبا سفر کیا یہاں تک کہ شام ہوگئی، مَیں آنحضورﷺکےساتھ نماز میں شامل ہوا۔ اتنی دیرمیں ایک سوار آیا اور اس نے کہا کہ یارسول اللہﷺ! مَیں آپ لوگوں کے آگے آگے گیا اور میں نے دیکھا کہ ھوازن کے لوگ اپنی عورتوں اور جانوروں کے ساتھ جمع ہوئے ہیں۔ آپؐ نے یہ سن کر تبسّم فرمایا اور فرمایا کہ کل ان شاء اللہ یہ مسلمانوں کا مالِ غنیمت ہوگا، پھر فرمایا کہ آج رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ حضرت انس بن ابی مرثدؓ نے کہا کہ مَیں پہرہ دوں گا۔ آنحضرتﷺ نے انہیں فرمایا کہ اس گھاٹی میں جاؤ اور یہ نہ ہو کہ ہم تمہاری وجہ سے دھوکا کھائیں۔ یعنی چوکس ہوکر پہرہ دینا۔ جب صبح ہوئی تو آنحضورﷺ اپنی نماز کےلیے نکلے،نماز کےبعد آپؐ نے فرمایا کہ تمہیں مبارک ہو کہ تمہارا سوار آگیا ہے، پھر آپؐ نے حضرت انس بن ابی مرثدؓ  کو فرمایا کہ تمہارے لیے جنّت واجب ہوگئی۔

مالک بن عوف نے تین جاسوسوں کو مسلمانوں کے لشکر میں بھیجا تھا،مگر یہ تینوں جب واپس آئے تو یہ حواس باختہ تھے، انہوں نے کہا کہ

ہم نے گھوڑوں پر سفید آدمیوں کو دیکھا ہے اگر جنگ ہوگئی تو ہم ان لوگوں پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ ہم زمین والوں پر قابو نہیں پاسکتے تو ہم آسمان والوں پر کیسے جنگ کریں گے۔

اگر ہماری بات مانو تو واپس چلے جاؤ۔ مالک بن عوف نے انہیں برا بھلا کہا اور ایک بہادر آدمی کو بھیجا۔ وہ بھی جلد واپس آگیا اور وہ بھی مرعوب تھا۔ اس نے بھی یہی کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ہم واپس لوٹ چلیں۔ مگر مالک بن عوف نے یہ بات نہ مانی۔

حضرت سلمہ بن اکوعؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺکےساتھ ھوازن پر حملہ آور ہوئے تو ایک آدمی آیا اور بیٹھ گیا اور لوگوں سے باتیں کرنے لگا، پھر وہ واپس جانے لگا اور تیزی سے اونٹ پر سوار ہوکر بھاگنےلگا، آنحضورﷺ نے اُسے دیکھا تو فرمایا کہ یہ جاسوس ہے اسے پکڑو اور قتل کردو۔ چنانچہ اس کا پیچھا کیا گیا اور قتل کردیا گیا۔

وادی حنین ایسی ہے جس میں بہت سی گھاٹیاں ہیں۔چنانچہ مالک بن عوف نے اپنے فوجیوں کو گھاٹیوں میں گھات لگا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آنحضورﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ پر دفعۃً حملہ کردیں۔ کفار کی صف بندی یہ تھی کہ سب سے آگے گھڑ سوار، ان کے پیچھے پیادہ فوج، پھر اونٹوں پر عورتیں اور بچے اور پھر مال مویشی۔

آنحضرتﷺ نے بنو سلیم کا ایک ہزار کاگھڑ سوار دستہ فوج کے ہراول میں رکھا اور اس کی قیادت خالد بن ولیدؓ کے سپرد فرمائی۔ رسول اللہﷺ لشکر کے وسط میں تھے۔ آپؐ نے انصار اور مہاجرین میں بڑے پرچم تقسیم کیے۔ مہاجرین کا ایک پرچم حضرت علیؓ کے سپرد کیا اور ایک پرچم حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے سپرد فرمایا۔ ایک پرچم حضرت عمر ؓکے سپرد فرمایا۔ بنو خزرج کا پرچم حضرت حباب بن منذرؓ اور اوس کا پرچم اسید بن حضیر ؓکےسپرد فرمایا۔

حنین کے معرکے میں ابتدائی فتح مسلمانوں کو ہوئی، مگر پھر کفار کے اچانک حملے سے مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی اور مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی۔ تاہم اس کے بعد مسلمانوں کو زبردست فتح حاصل ہوئی۔

صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بنوھوازن پر حملہ کیا تو وہ شکست کھاکر پسپا ہوگئے اور ہم مالِ غنیمت اکٹھا کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے ہم پر تیروں کی بوچھاڑکردی ۔اس کی وجہ سے وہ نوجوان جن کے پاس بچاؤ کا کوئی سامان نہ تھا پیٹھ پھیر کر بھاگے، مگر جہاں تک رسول اکرمﷺ کی بات ہے آپؐ اس وقت بھی میدان میں ڈٹے رہے۔ آپؐ سفید خچر پر سوار تھے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ

آنحضرتﷺ کی تمام جنگوں میں سب سے قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ان سب جنگوں میں صورتِ حال کیسی بھی رہی ہوآپؐ جیسی جرأت اور بہادری کی مثال نہیں ملتی۔ جس وقت بڑے بڑے بہادروں کے بھی پاؤں اکھڑ جاتے ہیں آپؐ ان مواقع پر چٹان کی طرح ڈٹے نظر آتے ہیں۔

جب مسلمانوں کے لشکر میں انتشار پیدا ہوا تو آپؐ کے پاس چند افراد موجود رہ گئے تھے جن کی تعداد چار سے لےکر تین سَو تک بیان کی جاتی ہے۔

روایات میں ذکر آتا ہے کہ حنین کے موقع پر سب لوگ نہیں بھاگے تھے بلکہ مکہ کے مؤلفة القلوب لوگوں میں سےجو منافق لوگ تھے اور مکے کے دیگر لوگ جو اس جنگ میں شریک ہوگئے تھے اور ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے انہوں نے بھاگنا شروع کردیا تھا اور یہ ناگہانی شکست اس وجہ سے ہوئی کیونکہ دشمنوں نے ایک ساتھ تیروں کی بوچھاڑ شروع کردی تھی۔

خطبے کے آخرمیں حضورِانور نے جلسہ سالانہ جرمنی کے حوالے سے فرمایا کہ

آج سے جرمنی کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہوا ہے۔

وہاں کے تمام شاملین کو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلسے کے مقاصد کو پورا کرنے کی توفیق دے اور صرف میلہ سمجھ کر یہاں جمع نہ ہوں بلکہ اِن دنوں میں اپنی علمی، عملی اور روحانی ترقی میں مستقل بڑھتے چلے جانے کا عہد کریں اور اس کے لیے کوشش کریں۔

اِن دنوں میں خاص طور پر ذکر الٰہی اور دعاؤں میں وقت گزاریں۔

جہاں اپنے لیے، اپنی نسلوں کے لیے دعا کریں وہاں جماعت کی ترقی اور ہر مخالف کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے اور ان کے شر کے خاتمہ کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ اِن کے شر سے بچائے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ

پاکستان میں آئے دن کوئی نہ کوئی تکلیف دہ واقعہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جلد ان مخالفین کی پکڑ کے سامان فرمائے

بعد ازاں حضور انور نے دنیا کے عمومی حالات اور فلسطین کے مسلمانوں کےلیے دعاؤں کی تحریک فرمائی جس کی تفصیل صفحہ اوّل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button