حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جرمنی کے ریجنNordrheinسے تعلق رکھنے والی لجنہ اماء الله اور ناصرات الاحمدیہ کے ایک وفد کی ملاقات

ہر لجنہ کی ممبر کو یہ احساس ہو کہ میری صدر میری ہمدرد ہے، میری بہن ہے اور میری بہتری چاہتی ہے۔ پھر وہ آپ سے ذاتی تعلق پیدا کریں گی۔ جب ذاتی تعلق ہو گا، تو آپ ایک سوسائٹی بنیں گی اور یہی
جماعت کی تنظیم کا مقصد ہے اور یہی چیز ہے جس کو آپ صحیح طرح اگر اختیار کریں تو اس کا حق ادا کر سکتی ہیں اور اسی طرح آپ نظام جماعت کی نمائندگی بھی کر سکتی ہیں اور خلیفۂ وقت کی نمائندگی کا حق بھی ادا کر سکتی ہیں

مورخہ ۲۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء، بروزپیر، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جرمنی کے ریجنNordrheinسے تعلق رکھنے والی لجنہ اماء الله اور ناصرات الاحمدیہ کے پچاس (۵۰) رکنی وفد کو شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےجرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔ سب سے پہلے حضورِانور نے ریجنل صدر صاحبہ لجنہ اماء الله سے مخاطب ہوتے ہوئے وفد کا تعارف حاصل کیا، نیز دریافت فرمایا کہ آپ لوگRhein دریا کے قریب رہتی ہیں؟ جس پر حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں اثبات میں جواب عرض کیا گیا۔

[قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض کیا جاتا ہے کہRheinیورپ کا ایک اہم دریا ہے، جو سوئٹزرلینڈ سے نکل کر جرمنی اور نیدرلینڈز سے گزرتا ہے اور آخرکار شمالی سمندر میں جا گرتا ہے۔ یہ تقریباً ایک ہزار ۲۳۰؍ کلومیٹر طویل ہے اور اس کا یورپ کے سب سے بڑے اور تجارتی لحاظ سے اہم دریاؤں میں شمار ہوتا ہے۔]

بعد ازاں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں اپنا تعارف اورمختلف نوعیت کے سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ جو خطوط حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں بھیجے جاتے ہیں اور جن کے جواب حضورِ انور کے دفتر سے جاری ہوتے ہیں، ان میں رازداری کس حد تک برقرار رکھی جاتی ہے؟

اس پرحضورِ انور نے فرمایا کہ ہر خط دو یا تین افراد کے ہاتھوں سے گزرتا ہے، دفتر کے عملہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام خطوط اور اُن کے مندرجات کو مکمل رازداری کے ساتھ رکھیں اور کسی سے اُن کا ذکر نہ کریں۔

اسی طرح حضورِ انور نے فرمایا کہ خطوط کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے عام طور پر عملہ کو اکثر خطوط کے مضامین یاد نہیں رہتے، سوائے اس کے کہ اگر کسی خط لکھنے والے سے ان کی ذاتی واقفیت ہو، تو وہ اُس خط کے موضوع کو یاد رکھ سکتے ہیں۔ حضورِ انور نے اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ اگر کوئی خط امیر صاحب جرمنی کے ذریعہ بھیجا جائے، تو وہاں کی رازداری کے نظام کے بارے میں حضورِ انور کو علم نہیں۔ تاہم اگر کوئی خط براہِ راست ذاتی پتے کے ساتھ بھیجا جائے تو جواب بھی حضورانورکے دفتر سے براہِ راست اسی پتے پر بھجوایا جاتا ہے، جس سے رازداری برقرار رہتی ہے۔

آخر پرحضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اگر کسی معاملہ کی نوعیت انتہائی حساس ہو تو لفافے پر “confidential” یعنی خفیہ لکھ دینا چاہیے، تاکہ اس پر زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی جا سکے۔

اگلا سوال کرنے والی لجنہ ممبر نےحضورِ انور کے حالیہ خطاب برموقع نیشنل اجتماع مجلس انصار الله یو کے کا حوالہ دیتے ہوئے عرض کیا کہ حضور ِ انورنے بیان فرمایا تھا کہ درود شریف کے بغیر دعائیں آسمان اور زمین کے درمیان معلّق رہتی ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سجدے کی ابتدا اور اختتام پر بھی درود شریف پڑھنا ضروری ہے تاکہ دعا قبول ہو؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اس بارے میں وہ متعدد مواقع،بشمول خطباتِ جمعہ اور حالیہ اجتماع مجلس انصاراللہ یوکےمیں بھی تفصیل سے بیان فرما چکے ہیں کہ درود شریف کا پڑھنا حقیقتاً دعاؤں کی قبولیت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حضورانور نے ایک حدیث کا حوالہ دیا کہ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص دعا کرے تو اس میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجے۔اسی طرح حضورِ انور نے قرآنِ کریم کا بھی حوالہ دیا کہ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّھَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا، نیز اس کی روشنی میں اس بات کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہ پس درود شریف کا پڑھنا دعاؤں کی قبولیت کے لیے ضروری ہے۔ اس زمانے میں چونکہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیینؐ اور آخری شریعت کے ساتھ بھیجا ہے اس لیے آپؐ پر درود بھیجنا ہماری ذمہ داری ہے۔

سجدوں میں درود شریف کے پڑھنے کی بابت حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ یہ لازم تو نہیں، لیکن نہایت بابرکت اور پسندیدہ عمل ہے۔ مزید برآں اسی سلسلے میں حضورِ انور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک واقعہ کا بھی ذکر فرمایا کہ ایک مجلس میں جب درود شریف کا ذکر ہو رہا تھا تو ایک صحابیؓ نے عرض کیا کہ وہ اپنی دعاؤں کا نصف حصّہ درود شریف کے لیے مخصوص کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس عمل کو سراہا۔ ایک اور صحابیؓ نے اپنی مقدار بتائی، جبکہ تیسرے نے کہا کہ وہ آئندہ اپنی دعاؤں میں قرآنِ کریم اور مسنون دعاؤں کے علاوہ صرف درود شریف ہی پڑھا کریں گے، حتیٰ کہ سجدوں میں بھی، اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ یہ تو بہت عمدہ بات ہے، کیونکہ اگر کوئی درود شریف دل کی گہرائی سے اور اخلاص کے ساتھ پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے نتیجے میں، اُس کی باقی تمام دعائیں بھی قبول فرما لیتا ہے۔

ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ جماعتِ احمدیہ کا دجال کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ دجال کے ظہور کی پیشگوئی مسیحِ موعودؑ کے زمانے کے لیے کی گئی تھی۔حضورِانور نے مزید وضاحت فرمائی کہ دجال اس کو کہا جاتا ہے کہ جو جھوٹ بولتا ہے، لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے اور جھوٹی چمک دمک کے ذریعے دھوکا دیتا ہے۔ نیز فرمایا کہ دجال دراصل شیطان ہی ہے۔ اس زمانے میں یاجوج و ماجوج اور دجال سے متعلق تمام پیشگوئیاں پوری ہو رہی ہیں، اور دنیا کی بڑی طاقتیں اس میں شامل ہیں۔ تعلیم، ترقی یا جدیدیت کے نام پر جو نئے نظریات، دنیاوی رعنائیاں اور گمراہ کن طریقے پیش کیے جا رہے ہیں، وہ سب دجال کے فریب کا حصّہ ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ لوگوں کو مذہب سے دُور کرنا بھی دجال کے منصوبوں کا حصّہ ہے۔ اس زمانے میں atheismکا پھیلاؤ انہی فریبوں کی ایک واضح مثال ہے، جس کے ذریعے انسان کو دین سے اتنا دُور لے جایا جا رہا ہے کہ اس کا مذہب سے کوئی تعلق باقی نہ رہے۔ نتیجۃً عیسائیت، یہودیت اور دیگر مذاہب محض برائے نام مذاہب بن کر رہ گئے ہیں۔ صرف اسلام کی تعلیمات، جو قرآنِ کریم میں محفوظ ہیں، باقی رہ گئی ہیں، لیکن افسوس ! کہ مسلمانوں میں بھی ان تعلیمات پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، تاکہ وہ دجال کے فتنہ کا مقابلہ کریں، اس کے منصوبوں کو ناکام بنائیں اور ایک ایسی جماعت قائم کریں جو دجال کے خلاف کھڑی ہو۔

آخر میں حضورِ انور نے حاضرینِ مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب تمہیں دجال کے مقابلے کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ اس ضمن میں تاکید فرمائی کہ قرآنِ کریم پڑھو، اس کی تعلیمات کو سمجھو، ان پر عمل کرو اور اسلام کی خوبصورت تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرو۔ یہی دجال کے خلاف روحانی جہاد ہے۔ آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ایمان لانا کافی نہیں، بلکہ ہمیں فعّال طور پر دجال کا مقابلہ کرنا اور اس کے خلاف تیار رہنا ضروری ہے۔

ریجنل صدر صاحبہ نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ بعض دفعہ انسان خوف کو بزدلی کی حد تک اپنے اُوپر سوار کر لیتا ہے اور بعض دفعہ نقصان پہنچنے کی حد تک بہادری دکھاتا ہے، میرا سوال ہے کہ بہادری کی کیا حد ہونی چاہیے اور کس قدر دنیا سے خوف رکھنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نےانتہائی پُر حکمت انداز میں راہنمائی عطا فرمائی کہ مومن کا جو کام ہے وہ فراست اورعقل ہے، تو حکمت اور دانائی یہ اصل چیزیں ہیں۔ ایک چیز جائز ہو اور آپ غلط جگہ پر اس کو کر رہے ہوں، تو وہ نقصان پہنچانے والی بن جاتی ہے، ایک چیز ناجائز ہے اور اس کو آپ کر رہے ہیں تو وہ بھی نقصان پہنچانے والی چیز ہے۔ اِس لیے حق بات کہنی ہے، احادیث میں آیا ہے کہ حق بات کہو، چاہے جابر بادشاہ کے سامنے کہو۔ کلمہ  حق کہوتو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔

حضورِ انور نے اس پہلو کی جانب بھی توجہ مرکوز کروائی کہ اس لیے پہلے یہ سوچ لو کہ جو مَیں بات سچائی کی بات کہنے لگا ہوں، اس کا نقصان زیادہ ہے یا فائدہ زیادہ ہے، یا پبلک میں کرنے سے فائدہ ہے؟ مثلاً ایک بات کسی کا نقص بیان کرنا ہے، کسی کی ایسی بات کہنی ہے، جس سے دوسرے کی زندگی پر اس کا اثر ہوتا ہو اور اس کی وجہ سے لوگوں کے سامنے اس کی بدنامی بھی ہوتی ہو۔ ستّاری کا بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے، اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ مَیں ستّار ہوں، تم ستّاری بھی رکھو۔ تو ستّاری کرتے ہوئے اس بات کو چاہے، وہ جو بھی کسی کی کمزوری ہے، اس کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرو۔ ہاں! اگر ہمدردی ہے، تو اس کو علیحدگی میں جا کے سمجھاؤ کہ دیکھو! یہ تمہاری کمزوری ہے اور اسلام کی یہ تعلیم ہے۔ دنیا اس طرح سےیہ کہہ رہی ہے کہ اس سے جماعت کو یہ نقصان پہنچے گا، اس لیے مَیں تمہیں تمہاری ہمدرد بن کے بتا رہی ہوں، تمہارے پاس آئی ہوں اور مَیں نے لوگوں میں نہیں بتایا۔

حکمت، دعا اور نرم رویّے سے اصلاح کی تعلیم کی بابت حضورِ انور نے راہنمائی فرمائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اپنے لوگوں کی کمزوریاں دیکھو، تو ان کے لیےپہلے چالیس دن دعا کرو، پھر سمجھو، تو پھراصلاح کی کوشش کرو۔ اگر اصلاح نہیں ہوتی، پھر جو ایسے لوگ ہیں، جو عہدے دار ہیں یا جو ایسے لوگ ہیں کہ جن تک اصلاح کےلیے شکایت پہنچائی جا سکتی ہے، ان تک بات پہنچاؤ۔ لیکن پہلے اپنی کوشش کرو، نہ یہ کہ بدنام کرنے کے لیے ایسا ہو۔ تو یہ جو الله تعالیٰ نے مومن انسان کو عقل دی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حکمت سے کام لو۔ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَكَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ۔تمہارے اور اس کے درمیان دشمنی بھی ہوتی ہے لیکن نرم زبان استعمال کرو۔ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ھِِیَ اَحۡسَنُ۔ اگر اچھے طریقے سے تم اس کا دفاع کر رہی ہو، بات کر رہی ہو، تو تمہارے اور دشمن کے درمیان صلح قائم ہو جائے گی۔اور آپس میں دوستی قائم ہو جائے گی، لیکن اگر بیوقوفوں کی طرح blunt ہو کے بدّوؤں کی طرح کام کرو گے، تو پھر وہ بیوقوفی ہے۔

حضورِ انور نےآنحضرتؐ اور خلفائے راشدین کے زمانے کے بدّوؤں کے طرزِ عمل پر روشنی ڈالی کہ اب پُرانے زمانے میں، تو خلفائے راشدین کے زمانے میں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی گاؤں کے جو بدّو تھے، اَن پڑھ جاہل آتے تھے، کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کھینچی تو اتنی زور سے کھینچی کہ گردن پر داغ پڑ گیا۔ حضرت عمرؓ  کو کہہ دیا کہ آپ نے یہ جو قمیض کا کپڑا پہنا ہوا ہے اورایسے ہی نچلا کپڑا بھی پاجامہ یا جو بھی پہنا ہوا ہے، ایک طرح کا ہے۔ آپؓ نے ہمیں ایک ایک کپڑا دیا اور آپؓ نے دو دو رکھے ہوئے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ایک کپڑا مجھے اور ایک میرے بیٹے کو مِلا تھا، تو میرے بیٹے نے مجھے اپنا کپڑادے دیا، اس لیے میرے پاس یہ دو ہیں، مَیں نے اپنے لیے ایک ہی لیا تھا۔ لیکن بدّواس قسم کے اعتراض کرتے اور سوال کر لیتے تھے۔

حضورِ انور نے عصرِ حاضر کے تناظر میں لوگوں کے ذہنوں میں جنم لینے والے سوالات کی بابت تربیت یافتہ اور کبار صحابہ رضوان الله علیہم کے اُسوہ کواُجاگر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جی! بدّو سوال کر لیتے تھے، عرب جو تھے یا مسلمان اس وقت تھے، حضرت عمر ؓ سے سوال کر لیتے تھے کہ آپؓ نے کیوں یہ کپڑا پہنا یا خلفائے راشدین پر سوال کرتے تھے، مگر اب ہم کیوں سوال نہیں کرسکتے، خلفاء کے بارے میں کیوں نہیں پوچھ سکتے؟ لوگ سوال کردیتے ہیں،آپ لوگ بھی بیٹھے ہیں، بعضوں کے دماغوں میں آتا ہے کہ مجھے یہ یہ بتائیں۔ اس کو حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ نے بڑا تفصیل سے لکھا ہے کہ پُرانے کبار صحابہؓ،جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کے تربیت حاصل کی، ان میں سے کبھی کسی نےخلیفہ سے سوال نہیں کیا کہ یہ کیوں ہے اور وہ کیوں نہیں، ان کی تربیت اچھی تھی، ان کو پتا تھا کہ سوال کیا تو بدّوؤں نے کیا۔ اگر آپ نے جاہل اور بدّو بننا ہے تو سوال کریں کہ تم نے یہ کیوں کیا اور اگر پڑھے لکھے اور نیک صحابہؓ  کی سُنّت پر عمل کرنا ہے، تو پھر انہوں نے سوال نہیں کیا۔ تاریخ نکال لیں کہ کہیں بھی آپ کو کوئی تربیت یافتہ پُرانے صحابہؓ میں سے کوئی نہیں ملے گا، جس نے کبھی خلفائے راشدین پر سوال کیا ہو، سوال انہوں نے کیا کہ جو بعد میں مسلمان ہوئے یا گاؤں کے بدّو تھے اور جن کی تربیت نہیں ہوئی تھی۔ تو بدّونہ بنیں پڑھے لکھے بنیں۔

تربیت کے لیے مؤثر انداز اپنانے کے حوالے سے حضورِ انور نے ریجنل صدر صاحبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ آپ وہاں کی صدر ہیں اور سمجھانے کےلیے جس طرح آپ اپنے بچوں اوراپنے بہن بھائیوں کو علیحدگی میں سمجھاتی ہیں، تو پھر اسی طرح اپنی لجنہ کی ممبرات اور ناصرات کو بھی علیحدگی میں سمجھائیں۔ نہ کہ تربیت کا یہ طریقہ ہے کہ کھڑا کر دیا اور کہا کہ تم میں یہ بُرائی ہے اور تم نے یہ کیوں کیا، تمہارا حجاب ٹھیک نہیں ہے، تمہارا پردہ ٹھیک نہیں ہے، تمہارا لباس، تمہارا برقعہ ٹھیک نہیں ہے، تم نے لباس کیسا پہنا ہوا ہے، یہ مسجد میں کیا فضول لباس پہن کے آ گئی ہو، (حضورِ انور نے آنکھوں سے نشاندہی فرمائی کہ) یا یوں یوں ٹیڑھی آنکھوں سے دیکھنا، وہ جو ہے، پھر اس کا اثر نہیں ہوگا، اس کا بُرا اَثر ہوگا اور نیک اثر نہیں ہوگا۔

آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ آپ کا کام یہ نہیں کہ رُعب ڈالنا، آپ کا کام یہ ہے کہ اصلاح کرنا اور ایک ہمدرد بن کے اصلاح کرنا۔ ہر لجنہ کی ممبر کو یہ احساس ہو کہ میری صدر میری ہمدرد ہے، میری بہن ہے اور میری بہتری چاہتی ہے۔ پھر وہ آپ سے ذاتی تعلق پیدا کریں گی، جب ذاتی تعلق ہو گا، تو آپ ایک سوسائٹی بنیں گی اور یہی جماعت کی تنظیم کا مقصد ہے اور یہی چیز ہے جس کو آپ صحیح طرح اگر اختیار کریں تو اس کا حق ادا کر سکتی ہیں اور اسی طرح آپ نظام جماعت کی نمائندگی بھی کر سکتی ہیں اور خلیفۂ وقت کی نمائندگی کا حق بھی ادا کر سکتی ہیں، اس لیے لجنہ قائم کی گئی ہے۔ جو ضروری اصلاح ہے، وہ ہونی چاہیے، لیکن عقل کے ساتھ۔

ایک لجنہ ممبر نے راہنمائی کی درخواست کی کہ بہت سے والدین اس بات کے خلاف ہوتے ہیں کہ کوئی دوسری قوم کے فرد سے شادی کرے، چاہے وہ احمدی ہی کیوں نہ ہو، ایسے میں والدین سے کس طرح بات کرنی چاہیے؟

اس پرحضور انورنے واضح فرمایا کہ یہ قوم اور قومیت کوئی چیز نہیں ہے۔ نیز آنحضرتؐ کی جیون ساتھی کے انتخاب کی بابت فرمودہ نصیحت کے تناظر میں بیان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کوفرمایا تھا کہ تم کسی کی اچھی قوم کی وجہ سے، کسی کی دولت کی وجہ سے، کسی کی شکل کی وجہ سے شادیاں کرتے ہو۔ رشتے اس لیے تلاش کرتے ہیں۔شکل اچھی ہوتی ہے، پسند آجاتی ہے اور شادی کر لی۔ یا اس کے پاس دولت بہت ہے، تو چلو مجھے دولت تھوڑی سی مل جائے گی۔ مرد لالچی ہوتے ہیں۔ یا قوم اچھی ہے، میری قوم کا آدمی ہے اس لیے مَیں نے شادی کرنی ہے۔ ہم تو چودھریوں سے باہر نہیں جائیں گے، جٹّوں سے باہر نہیں جائیں گے، سیّدوں سے باہر نہیں جائیں گے، مُغلوں سے باہر نہیں جائیں گے۔ اب ہم مُغل ہیں اور ہمارے تو کئی مُغلوں کی بلکہ بعض کی حضرت خلیفة المسیح الثّانی ؓ کے زمانے سے مُغلوں سے باہر شادیاں ہوئی ہوئی ہیں۔

نیز اس بات کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہ اب یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دین دیکھو۔ اگر دین ہے تو اس سے شادی کرو۔ اس لیے اگر مرد دین دیکھ رہے ہوں گے تو عورتیں بھی دیندار بنیں گی، اور لڑکیاں اگر دیندار لڑکے تلاش کر رہی ہوں گی تو لڑکے بھی دیندار بنیں گے۔ پھر ایک احمدی اسلامی معاشرہ قائم ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہیں کیا پتا کہ کون سیّد ہے، کون فلاں ہے اور کون فلاں نہیں ہے، ذاتوں پر تم چلے جاتے ہو اور دو نسلوں کے بعد تو پتا ہی نہیں لگتا۔ بعض جھوٹے سیّد بنے ہوتے ہیں۔

حضورِ انور نے اس حوالے سے ایک دلچسپ لطیفہ بھی پیش فرمایا کہ وہ لطیفہ مشہور ہے کہ پارٹیشن سے پہلے ایک میراثی تھا اور ایک کوئی ترکھان تھا، ویسے تو یہ پیشے ہیں، لیکن ہمارے ملک میں پنجاب میں ذاتیں بنی ہوئی ہیں۔ آپ پنجابی ہیں، آپ کو پتا ہو گا، تو پاکستان بننے کے بعد بچے پڑھ گئے اور انہوں نے شادیاں کرنی تھیں۔ تو ایک سیّد بنا ہوا تھا اور ایک قریشی بنا ہوا تھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں! یہ سیّد ہے اور ہم قریشی ہیں، ہم رشتہ کریں گے، جب نکاح کے لیے باتیں چلنی شروع ہوئیں اور اکٹھے ہوئے تو دیکھا کہ وہ اتفاق سے دونوں ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور ان کو پتا بھی تھا کہ ہم میں سے ایک میراثی اور ایک ترکھان ہے۔ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ تم سیّد کیسے اور تم قریشی کیسے؟ تو ایک نے کہا کہ جس طرح تم سیّد بنے اس طرح مَیں قریشی بن گیا۔ تو کوئی پہچان نہیں ہے، اس لیے یہ طریقہ ہی غلط ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے ذات پات کے تفرقات سے پاک ہو کر نیکی اور دینداری کو ترجیح دینے کے حوالے سے توجہ دلائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ چند نسلوں کے بعد تو بھول جاتے ہیں، مطلب ہے کہ بھول کیا جاتے ہیں بلکہ پتا ہی نہیں لگتا، دنیا کو دھوکا ہوتا ہے کہ کون کیا اور کس ذات کا ہے۔ اس لیے کہہ دیا کہ مَیں چودھری ہوں، مَیں جٹ ہوں، مَیں ہرل ہوں، مَیں کھوکھر ہوں، مَیں کھرل ہوں، مَیں آرائیں ہوں یا مَیں فلاں ہوں تو ہم جٹّوں نےآرائیوں میں لڑکی نہیں دینی اور آرائیوں نے جٹّوں میں نہیں دینی، سیّدوں نے فلاں میں نہیں دینی، مغلوں نے فلاں کو نہیں دینی، یہ تو بالکل غلط طریقہ ہے۔ کوئی ذات پات نہیں، اصل چیز یہ ہے کہ احمدی برادری ہے۔ احمدی ہو، نیک ہو شادی کر لینی چاہیے۔ کوئی بھی ہو، بلکہ قرآنِ شریف میں تو یہ آیا ہے کہ جن کو تم نہیں جانتے، جن کے خاندان کے بارے میں پتا نہیں کہ وہ کون ہیں، تو وہ پھر بھی تمہارے دینی بھائی ہیں اور وہ اور ان کی اولادوں سے تم شادیاں کر سکتے ہو۔ کوئی ذات پات نہیں ہے، آپ کو کیا پتا ہے کون کون ہے، نیز مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ایویں ہی سارے چودھری بن کے بیٹھے ہوئے ہیں، اور دوسرے مجھے کیا پتا کہ کون صحیح چودھری ہے بھی کہ نہیں۔

آخر میں حضورِ انور نے اصل شناخت کے معیار کی بابت ایک مزید ایمان افروز واقعہ پیش فرمایا کہ سیّد عبدالستّار شاہ صاحبؓ، وہ سیّد تھے، ان کی گدی بھی تھی، ان کا خاندان پیر کہلاتا تھا، یہ حضرت خلیفۃ المسیح الرّابع رحمہ الله کے نانا تھے، لیکن ان کو شک رہتا تھا کہ پتا نہیں کہ مَیں اصلی سیّد ہوں کہ بنا بنایا ہوں، جس طرح آجکل کے لوگ بن گئے ہیں۔ ایک دن آ رہے تھے تو اُوپر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیڑھیاں اُتر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ہاں! شاہ صاحب، تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب ان کوشاہ صاحب کہا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوری واقفیت ان سے نہیں تھی، تو انہوں نے کہا کہ اب مجھے تسلّی ہو گئی ہے کہ میں پکّا سیّد ہوں، کیونکہ اللہ کے نبیؑ نے کہہ دیا ہے کہ مَیں سیّد ہوں، شاہ ہوں۔تو یہ اس طرح ہونا چاہیے، آجکل آپ کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ کون کیا ہے۔

ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے کہ بہن بھائیوں میں لڑائیاں کم ہوں؟

اس پر حضورِ انور نے انتہائی شفقت بھرے انداز میں مسکراتے ہوئے فرمایا کہ نماز پڑھا کرو، اخلاق دکھایا کرو اور ٹھنڈا پانی پی لیا کرو۔ جس پر تمام شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیے۔ حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ اگر تمہارے اچھے اخلاق ہیں تو کیوں لڑائی ہوتی ہے، اچھاbehaveکر رہی ہو تو لڑائی نہیں ہوگی۔ تم نے کوئی بات کی ہوگی تو اگلا پھر لڑے گا۔اگر کوئی تم سے لڑے، تم کان بند کر کے دوسری طرف چلی جاؤاور کہہ دو کہ مَیں نہیں لڑوں گی۔

حضورِ انور نے اس حوالے سے مزید سمجھایا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو روزے دار ہو، تو روزے والے سے کوئی لڑائی کرے یا کوئی سختی سے بولے تو تم کہہ دو کہ مَیں روزے میں ہوں، مَیں نہیں لڑوں گا، مَیں بُری بات نہیں کروں گا۔ قرآنِ شریف میں بھی آیا ہے کہ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ، لغو باتوں سے اِعراض کرو اوربچو، تو اسی طرح تم لوگ بھی لغو باتوں سے بچو۔ اور ٹھنڈا پانی پی لو اور بیٹھ جایا کرو اور وہاں سے چلی جایا کرو۔ چھوٹے بھائی ہیں، تو چھوٹے بھائیوں سے شفقت کرنی چاہیے، بڑے بھائی بہن ہیں، تو ان سے ویسے ہی عزت سے پیش آؤ اور اگر تم پرکوئی رُعب ڈالتا ہے، تو تم علیحدہ کمرے میں چلی جاؤ۔

پھر حضورِ انور نے ناصرہ سے دریافت فرمایا کہ تم پر بڑے رُعب ڈالتے ہیں، تو اس نے معصومیت سے عرض کیا کہ چھوٹا بھی، اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ چھوٹا لڑتا ہے تو اس کومعاف کر دیا کرو اور کہو کہ تمہیں معاف کیا۔

مزیدبرآں حضورِ انور نے غلطیوں سے سبق سیکھنے کے حوالے سے فرمایا کہ قرآنِ شریف میں دو لڑنے والوں کی مثال ہے، ایک نے کہا کہ تم یہ کہتے ہو، وہ کہتے ہو تو مَیں تمہیں قتل کر دوں گا۔دوسرے نے کہا تم میری طرف قتل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھاؤ گے، تو مَیں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا، مَیں تو اللہ سے ہی دعا کروں گا۔ خیر ایک نےدوسرے کو مار دیا اور اس کے بعد آگے کہانی ہے کہ کس طرح وہ مر گیا اور اس کو دفنایا بھی نہیں اور پھر ایک کوّا آیا، اس نے زمین کھودی اور اپنے مرے ہوئے کوّے کو دفنایا۔ تو اس نے کہا کہ مَیں تو اس سے بھی بدّتر ہوں، تو آخر میں جو ہوتا ہے، وہ انسان کو غلط باتیں کرنے کا افسوس ہوتا ہے۔

آخر میں حضورِ انور نے ناصرہ کو تلقین فرمائی کہ جب وہ تمہارا چھوٹا بھائی بڑا ہو جائے گا یابھائی بہن جو بھی ہے، تو وہ کہے گا اوہو! مَیں غلطی کرتا تھا اور بہنوں سے لڑتا تھا، اس لیے تم شروع میں ہی معاف کر دیا کرو۔

ایک لجنہ ممبر نے عرض کیا کہ بعض اوقات نوجوان لڑکوں کو بنیادی باتوں کا پتا نہیں ہوتا، جیسے کہ پاکی اور ناپاکی، پھر یہ لاعلمی عائلی مسائل کا باعث بن رہی ہوتی ہے، اس سلسلے میں ہماری راہنمائی فرما دیں کہ کس طرح چھوٹی عمر سے بچے کو ان باتوں کے بارے میں بتایا جائے؟

اس پر سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں حضورِ انور نے بچوں کی تربیت میں والدین کی راہنمائی اور ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو بتانا چاہیے۔ماں باپ کا بتانا کام ہے، کیا بتاؤں۔ ان کی دینی تعلیم ہے، لٹریچر ہے، اطفال الاحمدیہ ہے، خدام الاحمدیہ ہے، وہاں بھی ان کو سمجھایا جاتا ہے۔ فقہی مسائل ہیں، آپس میں ماں باپ کی بے تکلفی ہو، تو ان کو بتائیں۔ لڑکیوں کو مائیں بتاتی ہیں کہ کیا ناپاکی پاکی ہے، لڑکوں کو باپ بتائیں۔ اگر ماؤں کو جھجھک ہے اور ان کی شروع میں گھروں کی تربیت یہ ہے، تو کوئی باہر سے آپ کو خطبہ تو نہیں دے گا کہ یہ ناپاکی اور یہ پاکی ہے، اس پر تم عمل کرو۔ یہ تو خود عقل کا استعمال کریں اور خود ہمّت کریں اور اس بات کو سوچیں کہ میری کیا ذمہ داریاں ہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ذمہ داریوں کا احساس یہی ہے کہ بچوں کی تربیت کرنی ہے۔ تو ان کو بچپن میں سمجھانا چاہیے، دس سال کا بچہ ہو جاتا ہے، پھر گیارہ سال کا ہو جاتا ہے، بارہ سال کا ہو جاتا ہے، مختلف عمروں سے گزرتے ہیں اور اسی طرح لڑکیاں مختلف عمروں سے گزرتی ہیں، تو ہر سٹیج پر جو بھی باتیں ہیں، ان کو ماں اور باپ کو سمجھانا چاہیے، تو اسی سے تربیت ہوتی ہے۔

آخر میں حضورِ انور نے اس پہلو کی جانب بھی توجہ دلائی کہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں اور اگر شرم آتی ہے، تو پھر لکھ کے ان کے سرہانے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا کریں کہ اسلام کی یہ پاکی اور یہ ناپاکی ہے، یہ تعلیم ہے، اس طرح تربیت بھی کر سکتے ہیں۔ اگر زیادہ شرم آتی ہے، آپ لوگ شرماتے بڑا ہیں، اوّل تو شرمانا نہیں چاہیے۔ نیز احساس دلایا کہ آجکل کے زمانے میں بغیر شرمائے فضول فلمیں تو دیکھ لیتے ہیں، یہاں باتیں کرتے ہوئے شرم آ جاتی ہے، اور کچھ نہیں تو ان کو لکھ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا کریں تاکہ وہ پڑھ لیں اور ان کو پتا لگ جائے کہ اسلام کی تعلیم پاکی کے بارے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کیا ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ کیا مردوں کے لیے داڑھی رکھنا فرض ہے، کیونکہ کئی احمدی مرد اس معاملے میں سنجیدہ نہیں نظر آتے؟

اس پر حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ داڑھی رکھنا فرض نہیں، بلکہ یہ سُنّتِ رسول صلی الله علیہ وسلم ہے۔ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضورِ انور نے تذکرہ فرمایا کہ کسی نے حضرت مسیح موعودؑ سے شکایت کی کہ ایک شخص نے بہت چھوٹی سی داڑھی رکھی ہوئی ہے، تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ جس حد تک کوئی شخص میرے طریقہ کار کی پیروی کرتا ہے، وہ اس کے میرے ساتھ تعلق کی عکاسی کرتا ہے، چونکہ یہ سُنّتِ نبویؐ ہے اس لیے داڑھی رکھنی چاہیے۔ اس حوالے سےحضورِ انور نے اپنی ذاتی مثال بھی پیش فرمائی کہ نوجوانی میں انہیں داڑھی رکھنے کا خیال نہیں آیا، مگر بعد میں ایک چھوٹی داڑھی سے آغاز کیا اور آہستہ آہستہ اسے بڑھایا۔ نیز توجہ دلائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے ہم پیروکار ہیں، ان کی محبّت میں سُنّت پر جتنا زیادہ عمل کرنے کی کوشش کریں گے، اتنا ہی زیادہ اجر ہمیں ملے گا۔ پس فرض نہ ہونے کے باوجود یہ یقینی طور پر سُنّت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ کسی شخص کے ایمان کی مضبوطی اور اس سے ان کا تعلق اس کے طرزِعمل اور صورت کی تقلید کی کوششوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جماعت کے عہدیداروں کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ وہ کم از کم داڑھی رکھیں، سوائے اس کے کہ کوئی خاص طبّی وجہ اس کی راہ میں روک ہو، یہ جماعت کے نفاذ کی حد ّہے۔تاہم یہ کوئی زبردستی نہیں ہے اور افراد پر لاٹھی نہیں چلائی جا سکتی۔آخر میں حضورِ انور نے اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ مرد بھی داڑھی رکھنے پر مجبور کرنے کی شکایت کر سکتے ہیں، جیسا کہ کچھ خواتین حجاب کے معاملے میں کرتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حجاب قرآنِ کریم کا صریح حکم ہے، جبکہ داڑھی فرض نہیں، بلکہ سُنّت ہے۔

ایک سائل نے راہنمائی کی درخواست کی کہ جب کوئی مشکل یا آزمائش طویل ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے اور کس طرح اللہ پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے ثابت قدم رہا جا سکتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے مفصّل راہنمائی عطا فرمائی کہ دعا جاری رکھنی چاہیے۔ نیز حضرت مسیح موعودؑ کے ارشاد کی روشنی میں بیان فرمایا کہ دعا کے قبول ہونے میں تاخیر جتنی زیادہ ہو، اُمید اتنی ہی زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرکار اسے قبول فرمائے گا، اس لیے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے۔

اس تناظر میں حضورِ انور نے ایک معروف ولی کا قصّہ بھی سنایا کہ جس نے مسلسل تیس سال تک دعا کی۔ کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کو اطلاع دی کہ ان کی دعا قبول نہیں ہوگی اور یہ آزمائش مقدر ہے۔ ایک دن جب ولی دعا کر رہے تھے، ایک مُرید بھی بحالتِ کشف یہ آواز سُن رہا تھا، مُرید نے کہا کہ چونکہ اللہ نے فرمایا کہ دعا قبول نہیں ہوگی، توآپ دعا کرنا بند کر دیں۔ ولی نے جواب دیا کہ یہی واحد دروازہ ہے، جس کی طرف مَیں رجوع کر سکتا ہوں، اور کس پر بھروسہ رکھوں؟ اگر کسی پر اعتماد کرنا ہے تو صرف اللہ پر، کسی انسان پر نہیں۔ انہوں نے یہ عزم کیا کہ اگر دعا ابھی قبول نہیں ہوتی، تو شاید ایک دن قبول ہو ہی جائے گی یا یہ اللہ کی منشا ہے اور انہیں اس پر راضی رہنا چاہیے، اصل اجر تو آخرت میں ہے۔ اسی لمحے ولی اور مُرید پر کشف کی حالت طاری ہوئی اور معلوم ہوا کہ گذشتہ تیس سال کی تمام دعائیں قبول ہو چکی ہیں۔

مزید برآں حضورِ انور نے آنحضرتﷺ کی مثال بھی پیش فرمائی کہ جنہوں نے مکّہ میں لگاتار تیرہ سال شدید مشکلات برداشت کیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی نبی اُن سے زیادہ محبوب نہ تھا، ہجرت کے بعد بھی کئی سال جنگوں اور مکّہ کی فتوحات تک مسلسل مشکلات اور دشمنیوں کا سامنا کیا، پھر بھی صبر کیا اور اللہ پر اعتماد برقرار رکھا۔ آپؐ کی زندگی میں بچوں، لوگوں، دشمنوں اور رشتہ داروں سے متعلق غمّ اور مصیبتیں آئیں، لیکن آپؐ نے کبھی اللہ سے اُمید نہیں توڑی۔

آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ اور کس راستے پر پھر جائیں، کہاں جائیں؟ نیز تلقین فرمائی کہ ہمیں یہ اُمید ہے کہ اگر ہم دنیا کی آزمائشیں صبر و استقامت سے گزاریں اور اللہ کے مقرر کردہ امتحان میں کامیاب ہوں، تو اگلی زندگی میں پھرعظیم اجر ملے گا۔ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔دنیا میں صرف ستّر یا اسّی سال گزارے جائیں گے، اگر ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں، تو اجر آخرت میں حاصل ہوگا اور ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

ایک لجنہ ممبر نے سورۃ النور کی اس آیت اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ وَالۡخَبِیۡثُوۡنَ لِلۡخَبِیۡثٰتِ ۚ وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ وَالطَّیِّبُوۡنَ لِلطَّیِّبٰتِ کے مفہوم کے متعلق سوال کیا کہ اگر کوئی بہت نیک شخص ایسے شریکِ حیات سے منسلک ہو جائے جو دین سے دُور ہو تو اس آیت کو کس طرح سمجھا جائے؟

اس پر حضورِ انور نے جامع راہنمائی عطا فرمائی کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا نکاح سے پہلے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی کے لیے دعا کی گئی تھی۔ اگر دعا کی گئی تھی اور دل کو اطمینان حاصل ہوا تھا، تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شریکِ حیات میں کچھ دیگر نیک پہلو دیکھے ہوں۔ لیکن اگر واقعی وہ شریکِ حیات بدکردار ثابت ہو، تو اسلام نے اس میں عورت کے لیے خُلع اور مرد کے لیے طلاق راستہ رکھا ہے۔بایں ہمہ حضور انورنے نصیحت فرمائی کہ نکاح سے پہلے ہمیشہ یہ دعا کرنی چاہیے کہ اگر یہ رشتہ میرے حق میں بہتر ہے، تو اے اللہ !اسے ممکن بنا دے، اور اگر نہیں، تو اس میں کوئی رکاوٹ پیدا فرما دے۔ لیکن اگر کوئی شخص محض ذات، دولت، خاندان یا ظاہری خوبصورتی کو دیکھ کر نکاح کرے، تو پھر وہ اس کے نتائج کا ذمہ دار خود ہے، اللہ تعالیٰ نہیں۔

مزید برآں حضورِ انور نے سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں بیان فرمایا کہ آیت کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ بدکردار لوگ عموماً بدکردار لوگوں کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اُن کے درمیان ایسے رشتے عام ہیں، تاہم استثنائی صورتیں موجود ہیں، کبھی نیک عورت بدکردار مرد کے نکاح میں بھی آ جاتی ہے۔ تو ایسی صورت میں پہلے دعا کرنی چاہیے اور نصیحت و اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر باوجود حقیقی کوشش کے وہ شخص باز نہ آئے اور بدی میں انتہا تک پہنچ جائے، تو علیحدگی کا راستہ کھلا ہے۔

آخر میں حضورِ انور نے اس بات کو بھی واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخصوص شادی کے لیے یہ نہیں فرمایا کہ وہ ضرور ہونی چاہیے، ماسوائے اس کے کہ کسی کو الہام ہو یا کسی صالح شخص کے ذریعہ خاص راہنمائی حاصل ہو۔ اس لیے کسی رشتے کے غلط ثابت ہونے پر اللہ کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ عام طور پر نیک شخص دانستہ کسی بدکار سے شادی نہیں کرتا۔نکاح سے پہلے شریکِ حیات کے بارے میں مکمل تحقیق کرنی چاہیے، اگر کسی کے عیوب معلوم ہونے کے باوجود نکاح کیا جائے، تو یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شخص حقیقی معنی میں نیک نہیں۔

ملاقات کے اختتام پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت تمام شاملاتِ مجلس کو بطورِ تبرک قلم کا تحفہ عطا فرمایا اور چھوٹی بچیوں میں چاکلیٹ تقسیم فرمائی۔ یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’اللہ حافظ، السلام علیکم‘‘ پر اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ لجنہ اماء اللہ جرمنی کےNRW Mitteریجن کی صدرات کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button