نظم

علامات المقربین

خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار
جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اُس پر نثار

اِسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب
کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب؟

اُسے دے چکے مال و جاں بار بار
ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار

لگاتے ہیں دل اپنا اُس پاک سے
وہی پاک جاتے ہیں اِس خاک سے

(نشانِ آسمانی، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 434-435 )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button