تحریکِ جدید کے اکانوےویں(۹۱) سال کے دوران افرادِ جماعت کی طرف سے پیش کی جانے والی مالی قربانیوں کا تذکرہ اور بانوے ویں (۹۲) سال کے آغاز کا اعلان۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۷؍نومبر ۲۰۲۵ء
٭ …تحریکِ جدید کے اکانوے ویں سال کے اختتام پر جماعت ہائے احمدیہ عالَم گیر کو دورانِ سال اس مالی نظام میں ۱۹.۵۵؍ملین پاؤنڈ مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ یہ وصولی گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ ملین پاؤنڈ زیادہ ہے
٭…تحریک جدید کا پس منظر، مالی قربانی کی اہمیت نیزمختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مخلص احمدیوں کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات کا بیان
٭…ایسے واقعات دیکھ کر نہ صرف اُن لوگوں کے ایمان مضبوط ہوتے ہی بلکہ ہمارے جو پُرانے احمدی ہیں، اِن کے بھی ایمان مضبوط ہوتے ہیں اور ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ کس طرح الله تعالیٰ اِن لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۷؍نومبر۲۰۲۵ء بمطابق ۷؍نبوت۱۴۰۴؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۷؍نومبر۲۰۲۵ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۲کی تلاوت مع ترجمہ پیش فرمائی۔ اس کے بعد فرمایا:
یکم نومبر سے الله تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا تحریکِ جدید کا نیا مالی سال شروع ہوتا ہے، اِس حوالے سے تحریکِ جدید کے نئے سال کا اعلان بھی کیا جاتا ہےاور گذشتہ سال جو گزرا ہے، اُس کی مالی قربانیوں کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ اِسی طرح مالی قربانی کی اہمیت کے بارے میں بھی کچھ بیان ہوتا ہے۔
تحریکِ جدید کا آغاز ۱۹۳۴ء میں حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ نے فرمایا تھا۔اِس کی وجہ یہ بنی تھی کہ اُس وقت جماعت کے خلاف احرار نے ایک فتنہ اُٹھایا تھا اور بڑا شور مچایا تھا۔ بہشتی مقبرہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مزار ہے، اُس کی بے حرمتی کا بھی پروگرام تھا۔حکومت بھی جماعت کو تحفّظ نہیں دے رہی تھی بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ مخالفین کی حمایت کر رہی تھی۔
ایسے وقت میں حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو تحریک کی کہ ایک فنڈ مہیا کریں تاکہ ہم احمدیت اور اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچائیں اور جماعت کے نظام کو مضبوط تر کریں تاکہ مخالفین کی ریشہ دوانیاں اور شور شرابے کا ہم تدارک کر سکیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ پس اِس سوچ کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ نےتحریکِ جدید کا اعلان فرمایا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ملک میں بھی اور دنیا میں بھی ہم نے اسلام اور احمدیت کے پیغام کو پھیلانا ہے تاکہ دشمن ہمارے منصوبوں کو کہیں بھی نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے، ایک جگہ اگر مخالفت ہے تو دوسری جگہ ترقی نظر آتی ہو اَور جماعت کا نظام پھیلتا چلا جائے۔
الله تعالیٰ کے فضل سے آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے تمام ممالک میں احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا ہوا ہے اور ہمارے مشنریز، مبلغین وہاں کام کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ہم نے مسجدیں بنائی ہیں، ہمارے سکول کام کر رہے ہیں، ہسپتال کام کر رہے ہیں، مبلغین و مربیانِ سلسلہ خدمت کی توفیق پا رہے ہیں، اشاعتِ لٹریچر ہو رہی ہے، علاوہ مرکزی اسٹوڈیو کےایم ٹی اے کے اسٹوڈیو زکئی ملکوں میں قائم ہیں، ریڈیو اسٹیشنز قائم ہیں۔ گو یہ سارے جو کام ہیں، اِن کا بہت سا خرچ باقی چندوں سے بھی پورا کیا جاتا ہے، لیکن تحریکِ جدید اِس میں بڑا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اور یہ جو احرار کا دعویٰ تھا کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، احمدیت کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے، اور آج تک یہ نعرے ہمارے مخالفین لگاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ربوہ میں اِن کی ایک کانفرنس ہوئی تھی اُس میں بھی اِنہوں نے یہی نعرہ لگایا تو اِن نعروں کا جواب ہر سال جماعت کی ترقیات سے دیا جاتا ہے، الله تعالیٰ کے فضلوں سے دیا جاتا ہے، جماعت میں بیعت کر کے شامل ہونے والے لوگ اِس کا جواب ہیں، اور
آج ۲۲۰؍ ممالک میں پھیلی ہوئی جماعت کی ترقی اِس کا جواب ہے کہ یہ دیکھو کہ تم یہ نعرہ لگاتے تھے کہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے، لیکن الله تعالیٰ کے یہ افضال ہیں کہ جماعت ترقی پر ترقی کرتی چلی جا رہی ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ پس
الله تعالیٰ کا یہ فعل اور تائید اِ س بات کا ثبوت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا دعویٰ سچّا تھا اور سچّا ہے اور احمدیت الله تعالیٰ کے فضل سے کسی انسان کا قائم کردہ پودا نہیں، کسی تنظیم کا قائم کردہ پودا نہیں، کسی حکومت کا قائم کردہ پودا نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ پودا ہے، جو ایک تن آور درخت بن چکا ہے، جس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور الله تعالیٰ اِس کو مزید پھیلاتا اور پھل لگاتا چلا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
حضورِ انور نے تلاوت فرمودہ سورۃ البقرۃکی آیت ۲۶۲ کی روشنی میں بیان کیا کہ الله تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ مَیں تمہیں، جو تم میری راہ میں خرچ کرتے ہو ، بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا۔ بلکہ یہ طاقت رکھتا ہوں کہ تمہاری اِس قربانی کو سات سو گُنا تک بلکہ اِس سے بھی زیادہ کر دوں۔ پس یہ ارشاد فرما کر الله تعالیٰ نے مومنین کے دلوں میں یہ تحریک پیدا فرمائی کہ اپنے دل کھولتے چلے جاؤ اور الله کی راہ میں خرچ کرتے چلے جاؤ، الله کے دین کی اشاعت کے لیے خرچ کرو، جو کام اِس زمانے میں مسیح موعودؑ اور مہدیٔ معہود کے سپرد تھا اور پھر آپؑ کی جماعت کے سپرد ہے۔
جو قربانی کرنے والے ہیں، وہ اپنے واقعات بھی مجھے لکھتے ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح الله تعالیٰ نے اُن کو قربانی کرنے کی توفیق دی اور کس طرح اُن کے ایمانوں کو مضبوط کیا۔
بعدازاں حضورِ انور نے انفاق فی سبیل الله کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے حوالے سےبعض علمی اور تاریخی حوالے بیان کیے نیز اِسی تناظر میں احادیث کی روشنی میں بیان فرمایا کہ نبیؐ نے فرمایا کہ کیا مَیں تمہیں سب سخیوں سے بڑھ کر سخی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں یا رسول اللهؐ، تو آپؐ نے فرمایا کہ الله تعالیٰ تمام سخاوت کرنے والوں سے بہت بڑھ کر سخاوت کرنے والا ہے۔ پھر آپؐ نے اپنے بارے میں بتایا کہ مَیں تمام انسانوں میں سے سب سے زیادہ بڑا سخی ہوں۔ پھر آپؐ نے مالی قربانی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ پس یہ ہدایت ہے، اُن لوگوں کے لیے کہ جنہوں نے مالی قربانیاں دیں کہ وہ اپنی عبادتوں کے معیار بھی بڑھائیں ، مالی قربانی کر کے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم عبادتوں سے فارغ ہو گئے۔
ہماری جماعت میں بھی بزرگوں کے نمونے بھی یہی ہوتے تھے کہ وہ اپنے مال کو الله کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے گنا نہیں کرتے تھے، بلکہ بے دریغ خرچ کیا کرتےتھے۔ اِسی طرح آنحضرتؐ کے زمانے کے صحابہؓ کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیحِ الاوّلؓ بہت قربانیاں کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے خودہی ایک جگہ اِس کاذکر فرمایا کہ مَیں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ دے دیتے یعنی مولانا نورالدّین خلیفۃ المسیح الاوّلؓ سب کچھ اِس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دَم صحبت میں رہنے کاحق ادا کرتے۔
بعد ازاں حضورِ انور نے دنیا بھر کے مخلصین کی تحریکِ جدیدکے مالی جہادمیں پیش کی گئی قربانی کے تناظر میں متفرق ایمان افروز واقعات نیز اُن پر نازل ہونے والے انعامات اور افضال الٰہی کا تذکرہ فرمایا۔
حضورِ انور نے بیان فرمایا کہ البانیہ سے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ البانین دوست بلال یوسف صاحب بہت سادہ مزاج آدمی ہیں اور غریب بھی ہیں۔ وہاں جلسہ ہو رہا تھا، تو اُنہوں نے الله تعالیٰ کی رضا کی خاطر بغیر کسی معاوضے کے ایک ہفتے تک ہر روز صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک جلسے کے کام کیےاور شام کو اپنی جاب پر چلے جاتے تھے۔ ایک روز لفافے میں ۷۵؍یورو تحریکِ جدید کا چندہ لے کر آئے، البانیہ مشرقی یورپ کا غریب ملک ہے، مربی صاحب کو کہنے لگے کہ کئی دنوں سے یہ رقم چندے میں دینے کے لیے جمع کی تھی اور لفافے کے اُوپر البانین زبان میں یہ لکھا ہوا تھا کہ بہت خوشدلی سے جماعت کی خدمت میں پیش ہے۔ شاید یہ رقم دوسروں کو کم لگتی ہو، صرف ۷۵؍یورو، لیکن مربی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ اُن کی پندرہ فیصد تنخواہ تھی اور جبکہ اُن کو گھر کا کرایہ وغیرہ بھی دینا تھا۔
دنیا دار تو کہہ سکتے ہیں کہ ۷۵؍یورو سے یہ اسلام کو پھیلانے کی باتیں کرتے ہیں یا چند یورو سے اسلام کو پھیلانے کی باتیں کرتے ہیں، جبکہ اسلام مخالف تنظیموں اور حکومتوں کے پاس بلین بلین پاؤنڈز ہیں، وہ اپنے پیسے اسلام کے خلاف خرچ کر رہے ہیں۔ لیکن الله تعالیٰ نے اُن کی اِس چھوٹی سے قربانی میں بھی اتنا فضل فرمایا ہے کہ اِس قربانی سے جماعتِ احمدیہ مشن بھی قائم کر رہی ہے، بہت سے ایسے لوگ ہیں، یہ صرف ایک ۷۵؍یورو دینے والے نہیں ہیں، بلکہ اِس سے بھی کم دینے والے لوگ ہیں۔ اور جماعت الله تعالیٰ کے فضل سے اِسی چھوٹی چھوٹی رقموں سے دنیا میں اپنے کام سر انجام دے رہی ہے اور اشاعتِ اسلام کا کام کر رہی ہے، اور دنیا میں جو ترقی ہو رہی ہے، وہ بلین ڈالر خرچ کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔
انڈونیشیا کے ایک ممبر کہتے ہیں کہ اُن کی اہلیہ کے پاس جماعت کی ایک معمّر خاتون آئیں، اُنہوں نے چند گٹّھے لکڑیاں اِس نیّت سے پیش کیں کہ ہم اُنہیں خرید لیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں تو لکڑیوں کی ضرورت نہیں تھی، پہلے ہی ہم نے خرید کر رکھی ہوئی تھیں، لیکن بہرحال چونکہ وہ معمّر خاتون سر پر گٹّھے اُٹھا کر لائی تھی ، تو اہلیہ نے اُس پر ترس کھاتے ہوئے لکڑیاں خرید لیں۔ انڈونیشین روپے کی قیمت بہت کم ہے، وہاں لاکھوں میں باتیں ہوتی ہیں، تو اُنہوں نے لکڑیوں کا وہ گٹّھا ایک لاکھ روپے میں ، یہ پاکستان روپے کے مقابلے میں چند روپے بنتے ہیں، خرید لیا۔ بہرحال جب خرید لیا اور اِس کو یہ رقم دینی چاہی ، تو اِس معمّر خاتون نے کہا کہ مَیں یہ لکڑیاں اِس لیے نہیں لائی کہ تم سے رقم لوں اور اپنے اُوپر خرچ کروں، بلکہ یہ تو مَیں نے تحریکِ جدید کا چندہ دینا تھا، اِسے میری طرف سے تحریکِ جدید کے چندے میں شمار کر لو اور ساری رقم چندے میں دے دی اور ایک پیسہ بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر گئیں۔
اِسی طرح گھانا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ خلیفۃ المسیح کے خُطبات میں ایمان افروز واقعات جب لوگوں کو سنائے گئے، تو ایک افریقن گھانین ممبر نے اپنی جیب میں موجود آخری رقم بھی الله تعالیٰ کی راہ میں دے دی، لیکن کہتے ہیں کہ مسجد سے باہر نکلتے ہی اُنہیں دو فون کالز موصول ہو ئیں جو کہ اِن کی زندگی کا رُخ بدلنے والی تھیں۔ یعنی دو ممکنہ گاہکوں نے اُن سے رابطہ کیا اور اُنہیں ایسی پُر کشش ملازمت کے مواقع کی پیشکش کی، جسے اُنہیں اُن کی دی ہوئی رقم سے بیس گُنا زیادہ منافع حاصل ہوا۔ یہ غیر معمولی واقعہ اِس حقیقت کی ایک زبردست یادہانی ہے کہ الله تعالیٰ اپنی راہ میں قربانی کرنے والوں کو کس طرح فوری اور بے مثل انعامات سے نوازتا ہے۔
حضور انور نے گنی کناکری،بھارت، مالی وغیرہ ممالک کے مخلصین کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات بھی بیان فرمائے اور فرمایا کہ
ایسے واقعات دیکھ کر نہ صرف اُن لوگوں کے ایمان مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ہمارے جو پُرانے احمدی ہیں، اِن کے بھی ایمان مضبوط ہوتے ہیں اور ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ کس طرح الله تعالیٰ اِن لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے۔
مخالفین کہتے ہیں کہ یہ جھوٹا دعویٰ ہے، جھوٹا نبی ہے، جھوٹا پراپیگنڈا ہے، دُکان داری ہے، لیکن الله تعالیٰ جن کی اِس طرف راہنمائی فرماتا ہے اور دُور دراز علاقے میں بیٹھے ہوئے وہ لوگ، جنہوں نے ابھی کچھ عرصہ پہلے بیعت کی ہے، وصیّت بھی جنہوں نے کر دی، خلیفۂ وقت کو بھی وہ شاید کبھی نہیں ملے یا صرف ایم ٹی اے کے علاوہ دیکھا نہیں، پوری طرح شاید جماعت کا لٹریچر بھی نہیں پڑھا ہو گا، اکثر لوگوں نے نہیں پڑھا ہوتا لیکن بنیادی چیزیں بہرحال پڑھی ہوتی ہیں، اِس کے باوجود الله تعالیٰ اُن کے ایمانوں کو اِس طرح مضبوط کرتا چلا جاتا ہے کہ جب وہ قربانی کرتے ہیں ، تو الله تعالیٰ اُن کی قربانیوں کو قبول فرماتا ہے اور پھر اُن کی راہنمائی بھی کرتا ہے۔
اس کے بعد حضور انور نے گذشتہ سال کے کوائف کا ذکر فرمایااور تحریک جدید کے نئے سال کااعلان فرمایا جس کی تفصیل صفحہ اول پر موجود ہے۔
حضور انور نے اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کا مالی قربانی سے متعلق ایک اقتباس بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے سپرد جو مشن کیا ہے اب ہمارا کام ہے کہ ہم اس مشن کو پورا کریں۔ ایشیا ،یورپ ،امریکہ ،افریقہ ،عرب ممالک، ساؤتھ امریکہ کے ممالک اور جزائر ہر جگہ ان مالی قربانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق دے رہا ہے اور صرف یہی نہیں کہ یہاں یورپ میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی مالی قربانیاں ہیں بلکہ وہاں کے لوگ بھی جیسا کہ میں نے مثالیں بھی پیش کی ہیں مالی قربانیوںمیں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ان کے اموال و نفوس میں برکت ڈالے اور ہماری کوششوں میں بے انتہا برکت ڈالے اور ان کے بہترین نتائج پیدا فرمائے اور ہم جلد از جلد دنیا میں خدائے واحد کی حکومت کو قائم ہوتا ہوا دیکھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو لہراتا ہوا دیکھیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: غزوۂ تبوک کے تناظر میں سیرت نبویﷺ کا بیان۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۳۱؍اکتوبر ۲۰۲۵ء




