متفرق شعراء
درد کی دولت

جب خود پہ نہ گزرے تو معلوم نہیں ہوتا
سرمایۂ غم یکساں مقسوم نہیں ہوتا
ہاں درد بہلتا ہے کچھ وقت کے مرہم سے
کم ہوتا تو ہے لیکن معدوم نہیں ہوتا
سچ وہ ہے جو آنکھوں سے آنکھوں میں اترتا ہے
الفاظ جو کہتے ہیں مفہوم نہیں ہوتا
رکھ لیتی ہوں میں خود کو ہر دکھ کی کہانی میں
دل یونہی تو رنجیدہ مغموم نہیں ہوتا
یہ سوچ کے عزت کی ہر لمحہ حفاظت کی
ہر نیچی نظر والا معصوم نہیں ہوتا
الجھے ہوئے رہتے ہیں دنیا کے بکھیڑوں میں
کب حکم ہو جانے کا معلوم نہیں ہوتا
خاموشی سے سہتی ہوں ہر ظلم زمانے کا
دل درد کی دولت سے محروم نہیں ہوتا
(امۃ الباری ناصر۔امریکہ)
مزید پڑھیں: دارالوصال




