اسلام کی ترقی اور اشاعت کے لیےوقفِ جدید کی تحریک خاص اہمیت رکھتی ہے
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۱؍فروری۱۹۵۸ء)
حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۵۸ء میں بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو وقف جدید کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی۔ ۳۱؍دسمبر کو وقف جدید کے سال کے اختتام کی مناسبت سے قارئین کے استفادے کے لیے اس خطبہ میں سے ایک انتخاب شائع کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
ہماری جماعت کا ہر فرد دعاؤں میں لگا رہے اور ہر شخص اس بات کا عہد کرے کہ وہ دین کے لیے کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گا اور اسلام کی اشاعت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دے گا۔ میں نے اِس غرض کے لیے جماعت میں وقفِ جدید کی تحریک کی ہے
آج میں جماعت کو اِس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں مختلف انبیاء گزرے ہیں جن کو خداتعالیٰ نے اپنے اپنے وقت میں ہدایتیں بخشیں اور انہوں نے خداتعالیٰ کا نام پھیلانے اور اس کے دین کی خدمت کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کی۔ (الانعام:۸۴تا۹۰) اس کے بعد اﷲ تعالیٰ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰٮہُمُ اقۡتَدِہْ(الانعام:۹۱)یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو خداتعالیٰ نے ہدایت دی۔ پس اے محمد رسول اﷲ! جس طرز پر یہ لوگ چلے ہیں اُسی طرز پر تجھے اور تیرے ساتھیوں کو بھی چلنا چاہیے۔ اب یہ صاف بات ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے جو نبی گزرے ہیں یا جن کا یہاں ذکر آتا ہے جن میں حضرت ابراہیمؑ کا نام بھی آیا ہے، حضرت اسحٰقؑ کا نام بھی آیا ہے، حضرت یعقوبؑ کا بھی نام آیا ہے، حضرت داؤدؑ کا بھی نام آیا ہے، حضرت سلیمانؑ کا بھی نام آیا ہے، حضرت ایوبؑ کا بھی نام آیا ہے، حضرت یوسفؑ کا بھی نام آیا ہے، حضرت موسٰیؑ کا بھی نام آیا ہے، حضرت ہارونؑ کا بھی نام آیا ہے، اِسی طرح زکریاؑ، یحییٰؑ، عیسٰیؑ، الیاسؑ، اسماعیلؑ، یسعیاہؑ، یونسؑ اور لوطؑ کا بھی نام آیا ہے۔ ان تمام کی زندگیوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی خداتعالیٰ کے دین کی خدمت میں لگا دی تھی اور پھر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھی یہی حکم دیا گیا کہ فَبِھُدٰ ھُمُ اقْتَدِہْ تُو بھی ان نبیوں کے طریق پر چل۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شروع دعویٔ نبوت سے لے کر تئیس سال تک محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کوئی ذاتی کام نہیں کیا۔ صرف دین کی خدمت کرتے رہے اور اسلام کے پھیلانے میں دن رات لگے رہے اور اسی حالت میں فوت ہو گئے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل میں دین کی خدمت اور اس کی اشاعت کا اِس قدر شوق تھا کہ مرضُ الموت میں آپ نے ایک دن فرمایا کہ میرے اور مسجد کے درمیان جو پردہ حائل ہے اُسے ہٹا دو۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کا کیا حال ہے۔ جب پردہ ہٹایا گیا اور صحابہؓ جو نماز کے لیے جمع تھے انہوں نے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ شوق کے مارے دیوانے ہو گئے اور انہوں نے بے تحاشا اپنی خوشی کا اظہار کرنا شروع کر دیا مگر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی طبیعت چونکہ زیادہ ناساز تھی اس لیے آپ نے فرمایا اب پردے گرا دو اور باہر کہلا بھیجا کہ میرا دل تو چاہتا تھا کہ آؤں مگر میں کمزوری کی وجہ سے نہیں آ سکتا۔ میری جگہ ابوبکر نماز پڑھا دیں۔(بخاری کتاب الاذان باب اَھْلِ الْعِلْمِ و الْفَضْلِ اَحَقُّ بالْاِمامۃ)
غرض یہ ایک قرآنی ہدایت ہے جس کو ہمیشہ مدنظر رکھنا ضروری ہے اور ہمارا بھی فرض ہے کہ دنیا میں جتنے انبیاء گزرے ہیں جن میں خصوصیت سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم شامل ہیں اُن کے نمونہ کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ہم اسلام کی خدمت بجا لائیں کیونکہ اِس وقت سوائے اسلام کے اَور کوئی سچا دین نہیں۔
جیسا کہ اﷲ تعالیٰ ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ (آل عمران:۲۰) یعنی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اس وقت صرف اسلام ہی حقیقی دین ہے۔ پس قرآن کے نزول کے بعد اب سوائے اسلام کے اَور کوئی دین نہیں رہا۔ اگر عیسٰیؑ کے پیرو عیسٰیؑ کے پیچھے چلتے ہیں اور موسٰیؑ کے پیرو موسٰیؑ کے پیچھے چلتے ہیں تو ہمارے لیے یہ حکم نہیں کہ ہم عیسائیت کی تبلیغ کریں یا یہودیت کو پھیلانے کی کوشش کریں بلکہ
ہمارے لیے یہی حکم ہے کہ ہم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پیچھے چلیں اور آپ کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کے لیے اپنی جانیں تک لڑا دیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اِس وقت اسلام کی ویسی ہی نازک حالت ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک فارسی قصیدہ میں فرمایا کہ
ہر طرف کفرست جوشاں ہمچو افواجِ یزید
دینِ حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین
(درثمین فارسی صفحہ ۹۶)
جیسے کربلا کے وقت ہوا تھا کہ یزید کی فوجیں غالب آرہی تھیں اور امام حسینؓ کا لڑکا زین العابدین بیمار پڑا ہوا تھا اور دین کی مدد کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ انہوں نے چاہا بھی کہ اپنی بیماری میں اُٹھ کر کربلا کے میدان میں حضرت امام حسینؓ کی مدد کریں مگر امام حسینؓ نے کہا میرے بیٹے کو سنبھالو۔ اس کو اُٹھنے نہ دو۔ چنانچہ ان کی پھوپھی زینبؓ آئیں اور انہوں نے کہا کہ صبر سے کام لے۔ تیرے باپ کا یہی حکم ہے کہ تجھے لِٹایا جائے اُٹھنے نہ دیا جائے۔ اِسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
ہر طرف کفرست جوشاں ہمچو افواجِ یزید
دینِ حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین
یعنی جس طرح کربلا کے میدان میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے خاندان کے صرف ستّر آدمی تھے اور باقی سینکڑوں ہزاروں سپاہیوں کی رجمنٹیں (REGIMENTS) ایک مشہور جرنیل کے ماتحت یزید کی طرف سے اُن کو گھیرے ہوئے تھیں اُسی طرح آجکل اسلام کی حالت ہے کہ چاروں طرف سے یزیدی فوجوں کی طرح لوگ اِس پر چڑھے آ رہے ہیں اور اسلام کی حالت ایسی ہی ہے جیسے زین العابدین بیماری میں تڑپ رہے تھے اور اپنے باپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے۔ ہمارے روحانی باپ چونکہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں اس لیے اس کے معنے یہ ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں اگر ایمان ہوتا ہے تو وہ تڑپتے ہیں کہ اپنے حقیقی روحانی باپ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدد کریں لیکن وہ بیماروبیکس ہیں یعنی ان میں طاقت نہیں کہ مقابلہ کر سکیں۔ نہ پیسہ ان کے پاس ہے، نہ پریس ان کے پاس ہے، نہ فوجیں ان کے پاس ہیں، نہ حکومتیں ان کے پاس ہیں عیسائی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر گند اُچھالتے ہیں مگر ان کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ جواب دے سکیں۔
اب ہماری جماعت کو خداتعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ اس کے افراد یورپ اور امریکہ اور افریقہ اور انڈونیشیا وغیرہ میں اسلام کی اشاعت کر رہے ہیں مگر کام کی وسعت کے مقابلہ میں ہماری جدوجہد ایسی ہی ہے جیسے کوئی چڑیا سمندر میں سے چونچ بھر کر پانی پیے۔
عیسائیوں کی طاقت کے مقابلہ میں نہ ہمارے پاس کوئی طاقت ہے اور نہ اُن کے مبلّغوں کے مقابلے میں ہمارے مبلغوں کی تعداد کوئی حقیقت رکھتی ہے۔ رومن کیتھولک پادریوں کی تعداد ہی اَٹھاون ہزار ہے اور ہمارے مبلّغتین سَو بھی نہیں۔
ایک دفعہ وکالتِ تبشیر نے مجھے رپورٹ پیش کی تھی کہ مقامی جماعتوں کے مبلّغملا کر ہمارے کُل مبلّغدوسَوستّر ہیں۔ اب کُجا دوسَوستّر مبلغ اور کُجا اَٹھاون ہزار مبلّغ۔ اور ابھی یہ صرف رومن کیتھولک پادریوں کی تعداد ہے۔ اگر پروٹسٹنٹ فرقہ کے پادریوں کو ملا لیا جائے تو ایک لاکھ سے بھی زیادہ ان کے مبلّغوں کی تعداد بن جاتی ہے۔ قرآن کریم نے ایک جگہ بتایا ہے کہ اگر مسلمانوں میں سچا ایمان پایا جائے تو ایک مومن دس کفار کا مقابلہ کر سکتا ہے۔(الانفال:۶۶)اس کے معنے یہ ہیں اگر اُن کے دوہزار سات سَومبلّغہوں تب تو انسانی طاقت کے لحاظ سے ہماری فتح کا امکان ہے لیکن ہمارے دوسَوستّر مبلغوں کے مقابلہ میں اُن کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ مبلّغہیں۔ اِس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے ایک مبلّغکے مقابلہ میں اُن کے تین چار سَو مبلّغکام کر رہے ہیں۔ پس بظاہر دنیوی نقطہ نگاہ سے ان کا مقابلہ نہیں ہو سکتا …صحابہؓ کے زمانہ میں دو دو ہزار گنا لشکر کا بھی مسلمانوں نے مقابلہ کیا ہے مگر یہ مقابلہ اُس سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ
ہماری جماعت بہت قلیل ہے اور ساری دنیا میں ہم نے اسلام پھیلانا ہے۔ پس یہ کمی اِس طرح پوری ہو سکتی ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد دعاؤں میں لگا رہے اور ہر شخص اس بات کا عہد کرے کہ وہ دین کے لیے کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گا اور اسلام کی اشاعت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دے گا۔ میں نے اِس غرض کے لیے جماعت میں وقفِ جدید کی تحریک کی ہے
اور اِس وقت تک جو اطلاع آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین سَو چوالیس دوست اپنے آپ کو وقف کر چکے ہیں جن میں سے تیرہ معلّم پہلے بھیجے جا چکے ہیں اور سترہ اَور واقفین کو قابلِ انتخاب قرار دیا جا چکا ہے جن کے متعلق مقامی جماعتوں سے رپورٹ لی جا رہی ہے اور دفتر والوں نے مجھے لکھا ہے کہ ان کی رپورٹیں آنے کے بعد ان سترہ واقفین کے نام منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
میں دیکھتا ہوں کہ باوجود اِس کے کہ ابھی اس کام کو شروع کیے چند دن ہی ہوئے ہیں جو وفد بھجوائے گئے ہیں اُن کے کام کے خوشکن نتائج نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔ابھی تک ان مراکز کو قائم ہوئے صرف چند دن ہوئے ہیں اور یہ اتنا تھوڑا عرصہ ہے جس میں کوئی نمایاں نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اصل نتیجہ اُس وقت معلوم ہو گا جب چھ سات مہینے گزر جائیں گے۔ پس وہ لوگ تو اپنا کام کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اُن کی مدد کے لیے کیا کر رہے ہیں …
مولانا عبدالماجد صاحب دریابادی نے ایک دفعہ اپنے اخبار میں لکھا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد جماعت احمدیہ پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے اور اِس کا ثبوت یہ ہے کہ جتنا بجٹ ان کا اب ہوتا ہے اتنا بجٹ ان کا پہلے کبھی نہیں ہوااور یہ بالکل درست ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے وقت جماعت کا سارا بجٹ تیس پینتیس ہزار کا تھا مگر اب صرف صدرانجمن احمدیہ کا ہی پچھلے سال تیرہ لاکھ کا بجٹ تھا اور اگر اس کے ساتھ تحریک جدید کو بھی شامل کر لیا جائے تو ہمارا بجٹ پچیس چھبیس لاکھ تک پہنچ جاتا ہے۔ اِس کو دیکھ کر مخالف بھی متأثر ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ جماعت پہلے سے ترقی کر رہی ہے اور جب’’وقف جدید‘‘مضبوط ہو گیا جس کی وجہ سے لازماً چندے بھی بڑھیں گے اور آدمی بھی بڑھیں گے تو ممکن ہے اگلے سال تینوں انجمنوں کا بجٹ چالیس پچاس لاکھ تک پہنچ جائے۔ پس
ان قربانیوں کی طرف جماعت کے ہر فرد کو توجہ کرنی چاہیے اور ہر آدمی کو یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد جلدی آئے۔
بیشک جہاں تک اﷲ تعالیٰ کے وعدوں کا سوال ہے ہمیں یقین ہے کہ اُس کی نصرت ہمارے شاملِ حال ہو گی اور اﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے گا۔ لیکن اگر اس مدد کے آنے میں کچھ دیر ہو جائے تو مومن کا قلب اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب مومن کہہ اُٹھتے ہیں کہ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ(البقرۃ : ۲۱۵) یعنی انتظار کرتے کرتے ہماری آنکھیں تھک گئیں۔ اب اﷲ کی مدد کب آئے گی؟ فرماتا ہے اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ (البقرۃ: ۲۱۵) اﷲ کی نصرت آنے ہی والی ہے۔ گھبراؤ نہیں۔ تم گھبرا جاتے ہو اور سمجھتے ہو کہ نامعلوم اس کی مدد کب آئے گی حالانکہ وہ تمہارے بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ ان آیتوں کے نزول کے ایک دوسال بعد ہی مکہ فتح ہو گیا اور سارے عرب پر اسلام غالب آ گیا۔
اب بھی ایسا ہی وقت ہے کہ ہر احمدی کے دل سے یہ آواز اُٹھنی چاہیے کہ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ اے خدا! تیری مدد کب آئے گی؟ ہم نے تیرے دین کی ترقی کے خواب اُس وقت دیکھنے شروع کیے تھے جب یہ صدی شروع ہوئی تھی اور اب تو یہ صدی بھی ختم ہونے والی ہے مگر ابھی تک ہماری امیدیں بَر نہیں آئیں اور کفر دنیا میں قائم ہے۔اے خدا! تُو اپنی مدد بھیج تا کہ ہم اپنی زندگیوں میں ہی وہ دن دیکھ لیں کہ اسلام دنیا پر غالب آ جائے اور عیسائی اور ہندو اور دوسرے تمام غیرمذاہب کے پیرو مغلوب ہو جائیں۔ اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں مسجدیں بن جائیں اور اَللّٰہُ اَکْبَرُاَللّٰہُ اَکْبَرُ کی آوازوں سے سارا یورپ اور امریکہ گونج اُٹھے۔
اگر آپ لوگوں کے دلوں سے اِس طرح آواز اُٹھے تو آپ کو یقین رکھنا چاہیے کہ آپ کے دل میں ایمان کی چنگاری پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن اگر یہ آواز نہ اُٹھے تو آپ سمجھ لیں کہ آپ لوگوں نے اپنے متعلق بِلاوجہ نیک ظنی کی۔ آپ سمجھتے رہے کہ ہم مومن ہیں حالانکہ مومن نہیں تھے۔ اسلام تو بہت بڑی چیز ہے۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن کی علامت یہ ہے کہ اگر اُس کے کسی بھائی کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اُسے بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہے جیسے وہ تکلیف خود اسے پہنچی ہے۔(مسلم کتاب البِرّ وَالصِّلۃ باب ترَاحم الْمُؤْمِنِیْنَ۔الخ) جب ایک مومن بھائی کی تکلیف کو بھی دوسرا شخص اپنی تکلیف سمجھتا ہے تو اگر اسلام اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، آپؐ پر غلاظت اُچھالی جاتی ہے اور تمہارے دل میں کوئی درد پیدا نہیں ہوتا تو یہ ایمان کی کمی کی علامت ہے۔ بیشک جس بات کی ہمیں طاقت حاصل نہیں اُس کے متعلق خداتعالیٰ ہم سے کوئی سوال نہیں کرے گا لیکن ہمارے دلی جذبات کے متعلق تو وہ ہم سے سوال کر سکتا ہے۔ وہ کہے گا کہ اگر تمہارے دلوں میں سچا ایمان ہوتا تو تم ان مخالفتوں کو دیکھ کر کیوں نہ میری طرف جھکتے اور مجھ سے دعائیں کرتے۔ اور چونکہ تم میری طرف نہیں جھکے اس لیے معلوم ہوا کہ جو تمہارا فرض تھا وہ تم نے ادا نہیں کیا۔
(الفضل۹؍مارچ۱۹۵۸ء)
٭…٭…٭




