متفرق مضامین

استقبال سالِ نو اور ایک احمدی کا کردار

’’ہم ہر سال کی مبارکباد ایک دوسرے کو دیتے ہیں لیکن ایک مومن کے لیے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب وہ اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہوں، اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہوں۔ ‘‘ (حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

دنیا میں بہت سی قومیں اور تہذیبیں ایسی ہیں جو سال کا آغاز اور اختتام اپنے رائج کیلنڈر کے مطابق کرتی ہیں ۔ تحقیق کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں ۴۰؍کیلنڈر رائج ہیں جنہیں مختلف اقوام استعمال کر رہی ہیں لیکن سب سے زیادہ رائج دو کیلنڈر ہیں پہلا قمری کیلنڈر ( قمری تقویم) جسے اسلامی کیلنڈر بھی کہا جاتا ہے جو محرم الحرام کے مہینے سے شروع ہوتا ہے جسے ہر مسلمان نیک اور پختہ عزائم کے ساتھ شروع کرتے ہیں اور دوسرا (گریگورین تقویم )شمسی کیلنڈر رائج ہے جسے کیتھولک پوپ گری گوری نے اکتوبر ۱۵۸۲ءمیں متعارف کروایا تھا ۔ اس کیلنڈر میں سورج کے گرد زمین کے چکر مکمل ہونے کی مدت کو ایک سال قرار دیا گیا ہے ۔ اِس کیلنڈر کے مطابق یکم جنوری سے نئے سال کا اغاز ہوتا ہے۔

مختلف ممالک اپنے اپنے انداز میں نئے سال کا جشن مناتے ہیں ۔ سب سے پہلے نیوزی لینڈ میں نئے دن کا آغاز ہوتا ہے جو شاندار اور دلکش انداز میں آتش بازی سے ہوتا ہے۔ امریکہ کے شہر نیویارک میں بال ڈراپ یعنی ایک بڑی بال گرا کر نئے سال کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ ریاست انڈیانا کے ونسینز علاقے میں لوگ اونچی جگہوں سے خربوزےگِرا کر نئے سال کا استقبال کرتے ہیں۔یونان اور تُرکی میں انار کو خوشحالی اور برکت کا ایک نشان تصور کیا جاتا ہے اس لیے نئے سال کی آمد پر گھروں کے باہر انار پھوڑے جاتے ہیں تاکہ آنے والے سال میں اُن کے گھروں میں خیرو برکت نازل ہو ۔ جاپان اور کوریا، میں نئے سال کی آمد پر گھنٹیاں بجانے کا رواج ہے۔ ڈنمارک میں پلیٹیں توڑ کر نئے سال کا جشن منایا جاتا ہے ۔برازیل میں نئے سال کے موقع پر دالیں کھانے کی روایت ہے۔ سپین میں رات ۱۲ بجے ۱۲ انگور کھا کر نئے سال کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ رومانیہ میں یہ روایت ہے کہ لوگ ریچھ کی کھال پہن کر ناچتے ہیں تاکہ آنے والے سال میں بدی کی قوتیں قریب نہ آئیں اور انہیں دُور بھگایا جا سکے۔جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں لوگ نئے سال پر اپنا پرانا فرنیچر گھر سے نکال دیتے ہیں ۔ تھائی لینڈ میں پانی پھینک کر نئے سال کا جشن منایا جاتا ہے ۔

بہت سے ممالک نئے سال کا آغاز گریگورین کیلنڈر کے مطابق ہی کرتے ہیں۔ ۳۱؍دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب کو کیا کچھ نہیں ہوتا ۔ ہر قصبہ ، ہر شہر ، ہر ملک اپنے اپنے رائج طریق کے مطابق نئے سال کا استقبال کرتا ہے۔ کہیں برقی جگمگاہٹ اور آتش بازیوں کے نظارے دکھائے جاتے ہیں اور کہیں شور شرابہ ، شراب کباب ، ناچ گانے کی محفلیں لگائی جاتی ہیں۔ گویا ہر طرح کے لہو ولعب کے ساتھ نئے سال کا استقبال ہو رہا ہوتا ہے۔

ہمارا خالق و مالک خدا ہمیں ان لہو و لعب یعنی غافل کردینے والی اور بے مقصد چیزوں سے اعراض کرنے کا حکم دیتا ہے ( الاعراف:۵۲) اور ایک مومن بندے کی نشانی بتاتا ہے کہ وہ لغویات سے دور رہتے ہیں۔(المومنون:۴) اور ہمارا پیارا خدا ہمیں سچائی کے ساتھ اپنے کاموں کا آغاز کرنے کی تلقین کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے : وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّاجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا۔ (بنی اسرائیل:۸۱) ترجمہ:اور تو کہہ اے میرے رب! مجھے اس طرح داخل کر کہ میرا داخل ہونا سچائی کے ساتھ ہو اور مجھے اس طرح نکال کہ میرا نکلنا سچائی کے ساتھ ہو اور اپنی جناب سے میرے لیے طاقتور مددگار عطا کر۔

سرور کائنات فخر موجودات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے مہینے اور سال میں داخل ہونے کی کیا ہی خوبصورت دعا سکھائی ہے ۔ چنانچہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بتاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نئے مہینہ یا سال میں داخل ہوتے تو یوں دعا مانگتے: اَللّٰهُمَّ ادْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيْمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَارٍ مِنَ الشَّيْطَانِ(معجم الصحابہ صفحہ ۱۵۳۹) ترجمہ:اے اللہ! اس (نئے سال؍مہینے) کو ہمارے لیے امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما، اور اپنی رضا مندی اور شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے غلام صادق ، امام آخرالزماں حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں اپنے ہر دن اور رات کو تقویٰ کے ساتھ بسر کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔اسی ضمن میں آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔‘‘(کشتی نوح صفحہ۱۲)

جماعت احمدیہ کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک امام موجود ہے جو ہر ایک عمل میں ہماری راہنمائی فرماتا ہے اور ہمارے ایمانوں کو کمزور نہیں پڑنے دیتا ۔ ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہمیں نئے سال کی مبارکبادوں کی اصل روح سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ہم ہر سال کی مبارکباد ایک دوسرے کو دیتے ہیں لیکن ایک مومن کے لیے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب وہ اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہوں، اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہوں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ اصل عید اور خوشی کا دن اور مبارک دن وہ ہوتا ہے جو انسان کی توبہ کا دن ہوتا ہے۔ اس کی مغفرت اور بخشش کا دن ہوتا ہے۔ جو انسان کو روحانی منازل کی طرف نشاندہی کروانے کا دن ہوتا ہے۔ جو دن ایک انسان کو روحانی ترقی کے راستوں کی طرف راہنمائی کر نے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لانے کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔ جو دن اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے عملی کوششوں کا دن ہوتا ہے۔ پس ہمارے سال اور دن اُس صورت میں ہمارے لئے مبارک بنیں گے جب ان مقاصد کے حصول کے لئے ہم خالص ہو کر، اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے، اس کے آگے جھکیں گے۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ‘‘

نیز فرمایا : ’’حقیقی مومن وہی ہے جو تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال بجالانے کی کوشش کرے۔ اس دعا کے ساتھ اپنے ہر دن اور ہر سال میں داخل ہو کہ اللہ تعالیٰ اُسے ہمیشہ تقویٰ پہ قائم رکھے اور دین و دنیا کی حسنات سے نوازتا رہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ یکم جنوری ۲۰۱۰ء)

حضرت خلیفۃالمسیح الربع ؒ اپنی زندگی کا ایک خوبصورت لمحہ سال نو کے حوالے سے بتاتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’مجھے وہ لمحہ بہت پیارا لگتا ہے جو ایک مرتبہ لندن میں New Year’s day کے موقع پر پیش آیا۔ یعنی اگلے روز نیا سال چڑھنے والا تھا اور عید کا سماں تھا۔ رات کے بارہ بجے سارے لوگ ٹریفالگر سکوائر (Trafalgar Square) میں اکٹھے ہو کر دنیا جہان کی بے حیائیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ جب رات کے بارہ بجتے ہیں تو پھر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی تہذیبی روک نہیں، کوئی مذہبی روک نہیں، ہر قسم کی آزادی ہے۔ اس وقت اتفاق سے وہ رات بوسٹن اسٹیشن پر آئی۔ مجھے خیال آیا جیسا کہ ہر احمدی کرتا ہے اس میں میرا کوئی خاص الگ مقام نہیں تھا۔ اکثر احمدی اللہ کے فضل سے ہر سال کا نیا دن اس طرح شروع کرتے ہیں کہ رات کے بارہ بجے عبادت کرتے ہیں۔ مجھے بھی موقع ملا۔ میں بھی وہاں کھڑا ہو گیا۔ اخبار کے کاغذ بچھائے اور دو نفل پڑھنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی شخص میرے پاس آکر کھڑا ہو گیا ہے اور پھر نماز میں نے ابھی ختم نہیں کی تھی کہ مجھے سسکیوں کی آواز آئی۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ ایک بوڑھا انگریز ہے جو بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا ہے۔ میں گھبرا گیا۔ میں نے کہا پتہ نہیں یہ سمجھا ہے میں پاگل ہو گیا ہوں اس لئے شاید بیچارہ میری ہمدردی میں رو رہا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں ہوا میری قوم کو کچھ ہو گیا ہے۔ ساری قوم اس وقت نئے سال کی خوشی میں بے حیائی میں مصروف ہے اور ایک آدمی ایسا ہے جو اپنے رب کو یاد کررہا ہے۔اس چیز نے اور اس موازنہ نے میرے دل پر اس قدر اثر کیا ہے کہ میں برداشت نہیں کرسکا۔ چنانچہ وہ بار بار کہتا تھا:

God bless you. God bless you. God bless you. God bless you

(خدا تمہیں برکت دے۔ خدا تمہیں برکت دے۔ خدا تمہیں برکت دے۔ خدا تمہیں برکت دے)‘‘ (خطبہ جمعہ ۲۰۔اگست ۱۹۸۲ء)

حضرت امیر المومنین خلیفۃالمسیح الخامس نصرہ اللہ نصراً عزیزا نے ۳۰؍دسمبر۲۰۱۶ء کے خطبہ جمعہ میں ہمیں پورے سال کا اپنا محاسبہ کرنے کا ارشاد فرمایا اور ہمارے سامنے شرائط بیعت کی روشنی میں ۳۶؍سوالات رکھے جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم نے اس سال کیا کھویا اور کیا پایا اور آئندہ سال کو کس لائحہ عمل کے ساتھ گزار سکتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ایک مومن کی شان تو یہ ہے کہ نہ صرف ان لغویات سے بچے اور بیزاری کا اظہار کرے بلکہ اپنا جائزہ لے اور غور کرے کہ اس کی زندگی میں ایک سال آیا اور گزر گیا۔ اس میں وہ ہمیں کیا دے کر گیا اور کیا لے کر گیا۔ ہم نے اس سال میں کیا کھویا اور کیا پایا۔

نیز فرمایا: ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور مہدی معہود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جنہوں نے ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیم کا نچوڑ یا خلاصہ نکال کر رکھ دیا اور ہمیں کہا کہ تم اس معیار کو سامنے رکھو تو تمہیں پتا چلے گا کہ تم نے اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کیا ہے یا پورا کرنے کی کوشش کی ہے یا نہیں؟ اس معیار کو سامنے رکھو گے تو صحیح مومن بن سکتے ہو۔ یہ شرائط ہیں ان پہ چلو گے تو صحیح طور پر اپنے ایمان کو پرکھ سکتے ہو۔ ہر احمدی سے آپ نے عہد بیعت لیا اور اس عہد بیعت میں شرائط بیعت ہمارے سامنے رکھ کر لائحہ عمل ہمیں دے دیا جس پر عمل اور اس عمل کا ہر روز ہر ہفتے ہر مہینے اور ہر سال ایک جائزہ لینے کی ہر احمدی سے امید اور توقع بھی کی ۔

آپ مزید فرماتے ہیں: پس ہم سال کی آخری رات اور نئے سال کا آغاز اگر جائزے اور دعا سے کریں گے تو اپنی عاقبت سنوارنے والے ہوں گے اور اگر ہم بھی ظاہری مبارکبادوں اور دنیاداری کی باتوں سے نئے سال کا آغاز کریں گے تو ہم نے کھویا تو بہت کچھ اور پایا کچھ نہیں یا بہت تھوڑا پایا۔ اگر کمزوریاں رہ گئی ہیں اور ہمارا جائزہ ہمیں تسلی نہیں دلا رہا تو ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہمارا آنے والا سال گزشتہ سال کی طرح روحانی کمزوری دکھانے والا سال نہ ہو۔ بلکہ ہمارا ہر قدم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اٹھنے والا قدم ہو۔ ہمارا ہر دن اُسوہ رسولﷺ پر چلنے والا دن ہو۔ ہمارے دن اور رات حضرت مسیح موعود ؑسے عہد بیعت نبھانے کی طرف لے جانے والے ہوں۔ وہ عہد جو ہم سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے شرک نہ کرنے کے عہد کو پورا کیا؟

کیا ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارے صدقات، ہماری مالی قربانیاں، ہماری خدمت خلق کے کام، ہمارا جماعت کے کاموں کے لئے وقت دینا خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے غیر اللہ کو خوش کرنے یا دنیا دکھاوے کے لئے تو نہیں تھا؟ ہمارے دل کی چھپی ہوئی خواہشات اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر کھڑی تو نہیں ہو گئی تھیں ؟ کیا ہمارا سال جھوٹ سے مکمل طور پر پاک ہو کر اور کامل سچائی پر قائم رہتے ہوئے گزرا ہے؟کیا ہم نے اپنے آپ کو ایسی تقریبوں سے دور رکھا ہے جن سے گندے خیالات دل میں پیدا ہو سکتے ہیں؟ یعنی آجکل اس زمانے میں ٹی وی ہے، انٹرنیٹ ہے یا اس قسم کی چیزیں اور ان پر ایسے پروگرام جو خیالات کے گندا ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان سب سے بچایا اپنے آپ کو ؟ کیا ہم نے بد نظری سے اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ؟ اور کر رہے ہیں؟کیا ہم نے فسق و فجور کی ہر بات سے اس سال میں بچنے کی کوشش کی ہے؟ کیا ہم نے اپنے آپ کو ہر ظلم سے بچا کر رکھا ہے؟ یعنی ظلم کرنے سے بچا کے رکھا ہے؟ کیا ہم نے اپنے آپ کو ہر قسم کی خیانت سے پاک رکھا ہے ؟ کیا ہم نے ہر قسم کے فساد سے بچنے کی کوشش کی ہے؟ کیا ہر قسم کے باغیانہ رویہ سے پر ہیز کرنے والے ہم ہیں ؟ کیا ہم نفسانی جوشوں سے مغلوب تو نہیں ہو جاتے؟ کیا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی با قاعدہ کوشش کرتے رہے ہیں؟ یا کرتے ہیں؟ کیا ہم باقاعدگی سے استغفار کرتے رہے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے کی طرف ہماری توجہ رہی؟ کیا ہم اپنوں اور غیروں سب کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچانے سے گریز کرتے رہے ہیں؟ کیا ہمارے ہاتھ اور ہماری زبانیں دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچی رہی ہیں؟ کیا ہم عفو و در گزر سے کام لیتے رہے ہیں؟ کیا عاجزی اور انکساری ہمارا امتیاز رہا ہے؟ کیا خوشی غمی تنگی اور آسائش ہر حالت میں ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا کا تعلق رکھتے رہے ہیں؟کبھی کوئی شکوہ تو نہیں پیدا ہوا اللہ تعالیٰ سے کہ میری دعائیں کیوں نہیں قبول کی گئیں یا مجھے اس تکلیف میں کیوں مبتلا کیا گیا ہے ؟ کیا ہر قسم کی رسوم اور ہوا و حوس کی باتوں سے ہم نے پوری طرح بچنے کی کوشش کی ہے؟ کیا قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے احکامات اورارشادات کو ہم مکمل طور پر اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟ کیا تکبر اور نخوت کو ہم نے مکمل طور چھوڑا ہے یا اس کے چھوڑنے کے لئے کوشش کی ہے؟ کیا ہم نے خوش خلقی کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کی ہے؟ کیا ہم نے حلیمی اور مسکینی کو اپنانے کی کوشش کی ہے؟ کیا ہر دن ہمارے اندر دین میں بڑھنے اور اس کی عزت اور عظمت قائم کرنے والا بنتا ہے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد جو ہم اکثر دہراتے ہیں صرف کھو کھلا عہد تو نہیں ؟ کیا اسلام کی محبت میں ہم نے اس حد تک بڑھنے کی کوشش کی ہے کہ اپنے مال پر اس کو فوقیت دی اپنی عزت پر اس کو فوقیت دی اور اپنی اولاد سے زیادہ اسے عزیز اور پیارا سمجھا؟ کیا اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والے ہیں یا کرتے رہے ہیں؟ اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ مخلوق خدا کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟ کیا یہ دعا کرتے رہے اور اپنے بچوں کو بھی نصیحت کرتے رہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی اطاعت کے معیار ہمیشہ ہم میں قائم رہیں ہمیشہ آپ کی اطاعت کرتے رہیں اعلیٰ معیاروں کے ساتھ اور اس میں بڑھتے بھی رہیں ؟ کیا تعلق اخوّت اور اطاعت اس حد تک بڑھایا ہم نے حضرت مسیح موعودؑ سے کہ باقی تمام دنیا کہ رشتے اس کے سامنے ہیچ ہو جائیں معمولی سمجھے جانے لگیں ؟ کیا خلافت احمدیہ سے وفا کے تعلق میں قائم رہنے اور بڑھنے کی ہم دعا کرتے رہے سال کے دوران؟ کیا اپنے بچوں کو خلافت احمدیہ سے وابستہ رہنے اور وفا کا تعلق رکھنے کی طرف توجہ دلاتے رہے اور اس کے لئے دعا کرتے رہے کہ ان میں یہ توجہ پیدا ہو ؟کیا خلیفہ وقت اور جماعت کے لئے باقاعدگی سے دعا کرتے رہے؟

اگر تو اکثر سوالوں کے مثبت جواب کے ساتھ یہ سال گزرا ہے تو کچھ کمزوریاں رہنے کے باوجود ہم نے بہت کچھ پایا اگر زیادہ جواب نفی میں ہیں جو سوال میں نے اٹھائے ہیں تو پھر قابل فکر بات ہے۔ (خطبہ جمعہ ۳۰؍دسمبر ۲۰۱۶ء)

سال نو پر ایک احمدی کا کام ہے کہ وہ دن کا آغاز نمازتہجد سے کرے ، پنجوقتہ نماز باجماعت ادا کرے، تلاوت قرآن کریم کرے ، صدقہ و خیرات دے ، حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو دعائیہ خط لکھے ، حضور کے بیان فرمودہ سوالات سے اپنا محاسبہ کرے ، نیکی اور تقویٰ کے ساتھ اپنے سب امور انجام دے ۔ اور پورے سال کے ہر دن کو اس سے بھی بہتر سے بہترین گزارنے کی کوشش کرتا چلاجائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

(ایم۔اے۔ منور)

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ اوردو طرفہ زیارت کے ایمان افروز نظارے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button