خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۳؍ستمبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: جنگِ اَحزاب کے حوالے سے گذشتہ خطبہ میں ذکر ہو رہا تھا کہ کس طرح خیبر کے یہودیوں کی عہد شکنی اور بغض کی وجہ سے کفار کا ایک لشکر تیار ہوا تا کہ مسلمانوں پر حملہ کر کے انہیں ختم کیا جا سکے۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احزاب کےموقع پرخندق کی کھدائی کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: جب خندق کھودنے کا فیصلہ ہو گیا تب رسول اللہﷺ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور آپﷺ کے ساتھ کئی مہاجرین اور انصار بھی تھے تو آپﷺ نے لشکر کے پڑاؤ کے لیے جگہ تلاش کی تو سب سے موزوں جگہ یہ نظر آئی کہ آپ سَلَع پہاڑ کو اپنی پشت کی طرف رکھیں اور مَذَاذْ سے ذُبَابْ اور رَاتِجْ تک خندق کھودی جائے۔ مَذَاذْ جو ہے یہ مدینہ میں کوہ سَلع کے قریب ایک مقام تھا اور ذُبَابْ مدینہ کے قریب ایک پہاڑ کا نام تھا۔ رَاتِجْ مدینہ کے قلعوں میں سے ایک قلعہ تھا۔ یہ یہود کا قلعہ تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ذُبَابْ کے مشرق میں واقع ایک چھوٹا پہاڑ تھا۔ تو اس دن خندق کا کام شروع ہوا اور مسلمانوں نے بنوقریظہ سے کھدائی کے بہت سے آلات، کدالیں، بڑے کلہاڑے، بیلچے وغیرہ مستعار لیے اور رسول اللہﷺ نے خندق کی ہر جانب کی کھدائی ایک قوم کے سپرد کر دی۔ آپؐ نے صحابہ کو دس دس کی ٹولیوں میں تقسیم فرمایا اور ہردس افراد کے لیے قریباً چالیس گز کا ٹکڑا مقرر کیا۔ رسول اللہﷺ نے خود بھی کھدائی میں حصہ لیا اور مٹی اپنی پیٹھ پر اٹھائی یہاں تک کہ آپﷺ کی پشت اور پیٹ غبار آلود ہو جاتے۔ جو مسلمان اپنے حصہ سے فارغ ہو جاتے وہ دوسرے کی مدد کے لیے پہنچ جاتے یہاں تک کہ خندق مکمل ہو گئی۔ یہ نہیں کہ ایک کا کام مکمل ہو گیا تو بیٹھ گئے بلکہ اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے پہنچ جاتے تھے۔ خندق کھودنے میں کوئی مسلمان پیچھے نہیں رہا اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو جب ٹوکریاں نہ ملتیں تو جلدی میں اپنے کپڑوں میں مٹی منتقل کرتے تھے، جو چادر ہوتی تھی اس میں مٹی ڈال کے لے جاتے تھے۔

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احزاب میں خندق کی کھدائی کی بابت حضرت مرزابشیراحمدصاحبؓ کاکیاموقف بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: اس کی تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی بیان فرمائی ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’اتنے بڑے لشکر کی نقل وحرکت کا مخفی رکھنا کفّار کے لیے مشکل تھا اور پھر آنحضرتﷺ کا جاسوسی کا انتظام بھی نہایت پختہ تھا۔ چنانچہ ابھی قریش کا لشکر مکہ سے نکلا ہی تھا کہ آنحضرتﷺ کو ان کی خبر پہنچ گئی۔ جس پر آپؐ نے صحابہ کو جمع کر کے اس کے متعلق مشورہ فرمایا۔ اس مشورہ میں ایران کے ایک مخلص صحابی سلمان فارسیؓ بھی شریک تھے … چونکہ سلمان فارسی عجمی طریقِ جنگ سے واقف تھے۔‘‘یعنی جو غیر عربوں کا طریقِ جنگ تھا اس سے واقف تھے۔ ’’انہوں نے یہ مشورہ پیش کیا کہ مدینہ کے غیرمحفوظ حصہ کے سامنے ایک لمبی اور گہری خندق کھود کر اپنے آپ کو محفوظ کر لیا جاوے۔ خندق کا خیال عربوں کے لیے بالکل نیا تھا۔ لیکن یہ معلوم کرکے کہ یہ طریقِ جنگ دیارِ عجم میں عام طور پر کامیابی کے ساتھ رائج ہے آنحضرتﷺ نے اس تجویز کو منظور فرمایا۔ اور چونکہ مدینہ کا شہر تین طرف سے ایک حد تک محفوظ تھا یعنی مکانات کی مسلسل دیواروں اورگھنے درختوں اور چٹانوں کے سلسلے کی وجہ سے یہ اطراف لشکرِ کفار کے اچانک حملہ سے محفوظ تھیں اور صرف شامی طرف ایسی تھی جہاں دشمن ہجوم کر کے مدینہ پر حملہ آور ہو سکتا تھا اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غیر محفوظ طرف میں خندق کے کھودے جانے کا حکم دیا اور آپؐ نے خود اپنی نگرانی میں موقعہ پر نشان لگا کر تقسیمِ کار کے اصول کے ماتحت خندق کو دس دس ہاتھ یعنی پندرہ پندرہ فٹ کے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہر ٹکڑہ دس دس صحابیوں کے سپرد فرما دیا۔ ان پارٹیوں کی تقسیم میں یہ خوشگوار اختلاف رونما ہوا کہ سلمان فارسی کس گروہ میں شمار ہوں۔‘‘ہر گروہ چاہتا تھا کہ سلمان فارسی اس میں شامل ہوں۔ ’’آیا وہ مہاجر سمجھے جائیں یابوجہ اس کے کہ وہ اسلام کی آمد سے پہلے ہی مدینہ میں آئے ہوئے تھے انصار میں شمار ہوں۔ بوجہ اس کے کہ سلمان اس طریق جنگ کے محرک تھے اور ویسے بھی ایک مستعد اور باوجود بوڑھے ہونے کے مضبوط آدمی تھے ہر فرقہ ان کو اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا۔ آخر یہ اختلاف آنحضرتﷺ کی خدمت میں پیش ہوا اور آپؐ نے فریقین کے دعاوی سن کر۔‘‘ دونوں نے، ہر ایک نے جو دعویٰ کیا تھا آپؐ نے سنا اور پھر ’’مسکراتے ہوئے فرمایا کہ سلمان دونوں میں سے نہیں ہے۔‘‘ نہ وہ مہاجروں میں سے ہے نہ انصار میں سے۔ ’’بلکہ سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیتِ‘‘یعنی سلمان میرے اہل بیت میں شمار کیے جائیں۔’’اس وقت سے سلمان کویہ شرف حاصل ہو گیا کہ وہ گویا آنحضرتﷺ کے گھر کے آدمی سمجھے جانے لگے۔الغرض خندق کی تجویز پختہ ہونے کے بعد صحابہ ؓکی جماعت مزدوروں کے لباس میں ملبوس ہو کر میدانِ کارزار میں نکل آئی۔ کھدائی کاکام کوئی آسان کام نہیں تھا‘‘بڑا مشکل کام تھا ’’اور پھر یہ موسم بھی سردی کا تھا جس کی وجہ سے ان ایام میں صحابہؓ نے سخت تکالیف اٹھائیں اور چونکہ دوسرے کاروبار بالکل بند ہو گئے تھے اس لیے وہ لوگ جن کا کام روز کی روٹی روز کمانا تھا اور صحابہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی۔‘‘ روز کا روز کام کرتے تھے اور ان کو کھانے کے لیے پیسے ملتے تھے۔ ’’ان کو تو ان دنوں میں بھوک اورفاقہ کشی کی مصیبت بھی برداشت کرنی پڑی اور چونکہ صحابہ کے پاس نوکر اور غلام بھی نہ تھے اس لیے سب صحابہ کو خود اپنے ہاتھ سے کام کرنا پڑتا تھا۔ جو دس دس کی ٹولیاں مقرر ہوئی تھیں انہوں نے اپنے کام کی اندرونی تقسیم اس طرح کی تھی کہ کچھ آدمی کھدائی کرتے تھے اور کچھ کھدی ہوئی مٹی اور پتھروں کو ٹوکریوں میں بھر بھر کر اپنے کندھوں پر لاد کر باہر پھینکتے جاتے تھے۔ آنحضرتﷺ بھی بیشتر حصہ اپنے وقت کا خندق کے پاس گزارتے تھے اور بسا اوقات خود بھی صحابہ کے ساتھ مل کر کھدائی اور مٹی کی ڈھلائی کا کام کرتے تھے۔‘‘

سوال نمبر۴:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خندق کی کھدائی میں آنحضرتﷺکے شامل ہونےکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت بَرَاء بن عَازِبؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ خندق کے دن میں نے رسول اللہﷺ کو مٹی اٹھاتے دیکھا یہاں تک کہ آپﷺ کے شکم مبارک کی سفیدی مٹی میں چھپ گئی۔ میں نے آپﷺ کو ابن رَوَاحَہ کے یہ شعر پڑھتے سنا۔ ؎

وَاللّٰهِ لَوْ لَا مَا اهْتَدَیْنَا

وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا

فَأَنْزِلَنْ سَكِیْنَةً عَلَیْنَا

وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقِیْنَا

وَالْمُشْرِكُوْنَ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا

إذَا أَرَادُوْا فِتْنَةً أَبَینَا

یعنی ہمارے مولیٰ! اگر تیرا فضل نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی اور ہم صدقہ و خیرات کرنے اور تیری عبادت کرنے کے قابل نہ بنتے۔ پس اے خدا! جب تُو نے ہمیں اس حد تک پہنچایا ہے تو اَب اس مصیبت کے وقت میں ہمارے دلوں کو سکینت عطا کر اور اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو ہمارے قدموں کو مضبوط رکھ۔ تُو جانتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے خلاف ظلم اور تعدی کے رنگ میں حملہ آور ہو رہے ہیں اور ان کی نیت ہمیں اپنے دین سے بے دین کرنا ہے مگر اے ہمارے خدا! تیرے فضل سے ہمارا یہ حال ہے کہ جب وہ ہمیں بے دین کرنے کے لیے کوئی تدبیر اختیار کرتے ہیں تو ہم ان کی تدبیر کو دور سے ہی ٹھکرا دیتے ہیں اور ان کے فتنہ میں پڑنے سے انکار کر تے ہیں اور اَبَینَا اَبَینَا پر آپؐ بلند آواز کرتے۔ ایک روایت میں ہے کہ شعر کے آخر پر آواز کو لمبا کرتے۔بہرحال خندق کی کھدائی ایک مشقت طلب کام تھا اور دیگر صحابہ کی طرح رسول اللہﷺ بھی خندق کی کھدائی میں ساتھ ساتھ تھے۔ کبھی کدال چلاتے اور کبھی بیلچے سے مٹی جمع کرتے اور کبھی ٹوکری میں مٹی اٹھاتے۔ ایک دن آپﷺ کو بہت زیادہ تھکاوٹ ہو گئی تو آپﷺ بیٹھ گئے۔ پھر آپؐ نے اپنے بائیں پہلو پر پتھر کا سہارا لیا اور آپﷺ کو نیند آ گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺ کے سرہانے کھڑے ہو کر لوگوں کو آپﷺ کے پاس سے گزرنے سے روکتے رہے کہ کہیں وہ آپﷺ کو جگا نہ دیں۔ جب کچھ دیر بعد آپﷺ بیدار ہوئے تو جلدی سے اٹھے اور فرمایا۔ تم نے مجھے بیدار کیوں نہیں کیا؟ مَیں سویا ہوا تھا مجھے جگایا کیوں نہیں؟ اور پھر آپؐ بڑا کلہاڑا اٹھا کر زمین پر مارنے لگے یعنی کام شروع کر دیا۔ آنحضرتﷺ کی شرکت اور آپﷺ کی دعاؤں کی برکت سے صحابہؓ  تو گویا اپنے غم اور محنت کی کُلفت کو بھول ہی جاتے تھے اور جہاں ایک طرف پاکیزہ شعر خوانی ہوتی تو دوسری طرف ہلکا پھلکا مزاح بھی جاری رہتا۔

سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جنگ احزاب میں خندق کےمحل وقوع کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: خندق کی تکمیل کتنی مدت میں ہوئی؟اس کے متعلق روایات ہیں۔ چھ دن، دس دن، پندرہ دن، بیس دن اور ایک مہینہ۔ یہ مدت بیان کی جاتی ہے۔ پندرہ دن اور ایک ماہ کے متعلق زیادہ اتفاق کیا جاتا ہے۔ اس خندق کی لمبائی تقریباً چھ ہزار گز یا کوئی ساڑھے تین میل تھی، چوڑائی نو ہاتھ اور گہرائی سات ہاتھ۔ایک ہاتھ ڈیڑھ فٹ کا بیان کیا جاتا ہے اس طرح چوڑائی تیرہ چودہ فٹ اور گہرائی دس گیارہ فٹ بنتی ہے۔یہ طویل و عریض خندق صدیوں تک موجود رہی یہاں تک کہ وادی بَطْحَانْ کے پانی کے مسلسل بہاؤ اور کاٹ کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ معدوم ہوتی گئی۔ بَطْحَانْ جو ہے یہ بھی مدینہ کے تین مشہور وادیوں میں سے ایک وادی ہے۔ باقی دو وادیاں عقیق اور وادی قَنَاةہیں۔وہ خندق کچھ تو لوگوں نے بھر دی تھی تا کہ اس کے آر پار جانے کے لیے رستے بن جائیں اور باقی ماندہ وادی بطحان کے نالے کی بھل سے بھر گئی۔ بھل کہتے ہیں دریا سے بارشوں کا جو پانی آتا ہے اس کے ساتھ مٹی آتی ہے وہ جمع ہوتی رہتی ہے اس سے بھر گئی۔ چھٹی صدی ہجری کے مشہور مؤرخ مدینہ حافظ ابن نَجَّارْ لکھتا ہے کہ جہاں تک خندق کا تعلق ہے وہ آج بھی ہمارے دور میں موجود ہے۔ البتہ اس نے ایک نالے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس کی دیوار بہت ساری جگہوں سے منہدم ہو چکی ہے اور کھجورکے درختوں کی کثیر تعداد اس کے اندر اُگ چکی ہے۔ نویں صدی ہجری کے ایک مصنف لکھتے ہیں کہ آج اس خندق میں سے کچھ بھی نہیں بچا۔ چھ سو سال تک تو یہ قائم رہی۔ نویں صدی میں وہ کہتا ہے کوئی نشان نہیں سوائے اس کے کہ اس کا محل وقوع اس ندی سے معلوم پڑ جاتا ہے جو کہ وادی بَطْحَان کا حصہ ہے اور اس کی جگہ بہ رہی ہے۔ لکھا ہے کہ ہرچند کہ مدینہ میں یہ دن خوف و ہراس اور پریشانی کے تھے منافقین آنے بہانے بنا کر اپنے اپنے ڈیروں اور گھروں کی طرف جانا شروع ہو گئے تھے لیکن صحابہؓ کا عمومی جوش اور ولولہ قابلِ دید تھا۔ بچے اور عورتیں بھی ان کے شانہ بشانہ ان کی ہمت بندھانے اور ان کی معاونت کرنے میں پیش پیش تھیں۔ آنحضرتﷺ کی ازواجِ مطہرات بھی خطرے کی اس گھڑی میں عزم و ہمت کے ساتھ مردانہ وار نبی اکرمﷺ کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ خندق چونکہ مدینہ سے باہر کھودی جا رہی تھی اور آنحضرتﷺ اکثر و بیشتر یہیں رہتے تھے اور مدینہ کی عورتوں اور بچوں کو مدینہ میں بعض مضبوط قلعوں میں منتقل کر دیا گیا تھا اس لیے کبھی تو حضرت عائشہؓ آپﷺ کے پاس تشریف لے آتیں اور چند دن رہتیں۔ پھر حضرت ام سلمہؓ چند دن رہتیں۔ پھر حضرت زینبؓ چند دن رہتیں اور باقی تمام ازواجِ مطہرات بنو حارثہ کے مضبوط قلعہ میں تھیں اور بعض نے کہا کہ ازواجِ مطہرات بنو زُرَیق کے قلعہ نَسْر میں تھیں اور کہا گیا ہے کہ بعض ازواجِ مطہرات فَارِعْ میں تھیں۔ یہ مختلف روایتیں ہیں۔ فَارِعْ جو ہے یہ مدینہ میں حضرت حَسَّان بن ثَابِت ؓ کا قلعہ تھا۔

مزید پڑھیں: لغات القرآن (حصہ اول) (از حضرت محمد عبدالمحی عرب الحویزی صاحب رضی اللہ عنہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button