لغات القرآن (حصہ اول) (از حضرت محمد عبدالمحی عرب الحویزی صاحب رضی اللہ عنہ)
تعارف کتب صحابہ کرامؓ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام(قسط ۷۶)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تصنیف حقیقۃ الوحی میں سخت زلزلہ کی پیش گوئی مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء کے قبل از وقت سننے والے گواہوں کے ذکر میں مصنف کتاب ہذا کا بھی ذکر فرمایا اور لکھا کہ ’’ عبدالمحی عرب مصنف لغات القرآن‘‘(روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۹۱)
حضرت محمد عبدالمحی عرب صاحب کی اس تصنیف ’’لغات القرآن ‘‘کے متعلق ’’ مصالح العرب‘‘ کے مؤلف مکرم محمد طاہر ندیم صاحب اپنی ایک یادداشت لکھتے ہیں کہ ’’ استاذی المکرم والمحترم سید میر محمود احمد صاحب ناصر سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوہ نے ایک دفعہ بتایا کہ انہوں نے اس لغات القرآن کا وہ نسخہ بھی دیکھا ہے جو حضرت عبدالمحی عرب صاحب نے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنھا کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا تھا اور اس پر اپنے دستخط بھی کیے تھے۔‘‘(جلداول،صفحہ۵۱)
یہ مفید کتاب ’’لغات القرآن‘‘ علمی حلقوں میں بھی بہت پسند کی گئی، خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مصنف کتاب ہذا کی دیگر علمی کاوشوں کے ذکر کے بعد اس کتاب کے بارے میں فرمایا:’’صاحب موصوف نے جو عربی زبان رکھتے ہیں لغات القرآن ایک کتاب تالیف کی ہے، میری دانست میں وہ کتاب بھی مفید ہے، ہر ایک پر لازم ہے کہ قرآن شریف کے سمجھنے کے لیے خاص توجہ کرے کیونکہ دینی علوم کا یہی خزانہ ہے اور علم لغات القرآن ضروری ہے۔ ‘‘ (بدر ۸؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۹ کالم ۳)
لاہور کے مشہور ’’پیسہ اخبار‘‘ نے بھی اس کتاب پر اپنا ریویو لکھا تھا۔
جماعت احمدیہ کے شائع کردہ علمی خزانوں میں شامل یہ ایک نہایت اہم اور نادر کتاب حضرت محمد عبدالمحی عرب الحویزی صاحب کی مرتب کردہ ہے۔ اس کتاب کا حصہ اول ۵؍اپریل ۱۹۰۶ء (مطابق ۱۰؍صفر ۱۳۲۴ھ) کو مطبع ضیاءالاسلام پریس قادیان کے زیر انتظام، حضرت حافظ حکیم فضل الدین صاحب کے اہتمام سے شائع ہوا۔ اس پہلے ایڈیشن میں کتاب کے ۸۰۰؍نسخے طبع کیے گئے اور اس کی قیمت چار آنے مقرر کی گئی تھی۔
کتاب کا دوسرا حصہ ۲۰؍جنوری ۱۹۰۷ء کو شائع ہوا جو اسی تعداد (۸۰۰؍نسخے) میں تیار کیا گیا اور اس کی قیمت آٹھ آنے مقرر ہوئی۔ حصہ اول کا اختتام حرف صاد(ص) پر ہوتا ہے جبکہ حصہ دوم کا آغاز ضاد(ض) سے کیا گیا ہے۔ حصہ دوم کے صفحات کی تعداد ۶۰۸؍ہے۔
یہ کتاب اپنی خوبصورت کتابت، دیدہ زیب پیشکش اور فصیح و بلیغ اسلوب کی بدولت محققین و طلبہ کے لیے ایک قیمتی حوالہ ہے۔ اس میں قرآن کریم کے الفاظ کو ان کے اصلی مادوں کے اعتبار سے حروفِ تہجی کی ترتیب سے درج کیا گیا ہے۔
حصہ اول کے آخر میں ایک نوٹ میں مصنف نے اپنے محسن و مربی حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی اورکتاب کے مواد کے اردو مترجم حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحبؓ کا شکریہ ادا کیا ہے، جنہوں نے اس علمی کام کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحبؓ نے حصہ دوم کے پہلے ایڈیشن کی منظوم تاریخِ طبع بھی تحریر فرمائی، جس میں وہ لکھتے ہیں:
واہ! کیا خوب لکھی تم نے لغات القرآن
وہ بصد شوق خریدیں بعوض نقدِ جاں
سوچنے کے لیے تاریخ میں حاجت کیا ہے؟
کہہ دو، چھپوائی ہے کیا اچھی لغات القرآن
یہ شعری کلام علمِ اعداد (علمِ ابجد) کے اصولوں کے مطابق کہا گیا تھا، جو اُس زمانے میں سنجیدہ علمی کتب کی اشاعت پر تاریخ نکالنے کی ایک معروف روایت تھی۔
علاوہ مذکورہ بالا متن کے اس کتاب کے صفحہ ۶۰۱ سے قرآن کریم کے ان غیر روایتی مشکل الفاظ کی لغوی بحث و تشریح شروع ہوتی ہے۔ ان الفاظ کو، جنہیں مصنف نے عام عربی مادوں سے ہٹ کر خیال کیا اور بیان کیا ہے، مصنف نے تجویز دی ہے کہ قارئین ان الفاظ کو تو زبانی یاد کرنے کی کوشش کریں۔
صفحہ ۶۰۷ پر کتاب کے جزء الثانی کی اغلاط و تصحیحات پر مبنی فہرست ’’الخطا و الصواب‘‘دی گئی ہے، جو مصنف کی علمی احتیاط اور تحقیقی دیانت کی علامت ہے۔
مصنف نے کتاب کے آخر میں ’’ماخذ‘‘کے عنوان سے اپنی شب و روز کی محنت کا تذکرہ بھی نہایت دلنشین انداز میں کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح قادیان کے مہمان خانہ میں رات بھر جاگ کر علمی کتب کا مطالعہ کیا جاتا رہا اور مختلف ذرائع سے اہم کتب حاصل کرکے اس لغت کو مرتب کیا گیا۔
انہوں نے اس علمی کاوش میں تعاون کرنے والے اور ضروری کتب کی فراہمی یقینی بنانے والے بزرگوں کا نام لے کر شکریہ ادا کیا ہے، مثلاً: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام، حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ، حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ آف مالیر کوٹلہ، حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ اور حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ۔
یہاں بالخصوص حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ کا ذکر اس بات کا ثبوت ہے کہ ۱۹۰۶–۱۹۰۷ء تک یعنی محض نوجوانی میں قدم رکھنے کی عمر تک وہ ایک قیمتی اور منظم ذاتی کتب خانہ کے مالک بن چکے تھے جس سے سلسلہ کے بزرگان اور مصنفین بھی عند الضرورت استفادہ کیا کرتے تھے۔ الغرض یہ کتاب نہ صرف قرآن کریم کے معانی و مفاہیم کو سمجھنے میں معاون ہے، بلکہ جماعت احمدیہ کی علمی تاریخ کا ایک اہم جزو بھی ہے۔
خاکسار نے اس کتاب کا یہ تعارف اُس نسخہ کو دیکھ کر تیار کیا ہے جولندن کی برٹش لائبریری میں موجود ہے۔
مزید پڑھیں: رد قول فصیح ؍ تنویر النبراس علی من انکر تحذیر الناس از مولانا قاسم نانوتوی صاحب




