یادِ رفتگاں

مکرم میرمحمود احمد ناصر صاحب

(سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوہ)

استاد ایک باپ کی مانندہوتا ہے۔ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو خدا ترس اور ہمدرد اساتذہ ملیں کیونکہ وہ آپ کامستقبل سنوار دیتے ہیں اور آپ کی خوب اصلاح کر کے دنیا کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر دیتے ہیں۔ خاکسار بھی ان خوش بخت طلبہ میں سے ہے جن کو مکرم میر محمود احمد ناصر صاحب جیسے عظیم استاد اور پرنسپل ملے۔ آپ نیک بزرگ، اصول پسند، دیانت دار اور محنت کے دھنی تھے اور یہی خوبیاںوہ اپنے شاگردوں میں پیدا کرنے کی بھر پور سعی کرتے تھے۔ مجھ پراُن کے بے حد احسانات ہیں۔ میں نے ان سے وابستہ چند واقعات لکھےہیں جو قارئین کی خدمت میں نہایت ادب سے پیش ہیں۔ یہ واقعات ان کے اعلیٰ کردار پر روشنی ڈالتے ہیں۔

مختصر مگر گہری اور معنی خیز باتیں

خاکسار جب مربی بناتو ایک ڈائری لے کر سب اساتذہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نصائح لکھنے کی درخواست کی۔ جب آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نےصرف ایک فقرہ لکھا ’قل ربی اللّٰہ ثم استقم‘ جس کا مطلب ہے کہ ’کہہ دے کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس قول پر ثابت قدمی سے قائم رہ۔‘کیا خوب نصیحت تھی۔ بجائے اس کے کہ میدان عمل کے بارے میں لمبی چوڑی نصائح کرتے انتہائی مختصر بات کہی اور دریا کو کوزے میں بند کردیا۔

غیر حاضری کس قدر شدید جرم ہے؟

ایک روز آپ صبح کی اسمبلی میں تشریف لائے اور ہم سے کچھ اس طرح مخاطب ہوئے: بغیر عذر اور رخصت کےغیرحاضر ہونا بہت بری بات ہے ۔ قرآن مجید میں اس کی سزا ذبح ہونا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَی الۡہُدۡہُدَ ۫ۖ اَمۡ کَانَ مِنَ الۡغَآئِبِیۡنَ۔ لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیۡدًا اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّہٗۤ اَوۡ لَیَاۡتِیَنِّیۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ۔ (النمل: ۲۱ و ۲۲) اس نے کہا کہ مجھے کیا ہوا ہے کہ مىں ہُد ہُد کو نہىں دىکھ رہا۔ کىا وہ غىرحاضروں مىں سے ہے؟ مىں ضرور اسے سخت عذاب دوں گا ىا پھر اسے ضرور ذبح کردوں گا ىا وہ (اپنے دفاع مىں) مىرے پاس کوئى کھلى کھلى دلىل لے کر آئے۔

آپ کی اس مختصر اور معنی خیز تشریح نے ہمارے رونگٹے کھڑے کر دیے کیونکہ یہ سادہ مگر پُر مغز استدلال تھا جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

جل تو جلال تو آئی بلاٹال تو

آپ شگفتہ مزاج اور ہنس مکھ طبیعت کے مالک تھے۔شستہ مزاج تھے، شستہ مذاق کرتے اور اچھے مذاق سننے پر دل کھول کر ہنستے۔خاکسار جب مربی بن کر میدان عمل میں گیا توایک بار آپ سے ملنے کے لیے جامعہ حاضر ہوا۔آپ اپنے دفتر میں تھے۔میں بھی دفتر کے سامنے اجازت لینے کے چکر میں تھا تو میرے کانوں میں آپ کی یہ آواز ٹکرائی ۔’ جل تو جلال تو آئی بلاٹال تو، جل تو جلال تو آئی بلاٹال تو ‘۔ آپ ساتھ ساتھ مسکرا رہے تھے۔ خیر یہ’ بلا‘ اب ٹلائے بھی نہیں ٹل سکتی تھی کیونکہ وہ تو دروازے پر پہنچ چکی تھی۔پھر ایک مختصرسی ملا قات کے بعد ہی یہ ’بلا‘ ٹلی۔ میں بڑی خوشگوار یادوں کے ساتھ واپس آگیا۔ مکرم میر صاحب کے مزاج کی اس شگفتگی پر بہت محظوظ ہوا اور اب بھی کبھی کبھی چشمِ تصور میں ان فقرات کو یاد کر کے اُن لمحات سے بہت لطف اندوز ہوتا ہوں۔

فرض ،فرض ہے اورنفل، نفل

آپ نےجامعہ کاسار ا عرصہ یہی درس دیا کہ جامعہ کے کام فرض ہیں اور ذیلی تنظیموں کے کام نفل ہیں اور فرض کو چھوڑ کر نفل ادا کرنا کوئی مناسب بات نہیں۔ فرض کی ادائیگی کے بعدنفل کا دوسرا نمبر ہے۔جامعہ کے دوران خاکسار ناصر ہوسٹل میں منتظم اطفال تھا۔ ہم نے آل ربوہ نمائش کا پروگرام بنایا اور اس کے لیے لجنہ اماء اللہ مقامی کے تحت ناصرات سے بھی اشیاء منگوائیں۔ اس کے لیے جامعہ کے ہال کی منظوری بھی لے لی گئی۔ ان دنوں ہماری وقف ِعارضی ہو رہی تھی۔کام بہت تھا۔میری خواہش تھی کہ اپنی وقفِ عارضی کو دو یا تین دن پہلے ختم کرکے آجاؤں تاکہ انتظامات عمدگی کے ساتھ کرواسکوں۔ تاریخ طے ہو گئی تھی اور نمائش کے ٹکٹ بھی فروخت ہو رہے تھے۔ وقت بہت کم تھا اور کام بہت زیادہ تھا۔جامعہ میں تعطیلات کی وجہ سے پرنسپل صاحب گھر ہی میں مل سکتے تھے۔ گرمیوں کے دن تھے۔خاکسار گھر پر حاضر ہوا۔ میں نے بڑے ادب سے اپنی درخواست پیش کی جسے آپ نے بڑی سختی سے ردّ کر دیا۔ آپ کی گفتگو کا خلاصہ یہی تھا کہ جامعہ کی وقفِ عارضی فرض ہے اور باقی سب نفل۔ نفل کے باعث فرض کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔

سونف کا تحفہ

جامعہ کے دوران مجھے آنکھوں کی تکلیف ہوئی۔ نظرکمزورتھی اور آنکھیں بہت دکھتی تھیں۔ ڈاکٹرز کو چیک کروانے کے لیے راولپنڈی تک بھی بھجوایا۔ الغرض آپ نے میرے علاج کے سلسلہ میں ہر لحاظ سے بھر پور تعاون فرمایا۔ایک باربڑی محبت سے مجھے اپنے دفتربلایااورسونف سے بھرا ہوا ایک ڈبہ دیا۔فرمانے لگے کہ بیگم صاحبہ نے اسے اچھی طرح صاف کیا ہے۔ اسے کھاؤ۔یہ آنکھوں کے لیے بہت مفید چیز ہے۔

طالب علم کی اصلاح کی پوری کوشش کرنا

آپ کی کوشش ہوتی تھی کہ کوئی طالب علم ضائع نہ ہو اور وقف نبھائے۔ جامعہ کے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگتا ہے۔ ابتدائی سالوں میں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ آغاز میں طبیعت لا ابالی رہی۔میں اپنی ادھیڑ بن میں رہتا۔ بے حد سستی اور کمزوریاں رہیں ۔ کبھی جامعہ جانا ، کبھی نہ جانا اورکبھی دیر سے آنا۔آپ نے مجھے بہت سمجھایا اور ڈانٹا بھی۔

میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ میرا وقف میں استقلال بہت حدتک مکرم میر صاحب کی شفقت اور توجہ کا مرہون منت ہے۔ آپ نے انتہائی صبراور یقیناً دعائوں کے ساتھ میری ساری کوتاہیوں کو نظر انداز کیا، برداشت کیا اور پوری کوشش کی کہ کسی طرح میں ضائع نہ ہوں اور مربی ہی بنوں۔ الحمدللہ کہ آپ کی کوششیں رنگ لائیں اورآپ اس کوشش میں کامیاب ہوئے۔ یہ سب کچھ تبھی ممکن ہوا جب پرنسپل صاحب نے اپنےطلبہ کو اپنے بچوں کی طرح سمجھا اور باپ کی مانند بنے۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ احسن الجزاء

میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں اور فضلوں کی بارش فرمائے اور اپنے قرب و جوار میں جگہ عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کی خواہش کے مطابق زیادہ سے زیادہ خدمت دین کی توفیق دے۔آمین

مزید پڑھیں: جب گھانا لرز اٹھا!

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button