احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
براہین احمدیہ ایک ایسا شجرہ ٔ طیبہ تھا کہ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِکے مصداق جس نے اپنے ربّ کے اذن سے تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍ،اپنی اشاعت کے زمانے سے لے کر ہمیشہ ایمان وایقان افروز شیریں پھل عطا کیے
اب براہین احمدیہ کے غیر معمولی اثرات کے ضمن میں کچھ انفرادی مثالیں پیش کرتے ہوئے اس باب کوختم کیاجائے گا۔
براہین احمدیہ ایک ایسا شجرہ ٔ طیبہ تھا کہ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِکے مصداق جس نے اپنے ربّ کے اذن سے تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍ،اپنی اشاعت کے زمانے سے لے کر ہمیشہ ایمان وایقان افروز شیریں پھل عطا کیے ۔ایسے پھل کہ جس کی تحریروعبارت کی ایک ایک قاش نے ابدی زندگی کا وارث بنادیااور اس کے کھانے والوں کی اکثریت سجدات شکر بجالاتے ہوئے مسیح محمدی کے عشّاق کی صف میں آکھڑے ہوئے۔ اورجنہیں یہ سعادت تونہ حاصل ہوئی لیکن وہ بھی اس کے اثرات وبرکات کااظہارکیے بغیرنہ رہ سکے ۔ جس کاتذکرہ پہلے ہوچکا اب ان عشّاق میں سے چندایک کاذکرکیاجاتاہے۔
نواب ضیاءالدین احمد خان (لوہارو)
ابوالمعظم نواب سراج الدین احمد خان صاحب سائل بیان کرتے ہیں کہ ’’۱۸۸۲ء یا۱۸۸۳ء کا واقعہ ہے ان دنوں میری عمر۲۰ ،۲۱ برس کی ہوگی۔ میری بہن کی شادی ہونے والی تھی۔نواب صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ لدھیانہ جاؤ اور اپنے ماموں جان کو شادی کا بلاوا دے آؤ۔میں حسب الحکم وہاں گیا۔ ان دنوں براہین احمدیہ کا ہر جگہ چرچا تھا۔ایک مجلس میں اس کے متعلق جو گفتگو ہوئی تو مجھے اس کے متعلق شوق پیدا ہوا۔ میں نے بازا ر سے اس کی پہلی جلد منگوائی۔میں لدھیانہ میں دو ایک روز ہی ٹھہرا۔اور ا س اثناء میں مشکل سے چند صفحے پڑھ سکا۔مگر جتنا کچھ بھی میں نے پڑھا اس سے میرا اشتیاق اَور بھی بڑھ گیا۔میں نے ملازم سے کہاکہ جاؤ باقی تینوں جلدیں بھی بازار سے خرید لاؤ۔وہ خالی ہاتھ لوٹا اور کہنے لگا حضور کتاب نہیں ملی۔دوکاندار کہتا ہے کہ ختم ہوگئی ہے۔اس پر میں نے ماموں جان سے کہا کہ باقی تینوں جلدیں جس قدر جلد ممکن ہو لے کر مجھے دہلی بھجوادیں اور خود دہلی واپس چلا آیا۔ دہلی پہنچنے کے چند دن بعد کتاب کا پارسل آگیا۔نواب صاحب مرحوم کی ڈاک کا تھیلہ علیحدہ ہوتا تھا اور چونکہ کتاب میرے نام انہی کے پتہ سے آئی تھی۔اس لئے جب ان کے ملازم محمد حسین نے تھیلہ کھولا تو نواب صاحب کی نظرسب سے پہلے اس پارسل پر پڑی۔پوچھا یہ اتنا بڑا بنڈل کاہے کا ہے۔ محمدحسین نے عرض کی ۔حضور سراج میاں کے نام ہے۔کہا ذرا کھولو تو اسے یہ کیا ہے۔اس نے جب کھولا تو براہین احمدیہ کی تینوں جلدیں نکلیں۔حکم ہؤا۔سراج کو تو بلاؤ۔میں حاضر خدمت ہوا۔ پوچھا میاں یہ کتاب کیسی ہے۔میں نے سارا واقعہ بیان کیا۔تو فرمایا اچھا تو پہلی جلد دیکھ چکے ہو تم؟میں نے عرض کیا حضور ابھی کچھ حصہ باقی ہے۔حکم دیا ۔ یہ جلدیں تم اپنے کمرے میں اٹھا لے جاؤ۔اور وہ پہلا حصہ میرے پاس لے آؤ۔ ذرا میں بھی تو دیکھوں یہ کیا چیز ہے۔میں نے کتاب لاکر حاضر خدمت کردی۔اگلے دن پھر میری طلبی ہوئی فرمایا وہ باقی تینوں جلدیں بھی لے آؤ۔ میں یہ ساری کتاب دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے وہ بھی لاکر پیش کردیں۔ہفتہ بھر کے بعد ایک دن فرمایا۔سراج میں نے وہ کتاب ختم کردی ۔اگر پڑھنا چاہو تو اسے پڑھ لو۔مگر اس کے بعد اسے میری لائبریری میں رکھ دینا۔میں نے پوچھا حضور کیسی کتاب ہے؟ فرمایا نہایت اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کے مصنف کو یا تو لوگ پاگل کہیں گے یا اس سے اگلی صدی کا مجدد ہوگا۔
میں نے جناب سائل مدظلہٗ سےپوچھا۔پھر آپ نے براہین احمدیہ پڑھی۔ فرمایا ہاں بڑی معرکہ کی کتاب ہے میں نے پھر جرأت کی۔ اور کہا نواب صاحب مرحوم کا قول سچ نکلا۔آج حضرت مرزا صاحب کے مخالفوں کا ایک طبقہ انہیں پاگل کہتا ہے اور ان کے ماننے والوں میں سے ایک گروہ انہیں مجدد مانتا ہے۔ اور دوسرا نبی۔آپ کا کیا خیال ہے فرمایا میں انہیں مجدد تسلیم کرتا ہوں ۔‘‘(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان جلد ۲۵شمارہ ۵۲ مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۳۷ء صفحہ ۴)
حاجی ولی اللہ صاحب کپور تھلہ
آپ کپورتھلہ میں سیشن جج تھے۔ ایک دفعہ جب آپ رخصت پر اپنے وطن سراوہ ضلع میرٹھ گئے تو براہین احمدیہ اس وقت آپ کے ساتھ تھی۔ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلویؓ سے آپ براہین احمدیہ سنا کرتے تھے۔ منشی صاحب کو براہین احمدیہ سنتے وقت حضرت صاحب سے عقیدت ہو گئی اور کہا کرتے تھے کہ یہ مصنف (حضرت صاحب) بےبدل منشی ہیں۔ آپ نے کپورتھلہ میں براہین احمدیہ کا باقاعدہ درس شروع کر دیا جو دنیا بھر میں براہین احمدیہ کا پہلا درس قراردیاجاسکتاہے۔
[نوٹ: براہین احمدیہ کی چوتھی جلد کی اشاعت کےبعد تاخیرکی وجہ سے لوگوں کو شکوک و شبہات شروع ہوئے ان میں سے ایک حاجی ولی اللہ صاحب بھی تھے۔ انہوں نے حضرت اقدس ؑکو ایک سخت خط لکھا جس میں براہین احمدیہ کے التوائے اشاعت کی وجہ سے وعدہ شکن وغیرہ کے الزامات لگائے گئے۔ حضرت اقدسؑ نے ان تمام اعتراضات کا بہت ہی تفصیل سے جواب دیا ۔ لیکن محترم حاجی صاحب جوکہ اپنے حکومتی عہدہ اورامارت کے کسی نشہ میں تھے اپنے تعلقات کشیدہ کرلیے اور براہین احمدیہ کے اس چشمہ ٔصافی پراطلاع پانے کے باوجود اس آیت قرآنی کے مصداق خالی ہاتھ ہی دنیاسے رخصت ہوگئے کہ كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ(الرعد:۱۵)]حضرت مولوی حکیم مولانا نورالدین صاحب بھیرویؓ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپؓ کا ابتدائی غائبانہ تعارف اس وقت ہوا جب آپؓ جموں میں تھے۔ ضلع گورداسپور کے ایک باشندہ شیخ رکن الدین صاحب نے آپؓ کو بتایا کہ قادیان میں ایک شخص مرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کی حمایت میں رسالے لکھے ہیں۔ ان دنوں براہین احمدیہ شائع ہو رہی تھی۔ حضرت مولوی صاحب نے یہ سن کر حضورؑ کی خدمت میں خط لکھ کر کتابیں منگوائیں اور ان کے آنے پر جموں میں حضور کا چرچا شروع ہو گیا۔ (تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحہ ۱۰۰)
اسی دوران آپؓ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ پہلا اشتہار ملا جو حضورؑ نے اپنے دعویٰ ماموریت کے بعد نشان نمائی کی عالمگیر دعوت کے لیے ایشیا، امریکہ اور یورپ کے تمام مذہبی عمائدین اور مفکرین کو بھجوایا تھا تو آپؓ جموں سے قادیان پہنچے اور خدا کے اس برگزیدہ کو پہچان لیا۔ (الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۲۲ اپریل ۱۹۰۸ءصفحہ ۳)
آپؑ اپنی ایک عربی تحریر میں فرماتے ہیں: (ترجمہ) ’’مجھے ایک ایسے کامل مرد کے دیکھنے کا انتہائی شوق تھا جو یگانہ روزگار ہو اور میدان میں تائید دین اور مخالفین کا منہ بند کرنے کے لئے سینہ سپر ہو کر کھڑا ہونے والا ہو… مجھے نہایت طلب اور جستجو تھی اور میں صادقوں کی ندا کا منتظر تھا۔ اسی اثناء میں مجھے حضرت السید الاجل اور بہت ہی بڑے علامہ اس صدی کے مجدد مہدی الزمان مسیح دوران اور مؤلف براہین احمدیہ کی طرف سے خوشخبری ملی۔ میں ان کے پاس پہنچا تا حقیقت حال کا مشاہدہ کروں۔ میں نے فوراً بھانپ لیا کہ یہی موعود حکم و عدل ہے اور یہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تجدید دین کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ میں نے فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور لبیک کہا اور اس عظیم الشان احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا۔‘‘ (کرامات الصادقین صفحہ ’’ج‘‘، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۵۱)
حضرت صوفی احمد جان لدھیانوی
حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کو جب پہلی مرتبہ براہین احمدیہ کی زیارت نصیب ہوئی تو وہ اپنی دوربین نگاہ سے حضورؑ کا مقام اور عالی مرتبہ فوراً بھانپ گئے اور ہزار جان سے فریفتہ ہو کر پکار اٹھے
ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نگاہ
تم مسیحا بنو خدا کے لئے
حضرت صوفی صاحب نے ’’اشتہار واجب الاظہار‘‘ کے نام سے نہایت والہانہ الفاظ میں مفصل ریویو شائع کیا اور بڑے پُرشوکت انداز میں اپنے تاثرات سپرد قلم کئے۔ اگرچہ آپؓ سلسلہ بیعت سے قبل وفات پا گئے تھے مگر حضرت اقدسؑ نے آپؓ کا نام اپنے عقیدتمندوں کی فہرست مندرجہ ازالہ اوہام میں تحریر فرمایا۔
حضرت مولوی عبد اللہ سنوری صاحبؓ
حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحبؓ کو بچپن ہی سے اہل اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا شوق تھا۔ آ پؓ کے ماموں مولوی محمد یوسف صاحب نے آپؓ کو بتایا کہ قادیان میں ایک بزرگ نے دس ہزار روپیہ پر مشتمل انعام مقرر کر کے کتاب لکھنی شروع کی ہے اور کہا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بڑا کامل ہے۔ اس کی زیارت کے لئے چلا جا۔ حضرت مولوی صاحبؓ کو یہ ذکر سن کر ایسا ولولہ اٹھا کہ اسی جگہ سے سیدھا قادیان روانہ ہوگئے اور بٹالہ سے پیدل چل کر قادیان پہنچے اور بیت الفکر کے دروازے پر دستک دی۔ حضورؑ باہر تشریف لائے۔ حضورؑ کا چہرہ دیکھتے ہی دل میں بے حد محبت پیدا ہو گئی۔ فرماتے ہیں:’’اس وقت تک میں نے براہین احمدیہ یا اس کا اشتہار خود نہیں دیکھا یہاں آ کر بھی کوئی دلائل حضور علیہ السلام یا کسی اور سے نہیں سنے بلکہ میری ہدایت کا موجب صرف حضور کا چہرہ مبارک ہی ہوا۔‘‘
اس طرح حضرت مولوی صاحب کو براہین احمدیہ کی تالیف و اشاعت کے آغاز میں ہی حاضری کی سعادت نصیب ہوئی اور جلد چہارم کے طبع کے کام میں خدمت کا موقع بھی ملا اور بعد میں سرخی کے چھینٹوں والے معجزہ کے ساتھ آپ کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید ہو گیا۔ (حیات احمد جلد دوم صفحہ ۱۱۸تا ۱۲۰)
حضرت مولوی حسن علی صاحب ؓ بھاگلپوری
حضرت مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی ملاقات کے لیے ۱۸۸۷ء میں قادیان آئے۔ آ پؓ حضورؑ سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’غرض میں مرزا صاحب سے رخصت ہوا۔ چلتے وقت انہوں نے اس کمترین کو ’’براہین احمدیہ‘‘ اور ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ کی ایک ایک جلد عنایت کی۔ انہیں میں نے پڑھا۔ ان کے پڑھنے سے مجھ کو معلوم ہوا کہ جناب مرزا صاحب بہت بڑے رتبے کے مصنف ہیں۔ خاص کر ’’براہین احمدیہ‘‘ میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر دیکھ کر مجھ کو کمال درجہ کی حیرت مرزا صاحب کی ذہانت پر ہوئی۔‘‘(اصحاب احمد جلد ۱۴ صفحہ ۴۹ ایڈیشن اوّل جنوری ۱۹۷۱ء)
اس کے بعد حضورؑ سے دوسری ملاقات کے لیے آپؓ ۱۸۹۴ء میں قادیان آئے اور بیعت کر لی۔ (اصحاب احمد جلد ۱۴ صفحہ۱۱۸۔ ایڈیشن اوّل)(اصحاب احمد جلد ۴صفحہ۱۹، ۲۰)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعودؓ اور تربیت اولاد کے چند بنیادی اصول




