متفرق شعراء

خدا کا بس خیال ہو

خدا کرے کمال ہو
الگ نیا یہ سال ہو

نہ رنج و غم کی دھوپ ہو
نہ دکھ کا احتمال ہو

کھلیں ہوں پھول امن کے
نہ جنگ کا خیال ہو

نہ جسم کے ہوں چیتھڑے
نہ خون میں ابال ہو

ہلاکتیں نہ ہوں یونہی
نہ ان کا پھر وبال ہو

اٹھے جو میرا ہر قدم
خدا کا بس خیال ہو

لگائی جائیں قدغنیں
نہ سختیوں کا جال ہو

وہ رفعتیں نصیب ہوں
نہ جن کو پھر زوال ہو

لکھوں جو وصل یار میں
غزل وہ بے مثال ہو

(سید طاہر احمد زاہد)

مزید پڑھیں: دل پہ اک بوجھ ہے یارب اسے ہلکا کردے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button