نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۳۱؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکر مہ نور جہاں امینی صاحبہ اہلیہ مکرم احمد صادق امینی صاحب (بریڈ فورڈ۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرمہ نور جہاں امینی صاحبہ اہلیہ مکرم احمد صادق امینی صاحب (بریڈ فورڈ۔ یوکے)
29؍دسمبر 2025ء کو 90 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت سیٹھ نور محمد امینی صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو اور مکرم سید زمان شاہ صاحب کی بیٹی تھیں۔ شادی کے بعد گوجرانوالہ میں رہائش اختیار کی اور 1976 میں بریڈ فورڈ (یوکے) منتقل ہوگئیں۔ آپ نے اپناآخری وقت اپنی بیٹی کے پاس Aldershot میں گزارا۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، تہجدگزار، روزانہ باقاعدگی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ نے بچوں اور پورے خاندان کی بہترین تربیت کی۔ پسماندگان میں ایک بیٹا، 5بیٹیاں اور بہت سے پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں اور پڑپوتے پڑپوتیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم مبارز محمود امینی صاحب (مربی سلسلہ قضاء بورڈ یوکے) کی دادی اور مکرم مزمل ڈوگر صاحب (مربی سلسلہ ایم ٹی اے) اور مکرم مبارز ڈوگر صاحب (مربی سلسلہ وکالت مال یوکے) کی نانی تھیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم نور الٰہی بشیر صاحب ابن مکرم مولانا فضل الٰہی بشیر صاحب (مبلغ بلاد افریقہ و فلسطین واستاد جامعہ احمدیہ ربوہ)
8؍دسمبر2025ء کو 83سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم بڑے عبادت گزار، صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار،عاشق قرآن، خلافت سے گہری عقیدت رکھنے والے، بہت صاف گو، نفیس طبیعت کے مالک، ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے واقعات بڑے پیارے انداز میں بچوں کو سناتے تھے۔ خطبہ جمعہ باقاعدگی سے اور متعدد بار سنتے اور بچوں کو بھی باقاعدگی سے سننے کی تلقین کرتے۔ اپنے محکمہ میں بھی بہت ہر دلعزیز تھے۔ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد ربوہ منتقل ہوگئے تھے۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
۲۔مکرم عبدالرؤوف صاحب (سابق کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری۔ربوہ)
11؍دسمبر 2025ء کو 85 سال کی عمر میں بقضائےالٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ اور حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کے زیرسایہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں لمبا عرصہ خدمت بجالاتے رہے۔ قبل ازیں روزنامہ الفضل اور نظارت جائیداد کے دفاتر میں بھی خدمت کا موقعہ ملا۔ آپ کی خدمت کاعرصہ تقریباً 40 سال پر محیط ہے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، ساده مزاج، خوش اخلاق، ملنسار، منکسرالمزاج بڑے نیک اور مخلص انسان تھے۔ لازمی چندوں کے علاوہ مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ الفضل اخبار باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے۔ جب اخبار بندہو اتو پرانے اخبار پڑھنے شروع کر دیے۔ ایم ٹی اے دیکھنے کا بہت شوق تھا اور حضورانور کا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنتے تھے۔ آپ نے بچوں کی بہت اچھی تربیت کی۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم عطاء الرحمٰن مبشر صاحب …کے والد تھے۔ آپ کی بڑی بیٹی مکرمہ رقیہ احد صاحبہ 6 سال تک فرانس کی صدر لجنہ رہ چکی ہیں۔
۳۔مکرم رانا عبد المجید صاحب (جرمنی)
23؍ستمبر 2025ء کو 80 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم 2017ء میں جرمنی آئے اور جب تک صحت رہی لوکل سطح کے پروگراموں، سالانہ اجتماعات اور جلسہ سالانہ میں باقاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔ لازمی چندے بر وقت ادا کرتے اور دیگر مالی تحریکات میں بھی حصہ لیتے تھے۔ ربوہ میں اپنے محلہ میں سیکرٹری مال اور سیکرٹری ضیافت کے علاوہ زعیم انصار اللہ کے طورپر بھی خدمت کی توفیق پائی۔ آپ جماعتی خدمت کو ایک اعزاز سمجھتے تھے۔ بڑے مہمان نواز، مخلص اور باوفا انسان تھے۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
۴۔مکرم جلیس خان صاحب ابن مکرم ظفر احمد خان صاحب (کینیڈا)
13؍مئی 2025ء کو 25 سال کی عمر میں موٹر سائیکل کے حادثے میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، خوش اخلاق، ہمدرد، دوسروں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے والے، بڑے نیک، مخلص اور خلافت کے فدائی وجود تھے۔ جماعت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کی کوشش کرتے اور جب بھی آپ کوخدمت کے لیے بلایا جاتا فوراً حاضر ہو جاتے تھے۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بہن اور دو بھائی شامل ہیں۔
۵۔مکرم ناصر احمد بھٹی صاحب (آف ہمبرگ جرمنی)
5؍دسمبر 2025ء کو 56سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم عرصہ 30 سال سے ہمبرگ میں مقیم تھے اور گذشتہ 15 سال سے شدید بیمار ہونے کی وجہ سے نرسنگ ہوم میں تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم شفیق الرحمٰن صاحب (دفتر ایم ٹی اے کینیڈا سٹوڈیوز) کے ماموں تھے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔ آمین




