فلوسےبچاؤکی احتیاطی تدابیر
وَاِذَا مَرِضۡتُ فَہُوَ یَشۡفِیۡنِ(سورۃالشعراء:۸۱)اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو مجھے شفا دیتا ہے۔
جیسے ہی سردیوں کا موسم آتا ہے، دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہو جاتی ہیں، جبکہ سرد ہوائیں اپنے ساتھ نزلہ، زکام اور فلو بھی لے آتی ہیں۔ اس موسم میں لوگ زیادہ تر گھروں تک محدود ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے صحت کے مسائل بڑھنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر ہم تھوڑی سی احتیاط اور سمجھداری سے کام لیں تو ان بیماریوں سے خود کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ایک مشہور مقولہ ہےکہ بیماری سے بچاؤ علاج سے بہتر ہے۔ روزمرہ زندگی میں صحت مند عادتیں اپنانا نہ صرف ہمیں بیماری سے بچاتا ہے بلکہ ہمارے جسم کو مضبوط بھی بناتا ہے۔ مناسب نیند لینا، تازہ پھل اور سبزیاں کھانا اور متوازن غذا کا استعمال سردیوں میں جسم کی قوتِ مدافعت کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ورزش، چاہے وہ گھر کے اندر ہو یا باہر، جسم کو متحرک اور صحت مند رکھتی ہے۔
نزلہ اور فلو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ہاتھوں کو بار بار صابن اور گرم پانی سے دھونا، کھانستے وقت منہ ڈھانپنا اور استعمال شدہ ٹشو فوراً تلف کرنا نہایت سادہ مگر مؤثر طریقے ہیں۔ گھروں کی صفائی، خاص طور پر بچوں کے کھلونوں کی صفائی، بیماریوں کے جراثیم کو پھیلنے سے روکتی ہے۔
فلو کا ٹیکہ بھی لگوایا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ فلو سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ گھر پر رہ کر آرام کرے تاکہ بیماری دوسروں تک منتقل نہ ہو۔سردیوں میں ورزش کرنا مشکل لگ سکتا ہے، مگر ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی، جیسے چہل قدمی یا گھر میں ورزش، صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ متحرک رہنا نہ صرف جسم بلکہ ذہن کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نےپھلوں اورسبزیوں میں شفا رکھی ہےان کااستعمال بھی باقاعدگی سےکرناچاہیے،اب توغذا کے حوالے سے ماہرین بھی وٹامن سی سے بھرپور پھلوں جیسے کینو، مالٹا اور لیموں کو خاص طور پر اہم قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ جسم کی قوتِ مدافعت کو بڑھاتے ہیں اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرتے ہیں۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ وٹامن سی صرف سنگترے، لیموں اور گریپ فروٹ میں پایا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری روزمرہ استعمال کی بہت سی سبزیاں بھی وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہیں۔ شکر قندی، بروکلی، پالک، آلو، کیل ساگ، ہری شملہ مرچ، گوبھی اور سرمائی کدو نہ صرف ہمارے کھانوں کو مزیدار بناتے ہیں بلکہ جسم کے مدافعتی نظام کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔
قدرت نے ہمیں بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کئی قدرتی نعمتیں دی ہیں، جن میں ایکینیشیا اور لہسن خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ایکینیشیا ایک پودے سے تیار کی جانے والی چائے ہے جو صدیوں سے نزلہ، زکام اور فلو کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ یہ جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اسے چائے یا سپلیمنٹ کی صورت میں روزانہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح لہسن ایک قدرتی اینٹی بایوٹک ہے۔ جب لہسن کو کاٹا یا کچلا جاتا ہے تو اس میں ایک خاص مادہ پیدا ہوتا ہے جو جراثیم کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر ہم روزمرہ کھانوں میں لہسن شامل کریں تو یہ ہمیں کئی بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔بچپن سے ہم سنتے آئے ہیں کہ بیمار ہونے پر چکن سوپ پینا چاہیے، اور اب سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔ چکن اور سبزیوں سے بنا گرم سوپ پھیپھڑوں کی سوزش کم کرتا ہے اور سانس کے نظام کو آرام دیتا ہے، جس سے نزلہ اور فلو کی علامات میں کمی آتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سردیوں میں صحت مند رہنا مشکل نہیں، بس ہمیں تھوڑی سی توجہ، صفائی اور متوازن طرزِ زندگی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان اصولوں پر عمل کریں تو یہ سرد موسم بھی صحت اور تندرستی کے ساتھ گزارا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سےدعاکرتےرہناچاہیے کہ وہ شفاوں کامالک تمام مریضوں کواپنےفضلوں سےشفادےاورہرمشکل اورپریشانی سےبچائے۔آمین۔1
مزید پڑھیں: انفلوئنزا 1920ء: حضرت مصلح موعودؓ کی بے مثال رہنمائی اور احمدیوں کی خدمتِ خلق کے قابلِ تقلید نظارے
- Canada Winter guide for newcomers ↩︎



