کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

انسان کو چاہیے کہ اپنے معاش کے طریق میں کفایت شعاری مدّنظر رکھے

انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کے لیے خدا تعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں جو ان کی تباہی کا موجب ہے۔ دیکھو! سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں سؤر کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (البقرہ:۱۷۴) یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے۔ مگر سود کے لیے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لیے تو ارشاد ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوۡا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ۔ فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ۔ (البقرہ:۲۸۰،۲۷۹) اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤگے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اسے حاجت ہی نہیں پڑتی۔ مسلمان اگر اس ابتلا میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔

(اخبار بدر نمبر ۵، جلد۷، مورخہ ۶ فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۲ صفحہ۴۵۷۔۴۵۸)

جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے خدا اس کا کوئی سبب پردۂ غیب سے بنا دیتا ہے۔ افسوس کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کہ متقی کے لئے خداتعالیٰ کبھی ایسا موقع نہیں بناتا کہ وہ سُودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔ یاد رکھو! جیسے اَور گناہ ہیں مثلاً زنا، چوری ایسے ہی یہ سُوددینا اور لینا ہے۔ کس قدر نقصان دِہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا، حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا۔ معمولی زندگی میں ایسا کوئی امر ہی نہیں کہ جس پر اتنا خرچ ہو جو انسان سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔ مثلاً نکاح ہے اس میں کوئی خرچ نہیں۔ طرفین نے قبول کیا اور نکاح ہو گیا۔ بعدازاں ولیمہ سنت ہے۔ سو اگر اس کی استطاعت بھی نہیں تو یہ بھی معاف ہے۔ انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کے لیے خداتعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں جو ان کی تباہی کا موجب ہے۔ دیکھو سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ؟ سؤر کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآاِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (البقرۃ:۱۷۴) یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لئے تو ارشاد ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوۡا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (البقرۃ:۲۷۹-۲۸۰) اگر سُود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ ……مسلمان اگر اس ابتلا میں ہیں تویہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔ … انسان کو چاہیے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مدّنظر رکھے تاکہ سُودی قرضہ اٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سُود اصل سے بڑھ جاتا ہے۔ … پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری دے دیتی ہیں مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنی ہیں کہ سود دینے پر راضی ہے۔

(ملفوظات جلد ۱۰صفحہ۹۴-۹۶۔ایڈیشن۲۰۲۲ء)

مزید پڑھیں: کوئی دن ایسا نہ ہو جس دن تم نے خداتعالیٰ کے حضور رو کر دعا نہ کی ہو

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button