احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
ہم اس کتاب کو پڑھا کرتے اور اس کی فصاحت و بلاغت پر عش عش کر اٹھتے کہ یہ شخص بےبدل لکھنے والا ہے اور براہین احمدیہ کو پڑھتے پڑھتے والد صاحب کو حضرت صاحب سے محبت ہو گئی
کپور تھلہ کے فدائی
کپور تھلہ کی ابتدائی جماعت بھی براہین احمدیہ نے ہی تیار کی۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلویؓ … کے مایہ ناز فرزند حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر فرماتے ہیں: ’’براہین احمدیہ جب چھپی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا ایک نسخہ حاجی ولی اللہ صاحب کو بھیجا جو کہ کپورتھلہ میں مہتمم بندوبست تھے اور ہمارے پھوپھا صاحب مرحوم منشی حبیب الرحمان صاحب رئیس حاجی پور کے چچا تھے۔ حاجی صاحب براہین احمدیہ کا نسخہ اپنے وطن قصبہ سرادہ ضلع میرٹھ میں لے گئے۔ وہاں عند الملاقات والد صاحب [حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ]کو وہ کتاب حاجی صاحب نے دے دی۔ والد صاحب فرماتے ہیں کہ ہم اس کتاب کو پڑھا کرتے اور اس کی فصاحت و بلاغت پر عش عش کر اٹھتے کہ یہ شخص بےبدل لکھنے والا ہے اور براہین احمدیہ کو پڑھتے پڑھتے والد صاحب کو حضرت صاحب سے محبت ہو گئی۔ اس کے تھوڑے عرصہ بعد والد صاحب کپورتھلہ آ گئے اور حاجی صاحب والد صاحب سے براہین احمدیہ پڑھوا کر سنتے۔ منشی اروڑا صاحب اور محمد خاں صاحب نے بھی کتاب کا مطالعہ کیا اور انہیں بھی محبت پیدا ہوئی۔ اس کے بعد اتفاق ایسا ہوا کہ والد صاحب جالندھر اپنے ایک رشتہ دار کو ملنے گئے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب ؑبھی کسی سفر کے اثناء میں جالندھر ٹھہرے اور بعد کا واقعہ والد صاحب کی روایات میں مفصل درج ہے۔ اور جیسا کہ اس روایت میں مذکور ہے۔ والد صاحب کی آمدورفت قادیان شروع ہو گئی۔ یہ۱۸۸۴ء۔۱۸۸۵ء کے قریب کا واقعہ ہے۔ والد صاحب نے بہت دفعہ حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور بیعت لے لیں۔ لیکن حضور نے انکار فرمایا کہ مجھے حکم نہیں ہے۔ جب لدھیانہ سے حضور نے بیعت کا اعلان فرمایا تو والد صاحب و محمد خاں صاحب اور منشی اروڑا صاحب کے نام ایک خط لکھا کہ آپ بیعت کیلئے کہا کرتے تھے مجھے اب اِذن الٰہی ہو چکا ہے۔ اس خط کے مطابق مذکورہ اصحاب نے لدھیانہ پہنچ کر بیعت کرلی۔‘‘
حضرت حکیم محمد حسین صاحب ؓ مرہم عیسیٰ
حضرت حکیم محمد حسین صاحبؓ المعروف مرہم عیسیٰ نے ۱۸۹۲ء میں بیعت کی۔ آپؓ اپنے احمدی ہونے کا باعث یہ بیان کیا کرتے تھے کہ آپؓ سر سید احمد خاں مرحوم کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ اس کے بعد حضرت صاحب کا تذکرہ سنا اور کچھ اشتہارات بھی دیکھے۔ براہین احمدیہ بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ اس سے آپؓ کے دل میں حضرت صاحب کی محبت کا جوش پیدا ہوا اور آ پؓ قادیان تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا نور الدین صاحب ؓ کی وساطت سے حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت سے مشرف ہو گئے۔ (تاریخ احمدیت لاہور صفحہ ۱۳۲)
’’میں سرسید مرحوم کا لٹریچر پڑھا کرتا تھا۔ چنانچہ ان کی اخبار تہذیب الاخلاق اور تفسیر کا کل مجموعہ اس وقت تک میرے پاس موجود ہے۔ سر سید مرحوم کے مضامین سے مجھے خاص دلچسپی دین کے ساتھ پیدا ہو گئی تھی۔ اس کے بعد حضرت صاحب کا تذکرہ سُنا اور کچھ حضرت صاحب کے اشتہارات بھی دیکھے۔ براہین احمدیہ بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ اس سے میرے دل میں حضرت صاحب کی محبت کا جوش پیدا ہوا اور میں قادیان گیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح اوّل ؓ کی وساطت سے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور کی بیعت سے مشرف ہوا۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد۹صفحہ ۲۴۴روایت حضرت حکیم محمد حسین صاحبؓ مرہم عیسیٰ )
حضرت میاں جی عبدالرحمٰن صاحبؓ جالندھرچھاؤنی
’’جب میری شادی ہوئی تو شادی پر حکیم محمدعمر صاحب کے والد مولوی عبدالقادر صاحب بھی آئے۔ ان کے پاس حضرت صاحب کی کتاب براہین احمدیہ تھی۔ لوگوں کو وہ کتاب سنائی گئی تو لوگ بہت خوش ہوئے۔ مولوی عبدالرحمٰن صاحب لکھوکے والے نے وہ کتاب۱۰ روپیہ پر قیمتاً خریدلی۔ اس سے مجھے حضرت صاحب کا حال معلوم ہوا اور محبت ہو گئی۔ دو تین سال کے بعد میں لدھیانہ گیا۔ عباس علی صاحب اور قاضی خواجہ علی صاحب ٹھیکیدار حضرت صاحب کا ذکر کیا کرتے تھے۔ میں بھی سنا کرتا تھا۔ اس طرح حضرت صاحب کی محبت میرے دل میں بڑھتی گئی اور خیال پیدا ہوا کہ حضرت صاحب سے ملاقات کی جائے۔ انہی ایام میں ہمارے پاس سبز اشتہار تھا۔ جس میں مصلح موعودؓ کا ذکر ہے۔ عقیقہ پر جانے کے لئے لوگ تیار ہوئے۔ میرے پاس کرایہ نہ تھا۔ صرف (آٹھ آنے) تھے۔ قاضی خواجہ علی صاحب سے میں نے ذکر کیا۔ انہوں نے کرایہ کا انتظام کر دیا اور ہم قادیان شریف گئے۔ ساون کا مہینہ تھا۔ تین دن ٹھہرے ۔جمعہ کے دن مسجد میں لوگ آنے شروع ہوئے۔ ہر شخص جو آتا تھاوہ ایسا باوقار ہوتا تھا کہ میں خیال کرتا کہ یہ حضرت صاحب آگئے ہیں۔ بالآخر حضرت صاحب تشریف لائے۔ آپ کا پیٹی کا کوٹ تھا اور سبز عمامہ تھا۔ جمعہ پڑھا۔ مصافحہ کیا اور ہم واپس آ گئے۔ تین سال کے بعد میں لدھیانہ سے جالندھر چھاؤنی آگیا۔ مسجد کشمیریاں میں رہا کرتا تھا۔ سال کا عرصہ ہو گیا تو حضرت صاحب جالندھر چھاؤنی تشریف لائے۔ ایک شخص سکندر بخش گھڑی ساز تھا۔ اس کے ملنے کے لئے تشریف لائے تھے۔ مسجد میں ظہر کی نمازپڑھی اور جالندھر شہر واپس چلے گئے۔ وہاں (پندرہ روپے) ماہوار کرایہ پر مکان لے رکھا تھا۔ میں اور مہتاب علی صاحب ملنے کے لئے گئے اور ملاقات کی۔ پھر یہ واقعہ پیش آیا کہ مولوی عبدالقادر صاحب ملے اور انہوں نے ایک کتاب کا ذکر کیا کہ اس میں لکھا ہے کہ اگر کسی میں یہ یہ صفات ہوں تو ان کے پاس گھٹنوں کے بل چل کر جاؤں اور کہاکہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی میں یہ صفات موجود ہیں ۔مجھے ان سے ملنے کی خواہش ہوئی۔ مولوی عبدالقادر صاحب سے کہاکہ مجھے ان کے پاس لے چلیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تو ابھی ہو کر آیا ہوں۔ میں نے کہا۔ کرایہ، اخراجات اور حرجانہ کا میں ذمہ دار ہوتا ہوں آپ مجھے لے چلیں۔ ا س پر مولوی صاحب تیار ہو گئے اور ہم گنگوہ گئے۔ ملاقات ہوئی۔ مولوی عبد القادر نے کہا کہ بیعت کرلیں۔ میں نے کہا۔ میرا جی نہیں چاہتا۔ پھر مولوی صاحب نے رشید احمد گنگوہی سے کہا کہ ان کو مرید کر لیں۔ میرا شاگرد اور رشتہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پر ہاتھ نہیں ڈالتا۔ دو دن کے بعد ہم واپس آگئے۔ پھر مولوی عبد القادر صاحب قادیان گئے اور مجھے خط لکھا کہ میں مرزا صاحب کا مرید ہو گیا ہوں۔ اگر آپ ہونا چاہتے ہیں تو آ جائیں۔ میں گیا اور جاکر بیعت کر لی۔ میری خواہش تھی کہ حضرت صاحب کے دست مبارک پر میرا ہاتھ ہو۔ فجر کی نماز کے بعد اعلان ہوا کہ کسی نے بیعت کرنی ہو تو آجائے۔ ہم دو کس تھے۔ دوسرا شخص تو اس وقت نہ ملا۔ میں آگے بڑھا اور حضرت صاحب کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کربیعت کر لی اور اس طرح میری خواہش بھی پوری ہو گئی۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد ۱صفحہ۲۲۵، ۲۲۶ روایت حضرت میاں جی عبدالرحمٰن صاحب ؓ)
’’میری شادی پر بہت مولوی صاحبان تشریف لائے۔ سب سے مشہور مولوی عبدالرحمان صاحب مرحوم ولد مولوی حافظ محمد صاحب سکنہ لکھو کے جنہوں نے تفسیر محمدی بنائی ہے۔ ایک ترجمہ فارسی اور دوسرا اردو۔ پھر پنجابی شعروں میں اسی آیت شریف کا ترجمہ کیا گیاہے۔ کتاب احوال الآخرۃ میں مہدی کے نشان گرہن سورج و چاند رمضان شریف میں بیان کیا ہے۔ باپ بیٹا بڑے فاضل اجل تھے۔ میں بھی کچھ مدّت پڑھتا رہا وہاں۔ مولوی خطیب احمد صاحب جو نورشفاخانہ میں کام کرتے ہیں وہ بھی اس زمانہ میں میرے ساتھ لکھو کے میں پڑھتے تھے۔ مولوی غلام رسول صاحب گجرات والے بھی وہاں ان دنوں پڑھتے تھے۔ مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی حکیم محمد عمر صاحب کے والد میرے رشتہ دار اور استاد تھے۔ وہ بھی تشریف لائے۔ انہوں نے براہین احمدیہ سنائی ۔سب آدمی اور عام لوگ بہت خوش ہوئے۔ مولوی عبدالرحمان صاحب لکھوکے والے تو ایسے خوش ہوئے۔ وہیں روپے دے کر کتاب خرید لی۔ شادی ہونے کے بعد پھر مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم میرے گاؤں میں آئے اور مجھے جو میں پڑھتا تھاکچھ کچھ سنا۔ کہنے لگے تم لدھیانہ میں میرے پاس آکر پڑھو وہاں طالب علم بہت پڑھتے ہیں۔ زیادہ فائدہ ہوگا۔ تھوڑی مدّت کے بعد میں ایک طالب علم کو ساتھ لے کر لدھیانہ پہنچ گیا۔ پڑھنا شروع کیا۔ قاضی خواجہ علی ٹھیکہ دار شکرموں کے تھے۔ ان کی گاڑیاں مالیر کوٹلہ اور اَور جگہ جاتی تھیں۔ مسجد کے قریب ان کی دوکان تھی۔ وہ مسجد نواب علی محمد خان صاحب مرحوم کی سرائے میں تھی۔ ان کی دکان پر اکثر لوگ جو حضرت اقدس صاحب مرحوم کو اچھا جانتے تھے۔ آ بیٹھتے تھے۔ اور حضرت ا قدس کی باتیں کرتے۔ میں نے اپنی شادی پر جو ’’براہین احمدیہ‘‘ سنی تھی مجھ کو حضرت صاحب کی زیارت کا شوق ہوگیا۔ میں بھی کبھی کبھی دکان پر جا بیٹھتا اور باتیں سن کر دل خوش کرتا اور دعا کرتا کہ اے میرے مولا کریم ! حضرت صاحب کی زیارت کرانے کے اسباب بنادے۔ تھوڑی مدت کے بعد مشہور ہوگیا کہ لوگ بہت قادیان شریف جائیں گے۔ حضرت صاحب کے لڑکا پیدا ہوا ہے۔ بڑی صفتیں لکھی ہیں۔ شائد وہ اشتہار سبز رنگ کا تھا۔ عقیقہ پر لوگ جائیں گے۔ میرے پاس صرف ۸؍ کے پیسے تھے۔ میں نے رقعہ قاضی خواجہ علی ٹھیکیدار صاحب شکرمان والے کے پاس لکھا کہ میرے پاس کرایہ نہیں ہے اور میں قادیان شریف حضرت اقدس مرزا صاحب کی زیارت کے واسطے جانا چاہتا ہوں۔ خدا پاک غریق رحمت کرے اور ان کو بخشے۔ جنت میں اس کا گھر کرے۔ انہوں نے لکھا کہ رات کو ہم اس طرف جائیں گے۔ تم کو ایک طرف کا کرایہ میں دے دوں گا۔ ہمارے ساتھ چلنا۔ رات کو گاڑی میں سوار ہوگئے۔ صبح فجر کی نماز کے وقت ہم امرتسر پہنچ گئے۔ بٹالہ پہنچے۔ وہاں سے سب آدمی یکوں میں سوار ہوکر قادیان شریف کی طرف چلے۔ دو(۲) میل چلے ہوں گے بارش شروع ہوگئی۔ ساون کا مہینہ تھا۔ اسباب لوگوں کا یکوں پر۔ تمام آدمی پیدل چلتے تھے۔ قادیان تک تمام راستہ میں بارش ہوتی آئی۔ مسجد اقصیٰ میں تمام آدمی ٹھہرے۔ تین دن قادیان میں رہے۔ اکثر وقت بارش ہوتی رہی۔ کھانا سب لوگوں نے مسجد میں کھایا۔ تین دن مسجد میں ٹھہرے رہے۔ یہ یاد نہیں رہا کہ جس دن ہم قادیان پہنچے وہ دن جمعہ کا تھا یا اَور دن۔ جمعہ کے دن جب لوگ مسجد میں آنے شروع ہوئے جمعہ پڑھنے کے واسطے تو جو اچھی شکل کا آدمی آتا تھا۔ میں دل میں کہتا تھا کہ یہ حضرت مرزا صاحب ہوں گے۔ جب آپ تشریف لائے تو بارش ہورہی تھی۔ پیٹی گرم کا کوٹ آپ نے پہنا ہوا تھا۔ سبز صافہ سر پر تھا۔ سب لوگ دوڑکر مصافحہ کرنے لگے۔ میں نے بھی کیا۔ جمعہ ہونے کے بعد آپ بیٹھے رہے باتیں ہوتی رہیں۔ تین دن کے بعد جب رخصت چاہی لوگوں نے تو پھر مصافحہ کیا۔ لدھیانہ پہنچ گئے۔ ۱۸۸۸ء میں لدھیانہ سے میں چھاؤنی جالندھر آیا۔ ایک مسجد کشمیری میں مؤذن مقرر ہوا۔۱۸۹۲ء میں مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم میرے پاس لدھیانہ سے چھاؤنی جالندھر آئے اور ذکر کیا کہ میں نے ایک کتاب میں دیکھا ہے کہ بزرگوں کی بہت صفتیں لکھی ہیں۔ پھر وہ کتاب والا لکھتا ہے کہ اگر مجھ کو وہ صفتوں والا بزرگ کا پتہ مل جاوے تو میں اس کی زیارت کے واسطے گھٹنوں کے بل ’’رِہڑ رِہڑ‘‘ کر جاؤں۔ پیدل نہ جاؤں۔ وہ تمام صفتیں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی میں پائی جاتی ہیں۔ یہ سن کر مجھ کو بہت شوق ہوا۔ میں نے کہا مولوی صاحب مجھ کو ان کی زیارت کراؤ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میں ابھی رمضان شریف میں ہوکر آیا ہوں۔ اب تو سال کے بعدجاؤں گا۔ میں نے کہا جو ہرجانہ آپ کا ہوگا وہ بھی دوں گا اور کرایہ آنے جانے کا بھی دوں گا۔ مجھ کو جلد لے چلو اور زیارت کراؤ۔ مولوی صاحب اور میں (نے) گنگوئیے دیکھا۔ مولوی صاحب نے مجھ کو کہا تم ان کے مرید ہوجاؤ ۔ میں نے کہا۔ میرا دل نہیں چاہتا۔میں اور مولوی صاحب دیوبند کا مدرسہ دیکھتے ہوئے واپس آگئے۔ پھر اس واقعہ کے بعد مولوی صاحب مجھ کو ملتے رہے۔ ۱۸۹۷ء میں مولوی صاحب نے قادیان شریف سے مجھ کو لکھا کہ میں نے مولوی رشید احمد صاحب کی بیعت توڑ دی ہے اور حضرت اقدس مرزا صاحب کا مرید ہوگیا ہوں۔ تمہارا دل چاہے تو جلد آؤ۔ میں بہت جلد پہنچ گیا۔ حضرت اقدس صاحب مرحوم کے ہاتھ پر بہت لوگوں کے ہاتھ بیعت کے وقت ہوتے تھے۔ میں دعا کرتا تھا کہ میرا ہاتھ حضرت اقدس صاحب کے ہاتھ کے ساتھ مل جاوے اور کا ہاتھ نہ ہو۔ فجر کی نماز کے بعد پوچھا گیا۔ کوئی بیعت کرنے والا ہے۔ کسی نے کہا دو آدمی ہیں۔ ایک کشمیری تھا وہ اس وقت کہیں چلا گیا۔ مولوی صاحب نے مجھ کو حضرت اقدس صاحب کے پیش کیا کہ یہ مرید ہونے والا ہے۔ حضرت صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ کے ساتھ ملالیا۔ جو وہ زبان مبارک سے فرماتے گئے میں بھی کہتا گیا۔ جو شرائط بیعت کی تھیں اور دعائیں۔ اس طرح میرا ہاتھ حضرت اقدس صاحب کے ہاتھ کے ساتھ ملا اور کا ہاتھ نہ تھا۔ یہ میری دعا خدا پاک نے قبول کرلی اپنے فضل و کرم سے۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد ۳ صفحہ ۱۶۴ تا ۱۶۷ روایت حضرت عبدالرحمٰن صاحب ؓاحمدی معلم )
مزید پڑھیں: حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کا ترجمہ قرآن بمع تفسیری نوٹس




