نظم
وہ دلبرِ یگانہ علموں کا ہے خزانہ
وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نُور سارا
نام اُس کا ہے محمدؐ دلبر مرا یہی ہے
سب پاک ہیں پیمبر اِک دوسرے سے بہتر
لیک از خدائے برتر خیرالوریٰ یہی ہے
جو راز دیں تھے بھارے اُس نے بتائے سارے
دولت کا دینے والا فرماں روا یہی ہے
اُس نُور پر فدا ہوں اُس کا ہی مَیں ہوا ہوں
وہ ہے مَیں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے
وہ دلبرِ یگانہ علموں کا ہے خزانہ
باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے
سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تُو خدایا
وہ جس نے حق دکھایا وہ مَہ لقا یہی ہے
دِل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں
قرآں کے گِرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے
