اَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ
ہمارے پیارے آقا سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۴؍جولائی ۲۰۱۷ء میں فرماتے ہیں:لڑکیوں کی تربیت کے لحاظ سے اس بات کو بھی سب سے زیادہ اہمیت دیں کہ ان میں حیا کا مادہ زیادہ سے زیادہ پیدا کرنا ہے۔ مغربی ماحول میں آزادی کے نام پر جو بے حیائی پھیل رہی ہے اور مغربی ماحول جو سر ننگے کروا رہا ہے تو آپ نے دین کے نام پر حیا کو قائم کرتے ہوئے سروں کو ڈھانکنا ہے اور ہوشمند لڑکیوں کو بھی یہ خیال رہنا چاہئے۔ خود ان کو یہ احساس ہونا چاہئے۔ اس کے لئے ماؤں کے اپنے نمونے سب سے زیادہ ضروری ہیں۔ بچہ تو ماں باپ کی نقل کرتا ہے جیسا کہ میں نے کہا اور لڑکیاں خاص طورپر ماؤں کی۔ گزشتہ دنوں ایک عزیزہ ملنے آئی اس کی دو اڑھائی سال کی بیٹی ہے، اپنی ماں کے منہ پر بار بار نقاب ڈال رہی تھی اور گھر کے ماحول کی وجہ سے ماں اسے اتار دیتی تھی تو بچی زبردستی اس کے منہ پر نقاب ڈال کر کہہ رہی تھی کہ وہ والا پردہ کریں۔ یعنی جو پردہ آپ باہر کرتی ہیں اور صحیح پردہ ہے وہ پردہ کرو۔ اب چھوٹی بچی کے ذہن میں یہ ہے کہ میری ماں کا یہ پردہ ہے اور یہ اس کے لباس کا حصہ ہے جب بھی اس ماں نے اپنے گھر سے نکلنا ہے چاہے کسی کے گھر بھی جائے تو ایسا پردہ ہونا چاہئے۔ پس جب تک مائیں اپنے بچوں کے سامنے ایسے نمونے رکھتی رہیں گی چھوٹی بچیوں میں بھی پردے کی اہمیت پیدا ہوتی رہے گی اور عورت کی حیا کے مقام کی اہمیت پیدا ہوتی رہے گی اور اس قرآنی حکم کی اہمیت پیدا ہوتی رہے گی۔(جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۱۸ء کے موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا مستورات سے خطاب)
(مرسلہ:قدسیہ محمود سردار۔ کینیڈا)




