تمام اشیاء موجودہ محدودہ کا ایک خالق ہے جو ذات باری تعالیٰ ہے
اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَیۡرِ شَیۡءٍ اَمۡ ہُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ۔اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ۚ بَلۡ لَّا یُوۡقِنُوۡنَ۔اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمۡ ہُمُ الۡمُصَۜیۡطِرُوۡنَ ۔(الطور: ۳۶ یا ۳۷)
یعنی کیا یہ لوگ جو خالقیت خدائے تعالیٰ سے منکر ہیں بغیر پیدا کرنے کسی خالق کے یونہی پیدا ہو گئے یا اپنے وجود کو آپ ہی پیدا کر لیا یا خود علّت العلل ہیں جنہوں نے زمین و آسمان پیدا کیا یا ان کے پاس غیر متناہی خزانے علم اور عقل کے ہیں جن سے انہوں نے ان سے معلوم کیا کہ ہم قدیم الوجود ہیں یا وہ آزاد ہیں۔اور کسی کے قبضۂ قدرت میں مقہور نہیں ہیں تا یہ گمان ہو کہ جبکہ ان پر کوئی غالب اور قہار ہی نہیں تو وہ ان کا خالق کیسے ہو۔اس آیت شریف میں یہ استدلال لطیف ہے کہ ہر پنج شقوق قدامت ارواح کو اس طرز مدلل سے بیان فرمایا ہے کہ ہر ایک شق کے بیان سے ابطال اس شق کا فی الفور سمجھا جاتا ہے اور تفصیل ان اشارات لطیفہ کی یوں ہے کہ شق اوّل یعنی ایک شے معدوم کا بغیر فعل کسی فاعل کے خود بخود پیدا ہوجانا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے ترجیح بلا مرجّع لازم آتی ہے کیونکہ عدم سے وجود کا لباس پہننا ایک موثر مرجّع کو چاہتا ہے جو جانب وجود کو جانب عدم پر ترجیح دے لیکن اس جگہ کوئی مؤثر مرجّع موجود نہیں اور بغیر وجود مرجّع کے خود بخود ترجیح پیدا ہو جانا محال ہے۔
اور شق دوم یعنی اپنے وجود کا آپ ہی خالق ہونا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے تقدم شے کا اپنے نفس پر لازم آتا ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ ہر ایک شے کے وجود کی علت موجبہ اس شے کا نفس ہے تو بالضرورت یہ اقرار اس اقرار کو مستلزم ہوگا کہ وہ سب اشیاء اپنے وجود سے پہلے موجود تھیں اور وجود سے پہلے موجود ہونا محال ہے۔
اور شق سوم یعنی ہر ایک شے کا مثل ذات باری کے علت العلل اور صانع عالم ہونا تعدّد خداؤں کو مستلزم ہے اور تعدد خداؤں کا باتفاق محال ہے اور نیز اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے اور وہ بھی محال ہے۔
اور شق چہارم یعنی محیط ہونا نفس انسان کا علوم غیر متناہی پر اس دلیل سے محال ہے کہ نفس انسانی با عتبار تعیّن تشخص خارجی کے متناہی ہے اور متناہی میں غیر متناہی سا نہیں سکتا اس سے تحدید غیر محدود کی لازم آتی ہے۔
اور شق پنجم یعنی خود مختار ہونا اور کسی کے حکم کے ماتحت نہ ہونا ممتنع الوجود ہے۔کیونکہ نفس انسان کا بضرورت استکمال ذات اپنی کے ایک مکمل کا محتاج ہے اور محتاج کا خود مختار ہونا محال ہے اس سے اجتماع نقیضین لازم آتا ہے پس جبکہ بغیر ذریعہ خالق کے موجود ہونا موجودات کا بہر صورت ممتنع اور محال ہوا تو بالضرور یہی ماننا پڑا کہ تمام اشیاء موجودہ محدودہ کا ایک خالق ہے جو ذات باری تعالیٰ ہے اور شکل اس قیاس کی جو تر تیب مقدمات صغریٰ کبریٰ سے بقاعدہ منطقیہ مرتب ہوتی ہے اس طرح پر ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ قضیہ فی نفسہٖ صادق ہے کہ کوئی شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے موجود نہیں ہوسکتی کیونکہ اگر صادق نہیں ہے تو پھر اس کی نقیض صادق ہوگی کہ ہر ایک شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے وجود پکڑ سکتی ہے اور یہ دوسرا قضیہ ہماری تحقیقات مندرجہ بالا میں ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ وجود تمام اشیاء ممکنہ کا بغیر ذریعہ واجب الوجود کے محالات خمسہ کو مستلزم ہے۔پس اگر یہ قضیہ صحیح نہیں ہے کہ کوئی شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے موجود نہیں ہوسکتی تو یہ قضیہ صحیح ہوگا کہ وجود تمام اشیاء کو محالات خمسہ لازم ہیں لیکن وجود اشیاء کا باوصف لزوم محالات خمسہ کے ایک امر محال ہے پس نتیجہ نکلا کہ کسی شے کا بغیر واجب الوجود کے موجود ہونا امر محال ہے اور یہی مطلوب تھا۔
(پرانی تحریریں، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۹ تا ۱۱)
مزید پڑھیں: کلام اور الہام میں فرق




