حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اللہ تعالیٰ کی ذات کو کس نے بنایا؟

سوال: خداتعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ہم کہتے ہیں کہ کائنات کا بنانے والا کوئی تو ہو گا کیونکہ کوئی چیز خود سے نہیں بن سکتی۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو کس نے بنایا؟

جواب: جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز کو کسی نہ کسی ذات یا ہستی نے بنایا ہے اور سائنس بھی اس بات کو مانتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز خود بخود نہیں ہے۔ اس اصول کو دیکھ لیا جائے تو بات سمجھ آ جائے گی۔ پس اس طرح اوپر چلتے چلتےکہ اس کو کس نے بنایا اور اس کو کس نے بنایا جہاں جا کر بات رُکے گی وہی خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ سائنس اسے نیچر کہتی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی بتائی ہوئی تعلیمات کے مطابق اس ہستی کو خدا تعالیٰ کی ذات مانتے ہیں۔

باقی خدا تعالیٰ کی لا محدود ہستی انسانی محدود علم سے بہت بالا اور برتر ہےاس کے متعلق ہمارا ایمان وہی ہے جو قرآن کریم نے ہمیں عطا فرمایا ہے کہ قُلۡ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمۡ یَلِدۡ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ۔ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔(سورۃ الاخلاص)یعنی تُو کہہ دے کہ اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ اللہ وہ ہستی ہے جس کے سب محتاج ہیں(اور وہ کسی کا محتاج نہیں)۔نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے۔اور اس کا کبھی کوئی ہمسر نہیں ہوا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ سب اس کے حاجت مند ہیں۔ ذرّہ ذرّہ اس سے زندگی پاتا ہے۔ وہ کل چیزوں کے لیے مبدا ءفیض ہے اور آپ کسی سے فیضیاب نہیں۔ وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ اور کیونکر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 417)حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے۔ نہ کوئی ذات اس کی ذات جیسی ازلی اور ابدی یعنی انادی اور اکال ہے نہ کسی چیز کی صفات اس کی صفات کی مانند ہیں۔ انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں ا ور باایں ہمہ غیر محدود ہے۔ انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔ اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہےلیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیر محدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں۔ (لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 155،154)

(بنیادی مسائل کے جوابات قسط ۵۱، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۵؍مارچ ۲۰۲۳ء)

مزید پڑھیں: خطبہ الہامیہ – ایک عظیم الشان نشان

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button