متفرق

دعاؤں میں مستقل مزاجی اور باقاعدگی کی ضرورت

امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےخطبہ جمعہ ۲۸؍نومبر۲۰۰۳ء میں فرمایا: جب مل کر سب دعا کریں گے۔ اکٹھا کرکے جب دعائیں ہو رہی ہوں گی ساروں کی،ایک طرف بہاؤ ہو رہا ہو گا تو اس دریا کے پانی کی طرح اس کے سامنے جو بھی چیز آئے گی خس و خاشاک کی طرح اڑ جائے گی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ مستقل مزاجی اور باقاعدگی سے اس طرف توجہ رہے۔

(مرسلہ: مبشر احمد ظفر۔ لندن)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button