نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہوکر انسان خدا تک جلدتر پہنچ سکتا ہے
اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پرپہنچنا ہے۔اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنی لمبی وہ منزل ہو گی اتنا ہی زیادہ تیزی، کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہوگا۔سو خدا تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بُعد اور دوری بھی لمبی۔پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہوکر وہ جلدتر پہنچ سکتا ہے اورجس نے نماز ترک کردی وہ کیا پہنچے گا۔
(ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۳۴۱، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور نہ راستی کے ساتھ۔ وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ ان کی روح مُردہ ہے۔
(ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۱۴۳، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
نماز کیا چیز ہے۔ نماز اصل میں ربّ العزّۃ سے دعا ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اس وقت اسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی اس وقت سے اس کو نمازوں میں لذّت اور ذوق آنے لگے گا۔ جس طرح لذیذ غذاؤں کے کھانے سے مزا آتا ہے اسی طرح پھر گریہ و بکا کی لذّت آئے گی اور یہ حالت جو نماز کی ہے پیدا ہوجائے گی۔ اس سے پہلے جیسے کڑوی دوا کو کھاتا ہے تاکہ صحت حاصل ہو اسی طرح اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہیں۔ اس بےذوقی کی حالت میں یہ فرض کرکے کہ اس سے لذّت اور ذوق پیدا ہو یہ دعا کرے کہ
اے اللہ! تُو مجھے دیکھتا ہے کہ مَیں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور مَیں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں۔ مَیں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو مَیں تیری طرف آ جاؤں گا ، اُس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے۔ تُو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا اُنس اور شوق اس میں پیدا ہوجائے ۔ تُو ایسا فضل کر کہ مَیں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں۔
جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر آئے گا کہ اسی بےذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقّت پیدا کردے گی۔
(ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۴۸۱، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: مفتری ہمیشہ خائب و خاسر رہتا ہے




